چین کے تنازع میں ہماری نرمی فہم سے بالا تر ہے

Updated: June 28, 2020, 5:49 PM IST | Aakar Patel | Mumbai

یہ وقت تھا کہ وزیر اعظم مودی جو خود کو بہادر اور سخت فیصلہ کرنیوالا باور کراتے آئے ہیں، چین کے خلاف کڑا قدم اُٹھاتے مگر انہوں نے تو ایسا کچھ نہیں کیا۔

modi-jinping-file photo
وزیراعظم مودی اور چینی صدر ۔ فائل فوٹو

وزیر اعظم کے ناقدین اور اُن کی پارٹی کے لوگ بھی چین پر اُن کے موقف سے ششدر رہ گئے۔ درحقیقت انہوں نے جن باتوں کیلئے خود کو مشتہر کیا اُن کو پیش نظر رکھتے ہوئے اُن کے مخالفین بھی یہ ماننے پر مجبور رہتے ہیں کہ وہ قوم پرست ہیں۔ یہ بھی مانتے آئے ہیں کہ وہ جس نیشنلزم کی تبلیغ کرتے ہیں، اُس پر پورا اُترتے ہیں۔ مگر، اس مرتبہ، مخالفین ہوں یا پارٹی کے لوگ، کسی نے بھی نہیںسوچا تھا کہ وہ بھارت ماتا کے علاقوں میں چین کی دراندازی سے یوں راہ فرار اختیا رکریں گے۔اب تک چین کے تنازع سے متعلق اُنہوں نے ایک ہی بار عوامی بیان دیا ہے۔ اس بیان میں انہوں نے کہا کہ ’’نہ کوئی وہاں ہماری سیما میں گھس آیا ہے نہ ہی کوئی گھسا ہوا ہے نہ ہی ہماری کوئی پوسٹ (سرحدی چوکی) کسی دوسرے کے قبضے میں ہے۔‘‘ چین نے پوری گلوان وادی پر،  جہاں وہ گھس آیا ہے،  قبضے کو جائز ٹھہرانے کیلئے اس بیان کو استعمال کیا۔ مودی کا یہ بیان اتنی بے اطمینانی کا سبب بنا ہے کہ اسے دفتر وزارت عظمیٰ (پی ایم او) کے سرکاری ریکارڈ (ویڈیو) سے خارج کرنا پڑا۔
 مذکورہ بیان کے بعد مودی نے اب تک کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ مگر ایسا لگتا ہے جیسے وہ یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ کوئی دراندازی نہیں ہوئی ہے۔ سیٹلائٹ سے ملنے والی تصویروں میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ جس خیمے کو ہٹانے کیلئے ہمارے جوانوں نے جان عزیز قربان کی اب وہاں مزید کئی خیمے یا ڈھانچے تعمیر ہوچکے ہیں۔ یہ ہماری سرزمین پر اور ہماری سرحد کے اندر ہوا ہے۔ 
 ایسی کئی رپورٹیں منظر عام پر آئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ چین نے ڈیسپانگ نامی علاقے میں جو ہندوستان کی سرحد میں ۱۸؍ کلومیٹر اندر ہے، چوتھی دراندازی کی ہے۔ حکومت نے ایسی رپورٹوں کو غلط اور بے بنیاد نہیں ٹھہرایا ہے۔ ہماری خاموشی پریشان کن حد تک گہری ہے۔ حکومت میں ہر خاص و عام فکرمند ہے۔ ہماری جانب سے اگر کچھ ہوا ہے تو صرف یہ کہ وزارت خارجہ نے ایک طویل بیان جاری کیا اور بیجنگ میں ہندوستانی سفیر کا انٹرویو منظر عام پر آیا جس میں چین کیلئے یہ پیغام ہے کہ وہ بین الاقوامی سرحد (ایل او سی) کا احترام کرے۔ حکومت میں کوئی بھی یہ کہنے کی جرأت نہیں کررہا ہے کہ چین نے دراندازی کی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر شخص مودی کے بیان کی نفی کرنے سے ڈرتا ہے۔  
 وزارت دفاع نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا ہے کہ ہندوستانی فوج کو مکمل اختیار دے دیا گیا ہے۔ اس کا کوئی معنی نہیں ہے۔ فوج یہ فیصلہ نہیں کرسکتی کہ ہمیں چین سے جنگ کرنی ہے یا نہیں کرنی ہے کیونکہ یہ سیاسی فیصلہ ہوتا ہے۔ ہندوستان چین کے فوجیوں کو اپنی سرحد سے نکال باہر کرنے کیلئے طاقت کا استعمال کرے گا یا نہیں کرے گا، یہ واضح نہیں ہوا۔ جب تک ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہوجاتا تب تک فوج کے حرکت میں آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ نہرو نے اپنے دورِ اقتدار میں بڑی جرأت سے یہ فیصلہ کیا تھا۔ 
 یہ کہنا کہ فوج کو مکمل اختیار دے دیا گیا ہے، اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش ہے اور سیاسی جوابدہی کے ایک معاملے کو فوج کے سپرد کردینے جیسا ہے۔ حکومت اس معاملے سے جس انداز میں نمٹ رہی ہے اس سے ایسا لگتا ہے جیسے وہ اسے مقامی پولیس کے دائرۂ کارمیں آنے والا کوئی معاملہ سمجھ رہی ہے جبکہ چین کا انداز جارحانہ اور قبضہ کرنے والا ہے۔ اس وقت ہمارا ملک خطرے میں ہے اور حکومت اس سے نمٹنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ وہ خطرہ یا دراندازی کا اعتراف تک نہیں کرنا چاہتی۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم بیک وقت کئی آوازوں میں بول رہے ہیں چنانچہ جو بین الاقوامی حمایت ہمیں حاصل ہوسکتی تھی اس کا موقع ہم نے گنوا دیا ہے۔ اگر ہم نے اس معاملے میں شفافیت برتی ہوتی تو اب تک چین، قدم پیچھے لینے پر مجبور ہوچکا ہوتا۔ اس کے برخلاف ہوا یہ کہ چین نے مودی کے بیان کو کہ ’’نہ کوئی وہاں ہماری سیما میں گھس آیا ہے نہ ہی کوئی گھسا ہوا ہے‘‘ کا فائدہ اُٹھانے میں دیر نہیں کی۔ یہی نہیں،ایک طرف اس نے فوجی جھڑپوں کیلئے ہندوستان کو قصوروار ٹھہرادیا، دوسری طرف ہماری سرزمین پر اپنے دعوے میں توسیع کردی۔ 
 مودی کا سپورٹ کرنے والے جتنے لوگ ہیں جو ہر موقع پر اُن کی حمایت و تائید میں پیش پیش رہتے ہیں اُنہوں نے چپ سادھ لی ہے کیونکہ وہ خود بھی حیران ہیں کہ ا س معاملے سے ایسے نمٹا جارہا ہے جیسے کسی میں نمٹنے کی صلاحیت ہی نہ ہو۔ یہ ایسا موضوع ہے جس کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مودی اتنی نرمی کا مظاہرہ کریں گے۔ جب یوپی اے اقتدار میں تھی اُس دور میں مودی بڑی بہادری کی باتیں کیا کرتے تھے حالانکہ اس دور میں جو در اندازی ہوئی وہ عارضی نوعیت کی تھی۔ مودی کے دور میں جو ہورہا ہے وہ مستقل نوعیت کا دکھائی پڑتا ہے۔ اس صورتحال سے نیشنلزم کے بارے میں کیا سمجھا جائے؟ ہم اسے جعلی نیشنلزم کا نام دے سکتے ہیں۔ جی ہاں بالکل جعلی۔ لغت بتاتی ہے کہ نیشنلزم کا معنی ہے وطن سے شدید محبت۔ یہ آئیڈیالوجی کسی ملک کی آزادی اور خود مختاری کی وکالت کرتی ہے اور ملک کو غیر ملکی اثر یا تسلط کے خلاف مزاحمت کا درس دیتی ہے۔ مگر لداخ میں جو ہورہا ہے وہ اس کے قطعی برعکس ہے۔ یہ جعلی نیشنلزم ہی ہےورنہ کیا وجہ ہے کہ ایسی دراندازی جو ملک پر حملے کی مانند ہے اُس کے جاری رہنے کے باوجود خاموشی اختیار کی جائے۔ مجھے حیرت ہے کہ سیاسی طور پر ذہین ہونے کے باوجود مودی اس موقع پر مزاحمت کی اہمیت کو نہیں سمجھ رہے ہیں۔ 
 بلاشبہ ہم چین کے مقابلے میں غریب ہیں، ہمارا ملک نسبتاً چھوٹا ہے اور ہم اتنے طاقتور نہیں ہیں مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ یہ بات تو بالکل سمجھ میں نہیں آتی کہ ہم چین کے عزائم اور حملے کے خلاف مزاحمت تک نہ کریں۔ مودی کو چاہئے کہ اس موقع پر ملک کے اتحاد کی اہمیت کو سمجھیں۔ وہ لوگ بھی جو اُنہیں پسند نہیں کرتے، اس موقع پر اُن کے ساتھ کھڑے ہوں گے اگر وہ کہیں کہ چین ہماری خود مختاری کو چیلنج کررہا ہے۔ سیاسی اختلافات دھرے رہ جائیں گے اور مخالفین و حامی سب مودی کے ساتھ ہوں گے اگر وہ جرأت کا مظاہرہ کریں۔ چین کی اس جارحیت کے پیش نظر ضرورت تھی کہ مودی عوام سے متحد ہونے کی اپیل کرتے مگر انہوں نے دشمنی پر آمادہ ملک کے مفاد میں بیان دے دیا اور مان لیا کہ ہماری سرزمین میں کوئی داخل نہیں ہوا ہے۔ اِس وقت ہم اُن کا جو طرز عمل دیکھ رہے ہیں اس میں نیشنلزم کا شائبہ تک نظر نہیں آتا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK