مہاراشٹر کی سیاسی ہلچل

Updated: June 22, 2022, 3:06 PM IST | Mumbai

مہاراشٹر میں بھارتیہ جنتا پارٹی نومبر ۲۰۱۹ء ہی سے شیو سینا کی قیادت میں جاری مہاوکاس اگھاڑی حکومت کو بے دخل کرنے کے درپے ہے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

مہاراشٹر میں بھارتیہ جنتا پارٹی نومبر ۲۰۱۹ء ہی سے شیو سینا کی قیادت میں جاری مہاوکاس اگھاڑی حکومت کو بے دخل کرنے کے درپے ہے جب دیویندر فرنویس کی قیادت میں بی جے پی نے اجیت دادا پوار کی مدد سے این سی پی کے اراکین کی حمایت حاصل کرلی تھی اور سی ایم نیز ڈپٹی سی ایم کی حلف برداری بھی مکمل ہوگئی تھی۔ یہ بڑا ڈرامائی واقعہ تھا جس سے ہمارے قارئین واقف ہیں۔ ریاست کی سیاست میں جو ہلچل اب پیدا ہوئی ہے وہ خلاف اُمید نہیں۔ یہ چھ ماہ قبل بھی ہوسکتی تھی اور تین ماہ بعد بھی۔ کوشش تو تسلسل کے ساتھ جاری تھی اور جاری ہے۔ ایکناتھ شندے شیو سینا کے سینئر لیڈر ہیں۔ اربن ڈیولپمنٹ اور پی ڈبلیو ڈی جیسی اہم وزارتوں پر فائز ہونے کے باوجود اُن کی بے اطمینانی اور ناراضگی سمجھ میں نہیں آتی۔  ٹھیک ہے، وہ شیوسینا کی قیادت میں بننے والی مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے وزیر اعلیٰ بننا چاہتے تھے۔ یہ نہ ہونے کی صورت میں اُنہیں اُمید تھی کہ نائب وزارت اعلیٰ حصے میں آئے گی مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس کے باوجود متذکرہ دو اہم وزارتوں کا ملنا نہ تو کوئی غیر اہم انعام تھا نہ ہی پہلا ۔ وہ شیو سینا کے ٹکٹ پر ۲۰۰۴، ۲۰۰۹، ۲۰۱۴ء؍ اور ۲۰۱۹ء میں اسمبلی الیکشن جیت چکے ہیں۔ یہی نہیں، پارٹی نے اُن کے بیٹے شری کانت شندے کو لوک سبھا کا ٹکٹ دیا جنہوں نے شیو سینا چھوڑ کر این سی پی میں شمولیت اختیار کرنے والے آنند پرانجپے کو کلیان پارلیمانی حلقے سے ہرایا تھا۔ موجودہ حالات میں بھی، ایکناتھ شندے کا زیادہ فائدہ اسی میں ہے کہ اُدھو حکومت  برقرار رہے کیونکہ بی جے پی کے پاس نہ تو اتنی سیٹیں ہیں نہ ہی اتنی سیٹوں کا آسانی سے انتظام کیا جاسکتا ہے کہ موجودہ سرکار کو برخاست کرکے نئی سرکار بنالی جائے۔ صورتحال مدھیہ پردیش اور کرناٹک جیسی نہیں بلکہ راجستھان جیسی ہے جہاں گہلوت نے اپنی حکومت بچانے میں کامیابی حاصل کرلی تھی لیکن مدھیہ پردیش میں کمل ناتھ اور جنوبی ریاست کرناٹک میں ایچ ڈی کماراسوامی اپنی حکومت بچانے میں ناکام رہے تھے۔  اس تناظر میں زیادہ امکان اسی بات کا ہے کہ اُدھو اپنی حکومت کے دفاع میں کامیاب رہیں گے مگر یہ محض امکان ہے جبکہ موجودہ عہد کی سیاست میں ہر امکان کے ساتھ ایک دوسرا امکان بھی چلتا ہے جس کی چلت پھرت ’’لالچ‘‘ اور ’’خوف‘‘ کے سائے میں جاری رہتی ہے چنانچہ اچھے اچھوں کو وہی سوجھنے لگتا ہے جو اُنہیں سجھایا جاتا ہے۔ اقتدار اور پیسوں کا لالچ اور ای ڈی یا سی بی آئی یا آئی ٹی کا خوف۔ ہم نہیں جانتے کہ ایکناتھ شندے جیسے شیو سینا کے وفادار پر کس طرح کا دباؤ ہے مگر اتنا ضرور محسوس ہوتا ہے کہ وہ پارٹی سے اپنی کم و بیش چالیس سالہ وابستگی کو محض ناراضگی کی وجہ سے فراموش نہیں کرینگے۔ اُن پریقیناً کوئی دباؤ ہے جس کی پرتیں کھلنے میں دیر سویر تو ہوسکتی ہے مگر پرتیں کھلیں گی ضرور۔ بہرکیف، اُدھو ٹھاکرے کو حکومت بھی بچانی ہے اور پارٹی بھی۔ یہ اُن کی انتظامی صلاحیتوں کی آزمائش کا وقت ہے جنہوں نے پہلی بار اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی اور سابقہ تجربے کے بغیر قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ کیا، بالخصوص کورونا کے دور میں، جس کی ستائش سپریم کورٹ تک نے کی۔ بی جے پی کے ارباب اقتدار جانتے ہیں کہ اُدھو سرکار کو بے دخل کرنا مشکل ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ فی الحال اس کا مقصد حکومت کو خطرات سے دوچار کرکے کمزور کرنا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK