مجھے صفت ِ عبدیت زیادہ پسند اور عبد کا لقب زیادہ محبوب ہے

Updated: November 13, 2020, 12:05 PM IST | Maolana Nadeem ul Wajidi

سیرت نبی ٔ کریم ؐ کی اس خصوصی سیریز میں آپؐ کے سفر معراج اور واقعۂ معراج کے اسرار و حکم کا تذکرہ جاری ہے۔ آج ملاحظہ کیجئے کہ مسجد اقصیٰ میں اگر چہ تمام انبیاء کا اجتماع تھا، آپ ﷺ نے ان سب کی امامت بھی فرمائی مگر جب آپؐ آسمانوں پر تشریف لے گئے تو کچھ خاص خاص انبیاء سے آپؐ کی ملاقات کرائی گئی۔ اس میں ان خاص حالات کی طرف اشارہ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بعد میں وقتاً فوقتاً پیش آئے۔

Makkah Sharif
مکہ شریف

 ۱۰- اللہ تعالیٰ نے یہاں اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ فرمایا، اَسْریٰ بِنبیّہ وَر َسُوْلِہٖ نہیں فرمایا، یہ جملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ عبدیت کو نمایاں کرنے والا ہے کہ بندہ سب کچھ چھوڑ کر اپنے آقا سے ملاقات کے لئے جارہا ہے۔ نبوت و رسالت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کا منتخب کردہ کوئی شخص اس کا پیغام لے کر بندوں کی طرف آرہا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں بھی لفظ رسول یا نبی کا ذکر ہے وہاں اسی پس منظر میں ہے، مثال کے طور پر ایک موقع پر ارشاد فرمایا:
 إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَىٰ فِرْعَوْنَ رَسُولًا۔ (المزمل:۱۵ ) ’’تم لوگوں کے پاس ہم نے اُسی طرح ایک رسول تم پر گواہ بنا کر بھیجا ہے جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا تھا ۔‘‘ یہاں اِنَّا اَرْسَلْنَا اِلَیْکمْ عبدنا   نہیں فرمایا کیوںکہ آیت میں بندوں کی طرف بھیجنے کا ذکر ہے اپنی طرف بلانے کا ذکر نہیں ہے۔ محققین لکھتے ہیں کہ یہاں لفظ عبد اس لئے بھی لایا گیا کہ کہیں معراج کی بنا پر بعض کم عقل لوگ نصاریٰ کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا نہ قرار دے بیٹھیں، اس لئے قصہ بیان کرنے سے پہلے یہ تنبیہ کردی گئی ہے کہ یہ ایک بندے کا واقعہ ہے کسی مافوق الفطرت ہستی کا واقعہ نہیں ہے۔ امام رازیؒ لکھتے ہیں کہ میرے والد، ابوالقاسم سلیمان انصاری کا یہ قول بیان فرمایا کرتے تھے کہ شب معراج میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت فرمایا کہ آپ کو کون سا لقب اور کون سی صفت زیادہ پسند ہے؟ آپ نے عرض کیا کہ مجھے صفتِ عبدیت زیادہ پسند ہے اور عبد کا لقب زیادہ محبوب ہے۔
 ۱۱-اَسْرٰی کے معنی میں اگر چہ رات پوشیدہ ہے، یعنی یہ سفر رات میںہوا، لیکن لَیْلاً کااضافہ بھی کیا گیا ہے، جس کے معنی ہیں رات، پھر اس کو نکرہ لایا گیا، اس سے یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ اگرچہ یہ سفر رات میں ہوا، مگر اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ پوری رات ہی اس سفر میں گزر گئی بلکہ رات کے ایک مختصر حصے میں یہ سفر مکمل ہوگیا۔  وقت کایہ اختصار بھی بذات خود ایک مکمل معجزہ ہے، رات میں سفر اس لئے ہوا کہ دن کے مقابلے میں یہ وقت عادتاً سکون اور خلوت کا ہوتاہے، ایسے وقت میں کسی مہمان کو بلا کر ملاقات کرنا اس کے تقرب اور اختصاص کو نمایاں کرتا ہے۔ نماز تہجد کی فضیلت بھی اسی لئے ہے کہ وہ رات کے پرسکون ماحول میں اس وقت پڑھی جاتی ہے جب سب لوگ نیند میں ہوتے ہیں اور ماحول میں تنہائی رچی بسی ہوتی ہے۔
 ۱۲-مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے جانے میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ ان دونوں مقامات مقدسہ کے انوار و برکات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات میں جمع کردئیے جائیں، یہاں بلا کر یہ اشارہ دینا بھی مقصود ہے کہ عنقریب قبلۂ اوّل کو بنی اسرائیل کے قبضے سے نکال کر بنی اسماعیل کے قبضے میں دے دیا جائے گا اور امت محمدیہ دونوں قبلوں کے انوار و برکات کی حامل ہوگی۔ مسجد اقصیٰ میں تمام انبیاء سے ملاقات میں یہ حکمت محسوس ہوتی ہے کہ ان کے تمام کمالات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں مجتمع ہوجائیں۔
 ۱۳- مسجد اقصیٰ میں اگر چہ تمام انبیاء کا اجتماع تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کی امامت بھی فرمائی مگر جب آپؐ آسمانوں پر تشریف لے گئے تو کچھ خاص خاص انبیاء سے آپؐ کی ملاقات کرائی گئی۔ اس میں ان خاص حالات کی طرف اشارہ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بعد میں وقتاً فوقتاً پیش آئے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے اس لئے ملاقات کرائی گئی کہ وہ سب سے پہلے انسان ہونے کی حیثیت سے تمام انسانوں کے باپ ہیں اور سب سے پہلے نبی بھی ہیں۔ ان سے ملاقات میں ہجرت کی طرف بھی اشارہ تھا کہ جس طرح حضرت آدمؑ نے اپنے دشمن کی وجہ سے جنت سے مفارقت اختیار کرلی اور دنیا کی طرف ہجرت فرمائی اسی طرح آپؐ بھی مکہ چھوڑ کر مدینے کی طرف ہجرت کریں گے، جنت چھوڑ کرجانا حضرت آدمؑ کے لئے شاق تھا، اسی طرح وطن مالوف کی مفارقت آپؐ کو بھی شاق گزرے گی۔
 دوسرے آسمان پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات حضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ علیہما السلام سے کرائی گئی، ایک تو اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آخری نبی ہیں، یعنی حضرت عیسیٰؑ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی دوسرا نبی نہیں ہے۔ حدیث شریف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا گیا ہے: انا اولی الناس بعیسی بن مریم لیس بینی و بینہ نبی۔ (صحیح البخاری ۱۱؍۲۵۹، رقم ۳۱۸۶) ’’میں تمام انبیاء میں عیسیٰ بن مریم علیہما السلام سے زیادہ قریب ہوں، میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے‘‘ دوسرے یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے آخری دورمیں ایک اہم کردار ادا کریں گے، یعنی آسمان سے دنیا میں تشریف لائیں گے، دجال کو قتل کریں گے، ساری دنیا میں شریعت محمدیہ کو جاری کریں گے، اس وقت ان کی حیثیت ایک مجدد کی ہوگی جو مٹتے ہوئے دین کا احیاء کرنے کے لئے آئے گا، پھر قیامت کے دن جب نفسا نفسی کا عالم ہوگا، وہ تمام اولین و آخرین کو لے کر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور شفاعت کبریٰ کی درخواست کریں گے، اس ملاقات میں اس امر کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہود کی سازشوں کا شکار ہوئے، اسی طرح یہود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بھی سازشیں کریں گے، پھر جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام اُن کی دسیسہ کاریوں سے محفوظ رہے، اسی طرح آپ بھی ان کے شر سے محفوظ رہیں گے۔ حضرت یحییٰ سے ملاقات محض حضرت عیسیٰ کی نسبی قرابت کی وجہ سے کرائی گئی، کیوںکہ دونوں ایک دوسرے کے خالہ زاد بھائی ہیں۔
 تیسرے آسمان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات حضرت یوسف علیہ السلام سے ہوئی، اس میں اشارہ تھا کہ جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے بھائیوں سے تکلیف پہنچی، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اپنے قریبی رشتہ داروں سے تکلیف پہنچ رہی ہے، پھر جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کو ان کی تمام تر زیادیتوں کے باوجود لاَ تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْم۔ کہہ کر معاف فرما دیا، اسی طرح فتح مکہ کے دن آپ بھی قریش کو ان کے ظلم و زیادتی، تعنُّت (نکتہ چینی، بدگوئی)، عناد اور سرکشی کے باوجود یہ کہہ کر معاف فرمادیں گے کہ  ۔لاَ تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْم یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکُمْ وَھُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ۔ (سنن النسائی ۶؍۳۸۳، رقم الحدیث ۱۸۳۸)آج تم پر کوئی ملامت نہیں، اللہ تم کو معاف کرے، وہ تمام رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔‘‘ حضرت یوسف علیہ السلام سے ملاقات میں ایک مناسبت یہ بھی ہے کہ جب امت محمدیہ جنت میں داخل ہوگی تو حضرت یوسف علیہ السلام کی صورت پرہوگی یعنی تمام جنتی اتنے حسین و جمیل ہوں گے جیسے حضرت یوسف علیہ السلام تھے۔ 
 حضرت ادریس علیہ السلام سے ملاقات میں یہ حکمت پوشیدہ تھی کہ جس طرح حضرت ادریس علیہ السلام نے دعوتی خطوط تحریرفرمائے، اسی طرح آپؐ بھی سلاطین و امرائِ قبائل کے نام دعوتی مکاتیب روانہ فرمائیں گے۔ قرآن کریم میں حضرت ادریس علیہ السلام کے متعلق ارشاد فرمایا گیا ہے: وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا (مریم:۵۷) ’’اور ہم نے انہیں رفعت دے کر ایک بلند مقام تک پہنچا دیا۔‘‘ اس ملاقات میں یہ اشارہ بھی تھا کہ جس طرح ہم نے ادریسؑ کو عالی مقام بنایا ہے اسی طرح آپ کو بھی رفعت و بلندی سے سرفراز کیا جائے گا۔ حضرت ہارون سے ملاقات میں اس طرف اشارہ تھا کہ جس طرح ان کی ہدایت پر عمل نہ کرنے کی پاداش میں گوسالہ پرست سامری اور اس کے ستر ہم نوا مرتد قرار دئیے گئے اور انہیں قتل کیا گیا، اسی طرح قریش کے ستر بڑے بت پرست مشرک سردار جنگ بدر میں موت کے گھاٹ اتارے جائیں گے۔
 حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات میں اس طرف اشارہ تھا کہ جس طرح وہ جبارین ِارض سے جہاد کے لئے ارض شام کی طرف گئے، اسی طرح آپؐ بھی تشریف لے جائیں گے۔ چنانچہ آپؐ غزوۂ تبوک کے لئے تشریف لے گئے اور دومۃ الجندل کے حکمراں نے جزیہ دے کر صلح کی درخواست کی جسے آپؐ نے منظور فرمایا۔ پھر جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد ملک شام آپؑ کے خلیفہ و جانشین حضرت یوشع علیہ السلام کے ہاتھوں مفتوح ہوا اسی طرح یہ ملک آپؐ   کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد حضرت عمر بن الخطاب کے ذریعے فتح سے ہم کنار ہوا۔
 ساتویں آسمان پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام سے ہوئی۔ آپؑ اس وقت بیت المعمور سے اپنی پشت لگائے ہوئے بیٹھے تھے، یہ ایک عمارت ہے، ہم گزشتہ صفحات میں اس کا ذکر بھی کرچکے ہیں، بیت المعمور کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ بیت اللہ کے ٹھیک اوپر واقع ہے۔ ستر ہزار فرشتے ہر روز اس کا طواف کرتے ہیں، چوںکہ حضرت ابراہیمؑ نے بیت اللہ کی تعمیر فرمائی، اس لئے انہیں یہ شرف حاصل ہوا کہ وہ بیت المعمور کے قریب رہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات میں حجۃ الوداع کی طرف بھی اشارہ تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وصال سے قبل ادا کیا۔ اس کے بعد آپؐ دنیا سے پردہ فرما گئے۔
 ۱۴- عروج آسمانی سے قبل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سینۂ مبارک شق کیا گیا اور قلب مبارک نکال کر اسے زمزم کے پانی سے دھویا گیا اور ایمان و حکمت سے بھر کر پھر اسی جگہ رکھ کر سینۂ مبارک سی دیا گیا۔ اس پورے عمل میں یہ حکمت پوشیدہ تھی کہ آپ ﷺ کائنات کے اسرار اور اس میںموجود قدرت کی نشانیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں، اس کی حکمتوں کو سمجھ سکیں اور تجلیات باری تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہوسکیں۔ علماء کا ایک قول یہ بھی ہے کہ معراج کی رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا دیدار آنکھوں سے بھی ہوا اور دل سے بھی ہوا، اس لئے دل کو دیدارِ الٰہی کے لئے تیار کیا گیا۔
 ۱۵- حدیث میں ہے کہ انبیاء کرام کے جسم مٹی پر حرام کردیئے گئے ہیں یعنی وہ اپنی قبروں میں اسی حالت کے ساتھ موجود رہتے ہیں جس حالت میں ان کو دفن کیا گیا تھا، اس لئے آسمانوں میں بعض انبیاء کرام علیہم السلام سے آپؐ کی ملاقات روح اور جسم دونوں کے ساتھ ممکن ہے۔ ہوسکتا ہے کہ جن انبیاء کرام سے ملاقات کرائی گئی ان کے جسموں کو آسمانوں پر منتقل کردیا گیا ہو۔ اگرچہ بعض علماء صرف روح کے ساتھ ملاقات کے قائل ہیں، ہاں حضرت ابراہیم اور حضرت ادریس علیہما السلام کی ملاقات روح و جسم دونوں کے ساتھ تھی، اس پر تمام علماء کا اتفاق ہے، کیوںکہ ان دونوں حضرات کو زندہ حالت میں آسمان پر اٹھا لیا گیا تھا۔ اسی طرح بیت المقدس میں بھی حضرات انبیاء علیہم السلام کا اجتماع ارواحِ مبارکہ اور اجسامِ عنصریہ کے ساتھ ہوا، اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت سے کچھ بھی بعید نہیں ہے۔
۱۶- ابتداء میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشورہ سے آپ بارگاہ الٰہی میں تشریف لے جاتے رہے اور تخفیف کی درخواست کرتے رہے، ہر درخواست پر پانچ نمازیں ساقط کردی گئیں، ایسا نو مرتبہ ہوا، پانچ نمازوں کے بعد بھی حضرت موسیٰ ؑ نے تخفیف کی درخواست کا مشورہ دیا، جس کا مطلب یہ ہوتا کہ جوپانچ رہ گئی ہیں وہ بھی ساقط ہوجائیں۔ اس لئے آپ نے یہ مشورہ قبول نہیں کیا اور فرمایا اب میں نہیں جائوں گا، مجھے اپنے رب سے مزید تخفیف کی درخواست کرنے میں شرم محسوس ہوتی ہے۔ اللہ رب العزت کو یہ عمل اس قدر پسند آیا کہ ان پانچ نمازوں کو پچاس نمازوں کے مساوی قرار دے کر اجر و ثواب بڑھا دیا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK