اصلاح کا عمل اپنی ذات سے شروع کرنا چاہئے

Updated: February 19, 2021, 9:04 AM IST | Mudassir Ahmed Qasmi

پیدائشی طور پر انسان اچھائیوں کا خوگر ہوتا ہے، اس لئے زندگی کے ہر شعبے میں اپنے لئے اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کے لئے بہتر سے بہتر کی تمنا کرتا ہے؛ لیکن صحیح معنوں میں بہتر کیا ہے اُس کا تعین بھی ضروری ہےکیوں کہ بہت ممکن ہے کہ ایک چیز جسے آپ اپنی عقل اور خواہش کے مطابق اچھی سمجھ رہے ہیں

Market - Pic : INN
مارکیٹ ۔ تصویر : آئی این این

پیدائشی طور پر انسان اچھائیوں کا خوگر ہوتا ہے، اس لئے زندگی کے ہر شعبے میں اپنے لئے اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کے لئے بہتر سے بہتر کی تمنا کرتا ہے؛ لیکن صحیح معنوں میں بہتر کیا ہے اُس کا تعین بھی ضروری ہےکیوں کہ بہت ممکن ہے کہ ایک چیز جسے آپ اپنی عقل اور خواہش کے مطابق اچھی سمجھ رہے ہیں ، وہ آپ کے لئے کئی اعتبار سے نقصان دہ ہو۔لہٰذا اچھائی کے تعین کے لئے ایسی رہنمائی کی ضرورت ہے جس سے انسان روشنی کو روشنی اور تاریکی کو تاریکی سمجھ سکے۔یقیناً اس طرح کی پختہ رہنمائی انسان کی ناقص عقل سے ممکن نہیں ہے؛ اس کے لئے تو اُس ذات کی رہنمائی درکار ہے جو حکمت و دانائی کا خالق ہے یعنی اللہ رب العزت ۔ اسی ضرورت کی تکمیل کے لئے اللہ رب العزت نے انبیاء و رُسل اور کُتب و صحف کو بھیجنے کا سلسلہ قائم فرمایا جس سلسلے کی آخری اور فائنل کڑی محمد ﷺ اور قرآن مجیدہے۔اب رہنمائی کے اِس سلسلے کی ذمہ داری امت محمدیہ پر ہے؛ جس کو بقدر وسعت پورا کرنا لازم ہے۔ 
حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ اُمتِ محمدیہ کے ایک طبقے نے اوپر مذکور اپنی قیادت و رہنمائی اور تبلیغ کی ذمہ داری کو ہمیشہ سمجھا ہے ۔ لیکن رہنمائی اور دعوت و تبلیغ کے باب میں اُس وقت پریشانی پیدا ہوجاتی ہے جب رہنمائی و تبلیغ کا فریضہ انجام دینے والے افراد اپنے آپ کو اور اپنے اہلِ خانہ کو بھول کر صرف دوسروں کی اصلاح و رہنمائی کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔ اِس صورتِ حال میں یہ ہوتا ہے کہ نہ ہی داعی کو کما حقہ فائدہ پہنچتا ہے اور نہ ہی مدعو کو ؛کیونکہ اِس شکل میں داعی روحانیت سے خالی ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ جہاں روحانیت نہ ہو وہاں دعوت مؤثر نہیں ہوسکتی۔یہ وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے شریعت ِ اسلامیہ میں سب سے پہلے اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی اصلاح کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔اِس حوالے سے قرآن مجید کی ایک آیت ہی موضوع پر روشنی ڈالنے کے لئے کافی ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو،بچائو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اُس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔‘‘(سورہ التحریم:۶)
زیرِ بحث موضوع کے پس منظر میں یہاں اِس بات کا ذکر مناسب ہے کہ موجودہ وقت میں دنیاوی معاملات میں لوگوں کی تربیت کے لئے شخصیت سازی کے بہت سارے پروگرام بنائے جاتے ہیں ،لیکن اِ ن پروگراموں کا خاطر خواہ فائدہ اسی وقت ہوتا ہے جب  تربیت حاصل کرنے والے لوگوں کے سامنے عملی مثال موجود ہو؛اسی طریقے پر دینی معاملات میں بھی رہنمائی و تربیت کا فائدہ کما حقہ اُسی وقت ہوگا جبکہ تربیت پانے والوں کے سامنے عملی مثال موجود ہو۔اسی نکتے کی طرف قرآن مجید کی ایک آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’’اے ایمان والو!تم وہ باتیں کیوں کہتے ہوجو تم کرتے نہیں ہو۔اللہ کے نزدیک بہت سخت ناپسندیدہ بات یہ ہے کہ تم وہ بات کہو جو خود نہیں کرتے۔‘‘ (سورہ الصف:۲-۳) اِس آیتِ کریمہ پر فریضۂ دعوت کو انجام دینے والے افراد کو ضرور غور کرنا چاہئے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ اُن کا قول اُن کے اعمال کے خلاف ہے۔
دوسروں کی رہنمائی کے لئے ہم اپنی کوششوں کا تجزیہ ایک آسان اور عام فہم مثال کے ذریعے کر سکتے ہیں ۔ اگر ہم یہ کوشش کرتے ہیں کہ دوسروں کے بچے نیک اور دیندار بن جائیں اور ایک سچا پکا مسلمان بن کر زندگی گزاریں تو ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ یہ کوشش عملی طور پر ہم نے اپنے بچوں کے لئے کی ہے یا نہیں؛اگر ہم نے اپنے بچوں کے لئے  ایسا نہیں کیا اور صرف دوسروں کی فکر میں لگے رہے تو ہمارے لئے یہ لمحہ فکریہ ہے؛ کیونکہ اِس صورت میں جہاں ہماری بات زیادہ مؤثر نہیں ہوگی وہیں ہماری اپنی دنیا روحانیت سے خالی ہوگی۔ ہمارے اسی طرح کے عمل پر تنبیہ کے لئے اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا ہے:"کیا تم دوسرے لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہواور اپنے آپ کو بھول جاتے ہوحالانکہ تم (اللہ کی)کتاب (بھی)پڑھتے ہو، تو کیا تم سوچتے نہیں۔‘‘(سورہ البقرہ:۴۴)
موجودہ وقت کی ایک سچائی یہ ہے کہ ہم میں سے ایک طبقے کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے دوسرے کے بچوں کی مدد کرے؛ ایک اعتبار سے یہ کوشش جہاں قابلِ تعریف  ہے وہیں یہ عمل صدقہ جاریہ بھی ہے لیکن یہیں پر اِس طبقے کی ذمہ داری ختم نہیں ہوجاتی بلکہ انہیں خود اپنے بچوں کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے اور اس کے لئے انہیں معقول کوشش بھی کرنی چاہئے۔ جہاں اِس طبقے کی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ ملت کے کچھ بچے مدارسِ اسلامیہ میں تعلیم حاصل کریں اور حافظ ِ قرآن و عالمِ دین بنیں،  اسی طرح اسلامی اقدار کے ساتھ عصری تعلیم حاصل کریں ؛وہیں اِس طبقے کی یہ کوشش بھی ہونی چاہئے کہ اِن کے اپنے بچے بھی اس طرح کی تعلیم حاصل کریں۔ایسا ہر گز نہ ہو کہ یہ لوگ دوسروں کی فکر کرتے رہ جائیں اور اِن کے بچے ایسے اداروں میں تعلیم حاصل کریں جہاں قولاً یا عملاً دین بیزاری  کی تعلیم دی جاتی ہو۔اگر ہم میں سے کچھ لوگ مذکورہ فکر کے حامل ہیں تو اُنہیں اپنی فکر کی اصلاح ضرور کر لینی چاہئے؛کیونکہ بصورت دیگر قول و عمل کا یہ تضاد اُن کے لئے کسی وبال سے کم نہ ہوگا۔ 
 خلاصہ یہ ہے کہ عقلی اور شرعی دونوں اعتبار سے اصلاح کا عمل اپنی ذات سے شروع کرنا چاہئے کہ پہلے خود کی اور اپنے اہلِ خانہ کی اصلاح کر لیں اس کے بعد باہر والوں کی فکر کریں ،ہماری اِس ترتیب سے دوسروں کو جو فائدہ ہوگا وہ ہوگا  لیکن ہماری دنیا ضرور روشن اور آباد ہوجائے گی اور ہم صرف گفتار ہی نہیں بلکہ کردار کے بھی غازی بن جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK