Inquilab Logo Happiest Places to Work

دُنیا عاقبت نااندیش سیاست دانوں  کے انتخاب کی قیمت چکارہی ہے

Updated: March 15, 2026, 11:28 AM IST | Asim Jalal | Mumbai

جب قومیں دور اندیش قیادت کے بجائے جذباتی اور تصادم پسند سیاست دانوں کو اقتدار سونپ دیتی ہیں تو اس کی قیمت بالآخر وہی ہوتی ہے جو اس وقت ایران جنگ کی شکل میں دنیا چکارہی ہےمگر یہ بھی تلخ حقیقت ہی ہے کہ عوامی سطح پر آج ایسے ہی لیڈروں کا قبول عام اصل ہورہا ہے۔

Donald Trump. Photo: INN
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این

تختہ پلٹ دینے کے   ہدف کے ساتھ  ایران پر حملہ کردینے والا سپرپاور  امریکہ اب بھلے ہی اپنی جھوٹی شان بچانے کی کوشش میں اپنی کامیابی کا دعویٰ کررہا ہو، مگر دنیا دیکھ رہی ہے کہ تہران کا پلڑا بھاری ہے ۔ امریکہ کسی صورت جنگ بندی   کے ذریعہ اُس دلدل سے نکل جانا چاہتا ہے جس میں   اسرائیل کی شہ پر وہ کود تو گیا مگر نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا۔   برطانوی اخبار ’دی گارجین ‘ کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں ٹرمپ کے خصوصی ایلچی  اسٹیو وِٹکوف  جنگ بندی کیلئے الگ الگ چینلوں سے ایران  سے کم ازکم ۲؍ بار  رابطہ کرچکے ہیں مگر ہر بار انہیں واضح ’نہ‘ میں  جواب ملا ہے۔  مذاکرات کے نام پر بار بار دھوکہ کھانے کے بعد ایران کے سامنے  ماضی کی مثالیں موجود ہیں کہ امریکہ  اوراسرائیل کیلئے اکثر  ’’جنگ بندی‘‘ کا مطلب دوبارہ مجتمع ہونے کی مہلت حاصل کرنا، اسلحہ کو دوبارہ لوڈ کرنا اور مذاکرات کی ناکامی کا دعویٰ کرکے نئی حکمت عملی کے تحت نئے سرے سے حملے کردینا ہے۔ایران  خوب سمجھ رہا ہے کہ امریکہ سانس لینے کی مہلت چاہتا ہے  اور وہ ایسی کوئی بے وقوفی کرنے  کے موڈ میں  نہیں ہے۔جنگ میں ایران کو واضح بالادستی حاصل ہے۔ایران نے خطہ میں  امریکی فوجی اڈوں کو بری طرح تباہ کردیا ہے ۔تل ابیب سے لے کر حیفا تک سسکیاں  سنائی دے رہی ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ  بھلے ہی ایران کے تمام میزائلوں کو ختم کردینے اور  اس کی بحریہ کو پوری طرح  تباہ کردینےکا دعویٰ کرتے ہوئے  بار بار یہ کہہ کر اپنی فتح کا اعلان کررہے ہوں کہ اب ایران میں نشانہ بنانے کیلئے کچھ نہیں بچا مگر اندرخانے ٹرمپ انتظامیہ کی راتوں کی نیند اڑی ہوئی ہے۔ فرانس جیسے امریکہ کے اتحادی ملک بھی آبنائے ہرمز سے اپنے جہازوں  کے گزرنے کی اجازت حاصل کرنےکیلئے تہران سے رابطہ کر رہے ہیں۔ عرب ممالک کو احساس ہوچکا ہوگا کہ جو امریکہ مشرق وسطیٰ  میں اپنے فوجی اڈوں اور مفادات کی حفاظت نہیں کرسکتاوہ  ان کی سلامتی کی کیا ضمانت دے سکتاہے۔ اسی وجہ سے بہت سے تجزیہ کار ایران جنگ سے علاقائی سیاسی مساوات میں تبدیلی کا امکان کا امکان ظاہر کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسلام میں خواتین کے حقوق: کیا سماج انصاف کر رہا ہے؟ کوتاہی کو کیسے دور کیا جائے؟

تاہم بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا ایران پرحملے کی ضرورت تھی، خاص طور سے اس وقت جب وہ مذاکرات کے ٹیبل پر تھا اور بہت مثبت پیش رفت ہورہی تھی۔ عالمی سیاست میں بعض اوقات کچھ ایسے فیصلے  ہوجاتے ہیں جن کے اثرات کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ایران جنگ اسی حقیقت کی ایک نمایاں مثال ہے۔ آج عالمی معیشت اور ایندھن کی فراہمی  جوغیر یقینی صورتحال سے گزر رہی  ہے، وہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جب قومیں دور اندیش قیادت کے بجائے جذباتی اور تصادم پسند سیاست دانوں کو اقتدار سونپ دیتی ہیں تو اس کی قیمت بالآخر پوری دنیا کو چکانی پڑتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: ’’دھرندھر اِفیکٹ‘‘ اور فلمی معیشت کی نئی حقیقت

سفارتکاری پر  طاقت کے استعمال کو ترجیح  نہ صرف خطے میں کشیدگی کا سبب بنی بلکہ  اس نے عالمی سطح پر بھی  عدم استحکام کو بڑھاوا دیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی من مانی کی قیمت پوری دنیا چکا رہی ہے۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز جیسے حساس علاقوں میں کشیدگی نے عالمی توانائی کی سپلائی کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے معیشتوں کو متاثر کیا ہے۔عام شہری، جو ان پالیسیوں کے فیصلوں میں براہِ راست شریک نہیں ہوتے، سب سے زیادہ متاثر ہیں مگر یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ ناعاقبت اندیشی پر مبنی اور اوٹ پٹانگ فیصلے کرنے والے ان لیڈروں کا انتخاب عوام نے ہی کیا ہے۔ پوری دنیا میں جذباتیت اور دائیں بازو  کی نیز علاقائی تعصب پر مبنی شدت پسندی کو عروج حاصل ہورہاہے۔ وہ لیڈر مقبولیت اور اقتدار حاصل  کر رہے ہیں جو   شدت پسندی کو استعمال کرنے، زبانی جمع خرج اور خواب دکھانے کا ہنر جانتے ہیں۔ ’میک امریکہ گریٹ اگین‘ کا نعرہ دے کراقتدار سنبھالنے والے ٹرمپ بھی انہی میں  سے  ایک ہیں جو  شاید امریکہ کی بچی کھچی ساکھ کو بھی ختم کرکے ہی دم لیں گے مگر امریکی عوام  کے اس  انتخاب کی قیمت پوری دنیا کو چکانی پڑے گی جو وہ چکابھی رہی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK