شاعر ِتہذیب ِ اُردو: عبدالاحد ساز

Updated: March 22, 2021, 11:36 AM IST | Shahid Latif

برسی (۲۲؍ مارچ ) کے موقع پر خصوصی تحریر،جس دن اُن کا انتقال ہوا، وہ لاک ڈاؤن کا ابتدائی دن (جنتا کرفیو) تھا اور شہر کے چپے چپے پر سناٹے کی حکمرانی تھی۔ ممبئی کی سڑکوں پر جگہ جگہ پولیس کا سخت پہرہ تھا۔ اُن کی موت آئندہ دنوں میں طویل سے طویل تر ہونے والے لاک ڈاؤن کی داستان درد انگیز کا ابتدائی صدمہ تھی

Abdul Ahad Saz
عبدالاحد ساز :خاموشی اُنہیں عزیز تھی مگر ایسی خاموشی جس میں ’’زمانوں کی سرگرشیاں‘‘ ہوں۔

 کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ساز بزم جہاں سے ایسے رُخصت ہو جائینگے جیسے سب سے ناراض ہوں۔ حالانکہ وہ کسی سے ناراض نہیں تھے۔ ناراض ہونا اُن کی فطرت میں تھا بھی نہیں۔ جس دن اُن کا انتقال ہوا، وہ لاک ڈاؤن کا ابتدائی دن (جنتا کرفیو) تھا اور شہر کے چپے چپے پر سناٹے کی حکمرانی تھی۔ ممبئی کی سڑکوں پر جگہ جگہ پولیس کا سخت پہرہ تھا۔ اُن کی موت آئندہ دنوں میں طویل سے طویل تر ہونے والے لاک ڈاؤن کی داستان درد انگیز کا ابتدائی صدمہ تھی۔ ہم ایسے احباب تو کلیجہ تھام کر بیٹھ گئے کہ تجہیز و تکفین میں شریک ہوں تو کیسے؟ کوئی اُمید بر نہیں آرہی تھی۔ بہت قریب رہنے والے احباب کی رسائی بھی ممکن نہیں تھی۔ جس عمارت میں اُن کی رہائش تھی وہاں کے چند دردمند اور ادب نواز حضرات نے ہزاروں دوستوں اور قدردانوں کی جانب سے فرض کفایہ ادا کیا اور ساز کو سپردِ لحد کرآئے۔ اس دوران ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ اُنہیں اُن کی وصیت کے مطابق جنوبی ممبئی کے اُس قبرستان میں مٹی دی گئی جس میں اُن کے متعلقین مدفون ہیں۔ یہ میمن برادری کا قبرستان ہے۔ اُن کے والد اور خوش فکر شاعر عبدالرزاق سعید بھی یہیں آرام فرما ہیں اور شاید اُن کی نانی بھی، جن کے انتقال پر ساز نے اتنی خوبصورت نظم کہی تھی کہ بار بار پڑھیں تب بھی سیری نہیں ہوتی۔ 
 ساز اپنی مثال آپ تھے۔ اُن کے ظاہر و باطن میں کوئی فرق نہیں تھا۔ جیسے دکھائی دیتے تھے ویسے ہی تھے،یا، جیسے تھے ویسے ہی دکھائی دیتے تھے، شریف النفس اور نیک طینت۔ خوش فکر تو تھے ہی، نرم خوئی اور خوش گفتاری بھی اُن کی شخصیت کو پُرکشش بناتی تھی۔ کوئی بات مزاج پر بار ہوتی تب بھی اتنی خوش اسلوبی سے گوارا کرلیتے تھے کہ چہرے پر ناگواری نمودار ہونے سے پہلے ناپید ہوجاتی تھی۔ خاموشی اُنہیں عزیز تھی مگر ایسی خاموشی جس میں ’’زمانوں کی سرگرشیاں‘‘ ہوں، سکوت اُنہیں پسند تھا مگر ایسا سکوت جس میں یادوں کی شمعیں روشن ہوں، تنہائی اُنہیں راس آتی تھی مگر ایسی تنہائی جس میں دوستوں کے قہقہے یا اُن کے اشعار گونج رہے ہوں۔ وہ اُس تنہائی اور خاموشی کے بالکل قائل نہیں تھے جس کی ملی جلی کیفیت نے اُن کے انتقال کے دِن ہردم رواں شہر ممبئی کو ساکت و جامد کردیا تھا۔ ساز بقید حیات ہوتے تو اُنہیں یہ سکوت ہرگز پسند نہ آتا اور وہ بطورِ اظہارِ ناپسندیدگی اپنا مصرعہ ضرور دُہراتے کہ ’’روداد ایک لمحہ ٔ وحشت اثر کی ہے‘‘ ۔  
  ساز کو مَیں نے پہلی مرتبہ اُس وقت دیکھا اور سنا تھا جب وہ میرے والد سیف بھساولی کے مجموعۂ کلام ’’شگفت گل‘‘کی رسم اجراء اور مشاعرہ (منعقدہ ۱۹؍ جون ۱۹۸۲ء بمقام جونیئر انسٹی ٹیوٹ بھساول) میں شرکت کیلئے بھساول آئے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب ساز کے لہجے کی ملائمت اور فکر کی بلندی اپنی مقبولیت کا دائرہ وسیع کر رہی تھی۔ اُن کے اشعار ’’موت کے آگے سوچ کے آنا پھر جی لینا= چھوٹی چھوٹی باتوں میں دلچسپی لینا‘‘ یا ’’دور سے شہر فکر سہانا لگتا ہے= داخل ہوتے ہی ہرجانہ لگتاہے‘‘ ادبی فضاؤں میں گونج رہے تھے۔ بھساول کی پہلی ملاقات کے بعد ممبئی کی ادبی و شعری نشستوں میں ساز سے اکثر ملاقات ہونے لگی۔ یہ وہ دور تھا جس میں ایک طرف علی سردار جعفری، مجروح سلطانپوری، اختر الایمان، عزیز قیسی، باقر مہدی، فضیل جعفری، ظفر گورکھپوری، قیصر الجعفری اور ندا فاضلی جیسے معتبر شعراء کی کہکشاں تھی تو دوسری طرف ۷۰ء کے بعدمنظر عام پر آنے والی وہ نسل تھی جس میں ارتضیٰ نشاط، شفیق عباس، شمیم عباس، نظام الدین نظام، اعجاز ہندی، کلیم حیدر شرر، سعید راہی، احمد منظور، محبوب عالم غازی، عرفان جعفری، سعید طارق، شبیر احمد قرار، قاسم امام اور حامد اقبال صدیقی عمر کے تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ایک ہی صف میں تھے اور ممبئی کی ادبی فضا کو نئی آب و تاب عطا کر رہے تھے۔ ان میں ساز کی شخصیت اور شاعری کا اپنا سحر تھا۔ 
 اس دور کی اُن نشستوں کو فراموش نہیں کیا جاتا جو ساز کی سابقہ رہائش گاہ واقع زکریا مینور (مسجد بندر) میں منعقد ہوتی تھیں۔ ان نشستوں میں ساز کی حیثیت ’’میزبان شاعر‘‘ کی ہوتی تھی۔ مَیں جب پہلی مرتبہ اس نشست میں شریک ہوا تھا تب شاید چار پانچ غزلیں ہی میرا کل شعری سرمایہ تھا مگر صاحب خانہ اور دیگر شرکاء کی ادبی بلند ظرفی کا یہ عالم تھا کہ شعری اعتبار سے اتنے غریب اور مبتدی شاعر کا بھی پُرتپاک استقبال کیا گیا۔ ایسی نشستوں میں ساز جتنے انہماک سے اپنے اشعار سناتے اُس سے زیادہ توجہ کے ساتھ دوسروں کے اشعار سنتے اور یاد رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جس تسلسل اور روانی کے ساتھ اپنے اشعار سناتے تھے اُسی تسلسل اور روانی کے ساتھ دوسروں کے اشعار بھی۔ بہت عمدہ حافظہ پایا تھا۔ اُنہیں بیاض یا پرچی لے کر کلام سناتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا۔ اپنی نسبتاً طویل نظمیں مثلاً آخری دور کے انساں، عوج بن عنق، پس تقریب ملاقات، اے خسرو شیریں سخناں اور بیکراں (جوبڑی بہن کی ناگہانی موت سے متاثر ہوکر کہی تھی) بھی بڑی آسانی سے سناتے تھے۔ ساز کو مشاعروں میں داد تو کم ملتی تھی مگر بڑی توجہ اور احترام کے ساتھ سنا جاتا تھا۔وہ اس توجہ اور احترام کی قدر کرتے تھے۔ تحسین ناشناس اور سکوت سخن شناس جیسے الفاظ ساز کی لغت میں تھے ہی نہیں۔ اُن کی نظر میں سب اچھے تھے،  سامعین و قارئین ہوں یا شعراء۔ حرف شکایت اُن کی زبان پر نہیں آتا تھا۔ زمانے کی بیداد اُنہیں پریشان نہیں کرتی تھی۔ کبھی کسی نے کچھ کہہ بھی دیا تو سن کر ٹالنے کی کوشش کرتے۔ ایک آدھ بات کا جواب دیا بھی تو وہی ٹالنے والے انداز میں کہ ’’ہاں، یہ تو ہے!‘‘ یا نہایت بے دلی کے ساتھ کہ ’’ ٹھیک ہے یار!‘‘۔ کم لوگوں کو علم ہوگا کہ ممبئی کے چکلہ اسٹریٹ پر ریمنڈس کی ایک کپڑوں کی دکان میں ساز کی شراکت داری تھی جس کے دیگر پارٹنرس میں گجرات کے خالص کاروباری افراد تھے۔ اُنہیں روزانہ دکان جانا پڑتا اور حساب ِ سودو زیاں رکھنا یا  گاہکوں کے ساتھ بات چیت کرنا اُن کی مجبوری تھی۔ ایسے میں کوئی سخن فہم یا ادبی دوست دکان پر آجائے تو ان کی خوشی کی انتہا نہیں رہتی تھی، جیسے صحرا میں نخلستان مل گیا ہو۔ اس دوران وہ اپنے دوست سے اُردو میں اور پارٹنرس یا گاہکوں سے گجراتی میں گفتگو کرتے تھے۔ اِدھر ادب زیر بحث ہوتا اور اُدھر ٹھیٹھ کاروباری موضوعات۔ وارث علوی اور محمد علوی گجرات میں رہ کر گجراتی بولتے تھے، ساز ممبئی میں اپنی دُکان پراس زبان سے اپنی گہری وابستگی کا ثبوت دیتے تھے۔ مگر اُنہیں اپنے ہونے کا احساس اُردو زبان اور شعرو ادب ہی سے ہوتا تھا۔ کاروباری اور معاشی سرگرمیاں طبع نازک پر بار تھیں۔ اس کا اظہار ایک شعر میں اس طرح کیا تھا:
بہ ذوق شعر، بہ جبر معاش یکجا ہیں
مرے عروج کی راتیں مرے زوال کے دن
 اس کے باوجود دکان کی اپنی ذمہ داریوں سے کبھی چشم پوشی نہیں کی۔ قلب شہر سے مضافات میں منتقل ہونے کے باوجود دکان جاتے آتے رہے۔ آخری چند مہینوں میں نسیان ہوگیا تھا مگر کچھ دیر بیٹھ کر پرانی باتیں، اشعار یا نظمیں یاد دلائی جاتیں تو پھر گویا یادداشت رواں ہوجاتی تھی۔ مجھے آخری دو ملاقاتیں ہمیشہ یاد رہیں گی جب میں عیادت کے لئے گیا اور اِس دوران اُن کے پرانے اشعار یاد دِلانے کی کوشش کی تو متعلقہ غزلوں کے بقیہ اشعار ازخود سناتے چلے گئے۔ عیادت کا اُصول ہے کہ جو صاحب فراش ہے اس کے پاس کچھ ہی دیر بیٹھا جائے۔ اسی لئے میں نے فریدہ بھابھی سے کہہ دیا تھا کہ اصرار نہ کیجئے گا، میں کچھ دیر ہی کیلئے آؤں گا، مگر گفتگو میں ساز کی دلجمعی دیکھ کر دس منٹ کا ارادہ دو گھنٹہ طویل عیادت میں تبدیل ہوگیا۔ بھابھی نے کہا شاہد بھائی آپ آجایا کیجئے، دیکھئے اُن کی طبیعت کتنی بہل جاتی ہے۔ مگر ساز دھیرے دھیرے کمزور ہوتے جارہے تھے۔ لکھنے لکھانے سے بھی اُن کا رابطہ کمزور پڑنے لگا تھا۔ ذہن ماؤف ہوچلا تھا۔ یہ سب اسباب تھے اور سفر درپیش تھا۔ ساز کے جانے سے یہ شہر ممبئی اور بھی خالی ہوگیا ہے ورنہ اس شہر کا شہرہ دور دور تک تھا۔ نئی صدی کے آغاز تک یہاں سردار (جعفری) تھے، مجروح (سلطانپوری) تھے اور ابھی ۲۰۱۶ء تک ندا (فاضلی) بھی تھے۔ مگر ایک ایک کرکے سب چلے گئے۔کبھی کبھی تصور اُبھرتا ہے۔سردار جعفری مخصوص انداز میں اپنی زلفوں کو پیچھے کی طرف سمیٹتے ہوئے نظم ’’میرا سفر‘‘ سنارہے ہیں: ’’لیکن میں یہاں پھر آؤں گا، بچوں کے دہن سے بولوں گا، چڑیوں کی زباں سے گاؤں گا......میں پتی پتی کلی کلی، اپنی آنکھیں پھر کھولوں گا‘‘ نظم کے سیاق و سباق سے قطع نظر اس تصور پر ایسا لگتا ہے یہ لوگ پھر آجائینگے،سردار، مجروح، جاں نثار، اختر الایمان، عزیز قیسی، یوسف ناظم، ظفر گورکھپوری، قیصر الجعفری  اور دیگر مگر تصور ختم ہوتا ہے تو یہ حقیقت منہ چڑاتی ہے کہ پیش نگاہ کوئی نہیں ہے۔ اور اب تو ساز بھی نہیں ہیں۔
 ساز، فیض سے کافی متاثر تھے (اے خسروِ شیریں سخناں!)۔ ساز اُن کی لفظیات اور آہنگ سے بڑی قربت محسوس کرتے تھے۔ اس کا ثبوت اُن کی اپنی لفظیات اور تراکیب سے ملتا ہے جس میں اکثر مفرس تراکیب بڑی آسانی سے جگہ پاتی ہیں اور لطف دیتی ہیں۔ اسی لئے نئے موضوعات بھی اُن کے ہاں پوری غنائیت کے ساتھ جگہ پاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ساز کی حسن پسندی اور جمالیاتی احساس بھی ہر نظم، غزل، شعر اور مصرعے کو بھرپور آہنگ عطا کرتا ہے۔
 نظم ’’بارات نورزادوں کی‘‘ کے یہ مصرعے ملاحظہ فرمائیے:
یہ لوح زیست، یہ تحریر فکر انسانی/ یہ تا حدودِ نظر نقش ہائے رنگا رنگ/ زمیں پہ صنعت و حرفت کے شامیانوں میں/ سجے ہیں آتش و فولاد و برق و پارہ و سنگ/ نئی ڈگر پہ رواں ہے حیات تیز خرام / نئے سروں میں فروزاں ہے وقت کا آہنگ/ فلک سے آئی ہے بارات نورزاد وں کی/ زمیں کے آرسی مصحف میں اب نہیںہے درنگ/ چلو سجاؤ شبستاں، خوشی کا جشن مناؤ/ نئی بہار، نئی زندگی کا جشن مناؤ!
 غزلوں میں بھی اُن کا یہی لہجہ سنائی دیتا ہے، مثلاً:
بحث دریا کے عمق پر، موج پر اظہار رائے
اے سبک ساران ساحل! ڈوب کر دیکھے گا کون
یہ آسماں سے رگ جاں تک ایک سرگوشی
سکوت شب کا یہ انداز گفتگو کیا ہے
یہ رہ گزار نفس، تنگنائے مایوسی
مگر یہ وسعت ِدامانِ آرزو کیا ہے
سنوارنا کوئی آساں نہیں ہے کاکل فن
ذرا ہوا سے بھی اُلجھے تو بال بال بنے
دیوار نہیں پردۂ فن بند قبا ہے
اک جنبش انگشت کہ مہتاب کھلیں گے
ساز کے تخلیقی راز کو ساز ان کی دو نظموں ’’عوج بن عنق‘‘ اور ’’آخری دور کے انساں‘‘ میں بہتر طور پر دیکھا جاسکتا ہے جو مکمل عصری حسیت کی حامل نظمیں ہیں مگر الفاظ و تراکیب و آہنگ وہی ہیں جن کا بالائی سطور میں ذکر کیا گیا۔ اول الذکر نظم کا یہ بند دیکھئے: 
ناف اس کی مرکز ثقل زمانہ/ پیٹ اس کا پیٹ بھرنے کے وسائل کا خزانہ/ وہ سڑک سے، دفتروں سے اور گھروں سے/ رینگتے بونے اُٹھاتا/ اپنی کہنی اور کلائی پر چلاتا/ حسب منشاء، ذائقے کے طور پر اُن کو چباتا جارہا تھا.......اور وہیں اک دل زدہ بیزار موسیٰ/ شہر کی سب سے بڑی ہوٹل کی چھت کو چھو نہ سکنے سے خفیف/ نابلد ٹخنوں کی کمزوری سے دیو   عصر کی/ اپنے امکاں اور ادارے کے عصا کی ضرب سے نا آشنا/ نیم مردہ، سرد، بے حس ریت پر سویا ہوا تھا!
 ساز، ملک کے شعری و ادبی حلقوں سے اُس وقت متعارف ہوئے جب شاعری جدید رجحاناتِ شکست و ریخت سے گزر کر متوازن ہوچکی تھی۔ اب اس میں ’’رطب و یابس‘‘ نہیں تھا۔ اسی لئے اُن کی شاعری بھی ابہام سے پاک ہے اور اسی لئے ان کا متوازن لہجہ ہر خاص و عام میں مقبول ہوا اور دورونزدیک اُن کی پزیرائی ہوئی۔ عصری حسیت سے مملوشعری اظہار کے باوجود اُنہوں نے روایت سے سرمو‘ انحراف نہیں کیا۔ کہا جاسکتا ہے کہ اُن کا فن موضوعاتی سطح پر اپنے عصر سے مطابقت رکھتا ہے مگر شعری اظہار کی جڑیں روایت میں پیوست ہیں۔ یہی عصری و روایتی امتزاج اُن کی شاعری کو دل پزیر بناتا ہے۔ موضوع کی سطح پر ساز نے اپنے دور کے مصائب و مسائل کو شعر کے سانچے میں ڈھالنے اور دو مصرعوں کے درمیان یا کسی مختصر نظم کے محض چند مصرعوں میں اتنے سلیقے سے بیان کیا ہے کہ شاعر کا کرب بآسانی جھلک جاتا ہے۔ وہ جدید مادّی رجحانات سے کبیدہ خاطر اور انسانی، اخلاقی اور تہذیبی اقدار کی ٹوٹ پھوٹ سے رنجیدہ تھے۔ ’’نانی اماں کی وفات پر ایک نظم‘‘ پڑھئے تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ پرانی وضعداریوں اور معاشرتی خوبیوں کے کتنے بڑے دلدادہ تھے۔ ’’ان محلو ّں کا خوشنما ماحول/ ان گھروں کی روایتی تہذیب/ آج اک دور جیسے ڈوب گیا/ آج طفلی کا ساتھ چھوٹ گیا/ آج بچپن کو دفن کرآئے‘‘جیسے مصرعوں کے ذریعہ ساز نے اپنی نانی اماں کو خراج عقیدت پیش کرنے سے زیادہ تہذیب ومعاشرت کی چلتی پھرتی علامتوں کے مٹ جانے کا نوحہ لکھا ہے۔ اس نظم میں وہ ساری علامات آئی ہیں جو ایک بھری پری اور پُرکشش تہذیب کی عکاسی کرتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK