Inquilab Logo Happiest Places to Work

سجدوں کے ذریعے رب کو راضی کیجئے

Updated: December 27, 2019, 3:07 PM IST | Dr. Abdul Bari Bin Awaaz Sibati

وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ پرہر اس وقت عمل کریں جب ہم پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں، مشکلات میں گھر جائیں یا بھنور میں پھنس جائیں؛ کیونکہ سجدہ ہر پریشانی کا علاج ہے۔

اللہ کو راضی کرنے کیلئے سجدہ کیجئے۔
اللہ کو راضی کرنے کیلئے سجدہ کیجئے۔

قرآن کریم کی سب سے پہلے نازل ہونے والی سورہ کے آخر میں اللہ تعالیٰ کے دو بول ہیں، ان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’سجدہ کرو اور (اپنے رب کا) قرب حاصل کرو۔‘‘ (العلق:۱۹)
اور دوسری طرف رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ’’سجدے کی حالت میں بندہ اپنے رب کے قریب ترین (حالت میں) ہوتا ہے، اس لئے (سجدے میں) کثرت سے دعائیں کیا کرو۔‘‘(مسلم)
سجدہ بندے کی اعلیٰ اور افضل ترین کیفیت ہے، سجدے میں عزیز و کریم پروردگار کے سامنے انکساری کا لطف ملتا ہے، سجدہ رحمٰن و رحیم کی خوبصورت غلامی ہے، اور سجدے میں خیر و برکت کے بے پناہ لمحات ہیں۔
سجدے میں ناقابل بیان لذت ہے، اس دوران حاصل ہونے والی شرح صدر کو قلم بند نہیں کیا جاسکتا، مسلمان دوران سجدہ زمین کے چھوٹے سے ٹکڑے پر آسمان کی بلندیوں اور وسعتوں میں پہنچ جاتا ہے، اسی لئے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے صحیح بخاری میں نبی ﷺ کا قیام بیان کرتے ہوئے کہا: ’’آپﷺ اس دوران اتنا لمبا سجدہ کرتے کہ تم آپ ﷺ کے سر اٹھانے سے قبل پچاس آیتیں پڑھ جاؤ۔‘‘( بخاری)
سجدے کرنے والے کا چہرہ نور ایمان سے منور ہو جاتا ہے، اس کا دل کامل اطمینان کا حامل ہوتا ہے، نیز سجدہ دل میں سکینت ڈال دیتا ہے اور جلال و وقار کا لبادہ پہنا دیتا ہے۔ (سجدہ ریز صحابہ کرام کے بارے میں) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’سجدوں کے علامتی اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں۔‘‘ (الفتح:۲۹)
اللہ تعالیٰ سجدے کے دوران دعا کرنے والوں کے قریب ہوتا ہے، وہ راز و نیاز کی باتیں کرنے والوں کی دعائیں قبول کرتا ہے اور اللہ سے امید لگانے والوں کی سنتا ہے، تو جو بھی اللہ کے قریب ہو تو وہ اللہ کے ہاں وافر نوازشیں اور بلند مقام پاتا ہے؛ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:’’اگر وہ مقربین میں سے ہے تو اس کے لئے راحت، عمدہ رزق اور نعمتوں والی جنت ہوگی۔‘‘ (الواقعہ: ۸۸۔۸۹)
وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ کا مطلب ہے کہ آپ کو ہر سجدے میں بلندی ، رفعت، قربت اور منزلت ملے گی؛ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ’’جو بھی بندہ اللہ کے لئے کوئی ایک سجدہ بھی کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک نیکی لکھ دیتا ہے، اور ایک برائی مٹا دیتا ہے، نیز ایک درجہ اس کا بلند کر دیتا ہے۔‘‘( اس لئے کثرت سے سجدے کیا کرو)( ابن ماجہ )
وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ پر عمل اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی عطائیں نہ ختم ہونے والی ہیں؛ اسی لئے قربِ الٰہی حاصل کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انبیائے کرام، صدیقین، شہداء اور صالحین کے مرتبے عطا کر دیتا ہے۔ اس پر عمل اس لئے کہ سجدے میں ایمان اور صدق دل کی علامات بھی واضح ہو جاتی ہیں، ایسے ہی یقین اور کامل اطاعت گزاری بھی عیاں ہوتی ہے۔ سجدہ ایسی عبادت ہے جس پر ساری کائنات کا اتفاق ہے۔
وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ اس لئے کہ اگر آپ اپنے رب اور خالق سے مانگتے ہوئے سجدہ ریز ہو جائیں اور اپنے مولا کے سامنے گڑگڑائیں تو آپ دنیاوی جنت میں ہیں! جب تمہارے کان آیات قرآن سے مزین ہوں، قرآنی آیات تمہارے دلوں کو موہ لیں تو خاشعین (ڈرنے والوں) کی طرح سجدے میں گر جاؤ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 
’’اور اس قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ تم ٹھہر ٹھہر کر اسے لوگوں کو سناؤ، اور اسے ہم نے (موقع موقع سے) بتدریج اتارا ہے۔ اے محمدؐ، اِن لوگوں سے کہہ دو کہ تم اسے مانو یا نہ مانو، جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے انہیں جب یہ سنایا جاتا ہے تو وہ منہ کے بل سجدے میں گر جاتے ہیں ۔‘‘ (الاسراء: ۱۰۶۔۱۰۷)
وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ پر ہر اس وقت عمل کریں جب آپ کو اپنے اعمال میں کمی اور کوتاہی محسوس ہو، آپ کو اپنے گناہوں اور غفلتوں پر تکلیف ہو اور جب آپ توبہ اور استغفار کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی داؤد علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:’’ اور داؤد سمجھ گئے کہ ہم نے انہیں آزمایا ہے، تو پھر اپنے رب سے استغفار کرنے لگے اور عاجزی کرتے ہوئے گر پڑے اور پوری طرح رجوع کیا۔ پس ہم نے بھی ان کی یہ بات معاف کر دی، یقیناً وہ ہمارے نزدیک بڑے مرتبے والے اور بہت اچھے ٹھکانے والے ہیں۔ ‘‘ (صٓ:۲۴۔۲۵)
وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ پرہر اس وقت عمل کریں جب آپ پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں، آپ مشکلات میں گھر جائیں، آپ بھنور میں پھنس جائیں؛ کیونکہ سجدہ ہر پریشانی کا علاج ہے۔ سجدہ رحمٰن کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے ساتھ رضائے الٰہی کا موجب بھی بنتا ہے، چنانچہ صحیح بخاری میں نبی ﷺ سے مروی ہے کہ جس وقت لوگ روزِ قیامت میدان محشر میں کھڑے ہوں گے اور شفاعت کے لئے کوشش کر رہے ہوں گے اور انبیائے کرام سے کہتے کہتے رسول اللہ ﷺ تک پہنچیں گے، کہیں گے: ’’اے محمد ﷺ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہماری کیا حالت ہے اور ہم کتنی تکلیف میں ہیں!‘‘ تو اس پر رسول اللہ ﷺ فرمائیں گے: ’’میں تمہاری سفارش کرتا ہوں۔‘‘ اس پر آپ ﷺ عرش کے نیچے سجدہ ریز ہو جائیں گے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ’’میں اپنے پروردگار سے اجازت طلب کروں گا تو مجھے اجازت دی جائے گی اور میں اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے رب کی ایسی حمد بیان کروں گا جو میں ابھی نہیں کر سکتا، اللہ مجھے اسی وقت سکھائے گا، میں پھر اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤں گا تو مجھے کہا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھائیے ، کہئے! تمہاری بات سنی جائے گی۔ مانگئے! عطا کیا جائے گا۔ سفارش کیجئے! تمہاری سفارش بھی قبول کی جائے گی۔‘‘ ( بخاری ،مسلم) جب بھی آپ پر خیر و بھلائی کی برکھا برسے ، رحمٰن کی نوازشیں ہوں تو آپ اللہ کی نعمتوں پر شکر کرتے ہوئے سجدہ ریز ہو جائیں۔

islam Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK