Inquilab Logo Happiest Places to Work

ظلم و ستم، بے حیائی اور ناپ تول میں کمی

Updated: June 30, 2023, 8:38 AM IST | Tayyab Shaheen Lodhi | Mumbai

قوم ثمود ،قوم لوط اور اصحاب مدین پر عذابِ الٰہی نازل ہونے کے اہم اسباب تھے۔ ’’قوموں کا عروج و زوال قرآن کےآئینے میں‘‘ ان کی تفصیل پڑھئے

The ruins of the ruined city of the cursed people of Lot have been discovered in Jordan
اردن میں ملعون قوم لوط کے برباد شہر کے کھنڈرات دریافت ہوئے ہیں

قرآن کریم کی تصریحات اور تاریخی شواہد کے مطابق، عاد کے بعد ثمود اپنے زمانے کی متمدن قوم گنی جاتی تھی :
’’(حضرت صالحؑ نے ثمود سے کہا) یاد کرو وہ وقت جب اللہ نے قوم عاد کے بعد تمہیں اس کا جانشین بنایا اور تم کو زمین میں یہ منزلت بخشی کہ تم اُس کے ہموار میدانوں میں عالیشان محل بناتے اور اس کے پہاڑوں کو مکانات کی شکل میں تراشتے ۔‘‘ (الاعراف:۷۴)
  اس دنیا کی زندگی کے متعلق اپنی پیشرو قوم کی طرح اُن کے بھی وہی مادی نظریات تھے۔ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بنانا، ہموار اور شاداب زمینوں میں کھیتی اگانا، عالیشان قصر تعمیر کرنا اور دنیا کی آسائشوں سے بھرپور فائدہ اٹھانا اُن کا مطمح نظر تھا۔ دوسری طرف ان کا معاشرہ کفر و شرک پر مبنی نظریات کی وجہ سے ظلم و تعدی اور جبر و تشدد سے لبریز تھا۔ انہوں نے کمزوروں پر ظلم کی انتہا کردی تھی۔ پس طبقات اُن کے ظلم و استحصال کے ناقابل برداشت بوجھ تلے کراہ رہے تھے۔ غریب اور نادار لوگوں کو سر چھپانے کے لئے کوئی اوٹ تک میسر نہ تھی مگر یہ لوگ محض اظہار فخر و مباہات کے لئے اور معیار ِ زندگی کی بلندی کی خاطر پہاڑ تراشتے چلے جارہے تھے اور عالیشان عمارتوں کی تعمیر کرتے جاتےتھے:’’تم پہاڑ کھود کھود کر فخریہ اُن میں عمارتیں بناتے ہو۔‘‘  (الشعراء:۱۴۹)
ایسے حالات میں حضرت صالح ؑاس ظالم قوم کی اصلاح کیلئے مبعوث کئے گئے۔  انہوں نے اعلان کیا کہ: ’’میں تمہارے لئے ایک امانت دار رسول ہوں  لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ۔‘‘  (الشعراء:۱۴۳۔۱۴۴)
اُن کے معاشرے پر بدکردار لوگ چھائے ہوئے تھے۔  سیاست اور اقتدار کی باگ ڈور خدا کے باغی ہاتھوں میں تھی جن کا کام مختلف بہانوں سے زمین میں فساد برپا کرنا اور اللہ کی مخلوق پر ہر قسم کے ظلم و ستم ڈھانا تھا۔ حضرت صالحؑجہاں اُن کے اعتقادات کی اصلاح کی جدوجہد کرتے رہے وہیں اُن کے معاشرتی اور سیاسی بگاڑ کے سدھارنے کی طرف بھی توجہ دی ۔ آپؑ نے انہیں  دعوتِ حق پیش کرتے ہوئے فرمایا:
’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ،اُن بے لگام لوگوں کی اطاعت نہ کرو ،جو زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور کوئی اصلاح نہیں کرتے۔‘‘  (الشعراء:۱۵۰؍تا۱۵۲)
لیکن  قوم ثمود نے حضرت صالحؑکو جھٹلایا اور اُن کی تمام اصلاحی کوششوں کو ناکام کرنے کی کوشش کی۔ آخر اللہ تعالیٰ کے عذاب نے انہیں آدبوچا۔ وادی ٔ حِجر کے تین سو میل لمبے اور تقریباً سو میل چوڑے علاقے کو ایک ہولناک زلزلے نے ہلا کر رکھ دیا۔ ظالم اور سرکش لوگ جو چند لمحے قبل زمین پر اکڑتے  پھر رہے تھے اوندھے منہ پڑے رہ گئے: ’’آخر کا ر ایک دہلا دینے والی آفت نے اُنہیں آ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے ۔‘‘ (الاعراف:۷۸)
’’آخرکار ایک زبردست دھماکے نے اُن کو صبح ہوتے آ لیااور اُن کی کمائی اُن کے کسی کام نہ آئی۔‘‘ (الحجر:۸۳۔۸۴)
 اس قوم پر ایسی تباہی نازل ہوئی کہ آج تک حجر کا علاقہ غیرآباد اور ویران پڑا ہوا ہے۔ وادی ٔ حجر دیکھنے والوں کا بیان ہے کہ اب بھی اس علاقے میں نحوست ٹپکتی ہے:
’’ گویا وہ وہاں کبھی بسے ہی نہ تھے سنو! ثمود نے اپنے رب سے کفر کیا سنو! دور پھینک دیئے گئے ثمود! ‘‘ (ہود:۶۸)
حضرت جابرؓ روایت کرتے ہیں کہ غزوۂ تبوک کی طرف جاتے ہوئے جب رسول اللہ ﷺ حجر کے علاقے سے گزرنے لگے تو صحابہ کرامؓ سے فرمایا:
’’تم میں سے کوئی شخص اس علاقے میں داخل نہ ہو نہ تم لوگ ان کے کنوؤں سے پانی پیو ، ان عذاب کئے گئے لوگوں کی وادی میں اس طرح داخل ہوکہ گریہ اور استغفار تمہاری زبان پر ہو تاکہ وہ عذاب جو ان پر نازل ہوچکا ہے کہیں تم پر بھی نازل نہ ہوجائے۔‘‘ (روح المعانی جز۸)
قوم لوطؑ:ایک کڑاکے دار آتش فشانی انفجار اور شدید زلزلے نے اُن کی بستیوں کو تلپٹ کرکے رکھ دیا
حضرت لوط علیہ السلام جس قوم کی طرف مبعوث ہوئے وہ آج کے اُردنی علاقے میں بستی تھی۔ قرآن کریم نے اس قوم کی بستیوں کو موتفکات بھی کہا ہے یعنی الٹ دی جانے والی بستیاں۔ یہ چار بڑی بڑی بستیاں تھی جن کا نام ابن عساکرؒ نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے حوالے سے ’’سدوم، آمورا، عامورا اور صبویر‘‘ نقل کیا ہے۔ تلمود میںآتا ہے کہ سدوم سمیت پانچ بستیاں تھیں۔ ان بستیوں کے لوگ  خوشحال تھے اور اس خوشحالی کی وجہ سے وہ لوگ اللہ تبارک و تعالیٰ سے بغاوت اور سرکشی  میں مبتلا ہوگئے۔ اِباحیت پسندی میں یہاں تک ڈوب گئے کہ ہم جنسیت جیسا غیرفطری اور انتہائی قبیح فعل اُن کی پوری سوسائٹی میں رواج پا گیا۔ قوم لوط کا تذکرہ قرآن کریم نے ان الفاظ میں کیا ہے:
’’تم (ایسی) بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہو جسے تم سے پہلے اہلِ جہاں میں سے کسی نے نہیں کیا تھا،  تم نفسانی خواہش کے لئے عورتوں کو چھوڑ کر مَردوں کے پاس آتے ہو بلکہ تم حد سے گزر جانے والے ہو۔‘‘  (الاعراف:۸۰۔۸۱)
’’کیا تم دنیا کی مخلوق میں سے مَردوں کے پاس جاتے ہو  کچھ پیدا کیا ہے اسے چھوڑ دیتے ہو؟ بلکہ تم لوگ تو حد سے ہی گزر گئے ہو۔‘‘  (الشعراء: ۱۶۵۔۱۶۶)
قرآن کریم ، بائبل اور تلمود کے ذریعے اس قوم کے حالات جو ہم تک پہنچے ہیں اُن سے پتہ چلتا ہے کہ اخلاقی لحاظ سے یہ قوم گل سڑ چکی تھی۔ کوئی نوجوان لڑکا اُن کی آبادیوں میں آنکلتا تو شہوت میں یہ اندھے لوگ اس پر چیل کوّوں کی طرح ٹوٹ پڑتے تھے۔ ان کی پوری سوسائٹی میں حضرت لوط علیہ السلام کے سوا کوئی نہ تھا جو اُن کی بدکرداریوں پر ٹوکتا۔ حضرت لوطؑ اپنا فرض ادا کرتے رہے اور اس بدبخت قوم کو اُن کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراتے رہے۔ اس نصیحت اور خیرخواہی کا جواب وہ لوگ اس طرح دیتے :’’نکالو اِن لوگوں کو اپنی بستیوں سے، بڑے پاکباز بنتے ہیں یہ۔‘‘ (الاعراف:۸۲)
ان کی جرأت اور بدکرداری اس انتہا تک پہنچ گئی کہ ایک دن یہ لوگ سیدنا لوط علیہ السلام کی غایت درجہ عاجزانہ اپیلوں کے باوجود اُن کے پاس نوعمر مہمانوں کی صورت میں آنے والے فرشتوں پر ٹوٹ پڑے ۔ تب اللہ نے اُن کو دی ہوئی مہلت ختم کردی اور ایک کڑاکے دار آتش فشانی انفجار اور ایک شدید زلزلے نے اُن کی بستیوں کو تلپٹ کرکے رکھ دیا۔ اُن کی بستیاں زمین میں دھنس گئیں اور سمندر کا پانی اُن میں بھر گیا اور یوں یہ قوم آئندہ آنے والوں کے لئے نشانِ عبرت بن گئی:
پھر جب ہمارے فیصلے کا وقت آ پہنچا تو ہم نے اس بستی کو تل پٹ کر دیا اور اس پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر تابڑ توڑ برسائے جن میں سے ہر پتھر تمہارے  رب کے ہاں نشان زدہ تھا اور ظالموں سے یہ سزا کچھ دور نہیں ہے۔‘‘ 
(ہود:۸۲۔۸۳) 
’’آخرکار پو پھٹتے ہی اُن کو ایک زبردست دھماکے نے آ لیا  اور ہم نے اُس بستی کو تل پٹ کر کے رکھ دیا اور ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھروں کی بارش برسا دی ۔‘‘  (الحجر:۷۳۔۷۴)
’’(فرشتوں نے حضرت لوطؑ سے کہا) ہم اس بستی کے لوگوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں اُس فسق کی بدولت جو یہ کرتے رہے ہیں۔‘‘ (العنکبوت:۳۴)
اصحاب ِ مدین و اصحاب اَیکہ: چھتری کی طرح چھا جانے والے عذاب   اور دل دہلا دینے والی آواز کے ساتھ ز لزلے نے پیوند زمین کر دیئے گئے
اصحاب مدین اور اصحاب ایکہ ایک ہی قوم کے دو قبیلے تھے ۔ یہ دونوں قبیلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔ اصحاب مدین کی آبادیاں بحیرۂ قلزم کے ساتھ حجاز کے شمالی علاقے، جنوبی فلسطین اور جزیرہ نمائے سینا میں خلیج عقبہ کے ساتھ ساتھ پھیلی ہوئی تھیں۔ موجودہ تبوک اور اُس کےگرد و نواح میں ایکہ کی بستی تھی۔ تجارتی شاہراہوں پر آباد ہونے کی وجہ سے اصحاب مدین کو بہت سے فوائد حاصل تھے۔  راستے ان لوگوں کی دست درازیوں کی وجہ سے محفوظ نہ تھے۔ حضرت شعیبؑ نے ان سے کہا :
’’ ہر راستے پر لوگوں کو ڈرانے نہ بیٹھو۔‘‘ (الاعراف:۸۶)
 ان کے علاقے سے صرف وہی تجارتی قافلے گزر سکتے تھے جو ان کو خراج ادا کرتے تھے ۔ خود بھی یہ قوم تجارت پیشہ تھی۔ خوشحالی نے اُن میں غرور و تکبر پیدا کر دیا تھا۔ شرک اور اس کے علاوہ بہت سی اخلاقی اور معاشرتی برائیوں میں ملوث ہو گئے تھے۔ ناپ تول میں کمی ان کا روزمرہ کا دھندا تھا۔ حضرت شعیب علیہ السلام اس قوم کی دونوں شاخوں کی طرف مبعوث کیے گئے۔ آپؑ نے اُن لوگوں کو شرک جیسی عظیم گمراہی پر ٹوکا:’’اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔‘‘ (ہود:۸۴) اور اُن کی معاشرتی برائیوں کی اصلاح کرنے کی کوشش کی: ’’ اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو آج میں تم کو اچھے حال میں دیکھ رہا ہوں، مگر مجھے ڈر ہے کہ کل تم پر ایسا دن آئے گا جس کا عذاب سب کو گھیر لے گا۔‘‘  (ہود:۸۴)
’’پیمانے ٹھیک بھرو اور کسی کو گھاٹا نہ دو ،صحیح ترازو سے تولو  اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو ۔‘‘ (الشعرا: ۱۸۱؍ تا ۱۸۳)
آپؑ نے ہر طریقہ سے اپنی قوم کی اصلاح کرنے کی کوشش کی مگر ان لوگوں نے حضرت شعیب علیہ السلام کی ایک بھی بات نہ مانی  بلکہ قوم کے سرمایہ دار لوگ جو قوم پر سیاسی تفوق رکھتے تھے اُنہوں نے حضرت شعیبؑ  کو جھٹلایا اور ان کے ساتھ استہزا اور تمسخر کا رویہ قائم رکھا۔ کیونکہ ان لوگوں کو حضرت شعیبؑ کی دعوت سے اپنی سردار یاں چھن جانے کا خدشہ تھا:’’اُن کی کے سرداروں نے، جو ان کی بات ماننے سے انکار کر چکے تھے، آپس میں کہا:اگر تم نے شعیبؑ کی پیروی قبول کر لی تو برباد ہو جاؤ گے۔‘‘ (الاعراف:۹۰)
آخر کار جب ان کی ہٹ دھری انتہا کو پہنچ گئی اور اصلاح کی کوئی امید باقی نہ رہی تو اللہ کے عذاب نے ان کو آلیا۔ اصحاب ایکہ تو چھتری کی طرح چھا جانے والے عذاب سے تباہ کر دیئے گئے: ’’سو انہوں نے شعیب ؑکو جھٹلا دیا پس انہیں سائبان کے دن کے عذاب نے آپکڑا، بیشک وہ زبردست دن کا عذاب تھا۔‘‘ (الشعراء:۱۸۹)
اور مدین والوں کو دل دہلا دینے والی آواز کے ساتھ ز لزلے نے پیوند زمین کر دیا۔
’’اور جب ہمارا حکمِ (عذاب) آپہنچا تو ہم نے شعیب (علیہ السلام) کو اور ان کے ساتھ ایمان والوں کو اپنی رحمت کے باعث بچالیا اور ظالموں کو خوفناک آواز نے آپکڑا، سو انہوں نے صبح اس حال میں کی کہ اپنے گھروں میں (مردہ حالت) میں اوندھے پڑے رہ گئے، گویا وہ ان میں کبھی بسے ہی نہ تھی۔ سنو! (اہلِ) مدین کے لئے ہلاکت ہے جیسے (قومِ) ثمود ہلاک ہوئی تھی۔‘‘ (ہود:۹۴۔۹۵)
’’جن لوگوں نے شعیبؑ کو جھٹلایا (وہ ایسے نیست و نابود ہوئے) گویا وہ اس (بستی) میں (کبھی) بسے ہی نہ تھے۔ شعیبؑ کو جھٹلانے والے آخرکار برباد ہوکر رہے۔‘‘ 
(آئندہ ہفتے پڑھئے بنی اسرائیل کا عروج و زوال)

Islam Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK