Inquilab Logo Happiest Places to Work

فرائض و وراثت کا علم سیکھنے کی طرف توجہ دیجئے

Updated: June 09, 2023, 11:16 AM IST | Dr. Rehan Akhtar | Mumbai

اسلام نے ’علم فرائض‘ کی جتنی اہمیت اور فضیلت بیان کی ہے، آج حالات میراث کے تعلق سے اتنے ہی بد تر ہیں۔ علم وراثت کی ناعلمی کے تعلق سے آپؐ نے جو پیشین گوئی فرمائی تھی ، اِس وقت کے حالات کی پوری پوری ترجمانی کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ آج عوام کی ایک بڑی تعداد وراثت کی تقسیم کے حوالے سے کوتاہیوں میں ملوث ہے

Explaining the importance and usefulness of knowledge of heritage, Hazrat Omar said: "Get knowledge of heritage, vocabulary and Sunnah in the same way as you learn the Holy Qur`an."
علمِ میراث کی اہمیت وافادیت بیان کرتے ہوئے، حضرت عمر ؓ نے فرمایا: ’’وراثت ، لغت اور اور سُنن کا علم اسی طرح حاصل کرو جس طرح تم قرآن مجید سیکھتے ہو۔

اسلام ایک کامل اور اکمل دین ہے، جو اپنے ماننے والوں کو صرف مخصوص عقائد و نظریات کو اپنانے ہی کی دعوت نہیں دیتا بلکہ زندگی کے ہر موڑ پر انسانوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام کی یہ روشن اور واضح تعلیمات، اللہ تعالیٰ کی عظیم کتاب قرآن مجید او رنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کی شکل میں مسلمانوں کے پاس محفوظ ہیں۔ انہی دو سرچشموں سے قیامت تک مسلمان سیراب ہوتے رہیں گے اور اپنے علم کی پیاس بجھاتے رہیں گے۔ اسلام جہاں ہمیں نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور دیگر عبادات کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرتا ہے وہیں اخلاقیات ، معاشرت، معاشیات،   سیاسیات اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں بھی بھرپور رہنمائی کرتا ہے۔
اسلام نے انسانی زندگی کو حُسن ِ اعتدال فراہم کرنے کے لئے ایسے ایسے قو انین اور ضابطے متعارف کرائے ہیں، جن میں چھوٹی سے چھوٹی چیز سے لے کر بڑے سے بڑے معاملہ کی وضاحت فرمادی ہے۔ ہر معاملے میں چاہے کوئی کمزور ہو یا طاقت ور، چھوٹا ہو یا بڑا، مرد ہو یا عورت اسے عدل و انصاف مہیا کیا ہے اور ہر حقدار کو اس کا حق دیا ہے۔ عدل و انصاف کے متلاشیوں کیلئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے جان نثار صحابہؓ کے لاکھوں اقوالِ زریں مختلف کتب میں پھیلے ہوئے ہیں۔  وراثت کی تقسیم کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عدل وانصاف مہیا کیا اور ہر وارث کو اس کا حق عطا فر مایا، خواہ وہ مرد ہے یا عورت، بچہ ہے یا بوڑھا، طاقت ور ہے یا کمزور، حتیٰ کہ ماں کے پیٹ میں موجود حمل کی وراثت تک کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ جب کوئی شخص اپنی حاملہ بیوی یا حاملہ بہو کو زندہ چھوڑ کر فوت ہو گیا ہو، اسلام نے اس حمل تک کو بھی میت کا وارث مقرر فرمایا ہے۔
    فرائض و وراثت: ’علم فرائض و ہ علم ہے جس سے میت کا ترکہ اس کے شرعی ورثاء کے درمیان تقسیم کرنے کا طریقہ معلوم ہو۔ یاد رہے کہ فرائض، فریضہ کی جمع ہے۔ فریضہ اللہ تعالیٰ کی بندوں پر عائد کردہ پابندیاں ہیں، جس کے لغوی معنی ہیں متعین چیز ۔ چونکہ میراث میں مستحقین کے حصے متعین ہوتے ہیں اس لئے ان حصوں کو فرائض کہا جاتا ہے۔ پھر رفتہ رفتہ علم میراث کو فرائض اور اس فن کے واقف کا رکو فرضی، فراض اور فریض کہا جانے لگا۔ اس فن کا دوسرا نام علم المواریث بھی ہے: وَرِث، يَرِث إرثا و میراثا کے معنی ہیں: وارث و خلیفہ ہونا، کسی چیز کا ایک سے دوسرے کے پاس منتقل ہونا ۔ علم المواریث اصطلاح میں اس علم کو کہتے ہیں، جس سے میت کی ملکیت اس کے زند ہ ورثا کی طرف منتقل کی جاتی ہے۔ (مفتی سعید احمد پالنپوری، طرازی شرح سراجی، مکتبہ رحمانیہ لاہور ، ص ۳۳-۳۴)
علمِ فرائض کی فضیلت: وراثت جس کا قدیم اصطلاحی نام ’علم الفرائض‘ ہےمسلم معاشرے میں اس کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے دستور حیات قرآن مجید میں جزئیات کے احاطے کے ساتھ اس کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے اور حدیث و فقہ کی کتابوں میں اس کیلئے مستقل ابواب قائم کئے گئے ہیں، اور اس کی اہمیت راسخ کرنے کیلئے ہر دور کے علما اور مفکرین نے اس جانب توجہ کی ہے۔
اسلامی فقہ میں ’فن ِ میراث‘ کو امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں احکام بیان کرنے کے اپنے عمومی اسلوب سے ہٹ کر میراث کے مسائل کو زیادہ تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی میراث کی خصوصی اہمیت کے پیش نظر متعدد مواقع پر اس کے سیکھنے اور سکھانے کی ترغیب دی، بلکہ جہاں قرآن سیکھنے کا حکم دیا، وہیں میراث کے احکام سیکھنے پر زور دیا ہے۔ سلف صالحین کے ہاں یہ معمول رہا ہےکہ کسی طالب علم کو اس وقت تک حدیث کے درس میں نہیں بیٹھنے دیا جاتا تھا، جب تک وہ قرآن کریم حفظ اور میراث کے مسائل کو اَزبر نہ کر لیتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ علم میراث اور ترکہ ایسی چیز ہے، جس سے ہر مسلمان کو واسطہ پڑتا ہے اور پھر اس کا تعلق لوگوں کے مالی حقوق کے ساتھ بھی ہے ۔
نظامِ معاشرت اور خاص کر نظامِ معیشت میں اکثر خاندانی جھگڑے اور لڑائیاں زر اور زمین کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور یہی دو چیزیں وراثت کا موضوع ہیں۔ مسلم معاشروں میں بھی فتنہ و فساد کی ایک بڑی وجہ وراثت کے معاملات میں مقررہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی اور ان حدود کا پاس نہ رکھنا ہے جو اسلامی شریعت نے متعین کر دیئے ہیں۔ اس کے اسباب و وجوہ میں جہاں اور بہت سی باتیں قابلِ توجہ ہیں وہاں لالچ کے علاوہ متعلقہ قانون سے ناواقفیت بھی ہے۔
جیساکہ ذکر ہوا ہے کہ احادیث مبارکہ میں اس علم کو سیکھنے کی بڑی تاکید آئی ہے اور اسے نصف علم سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ ارشاد نبویؐ ہے: ’’اے ابوہریرہ فرائض (یعنی میراث کے مسائل) سیکھو اور سکھاؤ! یقیناً یہ نصف علم ہے ، اور وہ (یعنی میراث کا علم) سب سے پہلے بھلایا جائے گا، اور سب سے پہلے میری اُمت سے جو چیز اٹھالی جائے گی وہ علم میراث ہے۔‘‘ (ابوعبداللہ محمد بن یزید ابن ماجہ ،سنن ابن ماجہ ، باب الحث علی تعلیم الفرائض ،حدیث: ۲۷۱۹)
دوسری روایت میں ہے: ’’ميراث اور قرآنِ مجید کا علم حاصل کرو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دو کیونکہ میں وصال پانے والا ہوں۔‘‘(ابو عیسیٰ محمد ترمذی ، سنن ترمذی ، باب ما جاء فی تعلیم الفرائض،حدیث: ۲۲۳۴)
علمِ میراث کی اہمیت وافادیت بیان کرتے ہوئے حضرت عمر ؓ نے فرمایا:  ’’وراثت،  لغت اور اور سُنن (یعنی مسائل شرعیہ ) کا علم اسی طرح حاصل کرو جس طرح تم قرآن مجید سیکھتے ہو۔‘‘ (عبداللہ بن عبد الرحمٰن دارمی، سنن الدارمی، باب فی تعلیم الفرائض، حدیث: ۲۸۵۰)
دین کے وہ احکام جو قرآن و سنت سے ماخوذ ہیں، ان میں سے بعض کا تعلق عبادات سے، کچھ کا اخلاق و عادات سے، اور کچھ وہ ہیں جن کا تعلق مرنے کے بعد سے ہے۔ علم الفرائض بھی اسی قبیل سے ہے اور ہر انسان سے اس کا تعلق ہے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس باب کی سنگینی اور نزاکت کا لحاظ کرتے ہوئے اس کی جزئیات تک کو بھی واضح انداز میں بیان کیا ہے ۔
    ترکہ اور چار حقوق: میت جو مال چھوڑ کر جاتی ہے اس پر ترتیب وار چار حقوق مرتب ہوتے ہیں۔ شریعت کا اصول یہ ہے کہ مرنے والے کے مال سے پہلے شریعت کے مطابق اس کے کفن دفن کے اخراجات پورے کئے جائیں، جن میں نہ تو فضول خرچی ہو نہ ہی کنجوسی۔ اس کے بعد اس کا قرض ادا کیا جائے۔  اگر قرض اتنا ہی ہو جتنا اس کا مال ہے، یا اس سے بھی زیادہ، تو   نہ کسی کو میراث ملے گی نہ کوئی وصیت نافذ ہوگی۔ اگر قرضوں کے بعد مال بچ جائے یا قرضے بالکل ہی نہ ہوں، تو اگر اس نے کوئی وصیت کی ہو اور وہ کسی گناہ کی وصیت نہ ہو، تو اب جو مال موجود ہے اس کے ایک تہائی میں سے اس کی وصیت نافذ ہو جائے گی۔ اگر کوئی شخص پورے مال کی وصیت کردے تب بھی تہائی مال ہی میں وصیت معتبر ہوگی۔تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کرنا مناسب بھی نہیں ہے اور وارثوں کو محروم کرنے کی نیت سے وصیت کرنا گناہ بھی ہے۔ اداء دَین (قرض) کے بعد ایک تہائی میں وصیت نافذ کر کے وراثت شرعی وارثوں میں تقسیم کردی جائے جس کی تفصیل فرائض کی کتابوں میں موجود ہے ۔ اگر وصیت نہ کی ہو تو اداء دَین کے بعد پورا مال میراث میں تقسیم ہو گا۔ (مفتی محمد شفیع عثمانی ؒ،  معارف القرآن ، مکتبہ معارف القرآن ، کراچی ، ص  ۳۲۰-۳۲۱)
    وراثت کی بنیاد: اسلام کے نزدیک وراثت کی بنیاد تین چیزیں ہیں: ایک، نسب یعنی خون کا رشتہ۔ دوسرے، ازدواجی تعلقات یعنی میاں بیوی کا رشتہ جس سے نسبی رشتے وجود میں آتے ہیں ۔ تیسرے، ولاء یعنی غلام کو آزاد کر نے کی نسبت ۔
مستحقین ترکہ کی تفصیل 
۱) پہلے ’اصحابِ فرائض‘ کو ملے گا۔ اصحابِ فرائض میت کے وہ رشتہ دار ہیں، جن کے حصے شریعت میں متعین ہوں ، ان کو ’ذوی الفروض‘ بھی کہتے ہیں۔
۲)’اصحابِ فرائض‘ کو دینے کے بعد ترکہ ’عصبہ نسبی‘ کو ملے گا۔ ’عصبہ نسبی‘ میت کے وہ رشتہ دار ہیں جو ’اصحابِ فرائض‘ سے بچا ہوا اور ’اصحابِ فرائض‘ نہ ہونے کی صورت میں سارا ترکہ لے لیتے ہیں۔
۳)’اصحابِ فرائض‘ اور ’عصبہ نسبی‘ نہ ہو تو ترکہ ’عصبہ سببی‘ کو ملے گا۔ ’عصبہ سببی ‘(مولی العتاقہ یعنی غلام کی وراثت) کا آج کل وجود نہیں ہے۔
۴)         اگر ’عصبہ نسبی‘ اور ’سببی‘ میں سے کوئی نہ ہو اور تر کہ کچھ باقی رہ گیا ہو تو باقی ماندہ تر کہ زوجین کے علاوہ ’اصحاب ِفرائض‘ کو حصوں کے بقدر دیا جائے گا ، اسے ’رد‘ کہتے ہیں ۔
۵)اگر ’اصحابِ فرائض‘ اور ’عصبات‘ میں سے کوئی نہ ہو، تو ’ذوی الارحام‘ کو دیا جائے گا، اور ’ذوی الارحام‘ میت کے وہ رشتہ دار ہیں، جن کا حصہ نہ قرآن و حدیث سے اور نہ اجماع سے مقرر ہو، اور نہ وہ عصبات میں سے ہوں، جیسے پھوپھی ، خالہ ، ماموں بھانجی،اور نواسہ وغیرہ۔
۶)’ذوی الارحام‘ بھی نہ ہوں تو ترکہ ’مولی الموالات‘ کو دیا جائے گا۔
۷)اگر مولی الموالات بھی نہ ہو تو ترکے کا وارث وہ اجنبی شخص ہوگا، جس کے بارے میں میت نے یہ کہا ہو کہ وہ میر انسبی رشتہ دار ہے، اسے ’مقر لہ بالنسب‘ کہتے ہیں۔
۸)         اگر ’مقر لہ بالنسب‘ بھی نہ ہو تو تر کہ اس شخص کو دیا جائے گا، جس کیلئے میت نے سارے ترکہ کی وصیت کی ہو، اس کو موصی    له بجميع المال کہتے ہیں۔اور:
۹)         اگر اوپر ذکر کردہ افراد میں سے کوئی نہ ہو تو میت کا ترکہ بیت المال میں جمع کرا دیا جائے گا۔
(آئندہ ہفتے پڑھئے: تقسیم وراثت قرآن کریم کی روشنی میں اور عصر حاضر اور وراثت)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK