جب تک ہم دوسری اقوام تک ان کی زبان و اسلوب میں دعوت پہنچا کر حجت پوری نہیں کردیں گے، نہ ان کی عمومی ہدایت کے فیصلے ہوں گے، نہ ہی ہمارے لئے اللہ کی مدد و نصرت آئے گی
EPAPER
Updated: April 28, 2023, 12:40 PM IST | Dr. Muhammad Wase Zafar | Mumbai
جب تک ہم دوسری اقوام تک ان کی زبان و اسلوب میں دعوت پہنچا کر حجت پوری نہیں کردیں گے، نہ ان کی عمومی ہدایت کے فیصلے ہوں گے، نہ ہی ہمارے لئے اللہ کی مدد و نصرت آئے گی
بنی آدم پر اللہ رب العزت کے جو احسانات ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے انہیں صرف اپنی طاعت و عبادت کا مکلف نہیں بنایا بلکہ وقفے وقفے سے ان کے درمیان انبیاء کرام علیہم السلام کو مبعوث فرماکر اور ان پر کتب و صحائف نازل فرما کر ان کی ہدایت و رہنمائی کے اسباب بھی فراہم کئے۔ قرآن کریم کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ اس سلسلے میں رب کریم کی طرف سے کچھ ضابطے اپنائے گئے جنہیں سنت الٰہیہ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ ان میں سب سے اول یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہر قوم کی طرف کسی نہ کسی نبی کو ضرور مبعوث کیا جو عموماً اسی قوم کے فرد ہوا کرتے تھے۔ ایسی کوئی قوم نہیں گزری جس کے پاس کوئی رسول نہیں آیا ہو۔ قرآن کریم کی آیات ’’آپ تو صرف آگاہ کرنے والے ہیں اور ہر قوم کے لئے ہادی ہے‘‘ (الرعد: ۷) اور’’ کوئی امت ایسی نہیں ہوئی جس میں کوئی ڈر سنانے والا نہ گزرا ہو‘‘ (فاطر: ۲۴) اس پر دال ہیں۔
دوسرا اہم ضابطہ رب کریم نے یہ قائم فرمایا کہ جس پیغمبر کو بھی کسی قوم کی طرف مبعوث کیا، وہ ان کی قومی زبان کے جانکار ضرور ہوا کرتے تھے۔ یہ اس لئے کہ پیغام رسانی اور تبلیغ دین میں ان کے اور قوم کے درمیان کوئی ترسیلی خلا (communication gap) نہ پیدا ہو اور قوم کو یہ عذر نہ رہے کہ انہیں تو پیغمبر ِخدا کی بات ہی سمجھ میں نہیں آئی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور ہم نے نہیں بھیجا کوئی رسول مگر اس کی قوم ہی کی زبان میں تاکہ وہ ان پر حق کو اچھی طرح واضح کردے، پھر اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخش دیتا ہے، اور وہ سب پر غالب و کمال حکمت والا ہے۔‘‘ (ابراہیم: ۴)
اسی سے متعلق یہ ضابطہ بھی رہا کہ ربانی ہدایات بھی ان کی قومی زبان میں ہی نازل کی گئیں خواہ وہ کتاب یا صحیفوں کی شکل میں ہو یا وحی غیر متلو کی شکل میں۔ نبی کریم ﷺ گرچہ تمام عالم کے لئے مبعوث فرمائے گئے لیکن آپؐ کے اولین مخاطب چونکہ عرب تھے اس لئے قرآن کریم آپؐ پر عربی زبان میں ہی نازل کیا گیا۔ ارشاد ربانی ہے: ’’اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف عربی قرآن کی وحی کی ہے تاکہ آپ مکہ والوں کو اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو خبردار کریں اور جمع ہونے کے دن (روزِ قیامت) سے جس کے آنے میں کوئی شک نہیں، ڈرا دیں۔‘‘ (الشوریٰ: ۷)
پھر اللہ کا ضابطہ یہ بھی رہا کہ پیغمبروں کی دعوت و تبلیغ کی محنت کے نتیجے میں بعض لوگوں کو ہدایت مل جاتی تھی اور بعضوں پر گمراہی ثابت ہوجاتی تھی اور اکثر وہ عذاب الٰہی کا بھی شکار ہوجاتے تھے۔ قرآن اس کی گواہی یوں دے رہا ہے: ’’ اور بلا شبہ ہم نے ہر امت میںایک رسول (اس ہدایت کے ساتھ) بھیجا کہ (لوگو) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو، پھر ان میں سے کچھ وہ تھے جن کو تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دے دی اور بعض ایسے تھے جن پر گمراہی ثابت ہوگئی، پس تم خود زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا کچھ ہوا۔‘‘ (النحل: ۳۶)
ہدایت دینے کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کے ضابطے کو قرآن کریم نے یوں بیان کیاہے: ’’ اللہ اپنے قرب کے لئے چن لیتا ہے جسے وہ چاہتاہے اور وہ ہدایت دیتا ہے اپنی طرف اسے جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔‘‘ (الشوریٰ: ۱۳) اس آیت میں تقسیم ہدایت کے دو ضابطے بتائے گئے ہیں؛ ایک تو خاص ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنے قرب کیلئے چن لیتا ہے۔ احقر کی نگاہ میں انبیاء کرام علیہم السلام کا انتخاب اسی زمرے میں آتا ہے۔ دوسرا ضابطہ عام ہے ، وہ یہ کہ جن کے دل ہدایت کے طالب ہوتے ہیں اور جو صدق دل سے اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور پیغمبر خداکی اطاعت و فرمانبرداری اختیار کرتے ہیں، اللہ انہیں ہدایت سے نواز دیتا ہے۔
اس کے برعکس جن کے دلوں میں کجی ہوتی ہے اور جو حق کے واضح ہوجانے کے باوجود نبی کی دعوت کو جھٹلاتے ہیں، ان کی اطاعت سے انکار کرتے ہیںیا ان کی مخالفت کرتے ہیں، ایسے لوگ ہدایت سے محروم کردیئے جاتے ہیں۔ارشاد خداوندی ہے: ’’ اور وہ گمراہ نہیں کرتا اس (قرآنی مثال) سے سوائے نافرمانی کا رویہ اختیار کرنے والوں کے۔‘‘ (البقرۃ: ۲۶) موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کے تذکرے میں یہ دستور خداوندی اور بھی واضح ہے: ’’اور (وہ وقت یاد کرو) جب کہ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اے میری قوم کے لوگو! تم مجھے تکلیف کیوں پہنچاتے ہو حالانکہ تم خوب جانتے ہو کہ بلاشبہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں؟ پھر جب انہوں نے ٹیڑھ اختیار کی تو اللہ نے ان کے دلوں کو (مزید) ٹیڑھا کردیا، اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ (الصف: ۵) چنانچہ ہدایت اور گمراہی کے یہی ضابطے تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے دور میں نافذ رہے۔
اللہ تعالیٰ نے یہ ضابطہ بھی رکھاکہ کسی قوم کی اس کی برائیوں کی وجہ سے تب تک پکڑ نہیں فرمائی جب تک کسی ہادی کو بھیج کر صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کے سلسلے میں ان پر حجت پوری نہیں کردی۔ اللہ کا ارشاد ہے: ’’ اور آپ کا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ وہ بستیوں کو یوں ہی ہلاک کر ڈالے جب تک اس نے ان کے مرکزی مقام پر کوئی رسول نہ بھیجا ہوجو ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے، اور ہم بستیوں کو اس وقت تک ہلاک کرنے والے نہیں ہیں جب تک ان کے باشندے ظالم نہ بن جائیں۔‘‘ (القصص: ۵۹) اللہ رب العزت نے اپنے اس ضابطے کی مزید وضاحت نبی آخرالزماں کے ہم عصروں کے سلسلے میں یہ کہہ کر فرمادی: ’’اور اگر ہم اس (قرآن کے نزول) سے پہلے ہی انہیں کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو یہ لوگ کہتے کہ اے ہمارے پروردگار ! آپ نے ہمارے پاس کوئی پیغمبر کیوں نہیں بھیجاکہ ہم ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے ہی آپ کی آیتوں کی پیروی کرلیتے؟‘‘ (طٰہٰ: ۱۳۴)
پھر جب اللہ کا رسول کسی قوم کے درمیان آجاتا ہے تو ہدایت اور گمراہی کی راہ اپنانے والوں کے درمیان فیصلہ ان کی حالت کے مطابق کردیا جاتا ہے یعنی ہدایت یافتہ گروہ غالب ہوجاتا ہے اور اخروی کامیابی بھی اس کے لئے مقدر ہوجاتی ہے اور گمراہ لوگ مغلوب ہوجاتے ہیں اور اکثر عذاب الٰہی کا شکار بھی ہوجاتے ہیں۔ اللہ کا ارشاد ہے: ’’اور ہر امت کے لئے ایک رسول ہے، سو جب ان کا وہ رسول آجاتا ہے تو ان کے درمیان فیصلہ انصاف کے ساتھ کردیا جاتا ہے اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جاتا۔‘‘ (یونس: ۴۷)
دعوت و ہدایت کے یہ سارے ضابطے احقر نے یوں ہی نہیں بیان کئے بلکہ ان کا تعلق موجودہ ملکی و عالمی پس منظر سے ہے۔ آج مسلمان سارے عالم میں مغلوب ہیں، ہر طرف ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں لیکن کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہے۔ یہاں تک کہ جتنے مسلم ممالک ہیں وہ بھی اندرونی و بیرونی خلفشار کے شکار ہیں اور عالمی منظرنامے میں ان کی حیثیت نہیں کے برابرہے۔ ہمارے علماء کرام، ائمہ کرام اور بزرگان دین گمراہ قوموں کی ہدایت اور سرکشوں کو راہ راست پر لانے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگ رہے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے جیسے ان کی دعاؤں میں کوئی اثر ہی نہیں۔ نہ تو گمراہ قومیں ہدایت پر آرہی ہیںاور نہ ہی ظالم لوگ کیفر کردار کو پہنچ رہے ہیں ۔ یہ صورتحال آخر کیوں ہے؟ اسے سطور بالا میں ذکر کئے گئے خدائی ضابطوںکی روشنی میں بہتر طور سے سمجھا جاسکتا ہے۔ آئندہ ہفتے اسے تفصیل سے سمجھنے کی کوشش کی جائے گی، ان شاء اللہ۔(جاری)
(مضمون نگار شعبہ تعلیم، پٹنہ یونیورسٹی کے استاذ و سابق ڈین ہیں)