• Fri, 23 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آپﷺ کا سیاسی کردار بھی ہر اعتبار سے عدیم المثال اور ہر لحاظ سے بے نظیر تھا

Updated: January 23, 2026, 5:32 PM IST | Professor Hafiz Muhammad Yasin | Mumbai

اللہ کے رسولؐ کی حیات ِمبارکہ کے ابتدائی دَور سے یہ حقیقت واضح ہونے لگی تھی کہ روحانی پاکیزگی و طہارت کے ساتھ ساتھ آپؐ میں حکومت کی ذمہ داری اور دنیا کی سیاسی قیادت و امامت کے آثار بھی بہ درجہ اتم موجود ہیں۔

The life of the Holy Prophet (PBUH) is the most beautiful scene of countless political events from the first day to the last. Picture: INN
رسول اکرم ﷺکی حیات ِطیبہ یومِ اول سے یوم آخر تک بے شمار سیاسی واقعات کا حسین ترین مرقع ہے۔ تصویر: آئی این این
تاریخ انسانی میں چھٹی صدی عیسوی کو اس اعتبار سے بڑی اہمیت حاصل ہے کہ اس میں محمد مصطفےٰ ﷺ کی ولادت باسعادت کا عظیم الشان واقعہ ظہور میں آیا۔ اس زمانے میں مختلف ملکوں کے حکمراں بڑے بڑے پرشکوہ  خطابات کے ساتھ حکمرانی کی مسندوں پر متمکن تھے اور لوگ ان کے قہر و جبروت سے ہر وقت لرزہ بر اندام رہتے تھے۔ یونان کے شہنشاہ کو بطلیموس کے لقب سے پکارا جاتا تھا، ترکوں کا حکمراں خاقان کے لقب سے سرفراز تھا، فارس کے فرمانروا کو کسریٰ کا لقب عطا ہوا تھا، روم کا بادشاہ قیصر کہلاتا تھا اور ملک جیش کے شہنشاہ کو نجاشی کہا جاتا تھا۔
حکمرانی کے اعتبار سے یہ نہایت جبر و ستم کا دور تھا اور اس عہد کی پوری انسانیت ان شخصی حکومتوں اور مطلق العنان فرمانرواؤں کے شدائد و مظالم کے شکنجے میں جکڑی ہوئی تھی ۔ کسی کو ان  کے سامنے دم مارنے کی جرأت نہ تھی اور کوئی ان کے حضور گردن اونچی کر کے کھڑا نہیں ہو سکتا تھا، سب کے سر جھکے ہوئے اور نگاہیں نیچی رہتی تھیں۔
اس دورِ تاریک اور عہد ِغلامی میں حضرت محمد مصطفیٰؐ خلیفۃ اللہ اور رسول اللہ کے مقدس ومطہر خطابات سے سرفرا ز ہو کر دنیا میں تشریف لائے اور آپؐ کو چونکہ انسانی معاشرہ میں مبعوث کیا گیا تھا لہٰذا  آپؐ  محمداً عبدہ ورسولہ کہلائے۔ مطلب یہ تھا کہ لوگ آپؐ سے مانوس ہو جائیں اور یہ حقیقت ان کے ذہن میں راسخ ہو جائے کہ  اللہ نے آپؐ کو انسانوں کی طرف رسول اور پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ آپؐہی کے ذریعے سے صحت مند انسانی معاشرہ پیدا ہو گا ، آپؐ ہی  کی جدو جہد سے انسانوں کی قسمت بدلے گی اور آپؐ ہی کی تبلیغ سے انسانیت کا سر اونچا ہوگا اور ان میں ایسی سیاسی بیداری کروٹ لے گی جو روحانیت سے  مالا مال ہوگی  چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ آپؐ کی بعثت سے کفر کی تاریکی ختم ہوئی اور اسلام کا سورج طلوع ہوا، ظلم وستم نے رخت ِ سفر باندھا اور عدل و انصاف کا دور دورہ ہوا - غرور و تکبر کے صنم کدے منہدم ہوئے، دنیا میں اعتدال و توازن کی فضا پیدا ہوئی، حکومت کے ایوانوں سے شخصی اقتدار کا خاتمہ ہوا،  اسلامی جمہوریت اور دینی سیاست نے کروٹ لی، بت پرستی کا پرانا قلعہ زمیں بوس ہوا اور اس کے بجائے اللہ کے صاف ستھرے قوانین و احکام کا بول بالا ہوا ۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے کرۂ ارض خدا کے نازل کردہ فرامین و ارشادات سے منور و تاباں ہو گیا ۔
دوسرے لفظوں میں یوں کہئےکہ سب سے پہلے سطح ارض پر سرور کائنات ﷺ کا ظہور ہوا۔ اس کے بعد ان قوانین و احکام نے اپنی جھلک دکھائی جو اللہ کی  طرف سے نازل فرمائے گئے اور انسانی فطرت سے ہم آہنگ ہیں۔  اور پھر اس کے ساتھ ہی وہ معاشرہ وجود میں آیا جس نے اپنے پیغمبر ؐکے حکم سے ان قوانین پر عمل و کردار کی بنیادیں استوار کیں۔ یہ ایسا پاکیزہ معاشرہ تھا جو اس سے قبل نہ چشم فلک نے دیکھا تھا اور نہ زمین کی  پیٹھ کبھی اس قسم کے لوگوں سے آشنا ہوئی تھی۔  وہ ایک مثالی معاشرہ تھا اور اس کا ہر فرد خیر و  برکت کی بے پناہ دولت سے بہرہ ور تھا۔ یہ معاشرہ صرف ۲۳؍ سال کی مختصر ترین مدت میں زمین پر جلوہ گر ہو گیا تھا ۔ اب پرانے تصورات، پرانی روایات اور پرانی اقدار جن کا روحانی پاکیزگی اور اسلامی سیاست سے کوئی علاقہ نہ تھا، سب ختم ہو چکی تھیں۔ ان کی جگہ اسلام کا دَور شروع ہوا، اسلام کی حکومت قائم ہوئی، اسلام کا نظام ِاجتماعی عالم وجود میں آیا  اور ہر سو خیر ہی خیر کی جلوہ گری رہنے لگی ۔
رسول اللہ ﷺکی حیات ِمبارکہ کے ابتدائی دور ہی سے یہ حقیقت واضح ہونے لگی تھی کہ روحانی پاکیزگی و طہارت کے ساتھ ساتھ آپؐ میں حکومت کی ذمہ داری اور دنیا کی سیاسی قیادت و امامت کے آثار بھی بہ درجہ اتم موجود ہیں اور جس مذہب اسلام کی آپؐ لوگوں کو دعوت دے رہے ہیں وہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن کر ابھرے گا  اور انسانیت کی بھلائی صرف اسی کی اتباع میں ہے۔
انسانی زندگی میں خواب کو ہمیشہ اہمیت حاصل رہی ہے۔  آنحضرتؐ کے دادا عبد المطلب نے آپؐ کی ولادت باسعادت سے قبل خواب میں ایک سنہری زنجیر دیکھی جو مشرق سے مغرب تک پھیلی ہوئی تھی۔ لوگوں نے اس خواب کی یہ تعبیر دی کہ اُن کی نسل میں ایک ایسی برگزیدہ شخصیت پیدا ہو گی جس کے زیر فرمان اہل مشرق بھی ہوں گے اور اہل مغرب بھی، یعنی تمام لوگ کسی نہ کسی انداز میں اس کے اطاعت گزار ہوں گے ۔
(سُہیلی۔ الروض الانف ، ج اول)
اسی طرح آپؐ کی والدہ مکرمہ آمنہ بنت وہب نے آپؐ کی ولادت سے پہلے ایک خواب دیکھا، جس کی تعبیر یہ بتائی گئی کہ اُن کے ہاں ایک ایسا بچہ جنم لے گا جو ایک دنیا کا سردار ہوگا ۔ (ایضاً)
ایک شخص خالد بن سعید نے آنحضرتؐ کی پیدائش سے کئی سال بعد خواب دیکھا کہ بئر زمزم سے روشنی کا فوارہ بلند ہو رہا ہے ۔ چنانچہ آنحضرتؐ نے جب اپنی نبوت کا اعلان فرمایا اور امت مسلمہ  معرض تنظیم میں آنے لگی تو خالد بن سعید صرف اس خواب کی وجہ سے اسلام قبول کرکے مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوگئے۔ 
(تاریخ کامل ابن الاثیر، ج اول)
آپؐ جس سال پیدا ہوئے وہ واقعہ ٔ فیل کا سال تھا یعنی یمن کا حبشی حکمراں ابرہہ ہاتھی پر سوار ہوکر خانہ ٔ  کعبہ کو ڈھا دینے کے لئے آیا۔ لیکن قانونِ خداوندی کا اس طرح ظہور ہوا کہ اس کو شکست ہوئی اور وہ واپسی کی راہ لینے پر مجبو ر ہوا۔ یہ واقعہ ابرہہ کی نیت کے اعتبار سے اپنے اندر بڑی سیاسی اہمیت رکھتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے  سے بیت اللہ کو امن و سلامتی کے پُر عظمت مرکز کی حیثیت حاصل تھی ۔ اولادِ اسماعیل نے اجتماعی طور پر اس کے تقدس کی حفاظت کی ۔ آگے چل کر قصیٔ بن کلاب نے ملک عرب میں اس کی سیاسی مرکزیت کو قائم رکھا ۔ ابرہہ چاہتا تھا کہ اللہ کی حکمرانی کے اس مرکز می مقام کو منہدم کر دیا جائے لیکن اللہ نے اس پر حملہ کرنے والوں کو بساط ِعالم سے مٹا دیا ۔
جب عالم ِانسانیت کے مذہبی مرکز میں یہ واقعہ ایک بہت بڑے سیاسی واقعہ کی حیثیت سے رونما ہو چکا تو اسی مقام پر اسی سال اس شخصیت کا ظہور ہوا جس کی جدو جہد میں مستقبل کی تمام دنیا کا امن وابستہ تھا۔ تاریخ میں اسے عام الفیل سے موسوم کیا گیا۔ قدرت ِخداوندی کی کر شمہ سازیاں دیکھئے کہ فارس کی سرزمین پر اس سال نوشیرواں عادل حکمراں تھا اور یہ نوشیرواں کا بیالیسواں سالِ جلوس تھا ۔
رسول اکرم ﷺکی حیات ِطیبہ یومِ اول سے یوم آخر تک بے شمار سیاسی واقعات کا حسین ترین مرقع ہے۔  آپؐ کی ولادت سے پہلے اور ولادت کے وقت اگر اس دَور کے مشاہیر مذہبی رہنماؤں کا یہ خیال تھا کہ عبدالمطلب کے گھر میں اقوامِ عالم کا سردار پیدا ہوگا تو پیدائش کے بعد اس خیال نے حقیقت کا روپ دھار لیا اور جو کچھ وہ سنتے یا کہتے آئے تھے، وہ باتیں واقعاتی صورت میں دنیا کے سامنے جلوہ گر ہوگئیں۔
بہت سے ممتاز و مشہور مصنفین نے آپؐ کی سیرت نگاری کا فریضہ انجام دیا   ہے جن میں علامہ سُہیلی کا اسم گرامی بھی شامل ہے۔ وہ رقمطراز ہیں کہ حضرت آمنہ اپنے اس فرزند ِ عالی مرتبتؐ کی ولادت سے پہلے ہی آنے والے واقعات کی روشنی کی ایک جھلک دیکھ چکی تھیں۔ یہ روشنی کیا تھی جو آئندہ رونما ہونے والے واقعات کے پردے میں مستور تھی؟ یہ تھی آنے والے دَور کی حکومت اور مستقبل کی فتوحات کا ابتدائی نظارہ۔
رسول اکرم ؐ اللہ کے آخری نبیؐ تھے۔ سلسلۂ نبوت  دنیا میں آپؐ کی تشریف آوری پر ختم ہوگیا لیکن اس  کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ آپؐ اس عالم ِ رنگ و بو کی حکومت کے کاموں اور کارناموں میں ایک انتہائی بالادست حکومت کے نائب کی حیثیت رکھتے تھے۔ آپؐ نے  لوگوں کو اس حقیقت سے آگاہ فرمایا کہ حکومت اور مذہب کے امتزاج ہی سے دنیا میں معتدل و متوازن نظام قائم ہو سکتا ہے اور انسانی معاشرہ کو راہ مستقیم پر گا مزن کرنے کا اصل ذریعہ یہی ہے ۔  اگر معاملے کے تمام پہلوؤں پر غور کیا جائے تو ہم اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ رسول اکرمؐ  کا عہد مبارک سیاسی فرائض و تصورات کی انجام دہی کے لحاظ سے بھی اتنا ہی بے مثال تھا جتنا کہ نبی آخر الزماںؐ  کی حیثیت سے عدیم النظیربلکہ کہنا چاہئے کہ سراسر  اعجاز تھا ۔
۱۲؍ سال کی عمر میں آنحضرتؐ اپنے حضرت چچا ابو طالب کے ساتھ تجارت کی غرض سے ملک شام کے سفر پر روانہ ہوتے ہیں۔  بُصریٰ کے قریب پہنچتے ہیں تو ایک عیسائی راہب سے ملاقات ہوتی ہے جس کا نام بحیرا ہے ۔ وہ آپؐ کو دیکھتا ہے تو اُسے آپؐ کی شخصیت میں ایسے جوہر نظر آتے ہیں جو دوسرے کسی شخص میں پائے نہیں جاتے۔ وہ اس پر نہایت تعجب کا اظہار کرتا ہے اور آپؐ کے دست مبارک کو اپنے ہاتھ میں لے کر کہتا ہے :
ھٰذا سید للعالمین ، ھٰذا رسول رب العالمين ، يبعثہ الله رحمۃ للعالمين ۔
یعنی ’’یہ شخص تمام دنیا کا سردار ہے، اسے تمام دنیا کے رب کی طرف سے پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہے، اس کو اللہ نے کل عالم کیلئے باعث ِ رحمت بنا کر مبعوث فرمایا ہے۔‘‘
 (سیرت ابن ہشام، ج ۔۱)
یہاں سردار (سید) کے معنی سیاسی اعتبار سے سردار  کے بھی ہیں اور نبی آخر الزماں اور اللہ کے فرستادہ اور دین اسلام کے داعی اور پیغمبر کے بھی ہیں۔ بحیرا راہب نے اہل قافلہ کو خاص طور سے ہدایت کی کہ اس بچے کو، جس کا مستقبل درخشاں ہے، سلطنت روم کی طرف نہ لے جانا، ایسا نہ ہو کہ وہ لوگ اسے قتل کردیں۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اسے تو دنیا بھر کی حکومت و سیادت کی باگ ڈور ہاتھ میں لینا اور لوگوں کی دینی وسیاسی قیادت کا فریضہ سرانجام دینا ہے۔ اسے ہر قسم کے متوقع خطرے سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے  چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ آپؐ کے دنیا سے پردہ فرمانے کے فوراً بعد حضرت اسامہؓ کی فوجی مہم اسی علاقہ روم کی طرف روانہ کی گئی اور یہ وہ مہم تھی جو خود آپؐ نے بھیجنے کا قصد فرمایا تھا مگر آپؐ کی رحلت کی وجہ سے ایسا نہ ہوسکا تھا اور پھر آپؐ کے اس عزم کی تکمیل خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ  نے کی۔ 
آنحضرت ؐجب پہلی مرتبہ میدان جنگ میں گئے اس وقت آپؐ کی عمر مبارک  ۲۰؍سال کی تھی اور جنگ کا نام حرب فجار تھا۔ اس جنگ کے بعد قبیلہ قریش نے ایک صلح نامہ طے کیا تھا جسے تاریخ میں ’’ میثاقِ فضول‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے میں طے پایا تھا کہ کوئی عرب، مظلوم کے مقابلے میں ظالم کی مدد نہیں کریگا۔ اسلامی معاشرہ کے قیام یا یوں کہئے کہ حضورؐ کی بعثت سے ۲۰؍ برس پہلے یہ معاہدہ ہوا تھا۔ اس سے قبل قریش کی تاریخ میں اس قسم کا کبھی کوئی معاہدہ نہیں کیا گیا تھا۔ جس مجلس میں اس معاہدے کو آخری شکل دی گئی تھی، اس میں خود آپؐ  بھی شریک تھے۔ آپؐ کی زندگی کی یہ پہلی سیاسی مجلس تھی جس میں آپؐ نے شرکت فرمائی ۔ آپ ؐ   خود فرماتے ہیں کہ میں ’’حلف الفضول‘‘ کے موقع پر موجود تھا اور یہ معاہدہ میرے نزدیک سرخ اونٹوں سے زیادہ اہمیت رکھتا تھا۔ اگر کوئی ایسے معاہدہ کرنے کیلئے مجھے دعوت دے تو میں اس میں شامل ہوں گا ۔   (سیرت ابن ہشام)
ان باتوں سے واضح ہوتا ہے کہ زندگی کے ابتدائی دور ہی میں آپؐ کو رب العالمین نے سیاسی بصیرت سے بہرہ مند فرمایا تھا اور اس دور کے پیچیدہ اور الجھے ہوئے سیاسی مسائل سے آپؐ  خوب آگاہ تھے۔
تمام سیرت نگار اس بات پر متفق ہیں کہ آپﷺ کا سیاسی کردار ہر اعتبار سے عدیم المثال اور ہر لحاظ سے بے نظیر تھا۔ دور جاہلیت میں حضورؐ کی زندگی اس عہد کی پوری دنیا کے تمدنی معاملات کا اعلیٰ نمونہ تھی۔ اس کا اندازہ اس حقیقت سے ہو سکتا ہے کہ پوری قوم نے آپؐ کو ’’امین‘‘ اور’’صادق‘‘ کے بلند ترین خطابات کا مستحق قرار دیا۔ اور پھر عرب کی انتہائی معزز و محترم خاتون خدیجہ الکبریٰؓ نے اپنے اقتصادی و تجارتی معاملات میں آپؐ پر کلی اعتماد کیا اور آپؐ کی بے پناہ خصوصیات کی بنا ء پر حبالہ ٔ عقد میں آئیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK