آج کا اُردو اَدب اَور عصری مسائل کی پیشکش

Updated: March 22, 2021, 11:11 AM IST | Professor Sharib Rawaldi

ہر عہد کے مسائل ایک ہی طرح کے نہیں ہوتے۔ گزشتہ پچاس سال میں بہت کچھ تبدیل ہوگیا ہے۔ جدوجہد کے میدان اور لڑائی کے طریقے بدل گئے ہیں۔ اسلئے ادب میں ان کا اظہار بھی اب دوسری طرح ہورہا ہے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

آج ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں ادب اور اس کے مسائل کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہوگیا ہے۔ آج یہ موضوع ہی ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے یعنی ادب کا آج کے مسائل یا عصری مسائل سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔ اب تک ادب کے بارے میں دو نقطۂ نظر تھے۔ کچھ لوگ ادب میں فکر اور مسائل پر زور دیتے تھے۔ ان کے یہاں ایک فکری نظام تھا اور اس فکری نظام سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس نظام میں بھی دو پہلو ملیں گے۔ ایک کارشتہ ادبی فکر سے ملتا ہے اور دوسرے کا رشتہ علمی فکر سے۔ علمی فکر سے میری مراد فلسفہ، نفسیات، سیاست، عمرانیات اور دوسرے علوم سے ہے جس کا اثر ادب پر پڑتا ہے اور اس کے تحت کبھی شعر وادب پر فلسفیانہ فکر گہری ہوگئی کبھی متصوفانہ، کبھی سماجی اور کبھی سیاسی۔
 دوسرا نقطۂ نظر ادب کی خود مختار حیثیت کا ہے، جو ادب پر کسی خارجی اثر کو نہیں تسلیم کرتا۔ اس کی نگاہ میں ادب سیاسی، عمرانی، سماجی یا دوسرے اثرات سے یکسر آزاد اور غیر متعلق ہوتا ہے اور اس کے تخلیق عمل میں ان باتوں کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ سماجی فکر سے آزاد نقطۂ نظر میں بھی کوئی رویہ تو تھا ہی… لیکن اب ادب کی خود مختاری پر اتنا زور دیا گیا کہ معنوی سطح پر اس کا کوئی تعلق نہ اپنے تخلیق کرنے والے سے رہ گیا، نہ متن سے اور نہ قاری سے۔ابھی تک معنی آفرینی کے لئے تخیل آرائی، جذبے، تجربے اور محسوسات کا مطالعہ کیا جاتا تھا اور معنیاتی تہہ داری کی تفہیم کی جاتی تھی۔ اب ساری معنی آفرینی کا انحصار صرف قرأت پر کر دیا گیا ۔ نہ مصنف کچھ ہے اور نہ منشائے مصنف، رولاں بارتھ نے تو ادیب کی موت کا اعلان ہی کردیا ہے کہ تخلیق کے بعد مصنف سے  اس کا کوئی تعلق نہیں رہتا۔ دیوندراسر نے کہا ہے کہ جو لوگ مارکسی  نظریات کی اس لئے مخالفت کررہے تھے کہ اس سے ادب خطرے میں تھا ، انہیں کے ہاتھوں اب ادب کی آبرو خطرے میں ہے ۔ یعنی ادب کو ایک خاص سمت لے جانے کی کوشش، جہاں مسائل کو اجتماعی حیثیت سے نہ دیکھا جائے، ان کے بارے میں  اجتماعی حیثیت سے نہ سوچا جائے بلکہ اپنی اپنی اپنی فکر اور اپنا اپنا مسئلہ ہو۔ یہی کنزیومر سوسائٹی کا عطیہ ہے جس میں ایک دوڑ ہے ، سب کچھ حاصل کرلینے کی  ، محبت ، دولت، ثروت، عشرت اور اس میں دوسروں سے آگے بڑھ جانے کی کوشش۔ لیکن ہندوستانی سماج ابھی اتنا کاروباری کمرشیلائزڈ نہیں ہوا ہے کہ کنزیومر سوسائٹی اُس شکل میں نظر آسکے جس طرح مغربی ممالک میں ہے۔ لیکن ادب میں آج ایسے مسائل ضرور نظر آتے ہیں، جس میںا یک طرح کی لاتعلقی کا احساس ہوتا ہے۔ اس کا ایک سبب یہی ہے جس کی طرف ابتداء میں اشارہ کیا گیا کہ ادیب کو اس بات کا یقین دلایاجائے کہ کسی تخلیق کے سپرد قلم کرنے کے بعد اس پر اس کا کوئی حق نہیں اور شاید لکھتے وقت بھی اس کا کوئی حق نہیں تھا۔ اس لئے کہ ’تصنیف‘ لکھتی ہے ، مصنف نہیں۔ ایسی صورت میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ کیا ہے؟ اس کا تعین پڑھنے والا کرے گا، مصنف نہیں ، اس لئے کہ ہوسکتا ہے کہ وہ کوئی معنی متعین کردے اور لفظ کے متعینہ معنی نہیں ہوتے۔ اس لئے معنی کی باگ قرأت کے ہاتھوں میں دے دی گئی تاکہ جس طرح کے معنی کی ضرورت ہو قرأت کے ذریعہ نکال لیں۔  
 مصنف کو اس بات کا یقین دلایاجارہا ہے کہ وہ کیا لکھ رہا ہے اسے نہیں معلوم۔  اس کو تو جو لکھنا تھا اس نے لکھ دیا۔ اس میں رومانیت ہے یا حقیقت پسندی، کسی کی آپ بیتی ہے یا خیال آرائی۔ کوئی سماجی یا تہذیبی مسئلہ ہے یا کسی سانحے کا تاثر، اس سے اسے کوئی غرض نہیں۔ یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ یہ ساری کوشش مصنف کے شعور کو منجمد کردینے اور اس کی تحریک کو روک دینے کی ہے لیکن اردو میں فضا ابھی اتنی مسموم نہیں ہوئی ہے۔شاعری اور افسانہ دونوں میں ادھر نئے پیکر اور نئی لفظیات کے ذریعہ بات کہنے کی کوشش کی گئی ہے۔
 آج کا اردو ادب فکری جہت یا عصری مسائل کو کئی صورتوں میں پیش کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر عہد کے مسائل ایک ہی طرح کے نہیں ہوتے۔ گزشتہ پچاس سال میں بہت کچھ تبدیل ہوگیا ہے۔ بہت سی ضرورتیں بدل گئی ہیں۔ جدوجہد کے میدان اور لڑائی کے طریقے بدل گئے ہیں۔ اسلئے ادب میں ان کا اظہار بھی اب دوسری طرح ہورہا ہے۔ کہیں دبے دبے احتجاج کی شکل میں، کہیں مجبوری، اداسی اور کرب کی شکل میں۔
 آج ادب میں ایک اور مسئلہ نظر آتا ہے اور وہ ہے اپنی تہذیب اور قدروں میں تبدیلی یا دوسری تہذیبوں اور قدروں سے ان کا ٹکراؤ ۔ دنیا آج بہت چھوٹی ہوگئی ہے اور روزی کی تلاش میں لوگ اس طرح بکھر گئے ہیں کہ ایک دوسرے کے درمیان ہزاروں کلو میٹر کا فاصلہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ لیکن اس نے ادب میں بے گھری اور اپنی تہذیب ٹوٹنے کا احساس ضرور پیدا کیا ہے اور شاید یہ ہر اس آدمی کا مسئلہ ہے جو کسی دوسرے ملک میں بہتر زندگی کی خواہش میں اپنی زبان، اپنی تہذیب، عزیزوں، دوستوں، گھر اپنے گاؤں اور اپنی مٹی سے دور ہے۔ آج کے ادب میں یہ مسائل کہیں نہ کہیں ضرور نظر آتے ہیں۔ حالات کی اس تبدیلی پر اشفاق حسین کا رد عمل دیکھئے:
 لوٹ کر واپس چلے جانے کی بھی خواہش نہیں
پاؤں سے لپٹی ہوئی مجبوریاں ہیں اور ہم
اس سے اندازہ ہوگا کہ ادب میں عصری شعور یا عصری مسائل کسی نہ کسی صورت میں ضرور ملتے ہیں اور اچھے ادب کی دلکشی کا سبب بھی یہی ہے کہ وہ دلوں کو چھوتا ہے۔ وہ جتنا ہمارے دل اور ہماری زندگی سے قریب ہوکر گزرے گا اتنی ہی زیادہ اس میں اثر آفرینی ہوگی۔ قواعد اور قرأت میں الجھانے کے باوجود ادب  کو انسانی محسوسات اور عصری مسائل سے دور نہیں کیا جاسکتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK