وبائی حالات عالمی فارما صنعت کیلئے سازگار ثابت ہوئے

Updated: January 06, 2022, 9:18 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

دو ہزار بیس کے ابتدائی چند مہینوں میں دنیا بھر میں مکمل طور پر لاک ڈاؤن لگ جانے کے بعد کاروبار کے تقریباً تمام شعبوں کی سرگرمیاں موقوف یا متاثر تھیں ۔ بیشتر پروڈکشن ہاؤسیز بند تھے۔

Representation Purpose Only- Picture INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

 دو ہزار بیس کے ابتدائی چند مہینوں میں دنیا بھر میں مکمل طور پر لاک ڈاؤن لگ جانے کے بعد کاروبار کے تقریباً تمام شعبوں کی سرگرمیاں موقوف یا متاثر تھیں ۔ بیشتر پروڈکشن ہاؤسیز بند تھے۔ صرف ان کمپنیوں اور افراد کو کام کرنے کی اجازت دی گئی تھی جو کسی نہ کسی طرح زندگی کی بنیادی ضرورتیں فراہم کرنے میں شریک تھے مثلاً دودھ کا کاروبار کرنے والے، ایف ایم سی جی کمپنیاں (وہ کمپنیاں جو تیزی سے فروخت ہونے والی ضروری مصنوعات جیسے انڈا، بسکٹ، چپس، چائے پتی وغیرہ بناتی ہیں )، اسپتال اور فارما سوٹیکل کمپنیاں ۔ وبائی حالات کے دوران دنیا بھر میں ۱۸۵؍ ملین افراد نے اپنی ملازمتیں کھو دیں ، عالمی معیشت کی رفتار سست پڑ گئی اور تاجروں کو زبردست نقصان ہوا۔ بے روزگار ہونے والے بیشتر افراد آج بھی برسر روزگار نہیں ہوئے ہیں جبکہ بنیادی ضرورتیں پوری کرنے والی اور فارما صنعت کو چھوڑ کر دیگر تمام کمپنیاں اور صنعتیں اپنے نقصان کی بھرپائی کیلئے کوشاں ہیں ۔
 یہ حقیقت ہے کہ کورونا بحران میں اسپتال، فارما اور میڈیکل کمپنیوں کا منافع دس گنا سے بھی زیادہ بڑھا۔ ۲۰۲۰ء سے لے کر نومبر ۲۰۲۱ء تک شائع ہونے والی متعدد رپورٹوں میں یہ انکشاف ہوتا ہے کہ کووڈ۔۱۹؍ کے دور میں فارما کمپنیوں کے منافع میں ۷۴؍ فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ ان میں کووڈ۔۱۹؍ کی ویکسین بنانے کے علاوہ وہ کمپنیاں بھی شامل ہیں جو ادویات، انجکشن اور سرجیکل آلات اور لوازمات بناتی ہیں ، اور وہ بھی شامل ہیں جو انہیں فروخت کرتی ہیں ۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ۲۰۲۰ء اور ۲۰۲۱ء یعنی دونوں ہی سال فارما صنعت کیلئے منافع بخش ثابت ہوئے۔ فائزو، موڈرنا، بائیو این ٹیک اور جانسن اینڈ جانسنجیسی بڑی کمپنیاں جو کووڈ کی ویکسین بنارہی ہیں ، انہوں نے اپنی ویکسین دنیا کے امیر ممالک کو بھاری قیمت میں فروخت کی ہیں ۔ فائزو، موڈرنا اور جانسن اینڈ جانسن، تینوں ہی امریکی کمپنیاں ہیں جبکہ بایو این ٹیک ایک جرمن کمپنی ہے۔ ریلیف ویب کی نومبر ۲۰۲۱ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق یہ کمپنیاں ہر سیکنڈ ایک ہزار ڈالر (تقریباً ۷۵؍ہزار روپے) کمارہی ہیں جبکہ دنیا کے ایسے غریب ممالک پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے جو ان کے مہنگے معاہدوں پر دستخط کرکے ویکسین خریدنے سے قاصر ہیں ۔ غریب ممالک کے ۹۸؍ فیصد افراد اب بھی ایسے ہیں جنہوں نے ویکسین کا ایک ڈوز بھی نہیں لیا ہے۔ 
 فائزو، موڈرنا اور بایو این ٹیک نے امیر ممالک کے ساتھ اب تک کے سب سے منافع بخش معاہدہ پر دستخط کئے ہیں ۔ مذکورہ رپورٹ میں یہ انکشاف بھی ہوتا ہےکہ رواں مالی سال میں ان تینوں کمپنیوں کو ۳۴؍ بلین ڈالرز کا منافع ہوگا۔ ان کمپنیوں کی اجارہ داری نے کورونا بحران کے محض چند مہینوں میں دنیا میں ۵؍ نئے ارب پتی (مذکورہ کمپنیوں سے وابستہ افراد) بنا دیئے ہیں جن کی مجموعی دولت ۳۵ء۱؍ بلین ڈالر ہے۔ فائزو نے تیسری سہ ماہی کی اپنی رپورٹ میں قیاس کیا ہے کہ اس مالی سال میں اسے ۳۶؍ بلین ڈالر کا منافع ہوگا۔ چونکہ فائزو اور بایو این ٹیک نے مل کر ویکسین تیار کی ہے اس لئے نصف منافع بایو این ٹیک کے اکاؤنٹ میں جائے گا۔۲۰۲۱ء کے ابتدائی ۹؍ مہینوں میں بایو این ٹیک کو ۱۰ء۳؍ بلین یورو اورموڈرنا کو ۷ء۸؍ بلین ڈالر کا منافع ہوا ہے۔ ۲۰۲۰ء کے مقابلے میں ایسٹرا زنیکا (ویکسین بنانے والی ایک برطانوی کمپنی) کے منافع میں کمی آئی ہے جس کی وجہ اس کمپنی کا اپنے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ میں بھاری سرمایہ کاری ہے۔ ۲۰۲۰ء کے مقابلے میں ۲۰۲۱ء میں جانسن اینڈ جانسن کے منافع میں ۲۴؍ فیصد، فائزو کے منافع میں ۱۲۴؍ فیصد، موڈرناکے ۱۹۰؍ فیصد اور بایو این ٹیک کے منافع میں ۱۹۴؍ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ کمپنیاں وبائی حالات میں بھی اربوں روپے کمارہی ہیں ۔
 کورونا وائرس کی وباء پھیلنے سے لے کر اب تک اس کی مختلف اقسام کی تشخیص ہوچکی ہے۔ فی الحال، اومیکرون کا خوف مسلط ہے۔ ایسے میں طبی ماہرین ویکسین کے دونوں ڈوز کے علاوہ بوسٹر ڈوز باقاعدگی سے لینے کو ضروری قرار دے رہے ہیں ۔ اومیکرون کے سبب دنیا بھر میں ایک مرتبہ پھر لاک ڈاؤن جیسے حالات پیدا ہوگئے ہیں ۔ اگر حالات قابو سے باہر ہوگئے تو کیا دنیا مزید ایک لاک ڈاؤن کیلئے تیار ہے؟ ماہرین معاشیات نے تشویش ظاہر کی ہے کہ اگر ایسا ہوا تو وہ کاروباری اور ملازمت پیشہ افراد جنہوں نے پہلے لاک ڈاؤن میں اپنا ذریعہ معاش کھودیا تھا، مالی طور پر بے حد کمزور ہوجائیں گے اور دنیا بھر میں بھکمری جیسے حالات پیدا ہوجائیں گے۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان غریب ممالک کو ہوگا۔ دنیا کی نصف سے زائد آبادی خط افلاس سے نیچے چلی جائے گی۔ معاشی عدم مساوات کا خلاء اتنا بڑھ جائے گا کہ خط افلاس سے اوپر آنے کیلئے کئی دہائیاں درکار ہوں گی۔ فارما، ایف ایم سی جی، میڈیکل، اور ضروری مصنوعات بنانے اور فروخت کرنے والی کمپنیوں کی معیشت پر اجارہ داری ہوگی اور کاروبار کے انہی شعبوں کے منافع میں ہر سہ ماہی میں اضافہ ہوگا۔ وہ تمام صنعتیں اور کاروبار جن کی اشیاء اور خدمات بنیادی ضرورت میں نہیں بلکہ لگژری میں شمار ہوتی ہیں ، ایک طویل عرصے کیلئے خسارے میں ہوں گی۔ ٹیکنالوجی سے لیس اس دور میں کیا انسان صرف بنیادی ضرورتوں پر اکتفا کرلے گا؟ یہ اہم سوال ہے جو موجودہ حالات سے اُبھر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK