تہران نئی دہلی کیلئے صرف تیل فراہم کرنے والا عام اتحادی نہیں تھا۔ وہ مشرق وسطیٰ کے تعلق سے ملک کی حکمت عملی کا ایک اہم ستون تھا جو ایندھن سے متعلق سیکوریٹی، وسطی ایشیا تک رسائی اور ایک پیچیدہ خطے میں جغرافیائی سیاست کو توازن فراہم کرتا تھا۔
EPAPER
Updated: March 15, 2026, 11:48 AM IST | Asif Ullah Khan | Mumbai
تہران نئی دہلی کیلئے صرف تیل فراہم کرنے والا عام اتحادی نہیں تھا۔ وہ مشرق وسطیٰ کے تعلق سے ملک کی حکمت عملی کا ایک اہم ستون تھا جو ایندھن سے متعلق سیکوریٹی، وسطی ایشیا تک رسائی اور ایک پیچیدہ خطے میں جغرافیائی سیاست کو توازن فراہم کرتا تھا۔
ہندوستان کے کئی شہروں میں رسوئی گیس (ایل پی جی) کی حالیہ قلت اور پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں صرف معاشی رخنہ اندازی نہیں ہیں بلکہ گہری سفارتی ناکامی کا نتیجہ بھی ہیں۔ آج ہندوستانی باورچی خانوں اور ریستورانوں کو جن مسائل کا سامنا ہے وہ مشرق وسطیٰ کے تعلق سے نئی دہلی کی غیر جانبداری اوراختیاط پر مبنی دیرینہ پالیسی کو ترک کرکے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بتدریج وابستگی کا نتیجہ ہے۔ ایک ایسے خطے میں جہاں تنازعات راتوں رات توانائی کی عالمی ترسیل کو متاثر کر سکتے ہیں، ایران جیسے دیرینہ شراکت دار سے ہندوستان کا دور ہونا اب تیزی سے دور اندیشی سے محروم فیصلہ محسوس ہونے لگا ہے۔
کئی دہائیوں تک ہندوستان نے مغربی ایشیا میںاپنے تعلقات کےمعاملے میں بہت ہی نازک توازن کوبرقرار رکھا۔ اس نے توانائی کی سلامتی اور علاقائی روابط کیلئےایران کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم رکھنے کے ساتھ ہی اسرائیل اور عرب خلیجی ممالک کے ساتھ بھی خوشگوار روابط کو یقینی بنایا۔ اسٹریٹجک خود مختاری کی اس حکمت عملی کی بدولت ہندوستان مشرق وسطیٰ کے ممالک کی باہمی رقابتوں میں الجھے بغیر ان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھتا تھالیکن حالیہ برسوں میں ا س نے یہ توازن کھو دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یاہو اور ٹرمپ بین الاقوامی قوانین کے پرخچے اُڑا رہے ہیں
وزیراعظم نریندر مودی کے قیادت سنبھالنے کے بعد ہندوستان نے اسرائیل کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو نمایاں طور پر بڑھایا اور اور واشنگٹن کے ساتھ سیاسی ہم آہنگی کو مضبوط بنایا۔ اس سے دفاع اورتکنالوجی کے شعبوں میں کچھ فائدے ضرور حاصل ہوئےمگر اس فائدہ کی قیمت خطے میں ہندوستان کے آزاد اور متوازن موقف کو کمزور کرکے چکائی گئی۔ ایران، جو ایندھن کی فراہمی کے معاملہ میں ہندوستان کا قابل اعتماد ساتھی تھا، ہندوستان کی ترجیحات کی فہرست میں بتدریج نیچے کی طرف سرکتا چلا گیا۔یہ تبدیلی مودی کے حالیہ اسرائیل دورے میں، جسے بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیاگیا، صاف نظر آنے لگی تھی ۔ ’’میڈل آف دی کنیسٹ” سے نوازے جانے کے موقع پر مودی نے اسرائیل کو’’فادر لینڈ‘‘ اور ہندوستان کو’’مدر لینڈ‘‘قرار دیا ۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل نے ہندوستان کی موجودہ خارجہ پالیسی کے تضادات کو مزید نمایاں کر دیا۔ نئی دہلی نے اس قتل پر امریکہ اور اسرائیل کی مذمت نہیں کی، حالانکہ پورے مغربی ایشیا میں کشیدگی بڑھ رہی تھی۔ اس سے بھی زیادہ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ شروع میں مبینہ طور پر ہندوستانی سفیروں کو ایرانی سفارتخانوں میں تعزیتی رجسٹر پر تعزیتی پیغام لکھنے اور دستخطکرنے سے باز رہنے کیلئے کہاگیا۔ ہندوستان کے اس عمل کو اسرائیل اور امریکہ کی ناراضگی سے بچنے کی اس کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ’’خاموشی‘‘ سفارت کاری میں کبھی بھی حقیقی غیر جانبداری نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھئے: پھر مٹی کے چولہے پر کھانا پکانے کا جتن ہونے لگا
کچھ ہی دنوں میں حکومت کو اس تذبذب یا سرد مہری کی سفارتی قیمت کا احساس ہونے لگا۔ پہلے نئی دہلی میں خارجہ سیکریٹری وکرم مصری نے۵؍ مارچ کو ایرانی سفارتخانے جا کر تعزیتی رجسٹر میں دستخط کئے اس کے بعد بی جےپی کے سینئر رہنما مختار عباس نقوی بھی ایرانی سفارت خانہ پہنچے اور تعزیتی رجسٹر پر دستخط کرتے ہوئے ایران کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور امن کی اپیل کی۔ تاہم یہ قدم اتنی تاخیر سے اٹھایا گیاکہ یہ ایک مضبوط سفارتی پیغام بننے کے بجائے نقصان کی تلافی کی کوشش سے زیادہ کچھ نظر نہیں آیا۔ خامنہ ای کے قتل پر ہندوستان کے ردعمل میںیہ جو جھجھک نظر آئی وہ دراصل گہرے سفارتی مخمصے کا مظہر ہے۔ ایک ایسے خطے میں جو کشیدگی کے ساتھ ہی شدید اور گہری تقسیم کاشکار ہے، کسی ایک فریق کے بہت زیادہ قریب ہو جانے سے نئی دہلی نے اپنے لئے سفارتی لچک کی گنجائش ایسے وقت میں محدود بلکہ تقریباًختم کرلی جب اس لچک کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ اس کے اثرات صرف سفارتی سطح تک محدود نہیں رہے بلکہ جیسے جیسے خلیج فارس کے راستے توانائی کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، اس کے نتائج اندرونِ ملک بھی محسوس کئے جا نے لگے ہیں۔ بڑے شہروں میں کمرشیل ایل پی جی سلنڈروں کی قلت ریستورانوں اور ہوٹلوں کو پہلے ہی متاثر کرنے لگی ہے جبکہ پیٹرول اور گھریلو گیس کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ایک ایسے ملک کیلئےجو اپنی توانائی کی زیادہ تر ضروریات کی تکمیل کیلئے درآمد پر انحصار کرتا ہے، یہ صورتحال اس خطرے کو اجاگر کرتی ہے جو پرانے اتحادیوں کو نظرانداز کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اخباروں میں ایران جنگ، رسوئی گیس اور نیپال انتخابی نتائج اداریوں کا موضوع رہے
ایران ہندوستان کیلئے صرف تیل فراہم کرنے والا عام ملک نہیں تھا۔ وہ مشرق وسطیٰ کے تعلق سے ملک کی حکمت عملی کا ایک اہم ستون تھا جو ایندھن سے متعلق سیکوریٹی، وسطی ایشیا تک رسائی اور ایک پیچیدہ خطے میں جغرافیائی سیاست کو توازن فراہم کرتا تھا۔ بیرونی دباؤ میں آکر اس تعلق کو کمزور ہونے دینے کی وجہ سے ہندوستان علاقائی سطح پر جھٹکوں کے سامنے بے بس ہو کر رہ گیا ہے۔سفارتی خود مختاری ہی نئی دہلی کی کی خارجہ پالیسی کا طویل عرصے سےایک ایسا پہلو تھا جو اس کیلئے قابل فخر تھا اور جس کی وجہ سے قومی مفادات کے حصول میں طاقت کے کسی بلاک پر انحصارکی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔تاہم خامنہ ای کی موت کے بعد پیش آنے والے واقعات اور ہندوستان کے طرز عمل سے یہ تاثر ملتا ہے کہ سفارتی محاذ پر اس کی خود مختاری شاید کمزور پڑ رہی ہے۔ جب تعزیتی رجسٹر پر دستخط کرنے کا معاملہ بھی سفارتی طور پر حساس بن جائے تو یہ سوال اور شدت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے کہ ہندوستان کے پاس حقیقی معنوں میں کتنی آزاد سفارتی گنجائش باقی رہ گئی ہے۔ اس لئے موجودہ بحران کو ایک انتباہ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ مغربی ایشیا میں اتحاد تیزی سے بدلتے ہیں اور تنازعات غیر متوقع طور پر شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ ہندوستان جیسے بڑے ملک کیلئےجس کی توانائی سے متعلق ضروریات کی تکمیل بڑی حدتک درآمدات پر منحصر ، یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنی تمام جغرافیائی سیاسی امیدیں خطے کی کسی ایک فریق پر لگا دے۔
(آصف اللہ خان سینئر صحافی ہیں جنہوں نے ٹائمز آف انڈیا ، ہندوستان ٹائمز، خلیج ٹائمزاور برونئی ٹائمز میں اہم سفارتی ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔ )
بشکریہ: ڈپلومیٹ