زکوٰۃ نکالنے والوںکی کمی نہیں ،کمی ہے تو بس رقم کے جمع و تقسیم کے نظم کی ،ہر سال اتنی خطیررقم زکوۃ کی جمع ہوتی ہےکہ مسلمان صرف اپنے معاشرے کی ہی نہیںبلکہ برادران وطن کے مختلف طبقات اورخود حکومت کی بھی مدد کرنے والے بن سکتےہیں۔
EPAPER
Updated: March 15, 2026, 11:38 AM IST | Arkam Noorul Hasan | Mumbai
زکوٰۃ نکالنے والوںکی کمی نہیں ،کمی ہے تو بس رقم کے جمع و تقسیم کے نظم کی ،ہر سال اتنی خطیررقم زکوۃ کی جمع ہوتی ہےکہ مسلمان صرف اپنے معاشرے کی ہی نہیںبلکہ برادران وطن کے مختلف طبقات اورخود حکومت کی بھی مدد کرنے والے بن سکتےہیں۔
زکوۃ کے تعلق سے اسلام کا تصوربالکل واـضح ہے ا ور وہ تصور یہ ہےکہ اس فریضہ کے ذریعے غریبوں، ضرورتمندوں،مستحقین اور قرضداروںکی مالی مدد اس نیت و جذبےکے ساتھ کی جائے کہ آج جوضرورتمند ہیں ، کل وہ دوسرے ضرورتمندوں کو دینے والے بن جائیں ۔زکوۃکی اہمیت کیلئے یہی کا فی ہےکہ قرآن پاک میںجب بھی اس کاذکر آیا ہے ،نماز کےساتھ آیا ہے لیکن دیکھا جاتا ہےکہ ہمارے یہاںنماز کے اجتماعی نظم کےاصول کا اطلاق زکوۃ کی ادائیگی پرنہیںکیا جاتا یا اگرکیابھی جاتا ہےتویہ استثنائی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ملک میںہر سال ۱۰؍ ہزارکروڑ سے ۴۰؍ ہزار کروڑ روپےکے آس پاس زکوۃ نکالی جاتی ہے، اس کے باوجودمقصدحاصل نہیںہورہا ہے اور سال دَرسال ضرورتمندوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔مسئلہ ضرورتمندوںکی تعداد بڑھنے کا بھی نہیںہے کیونکہ زکوۃ کے اجتماعی نظم کے جو مقاصد بیان کئے جاتے ہیںان میںسےایک تو یہ واضح ہے زکوۃ لینے والا ، دینے والا بن جائےاور جو دینے والا بنے گا ، اسے یقیناً کسی ضرورتمند کی تلاش ہوگی ۔ اجتماعی نظم کا وسیع تر مقصدیہ ہےکہ زکوۃ دینے والوں سے لےکرلینے والوں تک سب کومنظم یعنی اسٹریم لائن کیاجائے اوراس طرح کیاجائےکہ کوئی ضرورتمندتو رہے لیکن مانگنے والا نہ رہے۔یعنی اس اجتماعی نظم کے ذریعے ضرورتمندوں کو تلاش کیاجائے اوراس نظم کے ایسے نتائج برآمدہوں کہ کوئی ضرورتمند اِن شاءَاللہ مانگنے پرمجبور نہ ہو ۔یہ نظم نہ ہونے سے اب تک جو مسئلہ درپیش ہےکہ وہ یہ ہے کہ ضرورتمندوںکی نہیںبلکہ مانگنے والوں کی تعداد سال دَر سال بڑھتی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: حالاتِ حاضرہ اور ادب کے طلبہ
زکوۃ کے جو بھی اعدادوشمار ہوتےہیںوہ باضابطہ اورسرکاری نہیں ہوتےبلکہ انفرادی محققین اوراداروںکی تحقیقات پرمبنی ہوتے ہیںجن سے ایک بات واضح ہوتی ہےکہ مسلم معاشرے میںزکوۃ نکالنے والوںکی کمی نہیں ہے ۔ جو بھی اعداد و شمار ہیںوہ لاکھوںکروڑوںبلکہ اربوں میں ہیںاوران کا ریکارڈ تو اندازاً مل بھی جاتا ہےلیکن ان کا مصرف کہاں اور کیسے ہوتا ہے، اس کا ریکارڈ بن پاتا ہے ،نہ محفوظ ہوپاتاہے۔ہندوستانی مسلمانوں میں۵۰؍ فیصد صاحب نصاب ہیں۔ انہی صاحبان نصاب کے ذریعے نکالی گئی لاکھوں کروڑوں کی رقم کی منظم تقسیم کا فقدان ہے۔ان میںسے بہت سےصاحبان نجی طورپرکسی ضرورتمند کی مدد کردیتے ہیں،بہت سے ایسے ہوتے ہیںجو کسی ادارے کو زکوۃ دےدیتے ہیں، کئی مدارس کو دے دیتے ہیں، کچھ ہوتے ہیں جو یتیموںکورقم پہنچادیتے ہیںاوربڑی تعداد مدارس کودینے والوں کی بھی ہوتی ہے۔غریبوں اور مستحقین کی امداد کے طورپریہ کام مذکورہ سارے پہلوؤں سے ہورہا ہے لیکن مسلمانوں کی مجموعی پسماندگی کی صورتحال اوربالخصوص ان کی شبیہ بہتر نہیںہوسکی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یاہو اور ٹرمپ بین الاقوامی قوانین کے پرخچے اُڑا رہے ہیں
اے پی کالج آف کامرس اینڈ اکنامکس میںشعبہ بزنس اکنامکس کے سربراہ اور ریڈرڈاکٹر رحمت اللہ نے۳؍ اور۴؍ستمبر۲۰۰۵ء کو دہلی میںمنعقدہ زکوۃنیشنل سیمینارمیںایک طویل مقالہ پیش کیا تھا جس میں انہوں نےایک عمومی جائزہ کی بنیادپر بتایا تھا کہ ملک میں۲۰۰۵ء اور اس سےکچھ پہلے برسوں تک ایک کھرب ۴۰؍ ارب ۹۴؍ کروڑ۴۳؍ لاکھ روپے بطورزکوۃ جمع کئے گئے اورتقسیم کئے گئے ۔زکوۃ فاؤنڈیشن آف انڈیا کے زیر اہتمام منعقدہ اس سیمینار میں انہوں نے بتانے کی کوشش کی تھی کہ اگر ہر سال لاکھوں کروڑو ں کی زکوۃ کی رقم کی تقسیم منظم ہوتوملک کے ہر غریب مسلم خاندان کومالی طورپرخود کفیل بنایاجاسکتا ہے اوراس کی ماہانہ کم از کم ۲؍ ہزار روپےتک بہ آسانی مدد کی جاسکتی ہے۔ یہ ۲۰؍سال پہلے کی تحقیق اور اس پرمبنی اشاریے ہیں۔آج حالات یکسر تبدیل ہوچکے ہیں۔اس وقت اگر زکوۃ کی رقم لاکھوںکروڑوں میںتھی تو آج یقیناً اربوںکھربوں تک پہنچ چکی ہوگی ۔بہر حال اصل مسئلہ رقم کی تنظیم وترتیب کا جو اس وقت تھا ، آج بھی ہے۔مختلف ادارہ جاتی اور تنظیمی سطحوں تک زکوۃ کے اجتماعی نظم کا دعویٰ کیاجاتا ہے لیکن مختلف اداروں سے وابستگی کے نتیجے میں یہ نظم کسی نہ کسی شکل میں خود تقسیم کا شکار نظرآتا ہے ۔کئی ٹرسٹ اورادارے زکوۃ کی رقم کی جمع وتقسیم کےاجتماعی نظم کی سمت میںکام کر رہےہیںلیکن اس کام کو مرکزیت حاصل نہیں ہے۔یہ اجتماعی ہدف اس وقت تک حاصل نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ پورے نظام کو ایک مرکز پراور ایک نگراں کے تحت نہ لایاجائے۔جس طرح شرعی قوانین اور ان کے تحفظ کیلئے پرسنل لا ء بورڈ موجود ہے،اسی طرح زکوۃ اور اس کے ریکارڈ کیلئےایک نجی ادارہ کا قیام کیوںنہیں ہوسکتا ؟ مسلم معاشرہ میں زکوۃ کی روایت حکومت کے ریکارڈ میںشامل نہیں لیکن زکوۃ کی رقم کسی نہ کسی صورت میںحکومت کی نظر میںہوتی ہے۔غیر رسمی طورپرحکومت کو بھی یہ اندازہ ہوتا ہےکہ زکوۃ کے ذریعے مسلم سماج میںپیسے کس طرح گردش کررہے ہیں۔اس خطیر رقم کا باقاعدہ ریکارڈ ہونے کی صو رت میںمسلمان غریبوں اورپسماندہ طبقات سے متعلق حکومت کی اسکیموں میںتعاون کرسکتے ہیں۔یعنی مسلمان صرف اپنے معاشرہ کی ہی نہیںبلکہ برادران وطن کے مختلف طبقات اور خود حکومت کی بھی مدد کرنے والے بن سکتے ہیں۔کچھ کمی ہےتو بس تنظیم کی ۔اب اس پرغور کرنامسلم عمائدین کی ذمہ داری ہےکہ ایسا کیوں ہے اور اجتماعی نظم زکوۃ میںآخر کیا چیز مانع ہے؟