ممبئی کے چھترپتی شیواجی مہاراج بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ٹرمینل ۲؍ پر برسوں سے بچھا مشہور سرخ قالین ہٹا دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق صفائی اور دیکھ بھال کے مسائل کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا، جبکہ سوشل میڈیا پر بیشتر مسافروں نے اس تبدیلی کا خیرمقدم کیا ہے۔
EPAPER
Updated: March 12, 2026, 7:23 PM IST | Mumbai
ممبئی کے چھترپتی شیواجی مہاراج بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ٹرمینل ۲؍ پر برسوں سے بچھا مشہور سرخ قالین ہٹا دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق صفائی اور دیکھ بھال کے مسائل کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا، جبکہ سوشل میڈیا پر بیشتر مسافروں نے اس تبدیلی کا خیرمقدم کیا ہے۔
ممبئی کے چھترپتی شیواجی مہاراج بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ٹرمینل ۲؍ پر طویل عرصے سے موجود سرخ قالین کو حال ہی میں ہٹا دیا گیا ہے، جو کئی برسوں تک اس ایئرپورٹ کی پہچان بن چکا تھا۔ یہ قالین آمد کے حصے میں ایک خاص انداز پیدا کرتا تھا اور بہت سے مسافروں کے لیے شہر میں داخلے کا ایک منفرد تجربہ بن گیا تھا۔ یہ سرخ قالین ٹرمینل کے بڑے حصے میں بچھا ہوا تھا اور اس کی گہری سرخ رنگت نے ایئرپورٹ کے اندرونی ڈیزائن کو ایک منفرد اور پرکشش انداز دیا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ قالین مسافروں کے لیے ایک مانوس منظر بن گیا تھا، جسے اکثر لوگ ممبئی ایئرپورٹ کی علامت سمجھتے تھے۔
تاہم، حالیہ دنوں میں اسے ہٹا دیا گیا ہے۔ ایئرپورٹ انتظامیہ کے مطابق اس قالین کی دیکھ بھال ایک بڑا چیلنج بن چکی تھی کیونکہ روزانہ ہزاروں مسافر اس پر چلتے تھے، جس کے باعث اسے صاف رکھنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ سوشل میڈیا پر شیئر کئے گئے ایک مختصر ویڈیو میں دکھایا گیا کہ قالین ہٹانے کے بعد مسافر ہموار فرش پر اپنے سامان کے ساتھ آسانی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ویڈیو کے ساتھ لکھا گیا کہ ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل ۲؍ پر موجود مشہور سرخ قالین کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔
آن لائن صارفین نے اس تبدیلی پر مختلف ردعمل کا اظہار کیا، تاہم زیادہ تر لوگوں نے اسے مثبت قدم قرار دیا۔ ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا،’’خدا کا شکر ہے، آخرکار یہ ہٹا دیا گیا۔ قالین کی وجہ سے وہاں بہت گرمی محسوس ہوتی تھی۔‘‘ ایک اور صارف نے کہا،
’’قالین پر بہت زیادہ دھول اور بیکٹیریا جمع ہو جاتے تھے اور مسافروں کے لیے سامان کھینچنا بھی مشکل ہوتا تھا۔‘‘
کچھ لوگوں نے کہا کہ قالین کے بغیر فرش زیادہ صاف اور عملی لگتا ہے، جبکہ ایک صارف نے لکھا کہ ہوائی اڈوں پر ہموار فرش زیادہ بہتر ہوتے ہیں کیونکہ قالین پر سوٹ کیس گھسیٹنا مشکل ہوتا ہے۔ تاہم کچھ مسافروں نے کہا کہ قالین ایئرپورٹ کو ایک شاہانہ انداز دیتا تھا اور اس کی موجودگی ایک خاص تجربہ پیدا کرتی تھی۔ کچھ افراد نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ قالین کو مکمل طور پر نہیں ہٹایا گیا بلکہ صرف ایک چھوٹے حصے میں تبدیلی کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ اس وقت بھی زیر بحث آیا تھا جب مشہور شیف وکاس کھنہ نے اس قالین کے حوالے سے صفائی کے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگرچہ وہ ممبئی ایئرپورٹ کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہیں، مگر اتنی زیادہ آمدورفت والے مقام پر قالین رکھنا غیر ضروری ہے۔ انہوں نے اپنےپوسٹ میں کہا تھا کہ ’’اگرچہ میں ممبئی ایئرپورٹ کی کارکردگی کا احترام کرتا ہوں، لیکن یہاں قالین رکھنا غیر ضروری اور ناقابل قبول ہے۔ اب یہ صفائی کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔‘‘ وکاس کھنہ نے اس بات کی بھی نشاندہی کی تھی کہ ایسے مقامات پر قالین دھول اور ذرات کو جمع کر سکتے ہیں، جو دمہ یا سانس کی بیماریوں میں مبتلا مسافروں کے لیے مسئلہ بن سکتے ہیں۔ ایئرپورٹ انتظامیہ کی جانب سے اس تبدیلی کو زیادہ عملی اور آسان دیکھ بھال کے نقطہ نظر سے دیکھا جا رہا ہے، جبکہ مسافروں کے لیے بھی سامان کے ساتھ چلنا اب نسبتاً آسان ہو گیا ہے۔