• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

تیرہویں تعلیمی کانفرنس کے امتیازات

Updated: October 26, 2023, 11:40 PM IST | Shamim Tariq | Mumbai

کانفرنس میں آسام، بہار، کرناٹک سے آئے ہوئے مندوبین نے جو تفصیلات بیان کیں ان سے یہ اندازہ تو ہوا کہ بعض علاقوں میں اچھا کام ہو رہا ہے۔ تعلیم کی روشنی وہاں بھی پہنچ رہی ہے جہاں پہلے کبھی نہیں پہنچی تھی مگر اس ضرورت کا احساس باقی رہا کہ کاش اپنے اداروں کے ذمہ داروں کے ذہنی تحفظات پر بھی کوئی زبان کھولتا۔

Thirteenth Educational Conference۔ Photo: INN
تیرہویں تعلیمی کانفرنس۔ تصویر:آئی این این

اے آئی ای ایم کی ۱۳؍ ویں کانفرنس میں جو ’فیم‘ کے اشتراک سے ۱۴؍ اور ۱۵؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو اورنگ آباد میں منعقد ہوئی شریک ہو کر واپس ممبئی پہنچا تو اس روز ۱۷؍ اکتوبر کی تاریخ تھی۔ ۱۷؍ اکتوبر سر سید احمد خاں کا یوم ِ پیدائش ہے اور دنیا بھر میں خصوصاً فارغین مسلم یونیورسٹی کے حلقے میں ’یوم ِ سر سید‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ کانفرنس میں بھی جہاں کمارکیتکر اور امیتابھ کنڈو کی تقاریر کا بار بار ذکر ہو رہا تھا اور آرٹی فیشیل انٹیلی جنس کے موضوع پر میجر ایس ایم اے نہری اور پروفیسر اے کیو انصاری کی تقاریر سے میں خود بھی بہت محظوظ ہوا تھا، ایک جملہ یہ کہنے کی جرأت کی تھی کہ سر سید جب تک زندہ رہے ایک بڑے طبقے میں معتوب رہے مگر جب انتقال کر گئے تو لوگ ایک دو اسکول یا کیمپس کھول کر یا پہلے سے قائم اداروں میں گھس پیٹھ کرکے ثانی سرسید کہلانے کی کوشش کرنے لگے۔ اب اس پر بھی ان کی تشفی نہیں ہوتی تو وہ خود کو ’’امیرالمومنین‘‘ کہلوانے کیلئے طرح طرح کے حربے اختیار کر رہے ہیں۔ یہ جملہ کہنے کی تحریک یوں ہوئی کہ ہر تعلیمی، ادبی، علمی، سیاسی، سماجی اجتماعات میں اچھے لوگوں کے ساتھ کچھ ایسے لوگ ضرور ہوتے ہیں جو بھیجے گئے ہوتے ہیں اور گھس پیٹھ کے نتیجہ میں جگہ حاصل کئے ہوئے ہوتے ہیں یا مخلص انتظامیہ کی سادہ لوحی کے سبب مقررین کی فہرست میں جگہ پا لیتے ہیں۔ اے آئی ای ایم کے صدر خواجہ محمد شاہد اور ’فیم‘ کی صدر فوزیہ تحسین خان (ایم پی، راجیہ سبھا) اور سیکریٹری خالد سیف الدین بڑے پاکیزہ ذوق کے لوگ ہیں اور پھر انہوں نے کانفرنس کو کامیاب بنانے میں جو محنت کی وہ بھی مثالی تھی اس کے باوجود چند تقاریر ایسی سننے میں آئیں یا چند ایسے لوگوں کی لگائی بجھائی کی سن گن لگی کہ ان اللہ مع الصابرین پڑھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔
 مجموعی طور پر یہ کانفرنس اتنی کامیاب تھی کہ اسکے مختلف اجلاس چار الگ الگ مقامات پر کامیابی سے چل رہے تھے۔ خواجہ محمد شاہد، فوزیہ تحسین خان اپنی ٹیم کیساتھ ہر وقت مصروف بلکہ دوسروں کی خبر گیری کرتے ہوئے دیکھے جا رہے تھے۔ خالد سیف الدین تو ڈاکٹر کے منع کرنے کے باوجود ناک پر آکسیجن لگا کر ہمہ تن مصروف تھے۔ ضرورت تھی تو بس یہ کہنے والے کی کہ خوشامدیوں کے سہارے تعلیمی اداروں پر قابض ہونے یا قابض رہنے کی کوشش اور وہ بھی ایسے لوگوں کی جن کا مزاج و مذاق علمی نہیں ہے سخت نقصاندہ ہے۔ ایک تجویز یہ پاس ہوئی یا ایک اجلاس میں رکھی گئی کہ ہر خوشحال خاندان ایک ضرورتمند یا مالی طور پر کمزور رشتہ دار کی کفالت کرے۔ راقم کے تجربات اس سلسلے میں بہت تلخ ہیں وہ ایسے نورانی چہروں سے خوب واقف ہے جو استحصال کو احسان بنا کر پیش کرتے اور ان کی پڑھائی کا سہرا بھی اپنے سر باندھنے کی کوشش کرتے ہیں جن کے پڑھنے بلکہ سانس لینے میں بھی ہزار رکاوٹیں کھڑی کر چکے ہوتے ہیں۔ جی حضوری کرنے والوں کی منہ بھرائی اور محنت، ایمانداری اور خودداری کیساتھ کام کرنے والوں کو بے پیسے کا نوکر بنا کر رکھنے اور قدم قدم پر ذلیل کرنے کا رجحان عام ہوتا جا رہا ہے۔ کانفرنس میں آسام، بہار، کرناٹک سے آئے ہوئے مندوبین نے جو تفصیلات بیان کیں ان سے یہ اندازہ تو ہوا کہ بعض علاقوں میں اچھا کام ہو رہا ہے۔ تعلیم کی روشنی وہاں بھی پہنچ رہی ہے جہاں پہلے کبھی نہیں پہنچی تھی مگر اس ضرورت کا احساس باقی رہا کہ کاش اپنے اداروں کے سربراہوں اور ذمہ داروں کے ذہنی تحفظات پر بھی کوئی زبان کھولتا۔ وہ خود بھی کہتے ہیں کہ ’’ہم نہیں سدھرینگے‘‘ اور ان کی طرف سے جی حضوری کرنے والے بھی یہی بولتے ہیں۔ ان میں بعض نے ’شیروانی‘ اور بعض نے ’سوٹ‘ سلوا رکھا ہے اور کسی بڑے یا مشہور شخص یا چندہ دینے والے شخص کا ’دُم چھلا‘ بن کر ہر محفل میں موجود ہونا یا مائک سنبھالنا ضروری سمجھتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے جلسے جلوس انہیں کے ہو کر رہ گئے ہیں جو چندہ دینے، چندہ وصول کرنے، خوشامد کروانے یا خوشامد کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ مذکورہ کانفرنس نسبتاً بہت پاک صاف تھی مگر ہماری اجتماعی بیماریوں کی بعض علامتیں یہاں بھی دیکھنے میں آئیں۔ راقم الحروف نے مثالوں کے ذریعہ واضح کیا کہ بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت کے باوجود ہندوستانی معاشرہ میں انسانیت دوستی اور دو الگ الگ مذہب کو ماننے والوں کے درمیان یگانگت کی ایسی ایسی مثالیں ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے مگر ہمدردی و یگانگت کے معاملات کی وہ تشہیر نہیں ہوتی جو مجرمانہ اور فرقہ وارانہ معاملات کی ہوتی ہے۔ ہم اس کانفرنس کے اسٹیج سے بھی اعلان کرتے ہیں کہ ملک کیلئے ہمارا وجود زحمت نہیں، رحمت ہے۔ ہم ہر قسم کی تفریق، دہشت گردی اور علاحدگی کے مخالف ہیں۔ اتحاد و سالمیت کے زبردست حامی ہیں مگر اتحاد و سالمیت کیلئے یکسانیت کو ضروری نہیں سمجھتے۔ فکر و عقیدہ کی آزادی سب کیلئے ہے۔ بس یہ دیکھنا ضروری ہے کہ فکر و عقیدہ کی آزادی انسانیت اور ہندوستانیت کے خلاف نہ ہو۔
 بات چونکہ آل انڈیا ایجوکیشنل مومنٹ کے حوالے سے ہو رہی ہے اس لئے یہ یاددہانی بھی ضروری ہے کہ مذاق و مزاج علمی نہ ہو تو انسان کو تعلیمی اداروں سے دور ہی رہنا چاہئے مگر اقلیتی تعلیمی اداروں میں بیشتر ایسے ہی لوگ سرگرم اور قابض ہیں جو یہ جانتے ہی نہیں کہ انہیں کرنا کیا ہے؟ اسی لئے مقابلۂ دینیات جیسے نادر پروگرام بند کر دیئے گئے ہیں البتہ جو مخلص نہیں ہیں وہ سیاسی اور دیگر فائدوں کیلئے تعلیمی اداروں میں گھس پیٹھ کرتے اور ان کی تباہی کے اسباب پیدا کرتے ہیں۔ حیرت ہے کہ مرکزی اور ریاستی وزراء اور وزرائے اعلیٰ میں سے بعض تو جیل بھیجے گئے ہیں مگر تعلیمی ادارے میں مالی خرد برد کرنے والے یہ کہہ کر بچائے جا رہے ہیں کہ اگر یہ گرفتار ہوئے تو ادارے کی بدنامی ہوگی۔ اسی طرح یہ بھی دیکھنے میں آتا رہا ہے کہ ہر مجلس میں کچھ لوگ نااہل ہونے کے باوجود محض خیر و برکت کیلئے یا کسی خاندانی نسبت کا پاس رکھنے کیلئے اسٹیج پر بٹھائے جاتے رہے ہیں۔ مقام شکر ہے کہ اورنگ آباد کی کانفرنس میں ایسا نہیں تھا۔ راقم کسی تعلیمی ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ اشاعت تعلیم کا حق ادا کرنے والوں کے قدردان کی حیثیت سے مدعو تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ جنہوں نے مدعو کیا اور جو لوگ شریک اجلاس تھے سب نے بالغ نظری کا مظاہرہ کیا۔ عبدالکریم سالار نے ایک اچھی بات کہی کہ ایسے جلسوں میں ہماری بچیوں کو اپنے یونیفارم کے ساتھ شریک ہونا چاہئے۔ اورنگ آباد کے عوام نے تو تاریخ مرتب کی۔

education Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK