پریم چند صرف ایک ذات کا نہیں، ایک تاریخ ایک دبستانِ فکر کا نام ہے

Updated: August 09, 2020, 4:23 PM IST | Pro Ali Ahmed Fatimi

اسی صفحہ پر شائع ہونے والے مضمون ’’پریم چند کااہم کارنامہ سماج کے دبے کچلے کرداروں کو زندگی دینا ہے‘‘کی دوسری اور آخری قسط

Munshi Premchand - Pic : INN
منشی پریم چند ۔ تصویر : آئی این این

پریم چند کی تقریباً ساری عورتیں اردو شاعری کا محبوب نہیں ہیں اور نہ ہی ان میں ایران، کشمیر، لکھنؤ کا روایتی اور گمراہ کن حسن نظر آئے گا۔ یہ عورتیں ہندوستان کے دیہات، قصبات، کھیت، باغ اوسارے اور مٹی کے گھروں میں بسی مٹی میں ہی سنی ہوئی وہ عورتیں ہیں جن کی ساڑی تار تار ہے، بال گندے اور انگلیاں کھردری ہیں جو کھیتوں میں کام کرتی ہیں اور گھر میں بھینسوں کو چارہ دیتی ہیں، چولہا پھونکتی ہیں اور سنسار اور سنسکار کی آگ میں خود پھنکتی رہتی ہیں۔ غور کیجئے اردو کا وہ حسن پرست قاری اور روایتی عاشق جو نازنین اور مہ جبین کے چکر میں اپنی جاگیر اور تقدیر لٹانے کو تیار تھا بلکہ لٹا چکا تھا وہ ان کمزور، بدصورت اور غیر عورتوں کو کیسے پسند کرتا۔ اختلافات ہوئے۔ انقلابات بھی آئے اور جنہیں آنا ہی تھا۔ آخر کوئی تو بات ہے کہ ۳۶ء  یا  ۴۷ء کے بعد انہی حقیقی کرداروں کو زندگی ملی اور تمام خوبصورت نسوانی کرداروں اور ہیروئنوں کے مقابلے معمولی و کمزور دھنیا اُردو ناول کا سب سے مضبوط نسوانی کردار بن گئی۔ 
 پریم چند جانتے تھے کہ کردار نگاری امراؤ جان اور زمرد کی طرح نہیں بلکہ سادگی اور فطرت میں ڈھلتی ہے کہ اسی سے زندگی کا تعمیری فلسفہ جنم لیتا ہے اور یہ کام عام انسانوں کی جدوجہد اور کشاکش کے بغیر ممکن نہیں کیونکہ اصلی سماج اس کی ارضیت، ثقافت اور حقیقت عام انسانوں، کمزور کرداروں (جنہیں اردو شاعری نے ہمیشہ غیر سمجھا) کے رگڑوں، جھگڑوں سے ہی بنتا ہے۔ دوسری چیز یہ بھی ہے کہ غیر کردار اور غیر مانوس کردار اپنی غیر معمولی فطرت کا مظاہرہ اپنی خواہش اور عمل کے ذریعہ کریں ۔ اسی طریقے سے  آپ معمولی صورت والے غیر کرداروں کی نمائندگی ایک کردار کے ذریعہ کرسکتے ہیں۔ 
 کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر پریم چند نے بوڑھی کاکی اور دھنیا جیسے لازوال کردار نہ دیئے ہوتے تو کیا آگے چل کر عصمت چغتائی ننھی کی نانی، کرشن چندر تائی اسیری، غلام عباس آنندی اور ممتاز مفتی آپا جیسی کامیاب کہانیاں دے پاتے؟ یا رانو، سوگندھی، لاجونتی، اندو، رضو باجی جیسے کردار جنم لے پاتے؟ ان سب کرداروں پر بوڑھی کاکی کی بھوک اور دھنیا کی پھٹی چادر پڑی ہوئی ہے۔ یہ سب کردار پہلے غیر تھے، اچانک اپنے ہوگئے۔ 
 آخر کوئی تو وجہ ہے کہ اردو شاعروں نے اور فطرت نگاروں نے عورت کے حسن و شباب پر اتنی روشنائی خرچ کی۔ سچ یہ ہے کہ حقیقت اور صداقت کی اپنی جمالیات ہوا کرتی ہیں اور اب تو نئی جمالیات کا پورا ایک دبستان ہے جو بے جان اور بدصورت لوہے کے چمٹے  میں داخل ہوکر غریب حامد کو دیوتا کا روپ دے دیتا ہے۔ خوبصورتی جذبات  اور احساسات میں ہوتی ہے ، مقصدیت و افادیت میں ہوتی ہے، دنیا کو حسین بنانے والو ںمیں ہوتی ہے ، عمل میں ہوتی  ہے۔ اسی لئے ترقی پسند شعراءکسان اور اس کے ہَل پر نظمیں کہہ گئے۔ سردار جعفری نے لب و رخسار کے مقابلے میں ہاتھوں کی تعریف کی:
ان ہاتھوں کی تعظیم کرو=ان ہاتھوں کی تکریم کرو
دنیا کے بنانے والے ہیں=ان ہاتوں کو تسلیم کرو
ایک سردار جعفری ہی نہیں، فراقؔ جیسے شاعر جمال بھی کہہ اٹھے:
ترا فراق تو اُس دم ترا فراق ہوا
جب اُن سے پیار کیا میں نے جن سے پیار نہیں
یہی وجہ ہے کہ پریم چند کے بعد کشمیر کی وادیوں اور لکھنؤ کے کوٹھوں پر سجی ہوئی عورتوں کے بجائے کھیتوں میں کام کرتی ہوئی عورت نے اپنا مقام پا لیا۔ اور یہ بات آسانی سے تسلیم کر لی گئی کہ دنیا میں وہی شے حسین ہے جو انسان اور انسانیت کے کام آرہی ہے۔ 
 اچھی بات یہ ہوئی کہ حسن کے معیار کی تبدیلی کا یہ راز اور فلسفہ ترقی پسند ادیبوں و شاعروں نے جلد سمجھ لیا اور اردو شاعری کی کایا پلٹ دی۔ اور یہ سلسلے آج تک پھیلے ہوئے ہیں۔ غضنفر کا ناول دویہ بانی اور صغیر رحمانی کا ناول ’تخم خوں‘ کو بھی اس سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا ۔  اسی لئے کہا جاتا ہے کہ پریم چند صرف ایک ذات کا نہیں، ایک تاریخ ایک دبستان ِ فکر کا نام  ہے۔ ایک تاریخ اور روایت کا نام جو بیسویں صدی کے مکمل افسانوی ادب پر تو چھایا ہوا ہے ہی اسے اکیسویں صدی سے بھی الگ نہیں کیا جاسکتا۔ پریم چند کا ہی یہ کارنامہ ہے کہ انہوں نے غیر کو اپنا بنا دیا اور بظاہراپنوں کو غیر

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK