یاترا، یاتری اور عوام

Updated: September 17, 2022, 1:53 PM IST | Mumbai

’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ ایک دن کے آرام کے ساتھ اب تک نو (۹) دن مکمل کرچکی ہے۔ اگر ہم حساب جوڑنے میں غلطی نہیں کررہے ہیں تو آج اس کا دسواں دن ہے۔ ابتدائی دنوں ہی میں اس یاترا کو جو کامیابی حاصل ہورہی ہے وہ توقع سے کہیں زیادہ ہے۔

Rahul Gandhi.Picture:INN
راہل گاندھی ۔ تصویر:آئی این این

’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ ایک دن کے آرام کے ساتھ اب تک نو (۹) دن مکمل کرچکی ہے۔ اگر ہم حساب جوڑنے میں غلطی نہیں کررہے ہیں تو آج اس کا دسواں دن ہے۔ ابتدائی دنوں ہی میں اس یاترا کو جو کامیابی حاصل ہورہی ہے وہ توقع سے کہیں زیادہ ہے۔ گزشتہ روز کی ایک چھوٹی سی ’’گھٹنا‘‘ سے قطع نظر جس میں ایک دُکاندار سے یاترا میں شریک لوگوں کی کہا سنی یا شاید ہاتھا پائی ہوگئی، بحیثیت مجموعی یاتریوں کا سفر پورے نظم و نسق کے ساتھ جاری اور مقصد پر جمے رہنے کی حقیقت کا غماز ہے۔ عوام کی جانب سے ملنے والے رسپانس کو دیکھ کر یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہوسکتا کہ ہمارا ملک وہ نہیں ہے جو ٹی وی کے پروپیگنڈے اور گودی میڈیا کے جنگی مباحثوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ ہمارا ملک وہ ہے جو تملناڈو میں یاتریوں کے خیرمقدم کے دوران یا کیرالا میں جوق در جوق عوام کی شرکت اور شمولیت کے وقت دیکھا گیا۔ یاتریوں کے استقبال کی تصویریں دیکھ کر محسوس ہوتا ہے جیسے موجودہ حالات میں اِس یاترا کی اشد ضرورت تھی اور عوام اس کا انتظار کررہے تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ جیسے جیسے یاترا آگے بڑھے گی اور ایک ریاست سے دوسری ریاست میں داخل ہوگی، اس کی مقبولیت ہی میں اضافہ نہیں ہوگا، اس میں شامل ہونے والوں کی تعداد بھی بڑھے گی جو کہ اب بھی کم نہیں ہے۔ یاترا کو دوسری نظر سے دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ چونکہ تمل ناڈو اور کیرالا میں کانگریس کی ساکھ اب بھی مضبوط ہے اس لئے ان ریاستوں میں یاترا کا جلوہ کچھ اور ہے مگر دیگر ریاستوں میں ایسا ہونا مشکل ہے مگر ہماری اطلاعات کچھ اور کہتی ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یاترا کے تعلق سے میڈیا تو نہیں، سوشل میڈیا پر جو ویڈیوز جاری ہورہے ہیں اُنہیں دیکھ کر دیگر ریاستوں کے عوام میں بھی جوش پیدا ہورہا ہے چنانچہ یہ بھی ممکن ہے کہ جن ریاستوں کے تعلق سے لوگ شک و شبہ میں مبتلا ہیں، وہاںتمل ناڈو اور کیرالا سے بھی زیادہ بڑے پیمانے پر یاتریوں کا استقبال ہو۔  یاترا کو دوسری نظر سے دیکھنے والوں ہی نے شروع میں یہ کہتے ہوئے بے پرکی اُڑائی کہ یاترا کیلئے جن کنٹینروں کا استعمال کیا جارہا ہے وہ کسی وینیٹی وین سے کم نہیں ہیں مگر اب جو حقیقت سامنے آرہی ہے وہ اس قسم کی خبروں کے افواہ ہونے کی توثیق کررہی ہیں۔ کنٹینر وینیٹی وین نہیں ہیں بلکہ ٹرک ہیں جن پر چار دیواری جیسا ایک اسٹرکچر نصب کردیا گیا ہے۔ اس میں چند بنیادی ضرورتوں مثلاً سونے اور غسل وغیرہ کرنے کا انتظام تو ہے مگر اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ یہ بھی اُن یاتریوں کیلئے ہے جنہیں بھارت یاتری ہونے کا اعزازحاصل ہے۔ بقیہ تمام وہ ہیں جو اسکول، کالج، چرچ، مندر یا کسی آشرم کے احاطے میں شب بسر کرتے ہیں اور دوسرے دن پیدل چلنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ کئی یاتری جو مسلسل چل رہے ہیں، اُن کے پیروں میں چھالے پڑگئے ہیں۔ اس کے باوجود اُن کا عزم بلند ہے بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ دن بہ دن اس عزم میں مزید پختگی آتی جارہی ہے۔ اس کے باوجود ہم کہیں گے کہ آئندہ کا سفر ان کے صبر وتحمل کا مزید امتحان لے گا کیونکہ سفر طویل ہے اور انہیں چلتے ہی رہنا ہے۔ اس یاترا کے تعلق سے یہ بات بھی پھیلائی جارہی ہے کہ یہ کنفیوژن کا شکار ہے۔ ’’بھارت ٹوٹا کہاں ہے کہ اسے جوڑنے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے‘‘ جیسے الزامات اس پر عائد کئے جارہے ہیں مگر ہمارا خیال ہے کہ یاترا اپنے مقصد کی تفہیم میں بھی کامیاب ہے۔ یہ نہ ہوتا تو اسے عوام کا اتنا رسپانس نہ ملتا ! 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK