حکومت اور گورنرکے درمیان اختلافات سے پیدا ہونے مسائل اور ان کا حل

Updated: September 27, 2021, 7:07 PM IST

اُن ریاستوں میں جہاں مرکز کی حکمراں جماعت کی حریف جماعتوں کی حکومتیں ہوتی ہیں، وہاں پر حکومت اور گورنر کے درمیان تصادم کوئی نئی بات نہیں، زیر نظر کالم میں انقلاب نے انہی حالات کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

 ریاستی حکومتوں اور گورنرس کے درمیان تنازع کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ایک طرح سے یہ ہماری سیاسی ’تہذیب‘ کا حصہ بن چکی ہے، جس کے اب ہم تقریباً عادی ہوتے جارہے ہیں۔ گزشتہ دنوں مہاراشٹر میں  اسی ’تہذیب‘ کاایک بار پھر اعادہ ہوا۔ خواتین کے خلاف جرائم کی  خبر سن کر مہاراشٹر کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری ’جذباتی‘ ہوگئے اور اسی جذبات میں انہوں نے وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے نام مکتوب لکھ کر ان سے دو دن کیلئے اسمبلی سیشن طلب کرنے کا مشورہ دے دیا تاکہ ریاست میں امن و امان کے قیام اور خواتین کیلئے بہتر ماحول فراہم کرنے سےمتعلق بامعنی بحث کے بعد کوئی  ٹھوس لائحہ عمل ترتیب پا سکے۔ وزیراعلیٰ نےان کے جذبات کی ’قدر‘ کرتے ہوئے انہیں  ایک جوابی خط تحریر کیا اور ان سے کہا کہ خواتین کے خلاف جرائم پر گفتگو ہونی چاہئے لیکن چونکہ یہ مسئلہ قومی سطح کا ہے،اسلئے ضروری ہے کہ اس پر پارلیمنٹ میں گفتگو ہو تاکہ پورے ملک کیلئے کوئی لائحہ عمل بن سکے۔  انہوں نے اپنے خط میں اُترپردیش کے بدنام زمانہ ۲؍ واقعات ہاتھرس اور اُناؤ اور دہلی کے ایک واقعے کا تذکرہ بھی کیا۔ 
 بھگت سنگھ کوشیاری  اور ادھو ٹھاکرے 
  وزیراعلیٰ کی بات میں دم تھا،اسلئے معاملہ آگے نہیں بڑھا، ورنہ یہ ایک ایشو بن سکتا تھا۔ ریاستی حکومت پر گورنر کے مشورے کو خاطر میں نہ لانے اور آئینی عہدے کے تئیں غیرسنجیدگی کا الزام بھی لگ سکتا تھا اور بات زیادہ بڑھتی تو ’لاا ینڈ آرڈر‘ کی بات کہہ کر ریاست میں صدر راج کے نفاذ کی سفارش بھی کی جاسکتی تھی۔ ویسے یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب  مہاراشٹر کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری اور مہاراشٹر کی حکمراں جماعت کے درمیان اس طرح کی تلخ گفتگو ہوئی ہو۔ یہ تنازع اُس وقت سے ہے جب ریاست میں شیوسینا، این سی پی اور کانگریس کے درمیان غیر متوقع اتحاد کے بعد ۲۳؍ نومبر ۲۰۱۹ء کو سنیچر کے دن علی الصباح ساڑھے سات بجے جب ممبئی جیسے شہر میں نصف سے ز ائد آبادی بستر پر تھی، گورنر نے بی جے پی لیڈر دیویندر فرنویس کو اقلیت میں ہونے کے باوجود بطور وزیراعلیٰ حلف برداری کروادی تھی۔ یہ اور بات ہے کہ تین دن بعد انہیں فرنویس کا استعفیٰ بھی قبول کرنا پڑا اور اس کے ایک دن بعد ادھو ٹھاکرے کو وزیراعلیٰ کا حلف دلانا پڑا۔ اُن تین  دنوں کے درمیان پل پل بدلتے سیاسی واقعات کو نہ توگورنر بھول سکے ہیں، نہ ہی دیویندرفرنویس اور نہ ہی مہاراشٹر کی حکمراں جماعتیں فراموش کرسکی ہیں،اسلئے آئے دن اُن تلخیوں کی یاد دہانی ہوتی رہتی ہے۔
مغربی بنگال میں بھی یہی صورتحال ہے
 کچھ یہی کیفیت  دوسری ریاستوں میں بھی ہے لیکن سب  سے زیادہ سرخیوں میں مغربی بنگال  ہے جہاں گورنر جگدیپ دھنکر اور وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کے درمیان  اختلاف کی خبریں  اکثر سماعتوں سے ٹکراتی رہتی ہیں۔ مغربی بنگال میں جگدیپ دھنکر کی بطور گورنر تقرری ۳۰؍ جولائی ۲۰۱۹ء کو ہوئی تھی۔ اس کے بعد  ۲؍ سال ۲؍ ماہ کے اس مختصر سے عرصے میں وہ ریاستی حکومت کے خلاف کئی بار رپورٹ پیش کرچکے ہیں اور عوامی سطح پر بیان تو ان کیلئے آئے دن کا معمول بن چکا ہے۔
 بی جے پی ریاستوں میں خاموشی
 جیسا کہ مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے اپنے خط میں تذکرہ کیا تھا کہ بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں نظم ونسق کی حالت زیادہ ابتر ہے، اس کا اظہار اکثر و بیشتر ہوتا رہا ہے۔   اترپردیش، بہار، دہلی  (جہاں  لا اینڈ آرڈر کی ذمہ داری مرکزی وزارت داخلہ کے تحت ہوتی ہے)، کرناٹک، ہریانہ اور جموں کشمیر جیسی ریاستوں اور مرکز ی خطوں میں نظم و نسق کی صورتحال کہیں زیادہ بدتر ہے لیکن یہاں کے گورنر کو کبھی   ریاست کے وزرائے اعلیٰ کو تلقین کرتے ہوئے نہیں سنا گیا ۔ اترپردیش میں اُناؤ اور ہاتھرس میں عصمت دری کے جو  روح فرساواقعات سامنے آئے تھے، اس طرح کے واقعات اگر کسی غیر بی جے پی کی حکمرانی والی ریاست میں رونما ہوئے ہوتے تو زمین کو آسمان پر اُٹھا لیا جاتا اور گورنر کی طرف سے حکومت کو برخاست تک کرنے کی رپورٹ بھیج دی جاتی۔  اس کے برعکس ۴؍ سال قبل  اتراکھنڈ میں پیش آنےوالے کا جائزہ لیا جائے جب بی جے پی نے لااینڈ آرڈر کی بنیاد پر ریاستی حکومت کو برخاست کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا تھا۔
 گورنرس کوصدر جمہوریہ کی تلقین
  ایک سال قبل صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے گورنروں کی  ایک کانفرنس میں انہیں یاد دلایا تھا کہ آئین کے دائرے میں  رہتے ہوئے وہ ریاستی حکومتوں سے ہرممکن تعاون کریں تاکہ وفاقی جمہوریہ کا خواب شرمندہ تعبیر پاسکے۔ انہوںنے اس مسئلے پر ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی تھی مگر اس کمیٹی نے کیا  رپورٹ پیش کی،منظر عام پر نہیں آسکی۔ اسی طرح۵۰؍ سال قبل ۱۹۷۱ء میں بھگوان سہائے پینل نے ریاستی حکومتوں اور گورنرس کے درمیان تصادم سے بچنے کیلئے ایک تجویز پیش کی تھی کہ صدر جمہوریہ کے دفتر میں ایک خصوصی سیل صرف گورنروں کے احکامات کا جائزہ لے لیکن اس پر بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ 
اختلافات سے مسائل اور حل
 گورنرس اور حکومتوں کے درمیان اس طرح کے اختلافات اور دونوں کے درمیان عدم اعتماد کے ماحول سے نہ صرف ریاست میں ترقی کی راہیں مسدود ہوتی ہیں بلکہ نظم و نسق کے بگڑنے کے بھی خدشات لاحق رہتے ہیں۔ اسلئے ضروری ہے کہ  ریاستی حکومتیں گورنر کے آئینی عہدے کالحاظ رکھیں اور گورنر بھی اس بات کا خیال رکھیں کہ اب وہ کسی جماعت کے نمائندے نہیں بلکہ ریاست کے سربراہ ہیں۔اس کیلئے ضروری ہے کہ حکومتیں بھی  گورنرس کا انتخاب کرتے وقت سرکاریہ کمیشن کی سفارشات کو ملحوظ خاطر رکھیں جس میں انہوں نے ریاستوں میں غیر جانب دار، جو  گورنروں کی تقرری کا مشورہ دیا ہے جو سیاسی وفاداریوں سے اوپر اُٹھ کر فیصلے کرسکے.... لیکن کیا آج کے حالات میں مرکزی حکومت سے اس طرح کی کوئی امید کی جاسکتی ہے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK