متوسط طبقہ ڈھکوسلہ ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ آدمی یا تو غریب ہوتا ہے یا امیر ہوتا ہے۔ متوسط طبقے کے افراد تھوڑے غریب اور تھوڑے امیر ہوتے ہیں۔ کبھی وہ کچھ فیصد امیر ہوجاتے ہیں اور کبھی پہلے سے زیادہ غریب۔ جو بھی ہو، پیسہ پہچان نہیں بننا چاہئے۔
EPAPER
Updated: January 30, 2026, 10:46 PM IST | Mumbai
متوسط طبقہ ڈھکوسلہ ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ آدمی یا تو غریب ہوتا ہے یا امیر ہوتا ہے۔ متوسط طبقے کے افراد تھوڑے غریب اور تھوڑے امیر ہوتے ہیں۔ کبھی وہ کچھ فیصد امیر ہوجاتے ہیں اور کبھی پہلے سے زیادہ غریب۔ جو بھی ہو، پیسہ پہچان نہیں بننا چاہئے۔
غربت کیا ہوتی ہے اس کاتجربہ یا احساس سب کو ہو یا نہ ہو، اس کا مفہوم سب جانتے ہیں۔ لغت میں غربت کے دو معنی درج ہیں۔ پہلا: مفلسی، ناداری۔ دوسرا: مسافرت، بے وطنی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غریب وہ بھی ہے جو تنگ دست ہے، مشکل سے گزر بسر کرتا ہے، خواہشوں کو مارتا ہے، بھوک سہتا ہے اور چھپر میں سر چھپاتا ہے۔ مگر وہ تنہا غریب نہیں ہے۔ غریب اُسے بھی کہتے ہیں جو وطن سے دور ہے۔ اسی مناسبت سے اُردو میں غریب الدیار اور غریب الوطن (دونوں ہم معنی) جیسے الفاظ استعمال ہوتے رہے ہیں جن کا معنی لغت میں اس طرح درج ہے: مسافر، پردیسی، بے وطن، بے گھر۔
اس مضمون میں پہلے غریب پر بات ہونی ہے جس کا معنی ہے مفلس، نادار۔ اِس غریب کو کچھ میسر ہو یا نہ ہو، یہ اعزاز ضرور حاصل ہے کہ دُنیا میں سب سے زیادہ اُسی پر گفتگو ہوتی ہے خواہ اُس کے ہمدرد اور بہی خواہ کریں یا اُسے غربت کے دلدل میں دھکیلنے والے کریں۔ باتیں یہ ہوتی ہیں کہ اُسے کس طرح اوپر اُٹھائیں، غربت سے کیسے نجات دلائیں، کس طرح اُس کا حال اور مستقبل سنواریں، کس ملک میں اُس پرکیا گزر رہی ہے، کس ملک میں اُس پر غربت کا سایہ پہلے کتنا تھا اور اب کتنا ہے، اُس کی غربت بڑھ گئی ہے یا کم ہوئی ہے، بڑھی تو کتنی بڑھی ہے اور کم ہوئی تو کتنی کم ہوئی ہے یا اُس کی غربت دوسرے ملکوں کے غریبوں سے کتنی زیادہ ہے یا کم ہے۔ معاشی و مالیاتی اخبارات و رسائل صفحہ ٔ اول پر غریب کی تصویریں شائع کرتے ہیں اور اندرونی صفحات پر ترسیم کے ذریعہ اُس کی غربت کے خدو خال اُجاگر کرتے ہیں۔ یہ موقع امیر کو نہیں ملتا۔
امیر کا ذکر کم ہوتا ہے۔ امارت بڑھی تو کتنی بڑھی اور کم ہوئی تو کتنی کم ہوئی یا جو بہت زیادہ امیر ہوگئے اور ارب پتی کہلائے اُن کی تعداد کتنی ہے، عام طور پر ایسی ہی خبریں چھپتی ہیں۔ یہ خبریں موضوع بحث بھی بنتی ہیں مگر موضوع بنانے کے نقطۂ نظر سے امارت میں اتنی کشش نہیں ہے جتنی غربت میں ہے۔ امارت پر دُنیا بھر میں اتنی کتابیں نہیں لکھی گئیں جتنی غربت پر لکھی گئی ہیں۔ فلموں کا بھی یہی حال ہے۔ تعداد سے قطع نظر جو کتابیں لکھی جاتی ہیں یا جو فلمیں بنتی ہیں اُن میں سے اکثر کا مرکزی کردار غریب ہی ہوتا ہے۔ کتاب اور فلم کے ذریعہ اس کے تعلق سے ہمدردی پیدا کی جاتی ہے، اُس کے مسائل و مصائب پر آنسو بہانے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس امیر کو،عموماً، ناپسندیدہ کردار میں پیش کیا جاتا ہے جو غریب کا استحصال کرتا ہے۔ غریب کا بچہ پڑھ لکھ کر کچھ بن جائے تو عظیم الشان کامیابی قرار دیا جاتا ہے، امیر کی اولاد پڑھ لکھ کر کوئی منصب حاصل کرلے تو اسے کامیابی نہیں مانا جاتا۔بہ الفاظ دیگر امیر موضوع بحث نہیں بنتا، غریب بنتا ہے۔ موضوع بحث بننے ہی کے اعتبار سے امیر غریب ہے اور غریب امیر۔ اتفاق سے یہ بات نہ تو غریب جانتا ہے کہ اُس پر کتنی باتیں ہوتی ہیں نہ امیر محسوس کرتا ہے کہ اُس پر کتنی کم باتیں ہوتی ہیں۔ اس پہلو کو بھی پیش نگاہ رکھئے کہ غریب، غربت کے کسی ایک درجہ میں نہیں رہتا۔ یا تو وہ (۱) صرف غریب ہے یا (۲) زیادہ غریب ہے یا (۳) بہت زیادہ غریب ہے۔ اس سے زیادہ اقسام بھی ہوسکتی ہیں مگر یہ تین قسمیں تو یقیناً ہیں۔ اس کا معنی یہ ہے کہ جو صرف غریب ہے اور زیادہ غریب یا بہت زیادہ غریب نہیں ہے، وہ زیادہ غریب یا بہت زیادہ غریب کے مقابلے میں تھوڑا امیر ہے۔ جس غریب کو تھوڑاامیر ہونے کا سکھ اور شرف حاصل ہے وہ بھی اپنی اس ’’امارت‘‘ کو محسوس نہیں کرتا۔
امیر کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی قصہ ہے۔ وہ یا تو (۱) امیر ہے یا (۲) بہت امیر ہے یا (۳) بہت زیادہ امیر ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ جو امیر ہے وہ زیادہ امیر اور بہت زیادہ امیر سے تھوڑا غریب ہے۔ اس سے آپ یہ نتیجہ بھی اخذ کرسکتے ہیں کہ ہر غریب میں وہ شخص رہتا ہے جو تھوڑا امیر ہے اور ہر امیر میں وہ شخص رہتا ہے جو تھوڑا غریب ہے البتہ ان دونوں میں ایک قدر مشترک ہے۔ وہ یہ کہ ہر ایک جتنا کماتا ہے اُس سے زیادہ کمانا چاہتا ہے۔ غریب کم غریب ہونا یعنی تھوڑا امیر بننے کی آرزو کرتا ہے، امیر زیادہ امیر بننے کا خواب دیکھتا ہے اور جو زیادہ امیر ہے وہ بہت زیادہ امیر بننے کا خواہشمند رہتا ہے۔اس طرح ہر زمرہ کا شخص اپنے لئے پریشانی کا سامان کرتا ہے۔ غریب تھوڑا امیر بننے کیلئے اور امیر زیادہ امیر بننے کیلئے۔ اس صورت حال پر غور کیجئے تو آپ محسوس کریں گے کہ کوئی بھی آسودہ نہیں ہے۔ تو پھر آسودہ کون ہے؟
میرے خیال میں آسودہ وہ ہے جو قناعت پسند ہے۔ قناعت بہت بڑی خوبی ہے مگر اس خوبی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ قناعت غریب میں بھی ہوتی ہے اور امیر میں بھی۔ اسی لئے قناعت پسند غریب بھی مطمئن رہتا ہے اور قناعت پسند امیر بھی۔ قناعت اُنہیں بے وجہ دوڑنے اور ہمہ وقت غارت و غلطاں رہنے سے روکتی ہے۔ اسی لئے انسان کو اپنے حالات بہتر بنانے کی جدوجہد تو کرنی چاہئے مگر اُسی کو ہدف بنا کر زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو قربان کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔ قناعت عمدہ جھولا ہے جس کی پینگ چاہے اِس طرف یعنیغربت کی طرف لے جائے یا اُس طرف یعنی امارت کی طرف، جھولنے والے کو لطف اُتنا ہی آتا ہے۔ اسی لئے قناعت پسندی ہے تو غریب بھی خوش رہتا ہے اور قناعت پسندی ہے تو امیر بھی سکون اور اطمینان کی زندگی گزارتا ہے۔
اِنسان مال سے غریب یا امیر بنتا ہے مگر قناعت سے آسودہ۔ اِس بھری پُری دُنیا میں یہ راز کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ آسودگی یا سکونِ قلب نصیب ہوجائے تو غربت آزمائش نہیں بنتی اور امارت راس آتی ہے۔ یہ دولت نصیب نہ ہو تو دونوں رُلاتے ہیں۔
غربت اور امارت کا ساتھ اندھیرے اُجالے کا ساتھ ہے۔ غربت کی پہچان امارت کے بغیر اور امارت کی پہچان غربت کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ رہتے آئے ہیں، آئندہ بھی رہیں گے اس فرق کے ساتھ کہ کبھی غربت کم ہوگی اور کبھی امارت۔ اسی لئے قناعت کی اہمیت کل بھی تھی اور کل بھی رہے گی جو سنبھل کر چلنا اور مطمئن رہنا سکھاتی ہے۔ جب یہ نہیں ہوتی تب غربت میں دم گھٹتا ہے اور امارت میں قدم ڈگمگاتا ہے ۔ n