قانون کے نفاذ کو یقینی بنانے والا پولیس محکمہ نراجیت کا شکار

Updated: July 19, 2020, 11:39 AM IST | Jamal Rizvi

وکاس دوبے نے جس طرح۸؍ پولیس والوں کو ہلاک کیا وہ اس محکمے کی اُن خامیوں کو اجاگر کرتا ہے جو قانون اور لاقانونیت کے درمیان فرق کوختم کرتا ہے۔ اس کے بعداس کا انکاؤنٹر جس ڈرامائی انداز میں ہوا، وہ بھی اس محکمے کی شفافیت کو مشکوک بناتا ہے ۔اس انکاؤنٹر کو حق بجانب ثابت کرنے کیلئے جو باتیں پولیس افسران کے ذریعہ کہی گئیں وہ اس قدر غیر منطقی اور الجھی ہوئی ہیں کہ ان پر آسانی سے یقین نہیں کیا جا سکتا

Vikas Dubey - Pic : INN
وکاس دبے ۔ تصویر : پی ٹی آئی

آجکل ملک میں پولیس محکمہ کسی نہ کسی وجہ سے عوام اور میڈیا میں گفتگو کا موضوع رہا ہے ۔ اس گفتگو کا ایک سبب کورونا کی وبا کے سبب پیدا ہونے والے ہنگامی حالات میں پولیس اہلکاروں کی وہ کارکردگی ہے جو نظم و نسق کو برقرار رکھنے میں مدد گار ثابت ہوئی ہے ۔ملک کی مختلف ریاستوں سے ایسی خبریں آتی رہی ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ عوام جب ایسے مشکل حالات میں مبتلا ہوتے ہیں تو پولیس کس طرح ان کی مدد کر کے انھیں زندگی کی جد و جہد جاری رکھنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے ۔ پولیس اہلکاروں کی ایسی خدمات کے سبب ہی مرکز اور ریاستی حکومتوں نے اس محکمہ کی خاطر خواہ پذیرائی کی ہے ۔ ارباب اقتدار نے عوام کے اندر اس محکمے کے متعلق وہ یقین پیدا کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے جو پولیس اور عوام کے رابطے کو مستحکم بنا سکے ۔ پولیس محکمے سے وابستہ اس حقیقت کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ پولیس اہلکاروں نے کورونا کی روک تھام کی خاطرکئے گئے حکومت اور انتظامیہ کے ان اقدامات کو کامیاب بنانے میں بھرپور تعاون دیا جو عوام کو اس وبا سے محفوظ رکھنے کے ساتھ ہی مقامی نظم و نسق کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوا۔ مختلف ریاستوں میں اس وبا کا مقابلہ کرنے میں عوام کی مدد کرتے ہوئے بعض پولیس اہلکاروں کو اپنی جانیں بھی گنوانی پڑیں۔ بلا شبہ یہ ایسی خدمت ہے جس کیلئے یہ محکمہ ستائش کا حقدار ہے ۔ملک میں کورونا کی وبا کے سبب پیدا ہونے والے حالات کے تناظر میں پولیس محکمے کی یہ کارکردگی اس کی نیک نامی اور افتخار کی باعث ہےلیکن عوام اور میڈیا میں اس محکمے سے متعلق گفتگو کا جو دوسرا پہلو ہے وہ اس نیک نامی اور افتخار کو مشکوک بناتا ہے ۔
 اب سے کچھ دو ہفتہ قبل تمل ناڈو میں پولیس کی زیادتی کا شکار ہو کر ایک باپ اور اس کے بیٹے کو اپنی جان گنوانی پڑی ۔ اس کے چند دنوں بعد ہی کانپور کا وہ معاملہ سامنے آیا جو کئی وجوہ کی بنا پر اس محکمے کی رسوائی کا سبب بنا۔ وکاس دوبے نے جس طرح۸؍ پولیس والوں کو ہلاک کردیا وہ اس محکمے کی ان خامیوں کو اجاگر کرتا ہے جو قانون اور لاقانونیت کے درمیان فرق باقی رکھنے میں مخل ہوتی ہیں۔اس کے بعد وکاس دوبے کا انکاؤنٹر جس ڈرامائی انداز میں ہوا، وہ بھی اس محکمے کی شفافیت کو مشکوک بناتا ہے ۔اس انکاؤنٹر کو حق بہ جانب ثابت کرنے کیلئے جو باتیں پولیس افسران کے ذریعہ کہی گئیں وہ اس قدر غیر منطقی اور الجھی ہوئی ہیں کہ ان پر آسانی سے یقین نہیں کیا جا سکتا۔
  پولیس محکمے کی اس صورتحال کا بڑا سبب اس پر مسلسل پڑنے والا وہ سیاسی دباؤ ہے جو حق و انصاف کے بجائے اس محکمے کو سیاست دانوں کی مرضی کے مطابق عمل کرنے پر مجبور کرتا ہے ۔پولیس پر اس سیاسی دباؤ کی تازہ ترین مثال دہلی فسادات کےمتعلق پولیس کی وہ کارروائی ہے جس میں انصاف اور قانون کی حکمرانی کو نظر انداز کرکے ارباب اقتدار کی مرضی کو ترجیح دی گئی ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ دہلی پولیس نے اپنی چارج شیٹ میں جہاںایک طرف کئی ایسے لوگوں کو ان فسادات کا ذمہ دارقرار دیا جو قیام امن کی کوششوں اور ایسے ہنگامی حالات میں جمہوری قدروں کے تحفظ میں مصروف تھے، وہیں اب اس کی طرف یہ حیرت زدہ کرنے والا بیان بھی سامنے آیا ہے کہ ان فسادات سے متعلق اکثریتی طبقے کے افراد کو گرفتار کرنے یا ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ دہلی پولیس نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ اکثریتی طبقہ سے وابستہ افراد کے خلاف کارروائی سے شہر کے امن کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ پولیس کا محکمہ ریاستی حکومتوں کے دائرہ ٔ اختیار میں آتا ہے لیکن دہلی میں یہ محکمہ براہ راست مرکزی وزارت داخلہ کے احکام کے مطابق کام کرتا ہے ۔ دہلی فسادات سے متعلق پولیس کی کارروائی اور اکثریتی طبقہ سے متعلق اس کا حالیہ بیان یہ ظاہرکرتا ہے کہ سب کچھ کس کے اشارے پر ہورہا ہے ؟قانون کے نفاذ کو یقینی بنانے والا یہ محکمہ اگر جرم اور گناہ کی درجہ بندی ذات اور نسل کی بنیاد پر کرنے لگے تو پھر قانون کی حکمرانی کا تصور معدوم ہو جاتا ہے۔ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں پولیس کا یہ طرزعمل صریح طور پر آئین کے ان ضابطوں کے خلاف ہے جو قانون کی بالادستی کویقینی بنانے میں کسی طرح کے تعصب اور امتیاز کو روا نہیں رکھتا۔
 اس ملک میں جن محکموں میں بنیادی قسم کی اصلاحات درکار ہیں ان میں پولیس محکمہ سر فہرست ہے ۔یہ محکمہ آج بھی بیشتر انہی ضابطوں کے مطابق کام کررہا ہے جو انگریزوں نے ۱۸۶۱ء میں ہندوستان میں اس محکمے کے قیام کے وقت طے کئے تھے ۔آزادی کے بعد طر ز حکومت میں تبدیلی کے بعد اصولی سطح پر اگرچہ عوام کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگئی لیکن آج بھی بیشتر معاملات میں اقتدار کی مرضی کو ہی تقدم حاصل ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ارباب اقتدار پولیس کو اپنی مرضی کا تابع بنائے رکھنا چاہتے ہیں اور اس کے ذریعہ اپنے ان مفادات کے حصول کی راہ ہموار کرتے ہیں جو اُن کے سیاسی مرتبہ کو دوبالا کرسکے۔آزاد ہندوستان میں پولیس محکمہ میں اصلاحات کیلئے ۷۰ء کی دہائی کے بعد سے اب تک تقریباً ۶؍ کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ ان کمیٹیوں نے اس ملک کے سیاسی نظام کے تناظر میں پولیس اور عوام کے مابین رابطہ کی نوعیت کو مد نظر رکھتے ہوئے بعض ایسی اصلاحات کو ناگزیر قرار دیا جو اس محکمے کی شفافیت کو یقینی بناسکیں ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اب تک کسی بھی حکومت نے ان تجاویز کو سنجیدگی کے ساتھ عملی جامہ پہنانے میں دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا ۔پولیس محکمے میں اصلاحات کے متعلق ارباب اقتدار کی اس غیر سنجیدگی کا بڑا سبب یہ ہے کہ ان مجوزہ اصلاحات کے بعد اس محکمے پر ان کا وہ اثر اس قدر باقی نہیں رہ پائے گا جس کے چلتے وہ اس محکمے سے ہر وہ کام لے سکیں جو اُن کیلئے سیاسی مفاد کی راہ ہموار کرے ، بھلے ہی اس سے قانون اور آئین کی پاسداری پر حرف آئے۔مقتدر اشخاص کا یہ رویہ عوام کیلئے سخت مسائل اور مشکلات کا سبب بنتا ہے اور خاص کر ایسے حالات میں جبکہ اقتدار پوری طرح مذہب اور قوم کے تعصب میں مبتلا ہو۔
 پولیس محکمے پر سیاست کا یہ دباؤ قانو ن کے نفاذ میں بھی اڑچنیں پیدا کرتا ہے ۔ اس کا ایک اثر یہ بھی ہوتا ہے کہ پولیس اہلکار خود کو ہی قانون کا متبادل سمجھنے لگتے ہیں۔ ایسی صورت میں وہ عوام کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے اپنا رعب جمانے اور عوام کو اپنی طاقت کا احساس دلانے میں زیادہ دلچسپی لینے لگتے ہیں ۔تمل ناڈو میں گزشتہ دنوں جو معاملہ سامنے آیا وہ پولیس کے اسی رویے کو ظاہر کرتا ہے ۔ چونکہ اس محکمے کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے لہٰذا پولیس اہلکار حق و انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے بجائے اپنے سیاسی آقاؤں کی مرضی کو ترجیح دیتے ہیں ۔ اس محکمے کے متعلق یہ ایک عام تصور قائم ہوگیا ہے کہ اقتدار جس سیاسی پارٹی کے ہاتھو ں میں ہوتا ہے پولیس محکمہ بیشتر اسی کی مرضی کے مطابق کام کرتا ہے۔ اگر آزادی سے قبل کی ہندوستانی پولیس کے طرز عمل کا موجودہ دور کی پولیس سے موازنہ کیا جائے تو کچھ بہت زیادہ فرق نظر نہیں آئے گا۔  پولیس اس دور میں بھی ارباب اقتدار کی مرضی کے مطابق کام کرتی تھی اور آج بھی اس کا رویہ کم و بیش اسی نوعیت کا ہے۔آج بھی پولیس عوام سے زیادہ ارباب اقتدار سے اپنے قرب کو بنائے رکھنے میں دلچسپی لیتی ہے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے اسے سیاستدانوں اور خصوصاً برسراقتدار پارٹی سے وابستہ سیاستدانوں کی مرضی کو ترجیح دینا پڑتی ہے۔ پولیس کا یہ رویہ اس محکمے کی غیر جانب داری کو متاثر کرتا ہے اور پھر اس کی جانب سے ایسے بیانات آتے ہیں جو کسی جرم یا گناہ کا تعین مذہب کی بنیاد پر کرنے کو درست قرار دیتے ہیں۔
 پولیس کا محکمہ ریاستی حکومت کے دائرہ ٔ اختیار میں آتا ہے لیکن پولیس اور سیاست کے مابین ربط کی نوعیت کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ملک کی تمام ریاستوں میں پولیس کا رویہ کم و بیش اسی طرز کا ہے ۔ ان سب کے درمیان بعض ایسی مثالیں بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہتی ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اگر پولیس اہلکار اپنے فرض سے ایمانداری برتیں تو وہ قانون کے نفاذ میں کسی طرح کے سیاسی دباؤ میں نہیں آتے۔گجرات کی خاتون کانسٹیبل سنیتا یادو کو اس فرض شناسی کی مثال قراردیا جا سکتا ہے ۔ اگر چہ اس جرأت مند خاتون کانسٹیبل کواپنی ملازمت سے مستعفی ہونا پڑا لیکن اس نےجس عزم اور ارادے کا مظاہرہ کیاوہ نہ صرف لائق تحسین ہے بلکہ دیگر تمام پولیس والوں کیلئے ایک نمونہ بھی ہے کہ اگر وہ اپنا فرض پوری دیانت داری کے ساتھ ادا کریں تو قانون کے نفاذ میں شفافیت اور غیر جانب داری کو یقینی بنا سکتے ہیں ۔اگر ایسا ہو..... تو ہی اس محکمے کے تئیں عوام کا بھروسہ قائم ہو سکتا ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK