زندگی کے زہر سے ادب کا امرت پیدا ہوتا ہے

Updated: May 10, 2020, 1:57 PM IST | Sajjad Baqar Razvi

چونکہ ساری دنیا کے انسان مختلف تہذیبی اکائیوں میں بٹے ہوئے ہیں اس لئے مختلف تہذیبوں کا زہر اور امرت الگ الگ ہوگا۔

Books - Pic : INN
کتابیں ۔ تصویر : آئی این این

ادیبوں کا ایک عام مگر سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ادب میں زندگی کی حرارت اور زندگی میں ادب و فن کی لذت کس طرح پیدا کی جائے۔ یہی وہ اولین مسئلہ ہے جس کے حل کرنے کی کوشش میں پوری انسانی تہذیب وجود میں آئی۔ جہاں تک ادیبوں کے مسائل کا تعلق ہے، ان کا ہر ادبی مسئلہ اسی بڑے مسئلے کا جز ہوگا۔ اس سلسلے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ فن اور زندگی میں ہمہ وقت ایک تضاد موجود ہوتا ہے اور اس تضاد سے وہ کشمکش جنم لیتی ہے جو ادبی تخلیق کے لئے محرک بنتی ہے ۔ زندگی کے زہر سے ادب کا امرت پیدا ہوتا ہے۔
 یہ تو ایک عام بات ہوئی، اب اس بات کو اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر پرکھا جائے تو اردو کے ادیبوں کے مسائل زیادہ واضح صورت میں سامنے آئیں گے۔ اس سے پہلے کہ میں اس سلسلے کو آگے بڑھاؤ، میں ایک وعدہ کرتا چلوں کہ میں بین الاقوامی انسانی اقدار پر بحث نہیں کروں گا اور نہ امریکہ اور یورپ کی ادبی تحریکوں کا ذکر کروں گا، نہ ہی ان ادیبوں کے مسائل کا بیان کروں گا جو ادب تخلیق کرنے کے  بجائے رسالوں کے ایڈیٹروں کو خط لکھ کر یا ادیبوں کے مسائل پر گفتگو کرکے اپنا مسئلہ حل کرلیتے ہیں۔ ایک بات اور ، میں جو کچھ لکھ رہا ہوں وہ اور کسی کا مسئلہ ہو یا نہ ہو، میرا ذاتی مسئلہ ضرور ہے۔
  میں نے ابھی کہا ہے کہ زندگی کے زہر سے ادب کا امرت پیدا ہوتا ہے، مگر ساری دُنیا کے انسان مختلف تہذیبی اکائیوں میں بٹے ہوئے ہیں اس لئے مختلف تہذیبوں کا زہر اور امرت الگ الگ ہوگا۔ ظاہر ہے کہ جب ہم ادیبوں کے مسائل کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں تو وہ مسائل بیشتر اردو ادیبوں کے ہوں  گے۔ ادب و شاعری معاشرتی  حیثیت حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہیں جو جتنی جلد حاصل ہو اتنا ہی اچھا ہے۔ مگر ادب و شاعری کو ذریعہ بنانے والے، اس کا مقصد حاصل نہیں کرسکتے اسی لئے ذاتی مفاد کے پورے ہوجانے پر یا معاشرتی حیثیت مل جانے پر شاعری اور ادب ’’یادرفتگاں‘‘ بن جاتے ہیں۔  اگر ادبی تخلیق کا مقصد کم اور تحریک چلانے کا مقصد زیادہ ہو تو تحریک ممکن ہے، چل جائے، ادب نہیں چل سکتا۔ ادبی تخلیق کے لئے کسی نہ کسی داخلی کشمکش کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ کشمکش مقداری زندگی اور اقداری زندگی کے تضاد سے پیدا ہوتی ہے، یا،  بہ الفاظِ دیگر زندگی اور فن کے تضاد سے۔ اور اگر ادیبوں کی کشمکش محض اتنی ہے کہ کل تو میں پیدا ہوا اور آج مجھے شہرت ِ دوام مل جانی چاہئے، تو جو تخلیق ہوگی، اس کی حیثیت ظاہر ہے۔ یہ تو ہوا نوجوان ادیبوں کا مسئلہ، مقابلتاً پرانے ادیبوں نے بھی یہی کام بڑی حد تک سرانجام دیا ہے۔ انہوں نے اپنی ادبی حیثیت کو داؤ پر لگا کر اقداری زندگی کو مقداری زندگی کے ہاتھوں بیچ دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں معاشرتی حیثیت بھی ملی اور  دنیوی عزوافتخار بھی، وہ گاہے گاہے باہر کے نئے ملکوں میں اپنے وطن کی نمائندگی بھی کرلیتے ہیں اور اپنا نام ادیبوں کی بین الاقوامی فہرست میں بھی شامل کراچکے ہیں لیکن جہاں تک تخلیقی زندگی کا سوال ہے، وہ بس ایک سوال ہے یا یوں کہئے کہ اردو ادیبوں کا مسئلہ ہے۔
 ادیبوں کے غیرادبی مسائل تو وہی ہوتے ہیں جو ساری قوم کے مسائل ہوتے ہیں لیکن ادیب کے لئے غیرادبی مسائل بھی ادبی بن سکتے ہیں، بالکل اسی طرح جس طرح مادہ انرجی میں تبدیل ہوجاتا ہے لیکن مادہ کو انرجی میں تبدیل کرکے وہ قوت حاصل ہوتی ہے جو انسانوں کے لئے تخریبی بھی ہے اور تعمیری بھی۔ ادیب بھی غیرادبی مسائل اور مقداری زندگی کو ادبی مسائل اور اقداری زندگی میں تبدیل کرسکتا ہے اور اس طرح ایک زبردست قوت حاصل کرسکتا ہے۔ یہی قوت اس کے تخلیقی عمل کے لئے ضروری ہے۔ ادب کی زبان میں اس قوت کو واردات و تجربات کا نام دیا جاتا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ ادیب خارجی دنیا کے واقعات کو داخلی دنیا کا تجربہ بناتا ہے۔ خارجی زندگی کو داخلی زندگی یا اقدار کی کسوٹی پر پرکھتا ہے اور اس طرح اسے وہ محرکات حاصل ہوتے ہیں جو اس کی تخلیقی زندگی کے لئے مہیج (ہیجان خیز، اٹھانے والا) ثابت ہوتے ہیں۔ تخلیق اندر کی کشمکش کا نتیجہ ہوتی ہے۔ خارجی کشمکش داخلی کشمکش کا بدل نہیں ہوسکتی۔ ورنہ معاشرتی حیثیت (جو خارجی کشمکش کا نتیجہ ہوتی ہے) ادب کا بدل ضرور ہوتی۔
 بہرحال، ادبی تخلیق پوری ذات کے تجربے کا نتیجہ ہوتی ہےاور تجربہ کوئی مشین نہیں جو باہر سے درآمدکرلیا جائے۔ تجربے کو تو انسانی روح برآمد کرتی ہے۔ آج تجربات و واردات کی نقل کی جاتی ہے (وہ بھی مطابق اصل نہیں) ۔ پہلے زمانے میں معنی آفرینی، ادیب کرتا تھا ، اب معنی آفرینی قاری کرتا ہے۔ آج کل ایک عام بات سننے میں آتی ہے کہ ادب کے قاری کم ہوگئے ہیں۔ مگر یہ بھی تو دیکھئے کہ قاری کے مسائل کتنے بڑھ گئے ہیں۔ ادیبوں کی توقع اس سے یہ ہوتی ہے کہ وہ پڑھے بھی اور معنی بھی نکالے۔ پہلے شاعر اس قسم کا شعر کہہ کر رکھ لیتے تھے؎
ٹوٹی دریا کی کلائی زلف الجھی بام میں
مورچہ مخمل میں دیکھا آدمی بادام میں
اور ایسے شعروں میں وہ سامعین کے ذوق کا امتحان لیتے تھے، اگر داد پائی تو سمجھ لیا کہ سامع بدذوق ہے مگر اب ایسے شعروں میں معنی پیدا کرنا اور داد دینا ذوق کی علامت بھی ہے اور دانشوری کی دلیل بھی۔
 سستی شہرت اور معاشرتی حیثیت، آج کے تاجرانہ ذہن کا حاصل ہے اور یہی چیزیں ادیبوں کا مسئلہ ہیں۔ تخلیق کا مسئلہ، شہرت و حیثیت کے مسئلہ کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ معاف کیجئے، میں نےیہ بات غلط کہی ہے۔ دراصل شہرت و حیثیت کا مسئلہ حل ہوجائے تو پھر کوئی مسئلہ باقی نہیں رہتا۔ اس لئے کہ اب کوئی شاہؔ عالم میردردؔ کے گھر نہیں آئے گا، میردردؔ خود شاہؔ عالم بننے کی فکر میں ہے۔ دراصل ادیب کے سارے مسائل ادب کے مسائل سے وابستہ ہیں اور ادب کا مسئلہ محض ایک ہے اور وہ یہ کہ ادب میں زندگی کی حرارت کیسے پیدا ہو اور کس طرح وہ زندگی میں فن کی لذت پیدا کرے۔ اب اگر آپ مجھ سے یہ پوچھیں کہ پھر ادیبوں کا مسئلہ کیا ہے، تو میرا جواب یہ ہوگا کہ بیشتر ادیبوں کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، اس لئے ادیب تو اپنا مسئلہ تخلیق کی صورت میں حل کرلیتا ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK