Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستانی کرکٹ کیلئے کامیابیوں کے نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے

Updated: March 15, 2026, 11:33 AM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai

ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ تیسری مرتبہ جیتنے والی پہلی ٹیم بننا اور اپنے خطاب کا دفاع کرنے والی بھی پہلی ٹیم بننا ہندوستان کی فتح میں چار چاند لگادیتا ہے ۔

A major strength of Indian cricket is its strong domestic system, in which the IPL plays a particularly prominent role. Photo: INN
ہندوستانی کرکٹ کی ایک بڑی طاقت اس کا مضبوط ڈومیسٹک نظام ہے، جس میں خاص طور پرآئی پی ایل کا کردار نمایاں ہے۔ تصویر: آئی این این

ٹی ٹوینٹی کرکٹ گزشتہ  دو دہائی  میں عالمی کھیل کی سب سے تیز رفتار اور مقبول ترین شکل بن چکی ہے۔ اس فارمیٹ میں مقابلہ نہایت سخت ہوتا ہے اور چند اوورس کے اندر میچ کا نقشہ بدل جاتا ہے۔ اسی  لئے عالمی سطح پر ہونے والا ٹی ٹوینٹی  ورلڈ کپ ہمیشہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس ٹورنامنٹ میں کسی بھی ٹیم کی کامیابی صرف اس کی مہارت کا نہیںبلکہ اس کے کھیل کے نظام، حکمت عملی اور ذہنی مضبوطی کا ثبوت ہوتی ہے۔حالیہ ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ میں ہندوستان کی فتح اس  لئےاہمیت رکھتی ہے کیوں کہ یہ کامیابی ایسے وقت میں حاصل ہوئی جب ٹیم میں طویل عرصے تک ۲؍ اہم  ستون سمجھے جانے والے کھلاڑی  روہت شرما اور وراٹ کوہلی شامل نہیں تھے۔ گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستانی کرکٹ کا بڑا حصہ انہی دونوں کھلاڑیوں کے گرد گھومتا رہا ہے۔ ایسے میں ان کے بغیر عالمی ٹورنامنٹ جیتنا صرف ایک کھیل کی کامیابی نہیں بلکہ ہندوستانی کرکٹ کے ڈھانچے میں آنے والی مثبت تبدیلیوں کی علامت بھی ہے۔ تاہم اس کامیابی کا تجزیہ محض جذباتی انداز میں نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ اور تنقیدی نقطۂ نظر سے بھی کرنا ضروری ہے۔ہندوستانی ٹیم گزشتہ چند برسوں سے ایک عبوری مرحلے سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف سینئر کھلاڑی اپنے طویل اور کامیاب کیریئر کے آخری مرحلے میں ہیں، دوسری طرف نوجوان کھلاڑی بین الاقوامی کرکٹ میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں ٹیم کے انتخاب، قیادت اور حکمت عملی کے حوالے سے کئی اہم فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔روہت شرما اور وراٹ کوہلی جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں نے ہندوستانی ٹیم کو کئی اہم فتوحات دلائیں لیکن ان پر انحصار بھی غیر معمولی حد تک بڑھ گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب یہ دونوں کھلاڑی ٹیم کا حصہ نہیں تھے تو بہت سے سابق کھلاڑیوں کو خدشہ تھا کہ ہندوستانی ٹیم دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔ مگر اس ورلڈ کپ میں ٹیم نے اجتماعی کارکردگی کے ذریعے یہ تاثر کافی حد تک غلط ثابت کیا۔

یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: ’’دھرندھر اِفیکٹ‘‘ اور فلمی معیشت کی نئی حقیقت

اس  کامیابی میں ٹیم کی نئی قیادت اور حکمت عملی کا بھی اہم کردار رہا۔ آل راؤنڈر ہاردک پانڈیا جیسے کھلاڑیوں نے نہ صرف میدان میں کارکردگی دکھائی بلکہ ٹیم کو متوازن رکھنے میں بھی کردار ادا کیا۔ اسی طرح مڈل آرڈر میں سوریہ کمار یادو جیسے جارحانہ بلے باز  نے جدید ٹی ٹوینٹی کرکٹ کے تقاضوں کے مطابق بیٹنگ کی رفتار کو برقرار رکھا۔ٹی ٹوینٹی کرکٹ کے سبب  اب بیٹنگ کا انداز روایتی نہیں رہا۔ ٹیمیں شروع سے ہی جارحانہ انداز اختیار کرتی ہیں تاکہ پاور پلے کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکے۔ ہندوستانی ٹیم نے بھی اسی حکمت عملی کو اپنایا اور ابتدائی اوورز میں تیز اسکورنگ کے ذریعے حریف ٹیموں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ اس کوشش میں سنجو سیمسن کی بلے بازی کو سب سے اوپر رکھا جاسکتا ہے۔ انہوں  نے ویسٹ انڈیز ، انگلینڈ اور پھر نیوزی لینڈ جیسی مضبوط ٹیموں کے خلاف جو کھیل پیش کیا وہ ناقابل یقین ہے۔ ان کے علاوہ ایشان کشن نے بھی اپنے بلے سے رنگ جمایا۔ سوریہ کمار یادو  اور شیوم دوبے نے بھی مختلف میچوں میں اپنی چھاپ چھوڑی ۔

ہندوستانی ٹیم کی کامیابی میں بولنگ اٹیک کا کردار بھی اہم  رہا۔ ٹی ٹوینٹی فارمیٹ میں بولرس کے  لئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوتا ہے کہ وہ محدود اوورس میں رنوں کے بہاؤ کو قابو میں رکھیں اور وقتاً فوقتاً وکٹیں حاصل کریں۔اس ٹورنامنٹ میں فاسٹ بولرز اور اسپنرز کے درمیان بہتر توازن دیکھنے کو ملا۔ جسپریت بمراہ نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ وہ اس وقت عالمی کرکٹ کے سب سے بڑے اور قابل اعتماد گیند باز ہیں۔ انہوں نے سیمی فائنل  اور فائنل میں جس انداز میں گیند بازی کی اس نے ٹیم انڈیا کی جیت پر مہر ثبت کردی ۔   انہوں نے پاور پلے میں ابتدائی وکٹیں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مڈل اوورز میں اسپنرس کے لئے کام آسان کردیا۔   جدید کرکٹ میں فیلڈنگ کو بھی ہار اور جیت کا اہم عنصر سمجھا جاتا ہے۔ ماضی میں ہندوستانی ٹیم کو اس شعبے میں تنقیدوںکا سامنا کرنا پڑتا تھا لیکن حالیہ برسوں میں ٹیم کی فیلڈنگ کے معیارمیں واضح بہتری آئی ہے۔ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ کے دوران ہندوستانی کھلاڑیوں نے نہ صرف مشکل کیچ پکڑے بلکہ گراؤنڈ فیلڈنگ کے ذریعے کئی قیمتی رنز بھی بچائے۔ محدود اوورز کے کھیل میں ایسے چھوٹے عوامل بھی میچ کے نتیجے پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ پرہندوستان کا موقف ’نرم ‘یا ’ناکام‘ ؟

ہندوستانی کرکٹ کی ایک بڑی طاقت اس کا مضبوط ڈومیسٹک نظام ہے، جس میں خاص طور پرآئی پی ایل کا کردار نمایاں ہے۔ آئی پی ایل نے گزشتہ برسوں میں درجنوں نوجوان کھلاڑیوں کو عالمی معیار کا کرکٹ کھیلنے کا موقع فراہم کیا ہے۔اس لیگ کی بدولت ہندوستانی ٹیم کے پاس کھلاڑیوں کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ جب سینئر کھلاڑی ٹیم کا حصہ نہیں تھے تو نوجوان کھلاڑیوں نے اس خلاء کو پر کرنے کی کوشش کی۔  

اگرچہ ورلڈ کپ میں ہندوستان کی فتح اہم ہے لیکن اس کا تنقیدی جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ سب سے پہلی کمزوری بیٹنگ کے تسلسل کی ہے۔ بعض میچوں میں دیکھا گیا کہ اگر ابتدائی وکٹیں جلد گر جائیں تو مڈل آرڈر دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں ٹیم کو اسکور کو سنبھالنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ یہ صورتحال ہمیں نیدر لینڈس اور جنوبی افریقہ کے خلاف میچوں میں دیکھنے کو ملی۔دوسرا مسئلہ فاسٹ بولنگ کی گہرائی کا ہے۔ اگرچہ  جسپریت بمراہ نے شاندار کارکردگی دکھائی لیکن دوسرا کوئی بھی گیند باز چھاپ نہیں چھوڑ سکا ۔محمد سراج کو پہلے میچ میںموقع دیا گیا تھا اور انہوں نے جیت میں اہم کردار بھی ادا کیا لیکن بعد میں نہ جانے کیوں انہیں بنچ پر بٹھادیا گیا۔  اس وقت صرف بمراہ ہی تجربہ کار اور شاندار گیند باز ہیں اور ٹیم مینجمنٹ ان پر ضرورت سے زیادہ بھروسہ بھی کرتا ہے جس کی وجہ سے ان کا بوجھ بڑھ گیا ہے۔ 

بین الاقوامی سطح پر آسٹریلیا، انگلینڈ اور پاکستان جیسی ٹیمیں فاسٹ بولنگ کے شعبے میں بہت مضبوط سمجھی جاتی ہیں، ان سے مقابلے کیلئے ہندوستان کو بھی اس شعبے میں مزید بہتری لانی ہوگی۔تیسرا مسئلہ ٹیم کے تجربے سے متعلق ہے۔ نوجوان ٹیم  اچھی ہوتی ہے ، اس میں جوش اور ولولہ بھی ہوتا ہے لیکن  اس کے لئے مسلسل دباؤ والے میچ کھیلنا آسان نہیں ہوتا۔ عالمی ٹورنامنٹس میں اکثر سیمی فائنل اور فائنل جیسے مرحلے ذہنی طور پر بہت مشکل ہوتے ہیں۔ مستقبل میں یہی پہلو ٹیم کے  لئے بڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: حالاتِ حاضرہ اور ادب کے طلبہ

ہندوستانی کرکٹ کے  لئے یہ کامیابی ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتی ہے۔ نوجوان کھلاڑیوں کو اب عالمی سطح پر کامیابی کا اعتماد حاصل ہو گیا ہے، جبکہ ٹیم مینجمنٹ کو بھی یہ تجربہ ہو گیا ہے کہ وہ ٹیم  کے مختلف ’’کو مبی نیشن‘‘ آزما سکتی ہے۔اگر ٹیم اپنی موجودہ کمزوریوں کو دور کر لے اور نوجوان کھلاڑیوں کو مسلسل مواقع فراہم  کئےجائیں تو آنے والے برسوں میں ہندوستانی ٹیم مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK