مختلف عالمی جدولوں میں ہمارا مقام، کہاں ہیں ہم؟

Updated: May 08, 2022, 9:42 AM IST | Aakar Patel | Mumbai

ہماری درجہ بندی تسلسل کے ساتھ متاثر ہوئی ہے اس لئے حکومت نے اس پر نگاہ رکھنے کیلئے جولائی ۲۰۲۰ء میں کچھ سرگرمی دکھائی تھی مگر اس کا کوئی اثر ہنوز دکھائی نہیں دیتا۔

In May, the Modi government had announced that special attention would be paid to the country`s performance in the three world tables and full attention would be given to it.
لائی ۲۰۲۰ء میں مودی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ ۲۹؍ عالمی جدولوں میں ملک کی کارکردگی پر خاص نگاہ رکھی جائے گی اور پوری توجہ دی جائے گی

جولائی ۲۰۲۰ء میں مودی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ ۲۹؍ عالمی جدولوں میں ملک کی کارکردگی پر خاص نگاہ رکھی جائے گی اور پوری توجہ دی جائے گی۔ اس مقصد کے تحت اُس وقت ۴۷؍ مرکزی وزارتوں اور محکموں کی ایک میٹنگ منعقد کی گئی تھی کہ عالمی جدولوں میں ہندوستان کو حاصل ہونے والے مقام کو کس طرح بہتر مقام میں تبدیل کیا جائے۔ یہ اُس وقت کی بات ہے۔ جولائی ۲۰۲۰ء کی۔ اس کے بعد سے اب تک کیا ہوا، آئیے اس کا جائزہ لیں:
 اقوام متحدہ کے ترقیاتِ انسانی جدول (ہیومن ڈیولپمنٹ اِنڈیکس) میں ہمارا درجہ ایک مقام گر گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری اوسط آمدنی کم ہوگئی ہے اور بچیوں کی تعلیم اور صحت پر جو سرمایہ کاری کی جاتی تھی اس میں بھی کمی آئی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ پر ’’شہریوں کا اطمینان و خوشی‘‘ (ہیپی نیس رپورٹ) کا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں اطمینان اور خوشی کی پیمائش نہیں کی جاتی بلکہ جی ڈی پی، فی کس آمدنی، آزادی اور بدعنوانی کے تعلق سے شہریوں کی رائے کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے۔ مگر اس رپورٹ میں بھی ہم ۱۹؍ مقام پیچھے کھسک گئے ہیں۔ 
 عالمی جدول برائے بھوک (گلوبل ہنگر انڈیکس) میں ہم ۴۶؍ مقام پیچھے آگئے ہیں جبکہ پاکستان، نیپال اور بنگلہ دیش کی حالت ہم سے بہتر بتائی گئی ہے۔ اس جدول کی تیاری کیلئے یہ دیکھا جاتا ہے کہ ملک کے کتنے لوگوں کو بھوک سے نمٹنا پڑتا ہے اور تغذیہ کی کمی کی وجہ سے بچوں کی نشوونما کتنی متاثر ہے ۔ امریکہ کی قدامت پسند تنظیمیں یعنی دائیں بازو کی تنظیمیں عرصہ دراز سے دُنیا کے مختلف ملکوں میں آزادی کا اپنے نقطۂ نظر سے جائزہ لے رہی تھیں۔ کیٹو ہیومن فریڈم انڈیکس میں ہندوستان ۴۴؍ مقام پیچھے چلا گیا کیونکہ جدول تیار کرنے والوں کے خیال میں ملک میں نظم و نسق کا مسئلہ ہے، مذہبی آزادی بھی متاثر ہے اور تجارتی آزادی بھی۔ 
 ورلڈ اکنامک فورم (جسے عموماً ڈیووس کہا جاتا ہے) ہر سال صنفی امتیاز سے متعلق عالمی جدول تیار کرتا ہے جس کے ذریعہ یہ آنکنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ مردوں اور خواتین کے درمیان آزادی، سہولتوں اور دیگر روزمرہ کے اُمور میں کتنی مساوات پائی جاتی ہے۔ اس جدول میں ہم ۲۶؍ مقام پیچھے چلے گئے۔ ورلڈ بینک خواتین، تجارت اور قانون کے ایک جدول کے ذریعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس ملک میں خواتین کو کتنے معاشی مواقع حاصل ہیں۔ وطن عزیز اس جدول میں ۱۳؍ مقام نیچے آیا ہے۔
 اسمارٹ سٹیز کے انڈیکس میں، جس کے ذریعہ شہریوں کی صحت، تحفظ، نقل و حمل، سرگرمیاں اور مواقع کا جائزہ لیا جاتا ہے، دہلی ۱۸؍ مقام، بنگلورو ۱۶؍ مقام، حیدر آباد ۱۸؍ مقام اور ممبئی ۱۵؍ مقام پیچھے کھسکے ہیں۔ ایک اور جدول ہے جو زیادہ مشہور نہیں ہے۔ وہ ہے ’’ایکسیس ناؤ‘‘۔ اس کے ذریعہ یہ بتایا جاتا ہے کہ دُنیا میں انٹرنیٹ کا بند رہنا یا بند کیا جانا کب، کہاں، کتنی بار اور کتنے دورانیہ کے لئے ہوا۔ اس جدول میں وطن عزیز کو سرفہرست قرار دیا گیا۔ ہمارے ہاں ۲۰۱۴ء میں ۶؍ مرتبہ انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن ہوا، ۲۰۱۵ء میں ۱۴؍ مرتبہ، ۲۰۱۶ء میں ۳۱؍ مرتبہ، ۲۰۱۷ء میں ۷۹؍ مرتبہ، ۲۰۱۸ء میں ۱۳۴؍ مرتبہ، ۲۰۱۹ء میں ۱۲۱؍ مرتبہ اور ۲۰۲۰ء میں ۱۰۹؍ مرتبہ۔ ۲۰۲۱ء میں بھی انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن ۱۰۶؍ مرتبہ ہوا۔ ۲۰۱۹ء میں عالمی سطح پر ہونے والے ۲۱۳؍ شٹ ڈاؤنس میں ہندوستان کو ۵۶؍ فیصد شٹ ڈاؤن کیلئے شمار کیا گیا جو کہ دوسرے نمبر کے ملک، ونیزوئیلا، سے ۱۲؍ گنا زیادہ تھا۔ ۲۰۲۰ء میں یہ فیصد ۷۰؍ ہوگیا تھا۔ 
 آر ٹی آئی ریٹنگ میں ہمارا ملک ۴؍ مقام پھسلا ہے۔ یہی حال جمہوریت کے جدول میں بھی رہا جس پر کافی کچھ لکھا جاچکا ہے۔ ’’جمہوریت کا تنوع‘‘ (ویرائٹی آف ڈیموکریسی) کے جدول میں ہمارا شمار جمہوریت کے طور پر کیا ہی نہیں کیا بلکہ اسے ’’انتخابی آمریت‘‘ (الیکٹورل آٹوکریسی) قرار دیا گیا (جسے قبول کرنے میں پس و پیش ہے: مترجم)۔ اس درجہ بندی کی وجہ سے ہمارا شمار ہنگری اور ترکی جیسے ملکوں کے ساتھ ہوا۔
 ہوا کتنی صاف ہے اس جدول میں (جسے انگریزی میں ورلڈ ایئر کوالیٹی انڈیکس) کہا جاتا ہے، بتایا گیا کہ دُنیا کے ۳۰؍ سب سے زیادہ آلودہ شہروں میں ہندوستان کے ۲۲؍ شہر ہیں۔ ۲۰۱۷ء میں ہمارے جتنے شہروں کو سب سے زیادہ آلودہ قرار دیا گیا تھا اُن میں ۱۱؍ کا اضافہ ہوا۔ 
 ایسے مزید کئی جدول ہیں جن پر دو دو تین تین سطریں بھی لکھی جائیں تو یہ مضمون کافی طویل ہوجائیگا اس لئے مزید جدولوں سے صرفِ نظر کرتے ہوئے اب آئیے اس کے ردعمل پر۔ اگست ۲۰۲۰ء میں ایسی خبریں موصول ہوئی تھیں کہ مودی حکومت عالمی جدولوں میں ملک کی درجہ بندی کو بہتر بنانے کیلئے خصوصی تشہیری مہم چلائے گی۔مگر یہ سوال ہنوز تشنہ ٔ جواب ہے کہ تشہیری مہم کے ذریعہ درجہ بندی کو کیسے بنایا جاسکتا ہے؟
 اگست ۲۰۲۰ء کے بعد سے الگ الگ درجہ بندیوں میں ہمارے ملک نے جو مقام حاصل کیا ہے وہ سابقہ برس یا سابقہ چند برسوں کے مقابلے میں کم ہے یعنی ہمیں پیچھے کھسکے ہیں۔ پھر حکومت نے فیصلہ کیا کہ ہم عالمی جدولوں کا حصہ ہی نہیں بنیں گے کیونکہ یہ جدول نادرست اور امتیازی طریق کار پر مبنی ہوتے ہیں۔ یہ طرز عمل بالکل اُس جواں سال کی طرح ہے جسے کرکٹ کھیلنا نہیں ہے اس لئے وہ اسٹمپ اُکھاڑ کر گھر چلا جائے۔ 
 اگر ہم نے جدولوں سے دوری اختیار کرلی تب بھی وہ تیار ہوں گے اور شائع ہوں گے، سوال یہ ہے کہ کیا تب بھی مختلف شعبوں میں ہماری کارکردگی ویسی ہی رہے گی جیسی ہے یا ہم اس کارکردگی کو بہتر بنانے کی بھی فکر کریں گے؟ کسی مسئلہ کو حل کرنے کیلئے سب سے پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ مسئلہ کا اعتراف کیا جائے۔ تب ہی مسئلہ کے حل کی جانب قدم بڑھ سکتے ہیں۔ چونکہ ہم اس طرح کا کوئی قدم بڑھانے سے پہلے ہی ’’امرت کال‘‘ میں داخل ہوچکے ہیں اس لئے کہنا مشکل ہے کہ کسی اصلاح کی کتنی گنجائش ہے ۔ n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK