• Mon, 01 September, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایک دن یہ چابی تم میرے ہاتھ میں دیکھوگے اور تب میں جس کو چاہونگا یہ چابی دونگا

Updated: April 21, 2023, 11:34 AM IST | Maulana Nadeem Al-Wajdi | Mumbai

سیرتِ نبی ٔ کریم ﷺ کی اس خصوصی سیریز میں آج حضرت عثمان بن طلحہ ؓ کے قبولِ اسلام کی تفصیل کے ساتھ وہ واقعہ بھی پڑھئے جب عثمان ؓ نے آپؐ کو کعبے کی کلید دینے سے منع فرمایا تو آپؐ نے کیا پیشین گوئی فرمائی تھی

The key to the door of Baitullah Sharif used to be in the family of Hazrat Uthman bin Talha
بیت اللہ شریف کے دروازے کی چابی حضرت عثمان بن طلحہؓ کے خاندان میں رہتی تھی

حضرت خالد بن الولیدؓ  
کا قبول اسلام
(گزشتہ سے پیوستہ) حضرت خالد بن ولیدؓ کے اسلام قبول کرنے سے مسلمانوں کو بڑی تقویت حاصل ہوئی، وہ ایک مشہور جنگجو اور بہادر شہ سوار تھے، فنون سپہ گری میں اپنی مہارت اور بہادری کی بناء پر ان کا شمار قریش کے صف اول کے لوگوں میں ہوا کرتا تھا۔ احد کی جنگ میں انہوں نے ہی مسلمانوں پر پلٹ کر وار کیا تھا، جس سے میدان جنگ کی صورت حال قریش کے حق میں تبدیل ہوگئی تھی۔ اسلام قبول کرنے کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس حیثیت کو برقرار رکھا، پہلے وہ مسلمانوں کے لئے خطرہ بنے ہوئے تھے، اب وہ کفار ومشرکین کے لئے خطرہ بن گئے، مسلمان ہونے کے بعد انہوں نے سب سے پہلے غزوۂ موتہ میں حصہ لیا، اس جنگ میں تین سپہ سالاروں کی شہادت کے بعد مسلمانوں نے اتفاق رائے سے خالد بن ولیدؓ کو فوج کا قائد بنالیا، انہوں نے اپنی قابلیت سے رومیوں کو بھاگنے پر مجبور کردیا، اس جنگ میں حضرت خالدؓ کے ہاتھوں سے نو تلواریں ٹوٹیں، اس سے خوش ہوکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سیف اللہ المسلول کا خطاب عطا فرمایا۔ غزوۂ موتہ کے بعد انہوں نے فتح مکہ، غزوۂ حنین اور غزوۂ تبوک میں بھی اپنی بھرپور شرکت درج کرائی اور ہر محاذ پر داد شجاعت دی، وہ کئی سرایا میں بھی شریک ہوئے۔ 
حضرت خالد بن ولیدؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد بھی اسلامی لشکر کا حصہ بنے رہے، بلکہ کئی جنگوں میں انہوں نے قائدانہ کردار بھی ادا کیا، خاص طور پر شام اور فلسطین میں جو فتوحات ہوئیں ان میں حضرت خالد بن ولیدؓ کا کردار بڑا نمایاں رہا ہے۔ عہد فاروقیؓ میں وہ کئی علاقوں کے گورنر بھی رہے، مگر وہ فطری طور پر میدانِ جنگ کے آدمی تھے، گورنری ان کے مزاج کے خلاف تھی، ایک سال بعد وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوکر مدینہ آگئے اور وہیں رہنے لگے۔ انہوں نے سن بائیس ہجری میں وفات پائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔ (صحیح ابن حبان: ۲۵/۵۶۵، رقم الحدیث: ۷۰۹۱) 
عثمان بن طلحہؓ کا قبولِ اسلام
اُس سہ نفری وفد کے تیسرے رکن حضرت عثمان بن طلحہؓ تھے جس نے قبولِ اسلام کیلئے مدینہ  کی طرف کوچ کیا تھا۔ یہ تینوں حضرات ایک ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ایک ہی مجلس میں تینوں نے اسلام قبول کرنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست ِ مبارک پر بیعت کرنے کی سعادت حاصل کی۔ ان تینوں کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشی کا اظہار فرمایا ۔
حضرت عثمان بن طلحہؓ کا تعلق مکہ مکرمہ کے اس نامی گرامی گھرانے سے ہے جس کے پاس بیت اللہ کے دروازے کی چابی رہتی تھی، اسی خاندان کے لوگ بیت اللہ کا دروازہ کھولتے اور بند کرتے تھے۔ زمانۂ جاہلیت میں پیر اور جمعرات کو دروازہ کھولنے کا ایک معمول تھا۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر تشریف لے جانے کا ارادہ فرمایا، عثمان بن طلحہ نے (جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے) چابی دینے سے انکار کردیا اور کچھ الٹی سیدھی باتیں بھی کہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تحمل سے کام لیا اور فرمایا: ایک دن یہ چابی تم میرے ہاتھ میں دیکھوگے اور اس وقت مَیں جس کو چاہوں گا یہ چابی دوں گا۔ عثمان نے جواباً کہا کہ وہ دن قریش کے لئے ذلت اور بربادی کا دن ہوگا۔ آپ ؐنے فرمایا: نہیں بلکہ وہ دن سربلندی اور عزت کا دن ہوگا۔ اس بات کا عثمان کے دل پر گہرا اثر ہوا۔ انہوں نے چابی دے دی اور آپؐ خانۂ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے۔
عمرۂ قضا کی ادائیگی کے لئے آپؐ مکہ مکرمہ تشریف لائے، ہوسکتا ہے چابی طلب کرنے کا یہ واقعہ اسی وقت کا ہو۔ عمرۂ قضا کے بعد حضرت عثمانؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ اور حضرت عمرو بن العاصؓ کے ساتھ مدینہ جاکر اسلام قبول کیا، فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پاس تشریف لائے، حضرت عثمانؓ اس وقت آپؐ کے قریب تھے، آپؐ نے ان سے خانۂ کعبہ کی کنجی طلب فرمائی، واقعے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے حضرت عثمانؓ کہتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عثمان! مجھے چابی دو، میں نے چابی پیش کی، آپؐ نے چابی لی اور (کچھ دیر کے بعد) مجھے واپس کردی، اور یہ فرمایا: یہ چابی تم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے پاس رکھو، تم سے کوئی ظالم ہی یہ چابی واپس لے گا، جب میں چابی لے کر واپس ہونے لگا تو آپؐ نے مجھے آواز دی، میں واپس آیا، آپ نے فرمایا: کیا میں نے تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ شاید ایک دن تم یہ چابی میرے ہاتھ میں دیکھوگے اور میں جس کو چاہوں گا دے سکوں گا، میں نے عرض کیا جی ہاں! یا رسولؐ اللہ!
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمانؓ سے چابی لی،دروازہ کھولا، اندر تشریف لے گئے اور دو رکعت نماز پڑھی، باہر تشریف لائے، چابی آپؐ کے دست مبارک میں تھی، حضرت علیؓ نے آگے بڑھ کر عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! یہ چابی ہمیں دے دیجئے، ہمارے پاس سقایہ (پانی پلانے کی خدمت) اور حجابہ (بیت اللہ کی خدمت) دونوں جمع ہوجائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عثمان بن طلحہؓ کہاں ہیں؟ ان کو بلایا گیا، آپؐ نے یہ فرما کر چابی ان کے سپرد کردی کہ یہ چابی تمہاری ہے، آج حسن سلوک اور وفاء کا دن ہے۔ اس دن سے یہ چابی حضرت عثمان بن طلحہؓ کے گھرانے میں ہی ہے، کتنے ہی خلفاء، حکمراں اور بادشاہ آئے اور چلے گئے لیکن کسی کو یہ جرأت نہ ہوئی کہ وہ اس خاندان سے خانۂ کعبہ کی چابی لے لے۔
قبول اسلام کے بعد حضرت عثمان بن طلحہؓ مستقل طور پر مدینہ ہی میں مقیم رہے، اس دوران چابی ان کی والدہ کے پاس رہی جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئی تھیں۔ فتح مکہ کے بعد بھی عثمان بن طلحہ نے مدینہ ہی میں قیام کیا، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آپ کلید برداری کے فرائض انجام دینے کے لئے مکہ آگئے اور یہیں بیالیس ہجری میں وفات پائی۔ (البدایہ والنہایہ: ۴/۳۴۴، اسد الغابہ:۲/۶۴۵)۔ 
غزوۂ مُؤتَہْ
مؤتہ ایک شہر ہے جو اس زمانے میں جس کا ذکر چل رہا ہے شام کے علاقے بَلْقَاء میں واقع تھا، فی الحال یہ مشرقی اردن کی ایک بستی  ہے، اس کا صدر مقام کرْک ہے۔ مؤتہ سے اس کا فاصلہ بارہ کلو میٹر ہے، اُردن کے دار الحکومت عمان سے اس کی دوری ایک سو چالیس کلو میٹر ہے، مؤتہ کے قریب ایک بستی مزار نامی ہے، اس میں ان حضرات صحابہؓ کے مزارات ہیں جو غزوۂ مؤتہ میں شہید ہوئے تھے، سیرت کی معروف اصطلاح میں اس جنگ پر سریّہ کا اطلاق ہونا چاہئے کیوں کہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ نفس نفیس شرکت نہیں فرمائی، لیکن چونکہ اسلامی جنگی مہمات میں اس جنگ کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور صحابۂ کرامؓ کی بڑی تعداد نے اس میں شرکت کی ہے اس لئے اس کو غزوہ کہا جاتا ہے۔ اس کو غزوہ کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اگرچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس جنگ میں بہ نفس نفیس شریک نہیں تھے لیکن عین جنگ کے وقت آپؐ  کی نگاہوں کے سامنے سے تمام حجابات ہٹا دئے گئے تھے اور میدان جنگ آپ کے سامنے اس طرح تھا گویا آپ وہاں موجود ہیں اور جنگ کے تمام مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، غزوۂ مؤتہ جمادی الاولیٰ سن آٹھ ہجری مطابق اگست سن چھ سو انتیس عیسوی میں ہوا، ایک طرف تین ہزار مسلمان تھے، دوسری طرف بازنطینی روما کا زبردست لشکر تھا، مؤرخین نے لکھا ہے کہ اس لشکر میں ایک لاکھ رومی فوج تھی اور ایک لاکھ حلیف قبائل عرب کے جنگجو تھے۔
غزوۂ موتہ کا پس منظر
صلح حدیبیہ کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے امراء وسلاطین کے نام دعوتی خطوط ارسال فرمائے، اسی ضمن میں آپؐ نے ایک خط امیر شام شرحبیل بن أبی شمر الغسانی کے نام بھی تحریر فرمایا، یہ شخص قیصر روم کی طرف سے شام کا حاکم تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مکتوب گرامی حضرت حارث بن عمیر الاسدیؓ لے کر روانہ ہوئے۔ قدیم زمانے سے یہ دستور چلا آرہا ہے کہ دوسرے ملکوں سے آنے والے قاصدوں اور سفیروں سے کوئی تعرض نہیں کیا جاتا بلکہ ان کو عزت و  احترام کا مستحق سمجھا جاتا ہے خواہ وہ دشمنوں ہی کی طرف سے کیوں نہ آئے ہوں، لیکن شرحبیل نے اس دستور کی خلاف ورزی کی۔ جب حضرت حارث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب مبارک لے کر ارض مؤتہ میں پہنچے تو شرحبیل نے یہ جاننے کے باوجود کہ وہ مدینے سے مسلمانوں کا قاصد بن کر آیا ہے انہیں قتل کرا دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حارث کے قتل سے ملال بھی ہوا اور غصہ بھی آیا، شرحبیل نے قاصد رسولؐ کو قتل نہیں کیا تھا بلکہ اس کے پردے میں مسلمانوں کو جنگ کا پیغام دیا تھا، اس لئے آپ نے صحابہؓ کو حکم دیا کہ وہ بلا تاخیر شام کی طرف روانہ ہوں، یہ پہلا لشکر تھا جو جزیرۃ العرب کی حدود سے باہر جانے کے لئے تشکیل دیا گیاتھا، اس میں تین ہزار صحابہؓ نے حصہ لیا، غزوۂ خندق کے بعد تعداد کے اعتبار سے یہ دوسرا بڑا لشکر تھا ۔ (تاریخ الطبری: ۳/۱۰۳) 
لشکر کے امراء کا انتخاب اور ان کو آداب جنگ کی تلقین
لشکر کی روانگی سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین امراء کا انتخاب فرمایا، زید بن حارثہؓ کو پہلا امیر مقرر فرمایا، آپ نے ارشاد فرمایا اگر زید قتل ہوجائیں تو لشکر کے امیر جعفربن ابی طالبؓ ہوں گے، جعفر قتل ہوجائیں تو عبد اللہ ابن رواحہؓ ہوں گے، اور اگر وہ بھی قتل ہوجائیں تو مسلمانوں کو اختیار ہوگا کہ وہ کسی کو بھی اپنا امیر منتخب کرلیں۔ (صحیح البخاری: ۵/۱۴۳، رقم الحدیث: ۴۲۶۱، فتح الباری: ۷/۵۱۱)(جاری)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK