• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

صدر بائیڈن امریکہ کے ناکام ترین صدر

Updated: November 07, 2023, 12:57 PM IST | Hasan Kamal | Mumbai

اسرائیل نے غزہ میں لاشوں کے ڈھیر لگا دیئے ہیں اور اس خون کا ہر قطرہ عالمی سطح پرامریکہ کو انسانیت کا دشمن قرار دے رہا ہے، اگر بائیڈن یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس طرح اسرئیل کی کوئی مدد کر رہے ہیں تو یہ ان کی بڑی بھول ہوگی۔

US President Joe Biden talking to Israeli Prime Minister Netanyahu. Photo: INN
امریکی صدر جوبائیڈن اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے گفتگو کرتے ہوئے۔تصویر :آئی این این

ڈونالڈ ٹرمپ امریکہ کے بدنام ترین صدر سمجھے جاتے ہیں ، اس سے انکار بھی نہیں  کیا جا سکتا ۔ان میں  خواہ کتنی ہی کمیاں  کیوں  نہ رہی ہوں  لیکن یہ خیال کیا جاتا تھا کہ جنگ کے نہایت خلاف تھے۔ انہوں  نے دیکھ لیا تھا کہ جنگوں  میں  حصہ لینا امریکی معیشت کو بہت نقصان پہنچا رہا تھا۔ یہ سچ ہے کہ افغانستان کے طالبان سے بات چیت کا معاملہ ان کے صدر بننے سے پہلے شروع ہوا تھا لیکن ان کے صدر بنتے ہی یہ بات چیت بہت تیزی سےآگے بڑھی ۔ انہوں  نے قطر میں  ہونے والی گفتگو کی بہت حوصلہ افزائی کی، انہوں  نے ان طالبان کا معانقہ بھی کیا، جنہیں  امریکی ایڈمنسٹریشن بدترین دہشت گرد قرار دے چکا تھا۔ بہرحال امریکی ان کی صدارت سے بہت خوش نہیں تھے، اس لئے انہیں  صدارت سے ہٹا دیا گیا۔ جو بائیڈن صدر بنے تو امریکہ ہی میں  نہیں  ساری دنیا میں  بہت اطمینان دیکھا گیا۔ ان کے بارے میں  مشہور تھا کہ وہ بہت امن پسند ثابت ہونگے۔
 جو بائیڈن، بارک اوبامہ کے نائب تھے اور بہت صلح جو بھی تھے ۔ اس کے علاوہ ان کی ذاتی زندگی میں  انہیں  بہت سخت حالات سے گزرنا پڑا تھا۔ ان کا ایک بیٹا عین جوانی کے عالم میں  فوت ہو چکا تھا۔ بائیڈن کی گھریلوزندگی بھی بہت خوشگوار نہیں  تھی۔ ان سب باتوں  کی وجہ سے ان کو بہت ہمدردی سے دیکھا جانے لگا تھا لیکن صدر بنتے ہی نہ جانے ان کے دل میں  کیا آگیا کہ دن بہ دن بدلنے لگے، حالانکہ ان کی عمر کافی زیادہ تھی لیکن انہیں  شوق چرّایاکہ وہ ایک بار پھر امریکہ کے صدر بنیں ۔ اس شوق نے ان کی فطرت کو یکسر بدل دیا۔ اب وہ ایسی حرکتیں  کرنے لگے جو ان کے خیال میں  امریکیوں  کو بہت پسند آئیں  گی۔ انہوں  نے چین کو ہر محاذ پر ہرانے اور شکست دینے کا فیصلہ کیا۔یہ ان کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوئی۔
  امریکہ میں  رہنے والے یہودی عام طورپر ڈیموکریٹ پارٹی کو پسند کرتے ہیں  کیونکہ امریکہ میں  اقلیتیں  عام طور پر ڈیموکریٹ رہی ہیں ۔ یہ اقلیتوں  کے ساتھ ایک مسلمہ اصول ہے کہ وہ ہر ملک میں  اس سیاسی پارٹی کے حق میں ہوتی ہیں  جسے معتدل اور لبرل سمجھا جاتا ہے، امریکہ میں  رہنے والے ہر مذہب اور فرقہ کے لوگ ڈیموکریٹ امیدواروں  کیلئے ووٹ کرتے رہے ہیں ، امریکہ کی دو پارٹیو ں  ڈیمو کریٹ اور ری پبلکن ہیں  ڈیموکریٹ کو نسبتاًزیادہ انصاف پسند اور معتدل کہا جاتا ہے، چنانچہ ڈیمو کریٹک پارٹی تمام اقلیتوں کیلئےزیادہ پسند رہی ہے۔ فلسطین اور اسرائیل کے تنازع میں  بھی بائیڈن نے مزید نا اہلی کاثبوت دیا ہے۔  جس وقت اقوام متحدہ میں  فلسطین کے ایک حصہ کو ارض موعودہ کے نام سے دیئے جانے کی تجویز منظور کی گئی تھی، اس وقت اقوام متحدہ کوئی بہت بڑا ادارہ نہیں  تھا، اس وقت اس ادارہ پر برطانیہ، فرانس اور کچھ مزید یورپی طاقتوں  کا زیادہ زور تھا۔ اقوام متحدہ کے ممبروں  کی تعداد تو اس وقت بڑھی جب ایشیا اور افریقہ کے کئی ممالک برطانوی، فرانسیسی اور پرتگالی نوآبادیات کے شکنجے سے آزاد ہوئی تھیں ۔ جب کبھی اسرائیل کی فسطائی سرکاروں  نے فلسطینیوں پر مظالم ڈھائے تو امریکہ کے ڈیموکریٹ ہمیشہ اس کی مخالفت کرتے رہے، پھر جب یہودیوں  نے فلسطین میں  عربوں  سے زور زبردستی کرتے ہوئے ان کی چھینی ہوئی زمینوں  پر اپنی کالونیاں  بنانی شروع کیں  تو بھی ڈیموکریٹ پارٹی نےاس کی مخالفت کی۔ خاص طور پر جب سے ایک بے عقل اور بے حد متعصب صدر نیتن  یاہو برسراقتدار آئے تو امریکہ کی ڈیمو کریٹ پارٹی نے ان کی بہت مخالفت کی۔ 
 امریکہ میں  نیتن یاہو کو بہت ناپسندیدگی سے دیکھا جاتاہے۔ بارک اوبامہ تو حقیقی معنوں  میں بن یاہو سے سخت نفرت کرتے تھے۔ بائیڈن اس وقت بارک کے نائب تھے۔ انہوں  نے یہ سب باتیں  اپنی آنکھوں  سے دیکھی تھیں ۔برطانوی تجویز بھول گئے۔ یہ تجویز منظور ہوئی اور نصف فلسطین صہیونیوں کے چنگل میں  قید ہو گیا، ڈیمو کریٹ نے انہیں  منع کیا تھا۔اسی طرح یروشلم کو ایک بین الاقوامی شہر کی حیثیت ہےتجویز بھی ڈیمو کریٹک پارٹی کی طرف سے آئی تھی۔اب یاتو بائیڈن ان ساری باتوں  کو یاتو بھول گئے ہیں  یا پھر صدر بننے کے جنون نے ان کا ان تمام باتوں  کوبھول جانے پر مجبور کر دیا ہےلیکن اسی کے ساتھ ہر گزرتے دن کے ساتھ انہیں  یہ معلوم ہو رہا ہے کہ ان کی ان پالیسیوں  کے لئے امریکہ کی ڈیموکریٹ مدد کم ہوتی جا رہی ہے۔ حالیہ سروے بتا رہا ہے کہ غزہ کے معاملہ کے بعد سے اس پارٹی کی مقبولیت تیس سے چالیس فصد تک ختم ہو گئی ہے۔
 جو بائیڈن غزہ کی لڑائی میں  ہر دن اپنا نام امریکہ کے سب سے بے وقوف صدرچھوٹے بش کے نام سے جوڑتے رہے ہیں  ،چھوٹے بش نے عراق کی جنگ میں  دنیا کے سامنے جھوٹ بولا تھا کہ عراق نے عالمی تباہی کے ایسے ہتھیار جمع کر لئے ہیں  جو دنیا کو تباہ کر سکتے ہیں ، اس نے اس جھوٹ کے ذریعہ دسوں  لاکھ عراقیوں  کو ہلاک کر دیا تھا، بعد میں  عالمی ایٹمی توانائی کی جانچ نے بتایا کہ یہ سب جھوٹ تھا، اس کے بعد کیا ہو سکتا تھا ۔ غزہ میں پہلے بائیڈن نے کہا تھا کہ حماس یقیناً دہشت گرد ہے لیکن غزہ کے عام شہریوں  کو مارنا اسرائیل کی سنگین غلطی ہو گی۔ آج اسرائیل نے غزہ میں  لاشوں  کے ڈھیر لگا دیئے ہیں  اور اس خون کا ہر قطرہ عالمی سطح پر امریکہ کو انسانیت کا دشمن قرار دے رہا ہے، اگر بائیڈن یہ سمجھتے ہیں  کہ وہ اس طرح اسرئیل کی کوئی مدد کر رہے ہیں  تو یہ ان کی بڑی بھول ہوگی۔ 
 اس وقت غزہ میں  جو ہلاکتیں  ہو رہی ہیں  وہ تاریخ نے کبھی دیکھی بھی نہیں  تھیں ،مرنے والوں  میں ایک اوسط کے طور پر ہر دن ۱۴۰؍بچے اللہ کو پیارے ہوتے ہیں ، جنگ مہینہ بھر پرانی ہو چکی ہے۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں  کہ اسرائیل بچوں  کا کتنا بڑا قاتل ہے، اسرائیل نے کسی میدان جنگ میں  نہیں  اسپتالوں  میں  مریضوں  کو قتل کیا ہے، وہ مریضوں  کا بھی اتنا ہی بڑا قاتل ہے، لیکن اسی کے ساتھ ایجنسیوں  کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو اس جنگ میں  ایک ارب ڈالر کا ہر روز نقصان ہو رہا ہے۔ اسرائیل میں  تعمیرات عامہ کا ہر کام رک چکا ہے۔ اسرئیل میں  باہر سے آکریہاں  تعمیر کرنے والی ساری کمپنیاں  رخصت ہو چکی ہیں ،یہاں  مفاد عامہ کے سارے پروجیکٹ بھی روک دیئے گئے ہیں ، اسرائیل کے کئی سو سپاہی مارے جا چکے ہیں  اور کہا جاتا ہے کہ اسرائیل کو فوجی نقصان نہ کبھی ایسا ہوا تھا اور نہ سوچا جا سکتا تھا،نیتن یاہو کا راج ملیا میٹ ہو چکا ہے۔ 
 بہتر ہوگا کہ اسرائیل ان عرب دوستوں  سے مدد لے جو کل تک اس کے ساتھ تھے لیکن اسے غزہ سے نکلنا ہی پڑے گا اور اسی کے ساتھ بائیڈن کا اقتدار بھی ہمیشہ کیلئے مٹی میں  مل جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK