سابق ہندوستانی کرکٹرمحمد کیف نے وکٹ کیپر بلے بازرشبھ پنت کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان برقرار رہنے کے مکمل طور پر حق دار تھے۔
EPAPER
Updated: May 21, 2026, 8:05 PM IST | Mumbai
سابق ہندوستانی کرکٹرمحمد کیف نے وکٹ کیپر بلے بازرشبھ پنت کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان برقرار رہنے کے مکمل طور پر حق دار تھے۔
سابق ہندوستانی کرکٹرمحمد کیف نے وکٹ کیپر بلے بازرشبھ پنت کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان برقرار رہنے کے مکمل طور پر حق دار تھے۔ ان کے مطابق پنت نے کوئی ایسا غلط کام نہیں کیا جس کی بنیاد پر ان سے نائب کپتانی واپس لی جائے۔کیف کا ماننا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں پنت ہندوستان کے سب سے بڑے میچ ونرز میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا کا یہ فیصلہ درست نہیں لگتا۔
واضح رہے کہ افغانستان کے خلاف واحد ٹیسٹ میچ کے لیے منتخب ٹیم میں نائب کپتانی کی ذمہ داری کے ایل راہل کو دی گئی ہے، جبکہ اس سے پہلے یہ ذمہ داری رشبھ پنت کے پاس تھی۔
گِل کے کپتان بننے کے بعد پنت نائب کپتان بنے تھے
گزشتہ سال انگلینڈ دورے کے لیے شبھ من گل کو ہندوستانی ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیے جانے کے بعد رشبھ پنت کو نائب کپتان بنایا گیا تھا۔ اسے مستقبل کی قیادت کے طور پر دیکھا گیا تھا۔بعد میں جنوبی افریقہ کے خلاف گوہاٹی ٹیسٹ میں گِل کے زخمی ہونے پر پنت نے ٹیم کی قیادت سنبھالی، لیکن ہندوستانی کو اس میچ میں ۴۰۸؍ رنز سے شکست ہوئی۔ ہندوستان نے سیریز بھی ۰۔۲؍ سے گنوا دی۔
آئی پی ایل ۲۰۲۶ء میں پنت کی کارکردگی خراب رہی
انڈین پریمیرلیگ ۲۰۲۶ء میں لکھنؤ سپر جائنٹس کے کپتان کے طور پر پنت کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ ٹیم نے ۱۳؍ میں سے ۹؍میچ ہارے جبکہ پنت نے ۶۰ء۲۸؍ کی اوسط سے۲۸۶؍ رنز بنائے۔ اس کے بعد افغانستان کے خلاف واحد ٹیسٹ میچ کے لیے نائب کپتانی کی ذمہ داری کے ایل راہل کو دے دی گئی۔
یہ بھی پڑھئے:انوراگ کشیپ کی ’’بندر‘‘ کا ٹریلر جاری، بوبی دیول نئے انداز میں نظر آئے
ٹیسٹ اور آئی پی ایل کو ایک ساتھ نہیں دیکھنا چاہیے
محمد کیف نے کہا کہ ٹیسٹ اور ٹی۲۰؍ کرکٹ مکمل طور پر مختلف فارمیٹس ہیں، اور آئی پی ایل کی بنیاد پر ٹیسٹ کرکٹ میں کسی کھلاڑی کو پرکھنا درست نہیں۔ ان کے مطابق’’رشبھ پنت نے کچھ بھی غلط نہیں کیا۔ ٹیسٹ اور وائٹ بال کرکٹ دو مختلف فارمیٹس ہیں۔ صرف آئی پی ایل کی بنیاد پر یہ کہنا غلط ہے کہ وہ اچھی کارکردگی نہیں دکھا رہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں ہندوستان کے لیے ان سے بڑا میچ ونر کوئی نہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:ورلڈ کپ سے قبل نیمار ایک بار پھر انجری کا شکار
سلیکشن پالیسی پر بھی سوالات
کیف نے سلیکشن کمیٹی کے فیصلوں پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عمر یا کارکردگی کی بنیاد پر فیصلے کیے جا رہے ہیں تو تمام کھلاڑیوں پر ایک ہی اصول لاگو ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق رشبھ پنت ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان رہنے کے حق دار تھے۔