اطلاعات کی فراوانی کے اس دور میں، تاریخ کا مطالعہ کئے بغیر، سنی سنائی باتوں سے نتائج اخذ کرنا بالکل بھی درست نہیں ہے۔ نئی نسل پر لازم ہے کہ تقسیم وطن کی وجوہات کا مطالعہ کرے۔
EPAPER
Updated: December 29, 2019, 3:14 PM IST
|
Aakar Patel
اطلاعات کی فراوانی کے اس دور میں، تاریخ کا مطالعہ کئے بغیر، سنی سنائی باتوں سے نتائج اخذ کرنا بالکل بھی درست نہیں ہے۔ نئی نسل پر لازم ہے کہ تقسیم وطن کی وجوہات کا مطالعہ کرے۔ آج کل وطن عزیز ہندوستان میں ہم ایسے موڑ پر آکھڑے ہوئے ہیں جہاں ہم من و عن اُس دور کے واقعات کا دُہراؤ دیکھ رہے ہیں جو تقسیم وطن پر منتج ہوئے تھے۔ ہندوستانیوں کو مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ مذہب کی بنیاد پر سیاست کا انتخاب کریں کیونکہ حکومت اس پر اصرار کررہی ہے۔ وزیر اعظم کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ مظاہرین کی شناخت اُن کے لباس سے کریں۔ اُن کی پارٹی نے ایک ایسے قانون کو منظور کروالیا ہے جس میں ایک مذہب کے ماننے والوں کو حذف کردیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی قانون نافذ بھی کیا جارہا ہے جو پورے ایک فرقے کے لوگوں کو حراستی مراکز تک پہنچا سکتا ہے۔ اگر کانگریس نے مسلم لیگ کی ان شرائط کو مان لیا ہوتا تو ملک تقسیم نہ ہوتا۔ اتنے برسوں کے بعد جب مجھ ایسا کوئی شخص ان شرائط کا مطالعہ کرتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس میں کیا غلط تھا۔ مَیں تو ان تمام کو بالکل درست اور برحق مانتا ہوں۔ان میں سے کچھ شرائط اور نکات مثلاً ۷؍، ۹؍ اور ۱۲؍ تو ویسے بھی آئین کا حصہ بنے جبکہ دیگر مثلاً ایک، ۲؍، ۱۰؍ اور ۱۴؍ ایسے ہیں کہ جن سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا لب لباب یہ تھا کہ مسلمانوں کو قومی سیاست میں نمائندگی ملے۔ کانگریس (نمائندگی) دینا نہیں چاہتی تھی۔ اپنے دور میں نہرو اور گاندھی نے شاید تصور بھی نہ کیا ہو کہ ۲۰۱۹ء کے ہندوستان میں ایسا ہوگا کہ برسراقتدار جماعت کے ۳۰۰؍ سے زائد اراکین پارلیمان میں ایک بھی مسلم نہیں ہوگا۔ مگر ایسا ہوا ہے۔ یہ کڑوی سچائی ہے۔ جناح کو یہ معلوم ہو تو وہ نہرو اور گاندھی کی طرح قطعی متعجب نہ ہوں کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ہندوستان کے سیاسی و ثقافتی مطلع پر اکثریتی طبقہ چھایا ہوا ہے۔ اُن کا ایسا سوچنا کچھ غلط نہیں تھا۔
اس کے خلاف بڑے پیمانے پر لوگ سڑکوں پر اُتر آئے ہیں۔ اُن میں غصہ ہے، تشویش ہے اور خوف بھی ہے۔ حکومت اُن کے جذبات کو سمجھنا نہیں چاہتی بلکہ اُنہیں مورد الزام ٹھہرا رہی ہے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ۱۹۴۷ء اور اس سے قبل کے چند برسو ں کے دوران یہی سب ہوا ہوگا۔ اس سے ہمیں یہ یاد دہانی بھی ہوتی ہے کہ ایک طبقہ جس چیز کو مناسب سمجھتا ہے، دوسرا اُسے ناقابل قبول تصور کرتا ہے۔ جب ایک طبقے کے پاس بہت زیادہ طاقت ہو، وہ دوسری جانب کی باتوں پر اپنے کان بند کرسکتا ہے۔ یہی قدر، ۱۹۴۷ء کی کانگریس اور ۲۰۱۹ء کی بی جے پی میں مشترک ہے۔
جہاں تک پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے اسباب کا تعلق ہے، نہ تو ہندوستان کے لوگ جانتے ہیں کہ وہ کیا تھے اور اُن کی نوعیت کیا تھی نہ ہی پاکستان کے لوگوں کو اس کا صحیح طور پر علم ہے۔ ہندستان میں ہم نے اپنی نسلوں کو یہ پڑھایا ہے کہ ایک عاقبت نا اندیش شخص تھا جس نے ملک کو تقسیم کروادیا۔ وہ لوگ جو ہندوتوا وادی سوچ رکھتے ہیں اُن کا ہمیشہ سے یہی کہنا ہے کہ بھارت ماتا کو مسلمانوں نے تقسیم کروایا۔ پاکستان میں بالخصوص فوجی حکمرانی کے ادوار میں تقسیم ہند کے سلسلے میں جو باتیں کہی گئیں وہ ہندو مخالف باتیں تھیں۔ دونوں جانب کے لوگ یہ سوچنے اور سمجھنے کو تیار نہیں ہیں کہ علاحدہ ملک کے مطالبے سے پہلے مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان کئی نشستیں ہوئیں جو اقتدار میں شرکت کے حوالہ سے تھیں۔ تقسیم سے کم و بیش ۲۰؍ برس پہلے، جناح نے چاہا تھا کہ کانگریس کے ساتھ معاہدہ ہوجائے مگر جناح کو کامیابی نہیں ملی۔ اُن کے کیا مطالبات تھے؟ ہندوستانیوں کیلئے یہ جاننا بہت ضروری ہے کیونکہ ہمیں اسکولوں میں یہ ساری باتیں نہیں پڑھائی جاتیں۔ مسلم لیگ نے کانگریس سے ۱۴؍ مطالبات کئے تھے
ہندوستان کا آئین وفاقی نوعیت کا ہو، تاکہ ریاستوں کو کچھ اختیار حاصل رہیں۔ تمام ریاستوں کو یکساں آزادی اور اور خود مختاری (آٹونومی) حاصل ہو۔ ہر ریاست کے مقننہ میں اقلیتوں کی مؤثر نمائندگی موجود رہے اور کسی بھی ریاست کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل نہ کیا جائے۔ مرکزی حکومت میں مسلمانوں کو ایک تہائی نمائندگی دی جائے۔ ہر فرقے کے اکثریتی علاقوں کا اپنا حلقۂ انتخاب ہو، تاہم کوئی فرقہ مشترکہ حلقۂ انتخاب میں شامل ہونا چاہے تو اُسے، اُس کی آزادی ہو۔ ریاستوں کی تشکیل نو ہو تو اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اگر وہاں مسلمان اکثریت میں ہیں تو اُن کی اکثریت متاثر نہ ہو۔ تمام فرقوں کو اپنے مذہب، مذہبی عقائد، رسوم و رواج، مذہب کی تبلیغ، اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے کی آزادی حاصل رہے۔ ایسا کوئی بھی بل یا قرارداد منظور نہ کی جائے اگر کسی بھی فرقے کے اراکین کی تین چوتھائی تعداداس کی مخالفت کرے۔ سندھ کو بامبے پریسیڈنسی سے الگ کیا جائے۔ دیگر صوبوں میں جاری شدہ اصلاحات کو شمال مغربی سرحدی صوبہ اور بلوچستان میں بھی نافذ کیا جائے۔ ملک کے تمام شعبوں اور لوکل سیف گورننگ باڈیز میں مسلمانوں کو خاطر خواہ حصہ داری دی جائے البتہ اس میں اُن کی اہلیت اور قابلیت کو بھی پرکھا جائے۔ آئین میں مسلمانوں کی تہذیبی اقدار نیز اُن کے تعلیمی ادارے، زبان، مذہب، پرسنل لاء اور مسلم خیراتی اداروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے نیز اداروں کو حکومت اور ذیلی اداروں سے جو امداد ملتی ہے اس میں بھی مسلمانوں کی اطمینان بخش حصہ داری رہے۔ مرکزی یا صوبائی، کوئی کابینہ ایسی نہ بنے جس میں مسلمانوں کے ایک تہائی وزراء نہ ہوں، اور (۱۴) مرکز، آئین میں کسی بھی قسم کی ترمیم کرنا چاہے تو اس کیلئے تمام صوبائی حکومتوں کی منظوری ضروری قرار دی جائے۔
تقسیم کے ۷۲؍ سال بعد ملک کے مسلمان ایک بار پھر ایسی صورتحال سے دوچار ہیں جس میں اکثریت کا غلبہ ہے اور حکمراں طبقہ کسی کو بھی وہ موقع اور مقام نہیں دینا چاہتا جو اُس کا حصہ اور حق ہے۔ اس کا مفہوم بالکل واضح ہے۔ وہ یہ کہ ہم نے اپنی تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا جبکہ اس کا پیغام اور سبق بالکل واضح اور دوٹوک تھا۔