مجھےاوپرلےجایا گیا یہاں تک کہ میں ایسی جگہ پہنچا جہاں قلم سےلکھنے کی آوازیں آرہی تھیں

Updated: October 02, 2020, 12:09 PM IST | Maolana Nadeemul Wajidi

سیرت نبی ٔ کریم ؐ کی اس خصوصی سیریز میں آپؐ کے سفر معراج کا تذکرہ جاری ہے۔ آج ، سدرۃ المنتہیٰ کے آگے جہاںآپؐ تشریف لے گئے ، یہ پڑھئے اور یہ کہ صریف الاقلام کیا ہے۔ ساتھ ہی تحفۂ معراج کی تفصیل بھی ملاحظہ کیجئے

Aqsa Mosque - Pic : INN
مسجد اقصیٰ ۔ تصویر : آئی این این

 سورۂ نجم کی جن ابتدائی آیات کا ذکر ہو رہا ہے ان کی تفسیر میں ائمہ تفسیر کا اختلاف ہے اوریہ اختلاف صحابہ و تابعین سے لے کر بعد کے محدثین و مفسرین تک چلا آرہا ہے۔ اس اختلاف کا حاصل یہ ہے کہ سورۂ نجم کی ان آیات کی دو تفسیریں منقول ہیں، ایک تفسیر یہ ہے کہ یہ تمام آیات معراج کے واقعہ سے متعلق ہیں اور ان میں جس رویت کا ذکر کیا گیا ہے وہ حق تعالیٰ کی رویت ہے۔ صحابہ کرامؓ میں حضرت انسؓ اور حضرت عبداللہ ابن عباسؓ سے یہی تفسیر منقول ہے۔ یہ حضرات شَدِیْدُ الْقُوٰی، ذُوْ مِرَّۃٍ فَاسْتَوٰی اور دَنٰی فَتدَلّٰی سب کو حق تعالیٰ کی صفات و افعال قرار دیتے ہیں۔ تفسیر مظہری میں اسی قول کو ترجیح دی گئی ہے۔ دوسری طرف بہت سے حضرات صحابہ ہیںجنہوں نے ان آیات کو حضرت جبریل کی رویت پر محمول کیا ہے۔ 
 حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کے اس موقف کی تائید کچھ اور روایات سے بھی ہوتی ہے۔ مثال کے طورپر ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مبارک نقل کیا گیا ہے کہ ’’میں سدرۃ المنتہیٰ کے پاس پہنچا تو مجھے بادل کی طرح کسی چیز نے گھیر لیا، میں اس کے لئے سجدے میں گر پڑا۔ (سنن نسائی ۲؍۲۲۷، رقم الحدیث ۴۴۶)
 قیامت کے روز محشر میں حق تعالیٰ کا ظہور قرآن کریم کی ایک آیت میں اس طرح مذکور ہے کہ بادلوں کی طرح کوئی چیز ہوگی، اس میں حق تعالیٰ نزول اجلال فرمائیں گے۔ 
 حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کی ایک دوسری روایت میں ہے ’’دَنٰی فَتَدَلّٰی‘‘ میں تقدیم و تاخیر ہے، اصل میں اس طرح ہے فَتَدَلّٰی فَدَنَا اور معنی یہ ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے لئے شب معراج میں ایک رَف رَف اترا، آپؐ اس پر تشریف فرما ہوئے، پھر آپؐ کو اوپر لے جایا گیا، یہاں تک کہ آپؐ اپنے پروردگار کے قریب پہنچ گئے۔ (سنن البیہقی) 
 حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے ایک حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا گیا ہے کہ میرے لئے آسمان کا ایک دروازہ کھولا گیا اور میں نے نور اعظم دیکھا اور پردے میں موتیوں سے بنی ایک رف رف کو دیکھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے جو کلام کرنا چاہا وہ کلام مجھ سے فرمایا۔ (المعجم الاوسط للطبرانی ۱۳؍۴۷۳، رقم ۶۳۹۵)
 ایک اور روایت طبرانی میں حضرت انسؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے نور اعظم دیکھا پھر اللہ نے میری طرف وحی بھیجی جو اس نے چاہا (یعنی اس نے مجھ سے بلاواسطہ کلام فرمایا) ۔ (حوالۂ سابق)
 بہرحال ان روایات سے ثابت ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندے اور پیغمبر رسول اللہﷺ کو جہاں بہت سی خصوصیات سے نواز ا وہاں ایک خصوصیت یہ بھی عطا فرمائی کہ شب معراج میں ایک خاص فرشتہ بھیج کر اور ایک خاص سواری کے ذریعے جو یاقوت و زبرجد جیسے موتیوں سے بنی ہوئی تھی آسمانوں پر بلایا اور سدرۃ المنتہیٰ کے قریب ایک خاص مقام پر بلا کر اپنے نور کا دیدار عطا فرمایا اور اپنی ہم کلامی کے اعزاز و شرف سے نوازا، آپ بطور تشکر وہیں سجدہ ریز ہوگئے۔
lصریف الاقلام
 سدرۃ المنتہیٰ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مزیداوپر لے جایا گیا، وہاں کچھ ایسی سرسراہٹ تھی یا ہلکی ہلکی گونج تھی جیسے کاغذ پر یا لوح پر کچھ لکھا جارہا ہو، عربی زبان میں اسے صریف الاقلام کہتے ہیں،ا سی لئے سیرت نگاروں نے اس جگہ کانام مقام صریف الاقلام رکھا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: پھر مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایسی جگہ پہنچ گیا جہاں قلم سے لکھنے کی آوازیںآرہی تھیں۔(صحیح البخاری ۱۱؍۱۲۷، رقم:۳۰۹۴)
 یہ ملائکہ تھے جو باری تعالیٰ کے حکم سے قضاء وقدر کے احکام لکھ رہے تھے، روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں کے پاس بڑے بڑے رجسٹر ہیں جن میں وہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور بندوں کے اعمال لکھتے رہتے ہیں، ان رجسٹروں کی کیا شکل یا کیا نوعیت ہوتی ہے یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ رجسٹر حسی ّ وجود رکھتے ہوں گے، کیوںکہ روایات سے پتہ چلتا ہے کہ قیامت کے دن بندوں کے سامنے ان کے اعمال کے رجسٹر کھول کر رکھ دئیے جائیں گے۔ روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح فرشتے آسمان پر لکھ رہے ہیں اسی طرح وہ دنیا میں بھی بندوں کے اعمال لکھتے ہیں۔ کراماً کاتبین نامی فرشتے ہر وقت بندے کے شانوں پر سوار رہتے ہیں اور جو نیکی وہ کرتا ہے یا جو گناہ اس سے سرزد ہوتا ہے وہ فوراً ان کے ذریعے لکھ لیا جاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ کی ایک روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب جمعہ کا دن آتاہے تو مسجد کے تمام دروازوں پر ملائکہ بیٹھ جاتے ہیں اور مسجد میں داخل ہونے والوں کے نام لکھ لیتے ہیں، جو پہلے آتا ہے اس کا پہلے، جو بعد میںا ٓتا ہے اس کا بعد میں۔ جب امام منبر پر بیٹھ جاتاہے تب فرشتے اپنے رجسٹر لپیٹ کر رکھ دیتے ہیں اور خطبہ سننے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ (صحیح البخاری  ۱۰؍۴۸۸،   رقم الحدیث ۲۹۷۲)
 حضرت مولانامحمد ادریس کاندھلوی لکھتے ہیں: ’’احادیث میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مقام صریف الاقلام سدرۃ المنتہیٰ کے بعد ہے، اس لئے کہ احادیث میں مقام صریف الاقلام کا ذکر سدرۃ المنتہیٰ کے بعد لفظ ثم سے کیا گیا ہے۔ (سیرۃ المصطفیٰ ۱؍۳۰۴)
 مقام صریف الاقلام سے قلم کی ایک گونہ فضیلت معلوم ہوتی ہے۔ قلم کے لئے یہ شرف کیا کم ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنی کتاب میں اس کی قسم کھائی ہے۔ فرمایا:  ’’قسم ہے قلم کی اور جو کچھ فرشتے لکھتے ہیں۔‘‘ (سورۃ القلم:۱) مفسر ابوحاتمؒ کہتے ہیں کہ قلم سے مراد عام قلم بھی ہوسکتا ہے، جس میں قلم تقدیر، فرشتوں اور انسانوں کے سب قلم داخل ہیں۔ حضرت عبادہ بن الصامتؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم پیدا کیا، پھر اس سے فرمایا کہ لکھ، قلم نے عرض کیا کیا لکھوں، حکم دیا: تقدیر الٰہی لکھ، قلم نے (حکم کے مطابق) ابد تک ہونے والے تمام واقعات اور حالات لکھ دئیے۔ (سنن الترمذی ۸؍۵۱، رقم الحدیث:۲۰۸۱)
 حضرت عبداللہ ابن عمرؓ کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کی تقدیر ان کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے لکھ دی تھی۔ (صحیح مسلم ۱۳؍۱۱۷، رقم الحدیث ۴۷۹۷)
امام نوویؒ نے لکھا ہے کہ مقام صریف الاقلام میں قلم کی جو آوازیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنیں وہ دراصل فرشتوں کے لکھنے کی آواز تھی۔ فرشتے رات دن لوح محفوظ سے اللہ تعالیٰ کے احکام اور مخلوق کے سلسلے میں اس کے ابدی فیصلوں کو نقل کرتے رہتے ہیں، یہاں جو فرشتے مامور ہیں، وہ دوسرے فرشتوں سے بالکل الگ ہیں یہاں تک کہ اس جگہ جس فرشتے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا اسے حضرت جبریل نے بھی پہلی مرتبہ دیکھا تھا، اس مقام پر آپؐ تنہا تشریف لے گئے۔ حضرت جبریلؑ نے آگے جانے سے معذرت کردی۔ معلوم ہوا کہ آپؐ پہلے انسان تھے جو اس مقام پر تشریف لے گئے۔ اس جگہ کے تقدس اور عظمت کا اندازہ لگانے کے لئے صرف اتنا کافی ہے کہ حضرت جبریلؑ جیسے مقرب فرشتے کو بھی وہاںجانے کی اجازت نہیں ہے۔ (شرح النووی علی المسلم ۲؍۲۲۱)
lدیدار بھی شرفِ تکلم بھی
 مقامِ صریف الاقلام سے گزر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بارگاہِ قدس میںپہنچے، یہاں آپؐ کو حجاب کے پردے میں ذاتِ حق کی زیارت نصیب ہوئی اور ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت انس بن مالکؓ کی روایت کے الفاظ ہیں: قال رسول اللّٰہ ﷺ رأیت النور الاعظم فاوحی اللہ إلیّ ماشاء ان یوحی (المعجم الاوسط للطبرانی ۱۳؍۴۷۲، رقم الحدیث ۶۳۹۵) میں نے نوراعظم کا دیدار کیا، پھر اللہ نے میری طرف وحی کی جو اس نے وحی کرنی چاہی۔
 یہاں نور اعظم سے مراد نورِ الٰہی ہی ہے، اس سے بڑا نور کیا ہوسکتا ہے؟ وہی زمینوں اور آسمانوں کا نور ہے جیسا کہ قرآن کریم میں بھی اس کی صراحت ہے:   ’’اللہ تمام آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔‘‘(النور:۳۵) ہماری ناقص اور فانی نگاہیں اس نور کا مکمل مشاہدہ اور احاطہ نہیں کرسکتیں، لیکن اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بارگاہ میں بلا کر اس زیارت سے سرفراز کیا اور جب یہ دیدار ہوگیا تو پھر براہِ راست کلام بھی ہوا۔ یہاں وحی سے مراد براہِ راست کلام ہی ہے کیونکہ دیدار کے بعد بالواسطہ کلام کی نہ ضرورت ہے اور نہ گنجائش۔ 
lمعراج کا عظیم تحفہ
 ہماری دنیا کا بھی یہ چلن ہے کہ جب کوئی مہمان ہمارے یہاں آتا ہے تو بہ وقتِ رخصت ہم اسے تحفے پیش کرتے ہیں، یہ تحفے مہمان کی قدر و منزلت اور تکریم کی علامت کے طو پر پیش کئے جاتے ہیں، پھر مہمان جتنا معزز و مکرم ہوتا ہے تحفے بھی اتنے ہی گراں قدر ہوتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کون سا مہمان لائق تعظیم اور قابلِ صد تکریم ہوسکتا تھا۔ معراج کے اس سفر میں قدم قدم پر اس کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ انبیاء کی امامت، آسمانوں کی سیر، بڑے بڑے انبیاء سے ملاقات اور ان کے تعریفی و توصیفی کلمات، دوزخ کا مشاہدہ، جنت کی سیر، حضرت جبریلؑ امین جیسے مقرب فرشتے رفیقِ سفر، جگہ جگہ فرشتوں کے ذریعے والہانہ استقبال اور مدح سرائی، سدرۃ المنتہیٰ کا خوبصورت نظارہ، آگے کے سفرمیں حضرت جبریلؑ کی معذرت، اب معزز مہماں کو خود آگے جانا ہے، یہ بھی تکریم کا ایک نرالا انداز ہے، نورِ اعظم کا جو دراصل ذاتِ الٰہی کا استعارہ ہے دیدار، پھر شرفِ تکلم بھی۔ یہ شرف آج تک کسی بشر کو نہ مل سکا تھا، آج اللہ نے اپنے محبوب بندے اور رسول کو افضل البشر، سید الانبیاء اور نوع انسانی کی سب سے برگزیدہ ہستی کو عطا کرکے اس کی افضلیت اور کاملیت پر اپنی مہرِ دوام ثبت کردی۔ یہ اعزاز کیا کم تھا کہ اپنا دیدار بھی بخشا اور ہم کلامی کا شرف بھی عطا کیا۔ 
 اس اعزازمیں ایک اضافہ یہ بھی ہوا کہ بہ وقت رخصت اسے گراں قدر تحفے عطا کئے گئے۔ وہ تحفے مادّی نہیں تھے، نہ مادّی تحفوں کی اس مہمان کو ضرورت تھی، وہ چاہتا تو ساری دنیا کے خزانے اور زر و جواہر اس کے قدموں میںڈھیر ہوجاتے، اسے تو ایسے تحفے دینے تھے جن میں دینے والے کی شانِ کبریائی بھی جھلکتی اور لینے والے کی شانِ محبوبیت بھی نمایاںہوتی۔
ان تحفوں کی تفصیل ہمیں حدیث کی کتابوں میں ملتی ہے۔ حضرت انس بن مالکؓ کی ایک طویل حدیث ہے، اس کے اکثر مضامین گزشتہ صفحات میںبیان بھی ہوچکے ہیں، اس حدیث کا اختتام اس تحفے کے ذکر جمیل پر ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو کچھ مجھ سے فرمانا تھا وہ فرمایا۔ چنانچہ مجھ پر ایک شب و روز میں پچاس نمازیں فرض فرمائیں۔ (یہ تحفہ لے کر) میں نیچے اتر کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا۔ انہوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے جواب دیا پچاس نمازیں فرض کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنے رب کے پاس واپس جائو اور ان پچاس نمازوں میں تخفیف کی درخواست کرو، اس لئے کہ آپؐ کی امت ان پچاس نمازوں کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ میں بنی اسرائیل کو خوب آزما چکاہوں۔ میں اپنے پروردگار کے پاس واپس گیا اور عرض کیا یارب العالمین! میری امت پر تخفیف فرما۔ اللہ نے پانچ نمازیں گھٹا دیں، میں پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آیا اور ان کو بتلایا کہ میرے رب نے پانچ نمازیں کم کردی ہیں۔ انہوںنے کہا آپؐ کی امت ان نمازوں کی متحمل نہیں ہوسکتی، آپؐ پھر جائیں اور مزید تخفیف کی درخواست کریں۔ میں اپنے رب سے حضرت موسیٰ تک اور حضرت موسیٰ سے اپنے رب تک آتا جاتا رہا، یہاں تک کہ میرے رب نے فرمایا: اے محمدؐ! یہ پانچ نمازیں ہیں، دن اور رات میں، ہرنماز پر دس کا ثواب ہے، اس طرح پچاس نمازیں ہوگئیں۔ جو شخص نیک کام کرنے کا ارادہ کرے گا اور وہ نیکی کر نہ سکے گا اس کے نامۂ اعمال میں ایک نیکی لکھی جائے گی اور جو کرلے گا اس کو دس گنا اجر و ثواب دیا جائے گا اور جو گناہ کا ارادہ کرے گا مگر اس کا ارتکاب نہ کر پائے گا اس کو نہ لکھا جائے گا اور اگر کرلے گا تو ایک ہی گناہ لکھا جائے گا۔ میں پھر حضرت موسیٰؑ کے پاس اترا اور انہیں اپنے رب کے اس انعام اور بشارت سے باخبرکیا۔ انہوںنے کہا آپؐ پھر اپنے رب کے پاس واپس جائیں اور تخفیف کی درخواست کریں۔ میںنے کہا کہ میں کئی مرتبہ اپنے رب کے پاس جا چکا ہوں، اب جا کرمزید تخفیف کی درخواست کرنے میںشرم محسوس ہونے لگی ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK