ہیلتھ کیئر ورکرس کی قلت کا مسئلہ

Updated: July 02, 2020, 11:13 AM IST | Editorial

ہمارے ملک میں صحت عملہ، جسے انگریزی میں ہیلتھ کیئر ورکرس کہا جاتا ہے، ناکافی ہی ناکافی ہے۔ اس سلسلے میں تازہ اور نئے اعدادوشمار تو کیا،پرانی تفصیل بھی مشکل سے ملتی ہے

Health Worker - Pic : PTI
ہیلتھ ورکر ۔ تصویر : پی ٹی آئی

ہمارے ملک میں صحت عملہ، جسے انگریزی میں ہیلتھ کیئر ورکرس کہا جاتا ہے، ناکافی ہی ناکافی ہے۔ اس سلسلے میں تازہ اور نئے اعدادوشمار تو کیا،پرانی تفصیل بھی مشکل سے ملتی ہے۔ جو تفصیل دستیاب ہے وہ بھی اتنی جامع اور قابل اعتماد نہیں ہے کہ اسے وثوق کے ساتھ پیش کیا جاسکے۔ مردم شماری میں جن لوگوں نے اپنا پیشہ اُمور صحت سے متعلق بتایا تھا اُن کی تعداد ۲ء۱۷؍ ملین بتائی جاتی ہے۔ اس حساب سے وطن عزیز میں ہر ۱۰؍ ہزار کی آبادی پر صرف ۲۰؍ افراد کا ہیلتھ اسٹاف ہے۔ ان میں ڈاکٹرس (ایلوپیتھی اور آیوش) ہیں، نرسیں ہیں،فارماسسٹ ہیں اور دیگر افراد ہیں جو مریضوں کی دیکھ بھال پر مامور ہوتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں جب کورونا کے قہر سے ہر طرف افراتفری پھیل گئی، اسپتال مریضو ںسے اَٹ گئے اور مریضوں کی کیفیات کو سمجھنے نیز اُن کی دیکھ بھال کرنے والوں کی شدید قلت کا سامنا ہوا تب حکومت نے بھی محسوس کیا کہ ملک میں ہیلتھ کیئر ورکرس کی کمی ایسی نہیں کہ اتنے برس تک نظر انداز کی جاتی۔ جب ارباب اختیار و اقتدار جاگے تو انہوں نے ڈاکٹروں اور نرسوں کی تقرری کیلئے فوری طور پر اشتہارات نکالے مگر خاطر خواہ تقرریاں نہیں ہوپائیں۔ اضافی تنخواہوں پر بھی کم لوگ دستیاب ہوئے۔ اس کی ایک وجہ تو کورونا کا خوف و ہراس تھا (اور ہے) جبکہ دوسری وجہ یہ ہے کہ حکومت نے وقت رہتے میڈیکل کے مختلف اور متعدد شعبہ جات کو اتنا پُرکشش نہیں بنایا کہ نوجوان اس جانب متوجہ ہوتے۔ پُرکشش بنانے سے مراد ہر وہ پیشکش ہے جس کی وجہ سے طلبہ ان شعبوں کی طرف راغب ہوسکتے تھے۔
  ہر ۱۰؍ ہزار کی آبادی پر ۲۰؍ نفری صحت عملہ بھی اس لئے اپنی موجودگی سے کوئی بڑا فائدہ نہیں پہنچا سکتا کہ ان میں سے کئی لوگ اُتنے ہنرمند نہیں ہیں جتنا کہ اُنہیں ہونا چاہئے۔ اس سلسلے میں جو معیار قائم کیا گیا وہ یہ ہے کہ ہر ۱۰؍ ہزار کی آبادی پر ۲۹؍ افراد کا عملہ ہو جس میں سے ۲۲ء۸؍ (اوسطاً) ہنرمند اور تجربہ کار لوگ ہوں۔ اس معیار کے حساب سے ہم تو بہت پچھڑے ہوئے ہیں۔ اسپتالوں میں عملہ کے بہت سے لوگ کئی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں مگر وہ اس کے اہل نہیں ہیں۔ اِس وقت اسپتالوں پر پہاڑ جیسا جو بوجھ ہے اور حکومتیں خواہ وہ ریاستی ہوں یا مرکزی حکومت، جس پریشانی اور فکرمندی کے دور سے گزر رہے ہیں، اُس کا کسی نے اندازہ نہیں کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم کسی بھی وباء سے نمٹنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ نرسوں اور دیگر اسٹاف کا تو جانے دیجئے، ڈاکٹروں کی تعداد بھی ہمارے ملک میں اتنی کم ہے کہ یقین نہیں آتا۔ مثال کے طور پر اس حقیقت کو تسلیم کرنے کی ہمت نہیں ہوتی کہ ملک میں ۱۱؍ ہزار۸۲؍ افراد پر صرف ایک (سرکاری) ڈاکٹر ہے۔ اتنی قلت نہ ہوتی اگر میڈیکل ایجوکیشن کو اتنا مہنگا اور داخلے کو اتنا سخت نہ کردیا گیا ہوتا۔ 
 ہیلتھ ورکرس کی کمی، وطن عزیز میں انسانی جان اور صحت کیلئے کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ملک کے ۱۹۷۴؍ پرائمری ہیلتھ سینٹر ایسے ہیں جہاں ایک بھی ڈاکٹر نہیں ہے۔کمیونٹی ہیلتھ سینٹرس پر کم و بیش ۵؍ ہزار سرجنوں کی کمی ہے۔  گزشتہ ۹؍ سال میں صرف ریاست ِ مدھیہ پردیش میں صحت عملے کی کمی کی وجہ سے ۷۲؍ ہزار نوزائیدہ بچے سرکاری اسپتالوں میں فوت ہوئے ہیں (بحوالہ: ویب سائٹ ڈاؤن ٹو ارتھ)۔ اگر صرف ایک ریاست کا یہ حال ہے تو دیگر ریاستوں کے اعدادوشمار تو ہوش اُڑا دیں گے!
 اس پس منظر میں، وبائی دور کے بحرانی حالات میں، ناکافی صحت عملہ کے جتنے بھی لوگ دن رات ایک کررہے ہیں اُن کی ہر ممکن حوصلہ افزائی کی ازحد ضروری ہے جو اعلیٰ سطح پر ہونی چاہئے۔ اس میں اُن کی خدمات کا اعتراف مالی منفعت کی شکل میں بھی ہو، ترقی کی شکل میں بھی اور عزت افزائی کےذریعہ بھی۔ یہ ہمارے ملک کے ہیرو ہیں۔ وزیر اعظم نے جنتا کرفیو کے دن ہیلتھ اسٹاف کیلئے تالی اور تھالی بجوائی تھی۔ یہ خوشگوار علامتی ذریعۂ اعتراف تھا مگر اتنے پر اکتفا نہیں کیا جاسکتا

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK