نفرت کا زہر

Updated: February 16, 2020, 4:24 PM IST | Sattar Tahir

والد صاحب کا تبادلہ ایک چھوٹی تحصیل میں ہوا تو میں گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے ان کے پاس چلا گیا۔ یہ ایک سویا سویا سا قصبہ تھا۔ تحصیل کی عمارت بڑی پرانی اور خستہ تھی جس کے باہر خستہ حال پھٹے پرانے کپڑوں والے دہقان بیٹھے رہتے تھے، جانے وہاں کیا ہوتا تھا۔ ہر روز وہ صبح آتے اور دن ڈھلے غائب ہوجاتے۔

نفرت کا زہر ۔ تصویر : آئی این این
نفرت کا زہر ۔ تصویر : آئی این این

  والد صاحب کا تبادلہ ایک چھوٹی تحصیل میں ہوا تو میں گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے  ان کے پاس چلا گیا۔ یہ ایک سویا سویا سا قصبہ تھا۔ تحصیل کی عمارت بڑی پرانی اور خستہ تھی جس کے باہر خستہ حال پھٹے  پرانے کپڑوں والے دہقان بیٹھے رہتے تھے، جانے وہاں کیا ہوتا تھا۔ ہر روز وہ صبح آتے اور دن ڈھلے غائب ہوجاتے۔ وہ سب ایک جیسے تھے۔ اس قصبہ میں مَیں نے بہت سی کتابیں پڑھیں۔ اسکول کا کام بھی مکمل کیا۔ خاندان میں سب مجھے پڑھاکو کہتے تھے۔ والد صاحب خود مجھے رسالے اور کتابیں لا کر دیا کرتے تھے اور اکثر دیکھا کرتے تھے کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے اچھی کتابیں پڑھو۔ اچھی کتاب انسانوں سے محبت کرنا سکھاتی ہے۔
 چھٹیاں ختم ہونے میں کچھ دن رہ گئے تھے، والد صاحب کی رخصت بھی منظور ہوچکی تھی۔ اب وہ شام گئے کوارٹر آتے تھے کیونکہ جانے سے پہلے سارا کام نمٹانا چاہتے تھے۔ بالآخر روانگی کا  دن آگیا۔
 ہم ریل گاڑی کی آمد سے کئی گھنٹے پہلے ہی ریلوے اسٹیشن آگئے۔ ریلوے اسٹیشن چھوٹا، خاموش اور سنسان تھا۔ اکا دکا مسافر ادھر ادھر بیٹھے تھے۔ ایک ہی پلیٹ فارم تھا اور تھابھی کچا لیکن بنچ موجود تھے اور درخت بھی۔ والد صاحب  اس قصبے کے لوگوں کی غربت کی باتیں کرتے رہے، ان کی آواز درد میں ڈوبی ہوئی تھی۔ پھر اچانک وہ کہنے لگے ’’ارے ایک غریب دیہاتی کی فائل تو میں تحصیل دار کی میز پر رکھنا ہی بھول گیا۔ گاڑی آنے میں ابھی بہت وقت ہے، میں گھنٹہ بھر میں آیا، ذرا چلو میرے ساتھ۔‘‘
 میں اٹھ کھڑا ہوا۔ تیز تیز چلتے ہوئے ہم اسٹیشن سے باہر نکلے۔ تھوڑے ہی فاصلے پر ایک کھوکھا تھا۔ میرے والد  نے جیب سے ایک روپیہ نکالا اور مجھے تھما کر بولے: تم یہاں سے کوئی کتاب خریدو اور واپس ریلوے پلیٹ فارم پر جا کر پڑھو، میں گھنٹے بھر میں واپس آجاؤں  گا۔ چلتے چلتے انہوں نے کہا: ’’کوئی اچھی کتاب خریدنا!‘‘
 میں نے کتابوں کی دکان سے آٹھ آنے کی ایک کتاب خریدی اور ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر ایک درخت کے نیچے رکھے بنچ پر بیٹھ کر پڑھنے لگا۔ پہلے صفحہ نے ہی میرے خون کو گرما دیا، میرے دل کی دھڑکن تیز ہوتی چلی گئی۔ تجسس کا یہ عالم تھا کہ میں یہ تک بھول گیا کہ کہاں بیٹھا ہوں۔ اس قصبے میں تلواریں چل رہی تھیں، گھوڑے بھاگ رہے تھے۔ مذہب کے نام پر انسانوں کو زندہ جلایا جا رہا تھا۔ ایک مذہب کی برتری ثابت کرنے کیلئے دوسرے مذاہب کے ماننے والوں  پر ہر ظلم جائز تھا۔
 مجھے یہ بھی معلوم نہ ہوا کہ والد صاحب کب واپس آئے۔ ’’کون سی کتاب ہے؟‘‘
 انہوں نے سوال کیا تو مجھے ان کی آمد کاعلم ہوا۔ کتاب انہوں نے پکڑی، چند ورق الٹے، پڑھا اور پھر بولے ’’ایسی کتابیں نہیں پڑھتے جو دوسروں پر ظلم کرنا سکھائیں اور ظلم کی وکالت کریں، جو دوسروں کو انسان نہ سمجھیں، جو دوسروں سے صرف نفرت کرنا سکھائیں۔‘‘
 ’’لیکن یہ تو بہت دلچسپ کہانی ہے، میرا خون گرم ہوگیا ہے۔‘‘ والد صاحب نے کوئی جواب نہ دیا، اس کتاب کو پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کرکے ریل کی پٹری پر پھینک دیا۔
 مجھے والد کی اس حرکت پر پہلے تو بہت غصہ آیا، پھر جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ میں اس قصے کے انجام کو نہیں پڑھ سکوں گا تو پھوٹ پھوٹ کر بے اختیار رونے لگا۔
 ریل گاڑی آگئی، ہم اس میں سوار ہوگئے ۔ والد صاحب مجھے سمجھانے اور بہلانے کی کوشش کرتے رہے لیکن میں روتا اور بسورتا رہا۔ کتاب کی کہانی اور واقعات بار بار میرے سامنے آتے اور میرے آنسو پھر بہنے لگتے۔
 ادھوری محبت اور ادھوری کتاب کا دکھ بہت گہرا ہوتا ہے۔ میں بہت عرصے تک یہ دکھ برداشت کرتا رہا۔ اپنے شہر میں واپس آکر مہینوں اس کتاب کی تلاش میں سرگرداں رہا لیکن وہ کتاب نہ مل سکی۔
 وقت گزرتا گیا، میں جوان ہوگیا، پھر شادی ہوگئی۔ میں خود بچوں کا باپ بنا لیکن خاندان میں ’’پڑھاکو‘‘ کی حیثیت برقرار رہی۔
 ایک دن فٹ پاتھ پر اچانک کباڑیے کے ہاں وہ کتاب مجھے دکھائی دی۔ میرے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔ میری عادت مول تول کرنے کی تھی لیکن میں نے وہ کتاب منہ مانگے داموں خرید لی۔
 میں تیزی سے گھر پہنچا۔ ادھوری کتاب کو پورا کرنے کا وقت مدتوں کے بعد آیا تھا۔ جوں ہی میں نے اس کے چند ورق پڑھے میرے اندر کراہت کا احساس ہونے لگا اور جب میں نے اپنے اوپر جبر کرکے وہ کتاب ختم کردی تو سوچا کہ ایسی کتابیں بھی لکھی جاتی ہیں جو انسانوں کو قتل کرنا سکھاتی ہیں، جو بچوں کے ذہنوں کو ہمیشہ کے لئے بگاڑ دیتی ہیں۔
 مجھے اپنا رونا اور بسورنا اور اپنے والد کا بہلانا یاد آیا۔ میری آنکھیں بھیگنے لگیں۔ لیکن یہ نمی اور طرح کی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK