والدین کو اولاد کے تئیں اپنا محاسبہ ضرورکرنا چاہئے

Updated: January 14, 2022, 2:02 PM IST | Mudasir Ahmed Qasmi

زندگی کے ہر شعبے میں احتساب ضروری ہے ۔ احتساب کا یہ نظام اللہ رب العزت نے معاشرے میں توازن کو برقرار رکھنے کے لئے بنایا ہے، جب بھی احتساب کا دامن ہمارے ہاتھوں سے چھوٹے گا ،ہم اپنے اعمال و کردار میں عدمِ توازن کے شکار ہوں گے

The Shari`ah emphasizes the issue of equality between children.Picture:INN
شریعت میں اولاد کے درمیان مساوات کا معاملہ کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ تصویر: آئی این این

شریعت ِ اسلامیہ میں جو احتساب کا تصور ہے وہ سب کے ساتھ یکساں ہے۔چاہے کوئی چھوٹا ہو یا بڑا ،امیر ہو یا غریب، حاکم ہو یا محکوم ،مالک ہو یا ملازم ہر ایک کو اپنی ذمہ داریوں کے آئینے میں اپنے آپ کو پرکھنا چاہئے اور اگر کوئی کمی زیادتی ہو تو اس کی اصلاح کر لینی چاہئے،کیونکہ روزِ محشر اللہ رب العزت کے سامنے سب کو جواب دہ ہونا پڑےگا۔ وہاں ہم سے اگر کوئی جواب نہ بن پڑا تو ایسی سزا کے مستحق قرار پائیں گے جس کے تصور سے ہی روح کانپ جاتی ہے۔اللہ معاف کرے! دورِ حاضر میں ہمارا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم میں سے جو کسی بھی اعتبار سے بڑا ہے وہ صرف اپنے چھوٹوں کو ہی احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کرتا نظر آتا ہے؛گویا کہ بڑوں کی لغزش ،لغزش ہی نہیں بلکہ اُن کا حق ہے۔جبکہ اسلام میں ایسا کوئی تصور موجود نہیں ہے،یہی وجہ ہے کہ جب ہم اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں حکام کے احتساب کے متعدد واقعات ملتے ہیں،اُنہیں میں سے ذیل میں مندرج یہ واقعہ ہے:
تاریخ کی کتب میں تحریر ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عمال کو حکم دیا کہ وہ اپنے مال (اثاثہ) کی ایک فہرست بنا کر ان کو بھیج دیں۔ ان  عمال میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ بھی تھے۔ جب انہوں نے اپنے اثاثوں کی فہرست بنا کر بھیجی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے مال میں غیر معمولی اضافہ دیکھ کر ان کے مال کے دو حصے کرکے ایک حصہ ان کے لئے چھوڑ دیا اور ایک حصہ بیت المال کے لئے لے لیا۔ (تاریخ الخلفاء) اس واقعے سے بھی  یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اسلام میں ہر چھوٹے بڑے کے لئے احتساب کا نظام ہے۔مزید غورو فکر سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ احتساب کا یہ نظام اللہ رب العزت نے معاشرے میں توازن کو برقرار رکھنے کے لئے بنایا ہے،اس وجہ سے یہ بات طے ہے کہ جب بھی احتساب کا دامن ہمارے ہاتھوں سے چھوٹے گا ،ہم اپنے اعمال و کردار میں عدمِ توازن کے شکار ہوں گے۔
آئیے!اب ہم احتساب کے حوالے سے ایک ایسے موضوع کو  زیر ِ بحث لاتے ہیں جو بہت ہی نازک اور حساس ہے۔یہ موضوع ہے اولاد کے تئیںوالدین کی خود احتسابی۔بلاشبہ، والدین اپنے بچوں سے بے انتہا محبت کرتے ہیں اور اُن کے تئیں مخلص بھی ہوتے ہیں۔اسلام میں اُنہیں جس مقام پر بٹھا یا گیا ہے وہ عظیم الشان ہے لیکن اِس کے ساتھ اُن پرجو ذمہ داریاں ہیں،اگر وہ اُن کو نبھانے میں کمزور پڑ جاتے ہیں تو اسلام نے اُنہیں بھی اپنے آپ کو احتساب کے آئینے میں جھانکنے کی تاکید کی ہے تاکہ وہ طرزِ عمل میں تبدیلی لائیں۔ لہٰذا والدین کو سب سے پہلے خود احتسابی یہ کرنی چاہئے کہ اسلام نے بچوں کی پیدائش کے وقت نام رکھنے سے لے کر بعد میں تعلیم وتربیت اور جائیداد تک کے حوالے سے جو ہدایات دی ہیں وہ اُن پر عمل کر رہے ہیں یا نہیں۔ 
اگر ہم تعلیم و تربیت کی بات کریں تو اِس کے کئی پہلو ہیں: ایک پہلو منجملہ تمام اولاد کی تعلیم کا ہے، اس میں یہ دیکھنا ہے کہ کیا ہم نے مطلوبہ دینی تعلیم کے ساتھ وقت اور حالات کے مطابق عصری تعلیم بھی اپنے تمام بچوں کو دی ہے یا نہیں۔دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہم نے مذکر اولاد کے ساتھ مونث اولاد کی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا ہے یا نہیں؛کہیں ایسا تو نہیں ہم نے اپنی پوری توجہ بیٹوں پر دے دی اور بیٹیاں محروم رہ گئیں۔تیسرا پہلو یہ ہے کہ اگردو مائوں کے بچے ہیں تو ہم نے دونوں مائوں کے بچوں پر تعلیم و تربیت کے حوالے سے برابر توجہ دی ہے یا نہیں۔تعلیم و تربیت کے حوالے سے یہ چند سوالات ہیں ،جن پر والدین کو ضرور غورکرنا چاہئے اور اپنا احتساب کرنا چاہئے؛ اگر وہ اُن سوالات کے مثبت جوابات پاتے ہیں تو اُنہیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے اور اگر انہیں منفی جوابات ملتے ہیں تو اُنہیں اللہ سے ڈرنا چاہئے اور جلد از جلد اپنے طرزِ عمل کی اصلاح کر لینی چاہئے تاکہ اِس قدر دیر نہ ہو جائے کہ تلافی مافات ممکن نہ ہو سکے۔
اولاد کے در میان لین دین میں برابری ایک اور اہم پہلو ہے جس پر والدین کو اپنا احتساب ضرور کرنا چاہئے ۔عموماً والدین بچوں کو کوئی چیز دیتے ہیں تو سب کو حق کے مطابق دیتے ہیں لیکن اس میں کبھی کبھار کوتاہی بھی ہو جاتی ہے جو شریعت کی نظر میں قابلِ مواخذہ ہے۔ والدین کے اِس دنیا سے گزر جانے کے بعد جائیداد میںشریعت نے جو حصے مقررکئے ہیں ،وہ تو ملنا طے ہے کیونکہ اس میں کسی کو کمی زیادتی کا کوئی اختیار نہیں ہے لیکن والدین کی موجودگی میں بھی تمام اولاد کے ساتھ لین دین میں برابری کا معاملہ ہونا چاہئے،یہی انصاف کا تقاضا اور شریعت کا مطالبہ ہے۔البتہ کسی بیٹے یا بیٹی کو کسی معقول شرعی وجہ کی بنا پر دوسروں کی بہ نسبت کچھ زیادہ دیاجاسکتا ہے، یعنی کسی کے زیادہ خدمت گزار ہونے کی بنا پریا دوسروں کے مقابلے میں مالی حالت کمزورہونے کی وجہ سے دوسروں کی بہ نسبت کچھ زیادہ دیئے جانے کی اجازت ہے، لیکن بعض کو دینا اور بعض کو محروم رکھنا یا بلا وجہ کم زیادہ دینا یہ شرعاً سخت گناہ ہے، اس سے بچنا لازم ہے۔
حضرت نعمان ابن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دن) ان کے والد (حضرت بشیر رضی اللہ عنہ) انہیں رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا: ’’نہیں‘‘، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی) اس غلام کو واپس لے لو۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔(مشکوٰۃ)
والدین دانستہ طور پر اپنی اولاد کے درمیان تفریق نہیں کرتے لیکن کبھی اولاد کے ہاتھوں اور کبھی حالات کے ہاتھوں  مجبور ہو کر کچھ ایسے قدم اُٹھا لیتے ہیں ،جن سے شرعی حدود کی خلاف ورزی ہوتی لئے ہمیں چاہئے کہ شریعت نے جو حدود مقرر کئے ہیں اُنہی کے مطابق اپنی تمام اولاد کے ساتھ معاملہ کریں۔ n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK