وباء اور غریب تر ممالک

Updated: June 27, 2020, 10:26 AM IST | Editorial | Mumbai

سینٹر فار ڈیزاسٹر پروٹیکشن، برطانیہ کا کہنا ہے کہ کووڈ۔۱۹؍ سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی اداروں نے ۴۸؍ ارب ڈالر کے جس سرمائے کا عزم اور اعلان کیا تھا اُس کا بیشتر حصہ اُن ملکوں میں تقسیم ہورہا ہے جن کی مالی و معاشی حالت مستحکم ہے، غریب ملکوں کو اس رقم سے استفادہ کا موقع نہیں مل رہا ہے۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

  سینٹر فار ڈیزاسٹر پروٹیکشن، برطانیہ کا کہنا ہے کہ کووڈ۔۱۹؍ سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی اداروں نے ۴۸؍ ارب ڈالر کے جس سرمائے کا عزم اور اعلان کیا تھا اُس کا بیشتر حصہ اُن ملکوں میں تقسیم ہورہا ہے جن کی مالی و معاشی حالت مستحکم ہے، غریب ملکوں کو اس رقم سے استفادہ کا موقع نہیں مل رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ امداد کا ۹۷؍ فیصد حصہ آسان قرض کی شکل میں دستیاب ہے لہٰذا جو ممالک قرض کی اصل رقم مع سود ادا کرنے کی طاقت رکھتے ہیں اُن کیلئے یہ قرض حاصل کرنا آسان اور غریب ملکوں کیلئے خاصا مشکل ہے جن پر قرض کا بوجھ ویسے بھی کم نہیں ہوتا۔ مذکورہ سینٹر نے ضروری تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ کووڈ۔۱۹؍ کی وجہ سے جن ۲۰؍ ملکوں کی غربت میں شدید اضافے کا اندیشہ ہے اُنہیں مذکورہ رقم کا صرف ۴؍ فیصد مل سکا ہے۔
 یہ ایک افسوسناک صورتحال ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جن ملکوں کی معاشی حالت اس قابل ہے کہ وہ اپنے عوام کی دیکھ بھال کرسکتے ہیں وہ فراخدلی کا مظاہرہ کرتے، قرض کی رقم کو غریب ملکوں کیلئے چھوڑ دیتے اور اپنی جانب سے عطیات دے کر اس بات کو یقینی بناتے کہ غریب ملکوں کو آسان قرض نہیں بلکہ امداد دی جائے مگر سینٹر فار ڈیزاسٹر پروٹیکشن کے اعلامیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا نہیں ہوا ہے۔اس کے برخلاف تازہ صورتحال یہ ہے کہ لاطینی امریکہ، افریقہ اور جنوبی ایشیاء کے ملکوں میں کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ان ملکوں کے اسپتالوں کی حالت پہلے ہی خستہ اور انفراسٹرکچر کمزور ہے۔ مثال کے طور پر ۴۱؍ افریقی ملکوں کے سرکاری اسپتالوں میں ۲؍ ہزار سے بھی کم وینٹی لیٹرس ہیں جبکہ صرف امریکہ میں ان کی تعداد ایک لاکھ ۷۰؍ ہزار ہے۔ کانگو میں صرف ۲؍ فیصد، تنزانیہ میں ۸؍ فیصد اور بنگلہ دیش میں ۷؍ فیصد پبلک کیئر سینٹرس پر آکسیجن کا نظم ہے ۔ ایسے ملکوں کو صرف آکسیجن نہیں بلکہ ہمہ اقسام طبی سازوسامان کی ضرورت ہے جن کی عدم دستیابی کی صورت میں یہ ممالک کورونا سے (خدانخواستہ) لڑ نہیں پائینگے۔ 
 ہمہ اقسام طبی ساز وسامان میں بالخصوص پی پی ای، آکسیجن سلنڈرس، وینٹی لیٹرس اور بیڈ کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ایسے حالات ہیں کہ جن میں دُنیا کے ہر ملک کو دیگر ممالک کیلئے کھڑا ہونا چاہئے اور اپنی جانب سے جو کچھ بھی ممکن ہے فراہم کرنا چاہئے بالخصوص آکسیجن سلنڈرس۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ دُنیا بھر میں مریضوں کی تعداد ہنوز بڑھ رہی ہے اسلئے ۶؍ لاکھ ۲۰؍ ہزار کیوبک میٹر آکسیجن (۸۸؍ ہزار بڑے سلنڈرس) کی روزانہ ضرورت ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ فی الحال کتنے کیوبک میٹر آکسیجن روزانہ استعمال ہورہی ہے مگر کئی دیگر رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ دُنیا میں طبی ضرورت کے تحت استعمال ہونے والی آکسیجن کا ذخیرہ خاطر خواہ نہیں ہے چنانچہ کئی ملکوں میں آکسیجن کے دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو بچایا نہیں جاسکا ہے۔ کئی ملکوں میں عام شہری بھی اس اندیشے کے تحت کہ اگر ضرورت پڑی تو آکسیجن کا ملنا دشوار ہوجائیگا، اپنے گھروں میں آکسیجن سلنڈروں کا ذخیرہ کررہے ہیں ۔ اس احتیاطی اقدام کی وجہ سے بھی آکسیجن کے ذخیرہ میں مزید تخفیف ہورہی ہے۔ 
 بتایا جاتا ہے کہ ڈبلیو ایچ او صرف آکسیجن کی فراہمی کو بڑھانے کیلئے ۲۵۰؍ ملین ڈالر کی رقم اکٹھا کرنا چاہتا ہے۔ عالمی بینک اور افریقی یونین اس کارِ خیر میں شریک ہورہے ہیں ۔ بڑے ملکوں ، عالمی فلاحی اداروں اور دُنیا کے ارب پتیوں کو بھی اس کا حصہ بننا چاہئے۔ یہ وقت سرمائے اور وسائل کو بچانے کا ہے نہ ہی یہ دیکھنے کا کہ کس ملک سے کس کے کیسے تعلقات اور مفادات ہیں ۔ یہ وقت انسانوں کو بچانے کا ہے ، اس میں اپنے پرائے کی تخصیص نہیں ہوسکتی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK