سرکار دوعالمؐ کا عدل وانصاف اور سخاوت ورَواداری

Updated: November 12, 2021, 2:08 PM IST | Maulana Khalid Saifulah Rahmani

گزشتہ ہفتے شائع کئے گئے مضمون ’’رسول ؐ اللہ کی حیات ِ طیبہ، حسن عمل اور عفو و درگزر‘‘ ا دوسرا حصہ جس میں رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ و سلم کے دیگر اوصاف مثلاً عدل و انصاف اور سخاوت و رواداری کو احادیث کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

آپ ﷺ ہمیشہ عدل و انصاف کی تلقین فرماتے تھے اور خود بھی اس پر عمل کرتے تھے۔ عرب کے ایک معزز قبیلہ بنو مخزوم کی ایک عورت چوری میں پکڑی گئی ، لوگ چاہتے تھے کہ وہ سزا سے بچ جائے، آپ کے پروردہ اور محبوب حضرت اسامہ بن زید ؓنے سفارش کی۔ آپ ؐنے اس سفارش پر سخت ناگواری کا اظہار کیا اور اس خاتون پر سزا جاری فرمائی۔  (صحیح بخاری ، کتاب أحادیث الأنبیاء ، باب حدیث لغار، حدیث نمبر : ۳۴۷۵)۔ عدل وانصاف کے معاملہ میں مسلمان اور غیر مسلم کا کوئی امتیاز نہیں تھا۔ یہود بھی اپنے معاملات طے کرانے کیلئے آپؐ کے پاس آتے  تھے۔ حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ ربیعہ بنت نضرنے ایک لڑکی کا دانت توڑ دیا، ان لوگوں نے قصاص کامطالبہ کیا، ربیعہ کے لوگوں نے دوسرے فریق سے معافی کی درخواست کی ، جسے ان لوگوں نے قبول نہیں کیا ، اب دونوں فریق بارگاہ نبوی میں حاضر ہوئے، حضور ؐ نے قصاص جاری کرنے کا حکم فرمایا، ان کے بھائی انس بن نضر نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ربیعہ کا دانت توڑ دیا جائے گا؟ اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، ایسا نہیں ہوسکتا، آپ ؐ نے فرمایا:  قصاص اللہ تعالیٰ کی کتاب کا فیصلہ ہے؛ چنانچہ دوسرے فریق راضی ہوگئے، اور انہوں نے معاف کردیا۔ آپؐ نے فرمایا : اللہ کے بعض ایسے بندے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ پر قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ اس کو پورا فرمادیتے ہیں۔ (بخاری ، عن انس ، حدیث نمبر : ۳۷۰۳ ، باب الصلح فی الدین) آپ کے صحابی حضرت نعمان بن بشیرؓ روایت کرتے ہیں کہ ان کی والدہ کے اصرار پر ان کے والد نے ان کو کچھ ہبہ کرنا چاہا، جب وہ اس کے لئے تیار ہوگئے تو انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پر حضور ﷺ کو گواہ بنایا جائے؛ چنانچہ یہ دونوں حضرات اپنے صاحبزادہ نعمانؓ کو لے کر آپ کی خدمت میں پہنچے اور آپ کو گواہ بنانا چاہا، آپؐ نے حضرت بشیرؓ سے پوچھا: کیا اس کے علاوہ تمہاری کوئی اور اولاد بھی ہے؟ انہوں نے عرض کیا : ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم نے ان سب کو اسی طرح ہبہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا : نہیں۔ یہ سن کر آپؐ نے فرمایا : پھر تو میں اس پر گواہ نہیں بن سکتا ؛ کیوںکہ میں ایسے کام پر گواہ نہیں بن سکتا جو ظلم پر مبنی ہو ۔ (مسلم ، عن نعمان بن بشیرؓ ، حدیث نمبر : ۱۶۲۳) جیسے آپ اولاد کے درمیان انصاف اور برابری کا حکم دیتے تھے، اسی طرح بیویوں کے درمیان بھی عدل کا پورا لحاظ فرماتے تھے، حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ حضورؐ ہم میں سے ایک کو دوسرے پر باری کے معاملہ میں ترجیح نہیں دیتے تھے، روزانہ تمام ازواج سے ملاقات فرماتے تھے؛ لیکن جن کی باری ہوتی تھی، ان ہی کے پاس شب گزارتے تھے: حتی یبلغ إلی التی ھو یومھا فیبیت۔  (سنن ابی دادؤ ، عن عائشہؓ ، حدیث نمبر : ۲۱۳۵) جب آپ ﷺ سفر میں تشریف لے جاتے اور کسی زوجہ مطہرہ کو ساتھ لے جانا ہوتا تو اپنے طورپر انتخاب نہیں فرماتے؛ بلکہ قرعہ اندازی کرتے اور جن کا نام نکل آیا ، ان کو ساتھ لے جاتے۔ (بخاری، عن عائشہؓ ، حدیث نمبر : ۵۲۱۱) اس درجہ عدل و انصاف کے باوجود حضرت عائشہؓ کی طرف آپ کا قلبی رجحان تھا تو فرماتے تھے:  اے اللہ! جو چیز میرے اختیار میں ہے، اس میں تو میں عادلانہ تقسیم کررہا ہوں؛ لیکن جس چیز کے آپ مالک ہیں، میں مالک نہیں ہوں ، یعنی: قلبی رجحان، اس میں ہماری پکڑ نہ فرمائیں:  فلا تلمنی فیما تملک ولا أملک۔ (ابوداؤد ، عن عائشہؓ ، حدیث نمبر : ۲۱۳۴) اگر کوئی شخص قاضی یا حَکَم ہو تو اس کے لئے آپؐ نے خاص طورپر عدل کی تاکید فرمائی، آپؐ نے فرمایا: قاضی تین قسم کے ہیں : ایک جنت میں جائیں گے اور دو دوزخ میں، جس نے مقدمہ میں یہ بات سمجھ لی کہ کون حق پر ہے؟ اور اس کے مطابق فیصلہ کیا تو وہ جنت میں جائے گا، اور جس نے حق اور ناحق کو سمجھ لیا پھر بھی غلط فیصلہ کیا، یا اس میں حق و ناحق کے سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں تھی اور جہالت کے باوجود فیصلہ کردیا تو ان دونوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ (ابوداؤد، عن ابی ہریرہؓ، حدیث نمبر: ۳۵۵۲)۔ اسی لئے سرکار دو عالم ؐ کی ہدایت تھی کہ جب تک دونوں فریق کی بات نہ سن لی جائے، اس وقت تک فیصلہ نہ کیا جائے۔  (مستدرک حاکم ، عن علیؓ:  ۴؍۹۳) آپؐ کا طریقہ تھا کہ جب بھی کسی مقدمہ کا فیصلہ فرماتے تو دونوں فریق کو برابری میں سامنے بیٹھاتے: إن الخصمین یقعدان بین یدی الحکم۔ (ابوداؤد ، عن عبد اللہ بن زبیرؓ ، حدیث نمبر : ۳۵۸۸) معاملات میں بھی آپؐ اس کا پورا خیال رکھتے تھے، آپ کے ذمہ اگر کسی کا دَین باقی ہوتا تو پورا پورا بلکہ بڑھ کر ادا فرماتے۔ ایک دفعہ ایک صاحب کی اونٹنی آپ ؐ کے ذمہ دَین تھی، آپؐ نے حضرت بلالؓ سے فرمایا:  جو اونٹنیاں آئی ہیں، ان میں سے اسی معیار کی اونٹنی دے دیں، حضرت بلالؓ نے عرض کیا: تمام اونٹنیاں اُس سے بہتر ہیں، جو آپ کے ذمہ میں باقی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اسی میں سے دے دو، یہ حسن ادائیگی کا تقاضہ ہے ۔ (مصنف عبد الرزاق، کتاب البیوع، باب السلف فی الحیوان، حدیث نمبر : ۱۴۱۵۸-۱۴۱۵۹) ایک بار ایک صاحب حَجَرسے مکہ کپڑا لے کر آئے،  رسول اللہ ﷺ نے پائجامہ کا بھاؤ طے کیا، ان کے ساتھ ایک خادم تھا، جو درہم کا وزن کرتا تھا، آپؐ  نے اس سے فرمایا : وزن کرو اور جھکتا ہوا تولو۔ (ترمذی ، عن سوید بن قیسؓ ، حدیث نمبر : ۱۳۰۵) آپ نے اُمت کو اجتماعی سَطح پر عدل قائم رکھنے کا خاص طورپر حکم فرمایا  چنانچہ آپؐ کا ارشاد ہے: جس قوم میں حق کے ساتھ فیصلہ نہیں کیا جاتا ہو اور کمزور شخص طاقتور سے بے تکلف اپنا حق وصول نہیں کرسکتا، اللہ تعالیٰ اس قوم کو عزت نہیں دیتے ہیں۔ (معجم الکبیر للطبرانی ، عن معاویہ : ۱۹؍۳۸۵) خود رسول اللہ ﷺ کو اِس کا اِس درجہ لحاظ تھا کہ غزوۂ بدر کے موقع سے جب بہت سارے لوگ قید ہوئے تو ان میں آپؐ کے چچا حضرت عباسؓ بھی تھے۔ جب فدیہ مقرر ہوا تو ان کے لئے بھی مقرر ہوا، انہوں نے فدیہ معاف کرنے کی درخواست کی، انصار نے بھی حضور ﷺ  کے رشتہ کی رعایت کرتے ہوئے عرض کیا کہ ان کا فدیہ معاف کردیا جائے؛  لیکن آپ نے اس کو قبول نہیں کیا اور ان سے بھی فدیہ وصول فرمایا ۔ (صحیح بخاری ، کتاب العتق، باب اذا أسر اخو الرجل، حدیث نمبر : ۲۵۳۷) سخاوت و فیاضی کا حال یہ تھا کہ کوئی سائل واپس نہیں ہوسکتا تھا، اگر اپنے پاس موجود نہ ہو تو دوسروں سے قرض لے کر دیتے، اگر کچھ درہم و دینار بچا رہتا تو جب تک تقسیم نہ ہوجاتا بے چین رہتے، جن لوگوں کی وفات ہوتی، فرماتے کہ ان کے قرض کی ادائیگی میرے ذمہ ہے، اور متروکہ ان کے ورثہ کے لئے ہے۔  (سنن ابی داؤد ، کتاب البیوع ، باب فی التشدید فی الدین ، حدیث نمبر : ۳۳۴۳ ) آپ ﷺ کی اس فیاضی کا نتیجہ تھا کہ جب آپ کی وفات ہوئی تو چراغ میں تیل تک نہیں تھا اور آپ ﷺ کی زرہ مبارک چند کلو جَو پر رہن تھی۔ (صحیح بخاری ، کتاب المغازی، باب وفاۃ النبی ﷺ ، حدیث نمبر : ۴۴۶۷)
 آپ ﷺکی سخاوت اور فیاضی کے بہت سارے واقعات حدیث و سیرت کی کتابوں میں موجود ہیں۔ حضرت سہل بن سعدؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک خاتون نے حضور ﷺکی خدمت میں ایک چادر پیش کی ، جس پر بارڈر بھی بنا ہوا تھا، صحابیہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں یہ آپ کو پیش کرتی ہوں، رسول اللہ ﷺ نے قبول فرمایا اور زیب تن کرلیا، ایک صحابی نے دیکھا تو کہنے لگے: کیا ہی خوب چادر ہے، یہ آپ مجھے عنایت فرمادیں، آپ ﷺنے فرمایا : ٹھیک ہے۔ جب آپ مجلس سے اُٹھ گئے تو حاضرین نے اس شخص کو ملامت کی کہ تم نے یہ اچھا نہیں کیا، یہ معلوم ہونے کے باوجود کہ حضور ﷺ کو اس کپڑے کی ضرورت تھی اور یہ بھی جاننے کے باوجود کہ آپ کسی کا سوال رد نہیں فرماتے ہیں، تم نے حضور سے مانگ لیا ؟؟ وہ صاحب کہنے لگے: اصل میں میں نے اسے تبرکاً مانگا تھا؛ کیوںکہ حضور ﷺ نے اس کو اپنے جسم مبارک پر زیب تن فرمایا ہے، میں چاہتا ہوں کہ یہی میرا کفن ہو۔  (بخاری ، عن سہل بن سعد ، حدیث نمبر :۶۰۳۶) حضرت مقدادؓ نقل کرتے ہیں کہ میں اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ اس طرح خدمت اقدس میں حاضر ہوا کہ بھوک اور مشقت کی وجہ سے ہماری آنکھیں اور ہمارے کان بھی جواب دے رہے تھے۔ ہم خدمت اقدس میں حاضر ہوئے، آپؐ  ہمیں اپنے گھر لے گئے، وہاں تین بکریاں تھیں، آپؐ نے فرمایا: ان بکریوں کا دُودھ نکالو، جس کو ہم سب لوگ مل کر پئیں گے؛ چنانچہ ہم دُودھ دوھتے، ہم میں سے ہر آدمی اپنا حصہ لے لیتا اور ہم آپ کے لئے آپ کا حصہ اُٹھالیتے۔ (مسلم ، عن مقدادؓ، حدیث نمبر: ۲۰۵۵) یہ سخاوت وفیاضی کا اعلیٰ طریقہ تھا کہ آپؐ صرف ایک دفعہ دے دینے پر اکتفا نہیں فرماتے؛ بلکہ ان کے لئے مستقل طورپر آپ نے میزبانی کا نظم فرمایا ۔ معمولِ مبارک تھا کہ کوئی بھی شخص کوئی سوال کرتا، اگر آپ ﷺ کے پاس موجود ہوتا تو ضرور عنایت فرمادیتے،  ’’ نہیں ‘‘ نہ کہتے۔   (بخاری ، عن جابرؓ ، حدیث نمبر : ۶۰۳۴) یہ فیاضی اس درجہ بڑھی ہوئی تھی کہ دو پہاڑوں کے درمیان بکریوں کا ایک ریوڑ تھا، ایک صاحب نے درخواست کی کہ یہ پورا ریوڑ اُن کو دے دیا جائے، آپؐ نے عطا فرمادیا، وہ صاحب اپنی قوم میں گئے اور کہنے لگے: لوگو!  مسلمان ہوجاؤ ؛ محمد (ﷺ)اتنا عنایت فرماتے ہیں کہ محتاجی کا ڈر بھی باقی نہ رہے ۔ (مسلم ، عن انسؓ ، حدیث نمبر : ۲۳۱۲) جہاں آپ ﷺکے دربار سے کوئی حاجت مند نامراد واپس نہیں ہوتا تھا، وہیں یہ بھی تھا کہ آپؐ سوال اور گداگری کو ناپسند فرماتے تھے، ایک صاحب بھیک مانگتے ہوئے آئے تو آپؐ  نے ان کا بستر اور پیالہ ( جس کے وہ مالک تھے ) منگوایا اور اس کی ڈاک لگوائی، دو درہم میں فروخت ہوا ، آپؐ  نے انھیں ایک درہم خرچ کے لئے دیا اوردوسرے درہم سے کلہاڑی بنادی کہ جنگل سے لکڑی لائیں اور فروخت کریں، پندرہ دنوں بعد جب وہ صاحب خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو دس درہم ان کے پاس جمع ہوچکا تھا، آپؐ نے ارشاد فرمایا: یہ اچھا ہے یا یہ کہ قیامت کے دن چہرہ پر گدائی کا داغ لے کر جاتے؟ (سنن ابی داؤد ، کتاب الزکوٰۃ ، باب مایجوز فیہ المسئلۃ ، حدیث نمبر : ۱۶۴۱ ) 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK