• Mon, 26 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

’’آپؐ نے مسلمانوں کو ہم تینوں کے ساتھ بات چیت کرنے سے منع فرمادیا ‘‘

Updated: December 08, 2023, 4:44 PM IST | Molana Nadimul Wajidi

سیرت النبیؐ کی اِس خصوصی سیریز میں غزوۂ تبوک کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے۔ حضرت کعب بن مالکؓ اس غزوے میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ آج کی قسط میں ان کی عدم شمولیت کا طویل واقعہ ان ہی کی زبانی پڑھئے۔

Pilgrims are seen going inside the Prophet`s Mosque. Photo: INN
مسجد نبویؐ کے اندرونی حصہ میں زائرین جاتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ تصویر : آئی این این

حضرت کعب بن مالکؓ کا قصہ
امام بخاریؒ نے اپنی صحیح میں حضرت کعب بن مالکؓ کا یہ قصہ تفصیل سے نقل کیا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن کعبؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت کعب بن مالکؓ سے یہ دریافت کیا کہ وہ غزوۂ تبوک میں پیچھے کیوں رہ گئے تھے، اس پر انہوں نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے بھی غزوات میں شرکت فرمائی، غزوۂ بدر اور غزوۂ تبوک کے علاوہ میں نے ان تمام غزوات میں آپؐ کے ساتھ حصہ لیا۔ غزوۂ بدر میں جن لوگوں نے شرکت نہیں کی تھی ان میں سے کسی پر اللہ کا عذاب نازل نہیں ہوا، اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کا قافلہ روکنے کے ارادے سے روانہ ہوئے تھے (جنگ کا ارادہ نہیں تھا اور نہ اس کا کوئی اعلان تھا) اچانک ہی اللہ نے دشمنوں کو اور مسلمانوں کو آمنے سامنے کردیا۔ 
میں عقبہ کی رات بیعت کے موقع پر بھی حاضر تھا، اس میں ہم نے اسلام کی حمایت اور حفاظت کا معاہدہ کیا تھا،مجھے یہ بات پسند نہیں کہ بیعت عقبہ کی حاضری کے بجائے غزوۂ بدر میں شرکت کا ذکر ہو، اگرچہ لوگوں میں غزوۂ بدر کا ذکر زیادہ ہوتا ہے، اور (غزوۂ تبوک میں عدم شرکت کا قصہ یہ ہے کہ)میں کبھی بھی اتنا خوش حال اور مالدار نہیں تھا جتنا میں اس غزوے کے موقع پر تھا، خدا کی قسم اس سے پہلے کبھی میرے پاس دو سواریاں جمع نہیں ہوئی تھیں ، ان دنوں میرے پاس دو سواریاں تھیں ، رسول اللہ ﷺ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ جب آپؐ کسی غزوے کا ارادہ فرماتے تو توریہ فرماتے (یعنی جانا کسی اور سمت ہوتا اور حالات دوسری سمت کے دریافت فرماتے تاکہ منافقین دشمنوں کو صحیح بات بتلا کر حضور کے ارادے سے باخبر نہ کردیں ) بہر حال انہیں دنوں غزوۂ تبوک کا واقعہ پیش آیا، آپؐ نے سخت گرمی میں جہاد کا ارادہ فرمایا، اور سفر بھی بڑی دور کا، بے آب وگیا صحرا تھا، دشمن کی تعداد بھی بہت تھی، اس لئے رسول اللہﷺ نے اس جہاد کا کھل کر اعلان کیا تاکہ مسلمان اس کیلئے پوری طرح تیار ہو کر نکلیں ۔ آپؐ نے وہ سمت بتلادی جس سمت جانے کا ارادہ تھا (یعنی یہ بتلا دیا کہ تبوک جانا ہے)۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جانے والے مسلمانوں کی تعداد بھی بہت تھی، اگرچہ کوئی ایسا رجسٹر تیار نہیں کیا گیا تھا جن میں جانے والوں کے نام لکھے گئے ہوں ، اگر کسی شخص کے جانے کا ارادہ نہ ہوتا تو وہ یہ سوچ کر غائب ہوسکتا تھا کہ رسولؐ اللہ کو اس کی خبر نہیں ہوگی، اِلَّا یہ کہ آپؐ کو وحی کے ذریعے اس کی اطلاع ہوجائے۔
اس غزوے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روانگی ٹھیک اس وقت عمل میں آئی جب کھجوریں پک گئی تھیں ، اور (گرمی کی وجہ سے) سایہ اچھا لگنے لگا تھا۔ آپؐ نے اور مسلمانوں نے غزوے میں شرکت کی تیاری کی، میں بھی ہر صبح یہ ارادہ کرتا کہ جانے کی تیاری کروں مگر کسی تیاری کے بغیر واپس آجاتا، میں دل میں کہتا کہ (میرے پاس پیسہ ہے، سواری ہے) میں جہاد پر ہر طرح سے قدرت رکھتا ہوں ، (اس لئے تیاری کرلوں گا) مگر یہ معاملہ ٹلتا رہا (اور میری تیاری نہ ہوسکی) جب کہ لوگوں نے محنت کرکے اور تکلیفیں جھیل کر اپنی تیاری مکمل کرلی، یہاں تک کہ (ایک دن) صبح کے وقت رسولؐ اللہ کی روانگی عمل میں آگئی، مسلمان بھی آپؐ کے ساتھ چلے گئے، میں نے کیوں کہ کسی طرح کی کوئی تیاری نہیں کی تھی (اس لئے میں نہیں گیا) میں یہی سوچتا رہا کہ ایک دو روز میں تیاری کرکے میں بھی روانہ ہوجاؤں گا، اور قافلے سے جا ملوں گا، اگلے روز میں نے تیاری شروع کی لیکن کچھ بھی نہ کرسکا اور ویسے ہی واپس آگیا، تیسرے دن بھی یہی ہوا، وہ لوگ تیز رفتاری کے ساتھ نکل گئے، (میں سوچتا ہی رہ گیا) میں ان کے ساتھ تبوک نہ جاسکا، کئی مرتبہ میں نے جانے کا ارادہ کیا، مگر ہر بار ناکام رہا، کیوں کہ جانا میری قسمت میں تھا ہی نہیں ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے بعد میں جب بھی مدینے کی گلیوں میں نکلتا تو مجھے یہ بات افسردہ کردیتی کہ ان گلیوں میں صرف وہ لوگ نظر آرہے ہیں جو منافق ہیں ، یا وہ لوگ ہیں جو ضعیف اور کم زور ہیں ، سارے راستے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یاد نہیں کیا، یہاں تک کہ آپؐ تبوک پہنچ گئے، (تبوک پہنچنے کے بعد) ایک دن آپؐ لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے، آپؐ نے دریافت فرمایا: کعب کا کیا رہا؟ (آپ کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ کعب کیوں نہیں آیا) بنو سلمہ کے ایک شخص نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! وہ کیوں کہ اچھا لباس پہنتا ہے اور اسے دیکھتا بھی رہتا ہے اس لئے وہ ہمارے ساتھ نہیں آیا، حضرت معاذ بن جبلؓ نے اس شخص سے کہا کہ تم نے یہ اچھی بات نہیں کہی، (پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا) یارسولؐ اللہ!میں کعب میں خیر کے علاوہ کچھ نہیں دیکھتا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔
حضرت کعبؓ فرماتے ہیں کہ مجھے(ایک دن) یہ خبر ملی کہ حضورؐ (تبوک سے) واپس تشریف لا رہے ہیں (یہ خبر سن کر) مجھے بڑی تشویش ہوئی اور میں کوئی جھوٹا بہانہ سوچنے لگا، میں نے اپنے دل میں کہا کہ میں رسولؐ اللہ کی ناراضگی سے کس طرح بچ سکتا ہوں ، اس سلسلے میں میں نے اپنے گھر کے سمجھ دار اور ذی رائے افراد سے بھی مشورہ کیا، (ایک روز) مجھے خبر ملی کہ آپؐ تشریف لے آئے ہیں ، (بس یہ سنتے ہی) میرے دل سے جھوٹے خیالات اور بہانے ختم ہوگئے، میں نے یہ بات اچھی طرح سمجھ لی کہ میں جھوٹ کی بنیاد پر آپؐ کی ناراضگی سے محفوظ نہیں رہ سکتا اس لئے میں نے طے کرلیا کہ میں بالکل سچ بات بتلاؤں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت تشریف لائے، آپؐ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ جب آپؐ کسی سفر سے واپس تشریف لاتے تو پہلے مسجد میں آکر دو رکعت نماز پڑھتے، پھر لوگوں کے درمیان تشریف رکھتے، اس دن بھی ایسا ہی ہوا، اپنی عادت کے مطابق جب آپ نماز پڑھ کر مجلس میں تشریف فرما ہوئے تو غزوے میں شریک نہ ہونے والے لوگوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ لوگ قسمیں کھا کھاکر اپنا عذر بیان کرنے لگے، ایسے لوگوں کی تعداد اسی (۸۰) سے متجاوز تھی۔ آپؐ ان کے عذر قبول فرمالیتے، ان کو بیعت فرماتے اور ان کے لئے مغفرت کی دُعا بھی کرتے، باقی اندرونی معاملہ اللہ کے سپرد کردیتے۔ 
میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میرے سلام کرنے پر آپؐ نے ایسا تبسم فرمایا جیسے اس پر تبسم کیا جاتا ہے جس سے ناراضگی ہو، پھر فرمایا: آؤ، میں چلتا ہوا آپؐ کے قریب آیا، اور آپؐ کے سامنے بیٹھ گیا، آپ نے مجھ سے فرمایا: تم کیوں نہیں گئے، کیا تم نے سواری نہیں خریدی تھی، میں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! اگر آپ کی جگہ کوئی دوسرا ہوتا تو خدا کی قسم میں کوئی نہ کوئی عذر کرکے آپ کی ناراضگی سے بچ سکتا تھا، مجھے چرب زبانی بھی خوب آتی ہے، لیکن اگر میں نے جھوٹ بول کر آپؐ کو راضی بھی کرلیا تو بہت ممکن ہے اللہ تعالیٰ میری اس حرکت سے خوش نہ ہو، میرے سچ بولنے پر آپ ناراض ضرور ہوں گے، لیکن مجھے امید ہے اللہ میری اس غلطی پر مجھے معاف کردے گا، (حقیقت تو یہ ہے کہ) مجھے کوئی عذر نہیں تھا، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ میں مالی اعتبار سے بھی اور جسمانی لحاظ سے بھی اس وقت مضبوط تھا، (میری بات سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس شخص نے سچ کہا ہے (پھر مجھ سے مخاطب ہوکر فرمایا) اب تم یہاں سے جاؤ، اور خدا کے فیصلے کا انتظار کرو۔
کعبؓ کہتے ہیں کہ میں وہاں سے اٹھ گیا، بنو سلمہ کے چند لوگ میرے پیچھے پیچھے آئے اور انہوں نے مجھ سے کہا: جہاں تک ہم جانتے ہیں تم نے اس سے پہلے کوئی گناہ نہیں کیا ہے (جہاں تک اس غلطی کا سوال ہے) تم بھی دوسروں کی طرح کوئی عذر کرسکتے تھے، ایسا نہ کرکے تم نے بڑی غلطی کی ہے، اگر تم عذر کردیتے تو رسولؐ اللہ تمہارے لئے مغفرت کی دُعا فرمادیتے اور یہ تمہارے لئے کافی ہوتا، بنو سلمہ کے ان لوگوں نے مجھ پر اتنی لعنت ملامت کی کہ ایک دفعہ کو میرے دل میں خیال آیا کہ چلو واپس آپ کی خدمت میں چلتے ہیں ، وہاں جاکر میں اپنی بات کی تکذیب کردوں گا، (اور یہ عرض کروں گا کہ جو بات میں نے پہلے کہی تھی وہ غلط تھی، صحیح بات یہ ہے جو میں اب کہہ رہا ہوں ) میں نے ان لوگوں سے دریافت کیا کہ کسی اور شخص نے بھی میری طرح اپنے جرم کا اسی طرح صدق دلی سے اعتراف کیا ہے، انہوں نے کہا کہ ہاں دو اور شخص ہیں ، ایک مرارہ بن ربیع العمری اور دوسرے ہلال بن امیہ واقفی، ان لوگوں نے دو ایسے نیک آدمیوں کا نام لیا جنہوں نے بدر کی جنگ میں شرکت کی تھی، ان کا یہ عمل میرے لئے نمونہ تھا، (میں نے واپسی کا ارادہ ملتوی کردیا) اور گھر چلا آیا۔
(اس واقعے کے بعد) رسولؐ اللہ نے مسلمانوں کو ہم تینوں کے ساتھ بات چیت کرنے سے منع فرمادیا، چنانچہ لوگ ہم سے اجتناب کرنے لگے، اور ہم سے بچ کر نکلنے لگے، میرے لئے وہ زمین اجنبی بن گئی، میں سوچنے لگا کہ یہ وہ جگہ ہی نہیں ہے جسے میں جانتا تھا، ہم اس حال میں پچاس دن تک رہے، میرے دونوں ساتھی تو گھر میں پڑے روتے رہتے، میں کیوں کہ جوان تھا اس لئے گھر سے باہر نکلتا، لوگوں کے ساتھ نماز بھی پڑھتا اور بازاروں میں بھی گھومتا پھرتا۔
 اس دوران مجھ سے کوئی شخص بات نہیں کرتا تھا۔میں رسولؐ اللہ کے پاس بھی آتا، آپؐ نماز کے بعد مجلس میں تشریف رکھتے تھے، میں آپؐ کو سلام کرتا اور یہ دیکھتا کہ میرے سلام کے جواب میں آپ کے لب ہلے ہیں یا نہیں ، جب میں آپؐ کے قریب نماز پڑھتا تو یہ محسوس کرتا کہ جس وقت میں نماز میں مشغول ہوتا ہوں آپؐ میری طرف دیکھتے ہیں اور جب میں آپ ؐکی طرف دیکھتا ہوں آپ ؐ اپنا رخ پھیر لیتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK