آن لائن تعلیم: کون کتنا تیار؟

Updated: June 21, 2020, 4:22 PM IST | Editorial | Mumbai

وباء کے پوری طرح قابو میں نہ آنے کی وجہ سے جو پابندیاں عائد ہیں اُن کے جلد ختم ہونے کی اُمید تو کی جاسکتی ہے مگر حالات ایسے نہیں ہیں کہ تعلیم و تدریس کا سلسلہ جلد شروع ہو۔ ایسے میں ۱۵؍ جون سے نئے تعلیمی سال کی ابتداء ایک طرح سے علامتی ابتداء ہے۔ آن لائن تدریس کی ضرورت پر اصرار محکمہ ٔ تعلیم کی فکرمندی کا نتیجہ ہے،

آن لائن ایجوکیشن پر عمل کتنا ممکن ہے (علامتی تصویر)
online-education

  وباء کے پوری طرح قابو میں نہ آنے کی وجہ سے جو پابندیاں عائد ہیں اُن کے جلد ختم ہونے کی اُمید تو کی جاسکتی ہے مگر حالات ایسے نہیں ہیں کہ تعلیم و تدریس کا سلسلہ جلد شروع ہو۔ ایسے میں ۱۵؍ جون سے نئے تعلیمی سال کی ابتداء ایک طرح سے علامتی ابتداء ہے۔ آن لائن تدریس کی ضرورت پر اصرار محکمہ ٔ تعلیم کی فکرمندی کا نتیجہ ہے، یہ الگ بات کہ ہمارے ملک میں آن لائن تدریس میں کچھ خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے اس لئے اس جدید طریقے سے بچوں کو اگلی جماعتوں کی تعلیم دینا اتنا آسان نہیں ہے۔ اس کیلئے نہ تو اساتذہ ذہنی طور پر تیار ہیں نہ ہی طلبہ کو اس کا کوئی خاص تجربہ ہے۔ والدین بھی اس میں کم ہی تعاون دے سکتے ہیں۔ اگر ماضی کے تعلیمی دورانیوں میں ۵۰؍ فیصد آف لائن (حسب معمول روایتی طریقے) اور ۵۰؍ فیصد آن لائن ٹیچنگ کا اہتمام کیا گیا ہوتا تو ممکن تھا کہ اس وبائی دَور میں ہم آن لائن سسٹم پر ۱۰۰؍ فیصد انحصار کرتے۔ ایک شماریاتی ادارہ (انڈین اسٹیٹسٹیکل انسٹی ٹیوٹ) کا کہنا ہے کہ ’’ملک میں صرف ۲۷؍ فیصد خاندانوں کی انٹرنیٹ تک رسائی ہے، ایسے میں اگر آن لائن تعلیم ہی پر انحصار کیا گیا تو یہ منصوبہ فلاپ ہوسکتا ہے۔‘‘
  یونیورسٹی کی سطح کے طلبہ کا بھی یہی مسئلہ ہے۔ ان میں سے وہ تمام طلبہ جو لاک ڈاؤن کی وجہ سے وطن واپس جاچکے ہیں اُنہیں اپنے دیہاتوں قصبوں میں انٹرنیٹ کی ویسی سہولت نہیں مل سکتی جیسی کہ اُنہیں دہلی، ممبئی،بنگلور اور دیگر میٹرو شہروں میں میسر آتی ہے۔ کویکریلی سیمنڈس (کیو ایس) نامی ایک ادارے کے حوالے سے اکنامک ٹائمس نے اپنی ایک رپورٹ مورخہ ۲۱؍ اپریل میں لکھا کہ ملک میں انٹرنیٹ کی ’’کنکٹی وِٹی ‘‘ اور سگنل ایسا مسئلہ ہے کہ جس سے اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ کو عام دنوں میں بھی جوجھنا پڑتا ہے۔ ’کیو ایس‘ نے ایک سروے کے بعد کہا کہ کووڈ۔۱۹؍ کی پیدا کردہ صورتحال میں آن لائن کو ترجیح دینا اچھی بات ہے مگر اس خوب کا شرمندۂ تعبیر ہونا ازحد مشکل ہے کیونکہ ٹیکنالوجی کے جس مضبوط اور بے داغ انفراسٹرکچر کے ذریعہ آن لائن تعلیم کو جاری و ساری رکھا جاسکتا ہے اُس کا وجود تو ہے مگر وہ معیاری انفراسٹرکچر نہیں ہے۔
 مسئلہ صرف انٹرنیٹ کی مدد سے تسلسل کے ساتھ آن لائن رہنے کا نہیں ہے بلکہ بجلی کی فراہمی بھی اکثر جگہوں پر متاثر رہتی ہے۔ ملک کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں کچھ طے نہیں ہوتا کہ کب بجلی رہے گی اور کب کئی کئی گھنٹوں کیلئے رخصت ہوجائیگی۔کبھی یہ بھی ممکن ہے کہ اساتذہ کے ہاں بجلی ہو مگر طلبہ کے ہاں نہ ہو۔ اس کے برعکس بھی ہوسکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں کہ ایک کلاس کے پچاس طلبہ میں سے ہر ایک کو مخصوص دورانیہ میں انٹرنیٹ کے ذریعہ کنکٹ رہنے کا بھی موقع ملے اور ان کے گھروں پر بجلی سپلائی بھی کسی تعطل کے بغیر جاری رہے۔ 
 اس کے باوجود آن لائن طریقۂ تعلیم کو ایک متبادل کے طور پر سامنے رکھا جاسکتا ہے اور بحرانی دور کی ضرورت کے سبب ہی سہی، اسے رائج کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے ۔ یہ الگ بات کہ اس پر مکمل انحصار فی الحال ممکن نہیں۔ 
 نئی دہلی کی ایک معلمہ کا وہ بیان جو اسکرول ڈاٹ اِن پر شائع ہوا، زمینی حقیقت کو اُجاگر کرتا ہے۔ اُس کا کہنا ہے کہ باقاعدہ کلاسوں میں بھی طلبہ کی تقریباً نصف تعداد یہ نہیں جانتی کہ کلاس میں ٹیچر کیا کہہ رہی یا کیا کررہی ہے چنانچہ ٹیچر کی محض اسکرین پر موجودگی سے اُن کی تعلیم نسبتاً زیادہ متاثر ہوگی۔
 ابھی یہ طے نہیں ہے کہ تعلیمی ادارے کب کھلیں گے اور اس سال کی تعلیم کس طرح ہو گی مگر طلبہ، اساتذہ اور والدین کی بے چینی صاف محسوس کی جاسکتی ہے۔ کورونا جب قابو میں نہیں آجاتا، کچھ بھی کہنا مشکل ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK