اختلاف کے اصول وآداب قرآن و سنت کی روشنی میں

Updated: November 25, 2022, 2:04 PM IST | Zamirul Hasan Khan Falahi | Mumbai

امت کی پسماندگی اور زبوں حالی کا تقاضا ہے کہ اسلامی اخوت کے احیاء کیلئے سعی پیہم اور جہد مسلسل کی جائے

Scholars should avoid those issues that cause discord and confusion..Picture:INN
علمائے کرام کو ان امور سے بچنا چاہئے جن سے پیدا ہونے والا اختلاف تفریق و انتشار کا سبب بنے۔ تصویر :آئی این این

امت مسلمہ پر اصلاً دین حق کی اقامت و اشاعت اور اس کے احکام کی تعمیل فرض ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے مکلف ہے لیکن چونکہ انسانوں کے مزاج، میلانات اور فہم و فراست میں اختلاف پایا جاتاہے اس لئے دین کی تعبیر و تشریح میں اختلاف پایاجانا فطری ہے مگر یہ اختلاف آراء صرف ان امور میں جائز ہے جہاں نصوص شریعت میں ایک سے زائد توجیہات کی گنجائش ہو، مسلّمات و کلیات دین میں اختلاف کی اجازت نہیں ہے، اس کے ساتھ دین رحمت کا تقاضا یہ ہے کہ فروعی امور میں رایوں ، نقطہ ہائے نظر اور مسالک وغیرہ کا اختلاف ، دلوں کے اختلاف اور باہم تنازع ومنافرت کی شکل اختیار نہ کرنے پائے کہ دلوں کا اختلاف بالاتفاق حرام اور افراد امت کیلئے ایک عظیم خطرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں صاحبِ امر ہیں۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کے حوالہ کردو اگر واقعی تم اللہ اور روزآخرت پر ایمان رکھتے ہو، یہ صحیح طرزعمل ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے۔‘‘(نساء:۵۹)اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم جنت میں داخل نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ مؤمن ہوجاؤ اور مؤمن نہیں ہوسکتے جب تک کہ ایک دوسرے سے محبت نہ کرو۔‘‘(مسلم) گویا ایمان، دخول جنت کے لئے اورالفت ومحبت باہم تکمیل ایمان کے لئے شرط ہے۔اسلام کے اس بنیادی اصول سے غفلت کے نتیجہ میں امت فرقوں میں بٹ گئی اور فکرو نظر اور رنگ و نسل کا اختلاف عملی اختلاف میں تبدیل ہوگیا۔
واقعہ یہ ہے کہ انسان اتباع ہویٰ میں صحیح اور غلط کا فرق ملحوظ نہیں رکھ پاتا اور اصول و فروع کی عدم تعیین کی وجہ سے فروعی اختلاف، اصول و کلیات کے اتفاق پر غالب آجاتا ہے، نتیجتاً نوافل و مستحبات کا اختلاف ، فرائض و واجبات سے دور کردیتا ہے حالانکہ صحیح اور راست طرز عمل یہ ہے کہ متفق علیہ امور میں ایک دوسرے کا تعاون کیا جائے اور مختلف و متنازع فیہ مسائل میں اظہار نکیر اور طعن و تشنیع کے بجائے وسعت قلب و نظر اور رواداری کاثبوت دیاجائے۔
اس بات سے کسے انکار ہوگاکہ اتباع حق، جستجوئے صواب اور التزام علی الحق، صراط مستقیم اور سواء السبیل کی طرف رہ نمائی کرتاہے، ہوائے نفس، تعصب و تنگ نظری سے محفوظ رکھتا ہے اس لئے مختلف فیہ امور میں ہوائے نفس اور ذاتی مصالح کو درآنے کاکبھی موقع نہیں ملنا چاہئے۔ کوشش تو یہ ہوکہ اختلاف پیدا ہی نہ ہو اور بحث و تکرار کے بجائے شریعت کی صریح اور متفق ہدایات کی روشنی میںمسائل کا حل تلاش کرلیاجائے، اس کے بعد بھی اگر کسی مسئلہ میں اختلاف واقع ہوجائے تو کتاب اللہ کی تعمیل کرتے ہوئے اللہ اور رسول کے حکم کے آگے سراطاعت جھکاکر اس اختلاف کو دور کرلیاجائے کہ علمی فروگزاشتوں اور فقہی شذوذ کو تلاش کرنا اور جمع کرکے عوام میں پھیلانا، اہل علم کا شیوہ نہیں ہے، اس سے کسی خاص مسلک ہی نہیں بلکہ پورے دین پر سے اعتماد اٹھ جاتاہے نیز یہ بدترین اور دشمنانہ روش ہے جس کے پیچھے خاص و عام کوئی مصلحت نہیں ہے۔ لغزشوں کو ڈھونڈنا اور غلطیوں کو تلاش کرنا بیمار دل اور بدنیت شخص کاکام ہے اس لئے کہ انبیاء علیہم السلام کے سوا کوئی انسان معصوم ہونے کا دعویٰ نہیںکرسکتا۔ اگر ایسا ہوتا تو مخطی (جس سے بے ارادہ خطا ہوجائے) مجتہد اجرو ثواب کا مستحق نہ ہوتا۔امت کی پسماندگی اور زبوں حالی کا شدید تقاضا ہے کہ سچی اسلامی اخوت کے احیاء کے لئے سعی پیہم اور جہد مسلسل کی جائے تاکہ امت کے سبھی طبقے اور جماعتیں ہر چیز سے بلندہوکر اللہ کے دین کی اعانت و محبت اور اللہ و رسول کے لئے دوستی پر ایک ہوسکیں، ہر شخص کی رائے کا احترام ہوکہ کسی کی رائے پر بے وجہ اعتراض کرنا اور اس کی تنقیص کرنا علم کے باب میں ناپسندیدہ ہے، کسی مجتہد کا اجتہادی سہو اس کی توہین کرنے کاجواز فراہم نہیں کرتی اور نہ کسی کوبدنام کرنے کی نفسانیت پسندیدہ ہے اہل علم کافرض ہے کہ وہ اسلامی اخوت کی قدرو قیمت کا احساس کریں کیونکہ حق کسی خاص مسلک میں محدود نہیں ہے اور اختلاف رائے، لڑائی کا موجب نہیں ہوتا۔ اجتہاد کی شان یہ ہے کہ اس کےنتیجہ میں اختلاف ہوتا ہے مگر یہ اختلاف، نفاق و شقاق کی بنیاد نہیں بنتا اور نہ اس کی وجہ سے بغض و عناد کی تخم ریزی ہوتی ہے۔ تنقید کا مطلب ہی یہ ہے کہ ناقد، حق کو اپنے اندر محدود نہ سمجھے، بحث ومباحثہ کا ادب یہ ہے کہ کسی کی عزت و آبرو اور دین و ایمان پر حملہ نہ ہو، خصوصیت سے ان علماء اور خادمانِ دین کی، جو یگانہ ہیں، جنہوںنے اس دین کی بے لوث خدمت کی ہے، جو علم کے نہایت اونچے مرتبہ پر فائز ہیں، جنہوں نے راہ خدا میں جہاد کیا اور اس دین کے راستہ میں چوٹیں کھائیں اور خدمتِ دین میں جن کااخلاص نمایاں ہے۔اس گزارش کا مقصود انہیں لغزشوں سے بری قرار دینا نہیں ہے کہ ہر عالم کی رائے اخذو مواخذہ کے قابل ہے لیکن کسی جنایت کار ملحد، خود غرض کافر ، حاسد مستشرق اور عالم دین کی ہر تنقید و ترید میں بہت فرق ہوتا ہے، اسی فرق کی رعایت کی وجہ سے صحابہ کرامؓ ، تابعین عظامؒ اور ائمہ سلف کااختلاف تفریق و انتشار کا سبب نہیں بنا، علم کی پہچان یہ ہے کہ وہ بحث وتکرارسے دور رہتاہے کہ تکرار دلوں کو بدل دیتی ہے اور الفت ویگانگت کے بعد جدائی کاوارث بنادیتی ہے لہٰذا کسی عالم کو زیب نہیں دیتا کہ وہ لوگوں کو کسی ایک مذہب پر عمل کےلئے مجبور کرے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK