کورونا کے بعد کی دنیا اور اعلیٰ تعلیم کے مسائل

Updated: May 10, 2020, 1:25 PM IST | Dr Mushtaque Ahmed

حکومت کی طرف سے اب نئے طریقہ تعلیم پر زور دیا جا رہاہے، یعنی کلاس روم درس وتدریس کی جگہ آن لائن تعلیم کا انتظام کرنا اور پھر امتحان کیلئے بھی جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا ضروری قرار دیا جا رہاہے، ایسے میں سب سے پہلے یونیورسیٹوں اور کالجوں میں جدید ترین کمپیوٹر اوردیگر آلات کی فراہمی کے ساتھ آن لائن سسٹم کے بنیادی ڈھانچوں کو مستحکم کرنا ضروری ہوگا

E Learning - Pic : INN
ای لرننگ ۔ تصویر : آئی این این

کورونا کے جغرافیائی حدود پھیلتے ہی جا رہے ہیں اور اس مہلک وبا کے شکار ہونے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جا رہاہے۔اب تک اس کی کوئی معقول دوا تجویز نہیں ہوئی ہے۔ اس لا علاج مرض نے پوری انسانی زندگی کو درہم برہم کردیا ہے۔لیکن اب انسانی معاشرہ اس وبا کے مضراثرات کے باوجود اپنی سابقہ زندگی کی بحالی کیلئے فکر مند نظر آرہا ہے۔بعض ملکوں میں توحسبِ معمول زندگی بحال بھی ہوگئی ہے کیوں کہ تمام تر سائنسی اور طبی تحقیقات کے بعد یہ نتیجہ سامنے آیا ہے کہ کورونا کا وائرس کسی بھی ملک یا خطے سے پوری طرح ختم نہیں ہو سکتا۔ اسلئے اس کے مضر اثرات سے تحفظ کا ایک واحد راستہ احتیاط ہے اور اس کو ہی اب روز مرہ کی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔
  ماسک کو لازمی لباس کی حیثیت دینا ہوگا اور بھیڑ بھاڑ کی زندگی سے پرہیز کو بھی عادت بنانی ہوگی۔ مغربی ممالک جہاں کورونا نے سب سے زیادہ قہر ڈھایا ہے، وہاں اسی طرز پر زندگی پھر سے رواں دواں ہونے لگی ہے۔ ظاہر ہے کہ عالمی سطح پر معاشیات کا ڈھانچہ متزلزل ہوکر رہ گیا ہے اور ترقی پذیر ممالک کی تو بات ہی چھوڑئیے ترقی یافتہ ملکوں کی بھی اقتصادی حالت بد تر ہونے لگی ہے۔ کورونا سے بچنے کیلئے لاک ڈائون کی ترکیب اپنائی گئی تھی لیکن اس لاک ڈائون نے چھوٹے بڑے تمام صنعت، کل کارخانے پرتالے لگا دیئے کہ انسانی نقل وحمل معطل ہو کر رہ گئی تھی۔اب جبکہ کہیںکہیں کورونا کا زور کم ہوا ہے تو بازاروں میں رونق لوٹی ہے لیکن اب بھی خوف وہراس کا ماحول ہے اورحکومت بھی ڈر ڈر کر قدم اٹھا رہی ہے کہ امریکہ ، اٹلی ، اسپین،فرانس اور جرمنی جیسے ترقی یافتہ ملکو ں میں ذرا سی کوتاہی کی وجہ سے کورونا نے کہرام مچا یا تھااور لاکھوںجانیں تلف ہوگئیںاور اب ان ممالک میں بیروزگاری کا گراف بڑھنے لگا ہے۔
  ایشیائی ممالک میں بھی کورونا کی وبا نے تمام شعبۂ حیات کو مفلوج کردیا ہے۔ بالخصوص ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملک کی اقتصادی حالت بھی خستہ ہوگئی ہے۔کروڑوں مزدوروں کی زندگی دشوار کن ہوگئی ہے کہ ان کی زندگی یومیہ مزدوری ہی پرمنحصر تھی۔ ہمارے ملک میں کورونا نے جتنا ستم نہیں ڈھایا ہے، اس سے زیادہ اب معاشی بد حالی کی وجہ سے پریشانیاں بڑھیں گی۔ تمام بڑے شہروں سے مزدوروں کی واپسی ہونے لگی ہے اوروہ اپنے اپنے گھروں کو چل چکے ہیں ۔ایک طرف جہاں سے یہ مزدور ہجرت کر رہے ہیں، وہاں بھی پریشانی ہوگی کہ اب چھوٹے بڑے صنعتی کل کارخانوں کومزدوروںکا ملنا دشوار ہوگا تو دوسری طرف جہاں آرہے ہیں وہاں بھی انہیں کام چاہئے کہ انہیں زندہ رہنے کیلئے یومیہ مزدوری لازمی ہے۔
 بہر کیف!اس کورونا نے عالمی سطح پر معاشی، سماجی، مذہبی، سیاسی اور تعلیمی مسائل پیدا کردیئے ہیں اورچوںکہ یہ حقیقت بھی عیاں ہے کہ کورونا کا جڑ سے صفایا ہونا فی الوقت ممکن نہیں، اسلئے اب کورونا کے ساتھ ہی زندگی گزارنے کی عادت ڈالنی ہوگی اور احتیاط کے ساتھ حوصلہ بھی رکھنا ہوگا لہٰذا دیگر شعبے کی طرح تعلیمی شعبے میںبھی کورونا کے بعدایک بڑا انقلاب آنے والا ہے۔ بالخصو ص اعلیٰ تعلیمی اداروں میں روایتی تعلیم کے جو طریقہ کار ہیں اس سے پرہیز کرتے ہوئے ایک نیا طریقہ کار اپنانے کاخاکہ شروع بھی ہوگیا ہے ۔ غرض کہ کلاس روم تعلیم اور امتحان کی جگہ آن لائن تعلیم وامتحان اور دیگر سرگرمیوں کو جاری رکھنے کیلئے بھی ذرائع ابلاغ کا سہارا لینا ہی مفید ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ جب تک کورونا کے وائرس کے خاتمے کا اعلان نہیں ہوتا اور جو مستقبل قریب میں ممکن نہیں، اس وقت تک نئے تعلیمی طریقہ کار کو ہی اپنانا ہوگا ۔اسلئے یو نیورسٹی گرانٹس کمیشن جو ملک میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کیلئے اصول وضوابط طے کرتی ہے، اس نے ملک کی تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں کو ہدایت نامہ جاری کرنا شروع کردیا ہے کہ اب وہ کلاس روم تعلیم کی جگہ نئے طریقہ کار یعنی آن لائن ،سوشل میڈیا،  یوٹیوب ،فیس بک ، ویب سائٹ ، انسٹا گرام اور وہاٹس ایپ کے ذریعہ تعلیم اور امتحان دونوں کا اہتمام کریں۔
  واضح ہو کہ ہمارے ملک میں تقریباً ایک ہزار یونیورسٹیاں ہیں اور ۵۵؍ ہزار کالجز ہیں جہاں گزشتہ دو ماہ سے سنّاٹا چھایا ہواہے لیکن یو جی سی کی ہدایت اور مختلف ریاستی حکومتوں کی طرف سے بھی اعلانیہ جاری کیا گیا ہے کہ طلباء وطالبات کے تعلیمی کیلنڈر کو پورا کرنے کیلئے آن لائن طریقہ کار کواپنایا جانا چاہئے اورکہیںکہیں شروع بھی ہوگیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مغربی ممالک میںبہت سی ایسی یونیورسٹیاں ہیںجہا ں پہلے ہی سے یہ تعلیمی طریقہ کار اپنایا جا رہا ہے  لیکن ہندوستان کی کسی بھی یونیورسٹی کے پاس آن لائن تعلیم فراہم کرنے یا پھر امتحانات لینے کابنیادی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔ اسلئے قومی سطح پربھی جب کوئی مقابلہ جاتی امتحانات ہوتے ہیں تو نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی بہت سی نجی کمپنیوںکے سہارے آن لائن امتحان کا اہتمام کرتی ہے۔ یہاں اس حقیقت کابھی اعتراف ضروری ہے کہ ہمارے ملک میں ایک بھی ایسی یونیورسٹی نہیں ہے جو اپنی تعلیمی فیس کی آمدنی پرمنحصر ہو جیسا کہ یورپ میں ہوتا ہے کہ یونیورسٹی نہ صرف خود مختار ہوتی ہے بلکہ وہ اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ اپنی ریاست یا ملک کی ترقی کیلئے بھی خرچ کرتی ہے لیکن ہمارے ملک میں تمام سرکاری یونیورسٹیوں کی ترقی کا انحصار سرکاری فنڈ فراہمی پر ہے۔مثلاً امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی اور پرنسٹن یونیورسٹی نہ صرف امریکہ کی اقتصادیات میں معاون رہتی ہیںبلکہ ہزاروں افراد کوروزگار بھی فراہم کرتی  ہیں اور یہ یونیوسیٹیاںصرف اورصرف اپنی آمدنی پر تعلیمی سرگرمیوںکے ساتھ ساتھ دیگر سرگرمیوںکوجاری رکھتی ہیں۔
  اسی طرح انگلینڈ کی کئی یونیورسٹیاں ملک کی جی ڈی پی کو بڑھانے میں اہم کردا ر ادا کرتی ہے لیکن ہندوستان میں اس کا تصور بھی محال ہےلیکن اب جبکہ حکومت کی طرف سے نئے طریقہ تعلیم پر زور دیا جا رہاہے اور کلاس روم درس وتدریس کی جگہ آن لائن تعلیم کا انتظام کرنا اور پھر امتحان کیلئے بھی جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا ضروری قرار دیا جا رہاہے تو ایسے وقت میں سب سے پہلے یونیورسیٹوں  اور کالجوں میں جدید ترین کمپیوٹر اوردیگر آلات کی فراہمی کے ساتھ آن لائن سسٹم کے بنیادی ڈھانچوں کو مستحکم کرنا ہوگا۔یہاں اس حقیقت کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ ملک کی سرکاری یونیورسٹیوں اورکالجوں میں اسّی فی صد طلبہ دیہی علاقے کے متوسط اور کمزور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان سبھوں کے پاس جدید ترین اسمارٹ فون سیٹ نہیں ہیں کہ وہ آن لائن یا دیگر سوشل میڈیا کے طریقہ کار کو اپنا سکیں۔ ایک بڑی دشواری یہ بھی ہے کہ دیہی علاقے کے طلبہ جوگائوں دیہات میں رہتے ہیں وہاں انٹرنیٹ کی سہولت اگر ہے بھی تو وہ بہت کمزور ہے۔ بالخصوص دیہی علاقے کی لڑکیوں کو آن لائن تعلیم یا پھر آن لائن امتحان میںبڑی مشکل ہو سکتی ہے کیونکہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ دیہی علاقے کے۹۰؍ فیصد طلبہ کے پاس جدید ترین اسمارٹ موبائل موجود نہیں ہیں ۔ اسلئے اگر اس کورونا کے بعد کی دنیا بدل رہی ہے اور تعلیمی شعبے میں بھی تبدیلی ضروری ہے تو اس سے پہلے بنیادی ڈھانچوں کو مستحکم کرنا ہوگا اور دیہی علاقے کے طلباء اور طالبات کو کم شرح پر اسمارٹ فون یا پھر ٹیب کی سہولت فراہم کرنی ہوگی او ر اس کیلئے حکومت کو ایک بڑے فلاحی بجٹ کا اہتمام کرنا ہوگا ساتھ ہی ساتھ بینکوں کے ذریعہ بھی کم سود پر تعلیمی قرض کو عام کرنا ہوگا کہ نجی اداروں میں پڑھنے والے طلبہ کو ایک بڑی فیس کی ادائیگی کرنی ہوتی ہے اور اس کورونا کے بعد متوسط طبقے کی معاشی زندگی بھی دشوار کن ہوگئی ہے ۔ ایسی صورت میں کمزور سرپرستوں کیلئے اپنے بچوں کو جدید ترین آلات کے ذریعہ تعلیم دلوانا یا جاری رکھنا ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔ اسلئے حکومت کو ان مسائل پر بھی غوروخوض کرنے کی ضرورت ہوگی کہ اب تک ہمارے ملک میں اب تک جو تعلیمی ڈھانچہ ہے وہ کلاس روم پر مبنی ہے۔
  اب جبکہ اس کورونا نے اجتماعی زندگی کو ہمارے معاشرے کیلئے جان لیوابنا دیا ہے تو یہ فطری بات ہے کہ اب کلاس روم کی تعلیم متاثر ہوگی اور تعلیمی شعبے میں آگے بڑھنے کیلئے یہ ضروری ہوگا کہ ہم جدید ترین طریقہ کار کو اپنائیں لیکن اس کیلئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم ایک ایسی تعلیمی پالیسی طے کریں جس سے نہ صرف بڑے شہروں کے تعلیمی ادارے کے طلبہ مستفید ہو سکیں بلکہ دیہی علاقے کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ بھی اپنی پڑھائی جاری رکھ سکیں اور جدید طریقہ تعلیم سے مستفیض ہو سکیں کیونکہ ملک کی۷۰؍فیصد آبادی آج بھی گائوں میں رہتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ حالیہ دنوں میں متوسط اور کمزور طبقے کے اندر بھی تعلیم کی طرف رجحان بڑھا ہے لیکن اس کورونا کی معاشی مار سے یہ طبقہ شاید سال دو سال تک راحت نہیں پا سکتا۔ ایسی صورت میں بس ایک ہی راستہ ہے کہ سرکاری سطح پر کمزور طبقے کے طلبہ کیلئے کوئی خصوصی فلاحی اسکیم چلائی جائے جس سے اس کا مستقبل متاثر نہ ہو سکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK