ممبئی انٹر نیشنل ایئر پورٹ سے خلیجی ممالک جانے اوروہاں سے آنے والی اب تک ڈیڑھ ہزار سے زائد فلائٹس منسوخ کی جاچکی ہیں ۔ ۸؍ خصوصی فلائٹس سے خلیجی ممالک میں پھنسے مسافروں کو لایا گیا۔ دبئی اور دیگر خلیجی ممالک میں پھنسے ہندوستانی شہریوں نے سفارتخانہ کے ہیلپ لائن نمبروں کے کام نہ کرنے اور ممبئی کی کئی فلائٹ کے منسوخ ہونے کی شکایت کی ۔
خلیجی ممالک سے آنے والے مسافروں کو ممبئی کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پردیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: پی ٹی آئی
ایران- اسرائیل- امریکہ جنگ کے سبب ایک طرف خلیجی ممالک میں ملازمت ، کاروباریا تفریح کی غرض سے جانے والوں کے لئے ان کے اہل خانہ فکر مند ہیں تو دوسری طرف دبئی ،سعودی ، یو اے ای ،بحرین ، قطر اور دوحہ میں پھنسے ہندوستانی مسافروں کو فلائٹس کی مسلسل منسوخی ، کھانے پینے اور رہنے کیلئے کوئی سہولت فراہم نہ کئے جانے کی سبب انتہائی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ جنگ کے سبب گزشتہ تین دنوں میں ممبئی کے چھتر پتی شیواجی مہاراج انٹر نیشنل ایئر پورٹ سے خلیجی ممالک کے لئے روانہ ہونے والی ڈیڑھ ہزار سے زائد فلائٹس منسوخ کی جاچکی ہیں ۔ تاہم اب تک ممبئی سے جانے اور خلیجی ممالک کے مختلف ایئرپورٹس سے آنے والی تقریباً ۶؍ ہزار سے زائد فلائٹس کو منسوخ کیا جاچکا ہے۔
منگل کو ممبئی انٹر نیشنل ایئر پورٹ سے جہاں ۱۰۷؍ فلائٹس منسوخ کی گئی تھیں وہیں نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی کوششوں کی وجہ سے ممبئی اور ریاست کے دیگراضلاع کے ۱۸۴ مسافروں کودبئی سے خصوصی طیارہ کے ذریعہ ممبئی لایا گیا تھا جن میں ۲۳؍ مسافر کولہاپور اور ۱۶۴؍ مسافر ممبئی ، پونے ، تھانے اور مرباڑ کے تھے ۔قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ اس خصوصی فلائٹ کے ذریعہ پونے اندرا اسکول آف بزنس اسٹڈیز کے ۸۴؍ طلبہ بھی لوٹے ہیں۔ بدھ کو دیر رات سے صبح تک جدہ ، یو اے ای اور ابو ظہبی سے اسپائس جیٹ ، انڈیگو اور ایئر انڈیا کے اشتراک سے ممبئی میں ۴؍ خصوصی فلائٹس کے ذریعہ ممبئی اور مہاراشٹر کے الگ الگ علاقوں کے مسافرممبئی کے انٹر نیشنل ایئرپورٹ پہنچےہیں ۔ اس کے علاوہ بدھ کو ہی چار خصوصی فلائٹس دہلی اور چنئی ایئر پورٹ پر اتری ۔
جنگ کے سبب مسافروں کے تحفظ کے پیش نظرایک طرف ہندوستان اور خلیجی مملک کے مختلف ایئر پورٹس سے فلائٹ کو یکے بعد دیگرے منسوخ کیا جارہا ہےتو دوسری طرف اب بھی دوحہ ، بحرین ، قطر ،عمان ،دبئی ، سعودی اور یو اے ای میں ہزاروں ہندوستانی ایئر پورٹ پر پھنسے ہوئے ہیں ۔ یہی نہیں فلائٹس کی منسوخی کے علاوہ کھانے پینے اور رہنے کی سہولتیں مہیا نہ کرائے جانے سے بھی وہ پریشان ہیں ۔دبئی میں گزشتہ ۳؍ دن سے ایئر پورٹ پرپھنسے کئی ہندوستانی مسافروں نے سوشل میڈیا پر ہیلپ لائن نمبر کےکام نہ کرنے ، سفارت خانہ سے کسی بھی قسم کی کوئی مدد نہ کرنے اور نہ ہی دبئی ایئر پورٹ انتظامیہ کی جانب سے کھانے پینے اور رہنے کا کوئی نظم نہ کرنے کی شکایت کی ہے ۔ یہی نہیں ۴۰؍ اور ۸۰؍ ہزار سے لے کر ایک لاکھ روپے تک واپسی کا ٹکٹ بک کرانے اور طیارہ منسوخ ہونے پر پیسے واپس کرنے کے لئے بھی دو تین دن کے بعد پیسے ملنے کی امید دلائی جارہی ہے ۔
دبئی ایئر پورٹ پرگزشتہ تین دن سے پھنسے ہندوستانی مسافر جیش ٹھکر نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اتنے مہنگے ٹکٹ لینے سے ہمارے پیسے بھی پھنس چکے ہیں اور ہم چاہ کر بھی اپنی رہائش اور کھانے پینے کا نظم نہیں کرپارہے ہیں ۔ایک طرف ہم پریشان ہیں تو دوسری طرف مسافروں کے اہل خانہ بھی پریشان ہیں اور ویڈیو کال پر ایک دوسرے سے بات کرکے رونے لگتے ہیں ۔ میرے گھر والے بھی سخت پریشان ہیں۔ خصوصی طو رپر میرے والد جو دل کے مریض ہیں ۔ ‘‘ جیش اور اس کے ساتھ کئی اور مسافروں نے سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہماری اپیل حکومت تک پہنچائیں اور ہماری مدد کریں ۔