آپؐ نے دُعا کی،چاند کی طرف اپنی انگشت ِ مبارک سے اشارہ کیا اور چاند دو ٹکڑے ہوگیا

Updated: May 22, 2020, 12:16 PM IST | Maolana Nadeemul Wajidi

گزشتہ ہفتے ان کالموں میں مشرکین کے ذریعے حضورؐ سے پوچھے گئے تین سوالوں کا ذکر تھا ۔ آپؐ نے ان کے جواب مرحمت فرمادیئے تھے، اس کے باوجود مشرکین ایمان نہیں لائے بلکہ اب انہوں نے کسی معجزے کی فرمائش کی۔ آپﷺ نے اس اُمید پر کہ شاید وہ لوگ معجزہ دیکھ کر ایمان لے آئیں، اللہ سے دُعا کی اور معجزۂ شق القمر رونما ہوا ۔ آج کی قسط میں اس کی تفصیل کے علاوہ مسلمانوں پر قریش کے مظالم کا تذکرہ بھی ملاحظہ کیجئے

Moon - Pic : INN
چاند ۔ تصویر : آئی این این

کفار مکہ کی ہر ممکن کوشش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پریشان کرنے کی تھی، اسی لئے دن بہ دن وہ لوگ پریشان کرنے کے نئے نئے طریقے ڈھونڈ رہے تھے اور انہیں بہ روئے کار بھی لارہے تھے۔ ایک دن کافروں کا یہ ٹولہ جو بہ زعم خود قوم کی قیادت اور سیادت کا ذمہ دار تھا اور ہر موقع پر یہی پیش پیش رہتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اگر آپ اللہ کے سچے نبی ہیں تو ہمیں کوئی نشانی دکھلا دیجئے جس سے ہمیں یہ یقین آجائے کہ واقعی آپ اللہ کے نبی اور اس کے رسول ہیں اور آپ پر وحی نازل ہوتی ہے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ انہوں نے یہ مطالبہ کیا کہ چاند کے دو ٹکڑے کرکے دکھلائیں۔ اس رات چودھویں کا چاند نکلا ہوا تھا، آپؐ نے ان لوگوں سے دریافت کیا کہ اچھا اگر میں یہ نشانی دکھلا دوں تو کیا تم لوگ ایمان لے آؤگے، انہوں نے کہا: ہم ضرور ایمان لائیں گے، آپ یہ معجزہ دکھلائیں توسہی۔  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دُعا کی اور چاند کی طرف اپنی انگشت ِ مبارک سے اشارہ کیا، چاند دو ٹکڑے ہوگیا، ایک ٹکڑا مغرب کی طرف اور دوسرا مشرق کی طرف چلا گیا۔ یہ واقعہ ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریباً پانچ سال قبل پیش آیا۔ (تفسیر روح المعانی: ۱۴/۷۵)۔ 
روایات میں یہ بھی ہے کہ چاند کے یہ دونوں ٹکڑے دو مخالف سمتوں میں جاکر رک گئے، ایک جبل ابو قُبَیْس پر جاکر ٹھہر گیا، اور دوسرا جبل قَیْقَعان پر۔ لوگ حیرت زدہ رہ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت یہ ارشاد فرمارہے تھے، لوگو! گواہ رہو، لوگو! گواہ رہو۔ چاند کی یہ کیفیت عصر اور مغرب کے درمیانی وقت کے برابر وقت تک برقرار رہی، اس کے بعد چاند پھر اپنی حالت پرو اپس آگیا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جن لوگوں نے معجزہ دکھلانے کا مطالبہ کیا تھا اور اس مطالبے کی تکمیل ہونے پر ایمان لانے کا وعدہ کیا تھا،  وہ اپنے وعدے کے مطابق اسی وقت کلمہ پڑھ لیتے، لیکن ان کے دماغ میں تو کفر وعناد کا خناس گھسا ہوا تھا، وہ کسی قیمت پر ایمان لانے والے نہیں تھے۔ کہنے لگے محمد نے تو جادو کردیا ہے، پھر خود ہی یہ بھی کہنے لگے کہ جادوہم پر تو ہوسکتا ہے، لیکن جو دور دراز کے علاقوں میں رہتے ہیں، ان پر تو نہیں ہوسکتا۔ یہ بڑا واقعہ ہے، ہر جگہ کے لوگوں نے اس کا مشاہدہ کیا ہوگا، باہر سے آنے والوں کا انتظار کرلیتے ہیں۔ اگر وہ بھی اس واقعے کی شہادت دیتے ہیں تو ہم اسے تسلیم کرلیں گے، ورنہ اس کے جادو ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔  چند روز کے بعد باہر سے آنے والوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا چنانچہ جس شخص سے بھی یہ پوچھا گیا کہ کیا اس نے فلاں دن چاند کو دو ٹکڑوں میں تبدیل ہوتے ہوئے اور پھر یکجا ہوتے ہوئے دیکھا ہے اس نے یہی کہا کہ ہاں، میں نے دیکھا ہے، اس سے معلوم ہوگیا کہ یہ معجزہ دور دور تک دیکھا گیاتھا، ان شہادتوں کے باوجود وہ لوگ ایمان نہیں لائے اور انہیں ایمان لانا بھی نہیں تھا، ایمان ان کی قسمت میں تھا ہی نہیں۔
اس تاریخی معجزے کے بارے میں قرآن کریم کا یہ ارشاد ہمارے لئے سب سے بڑی حجت ہے: ’’قیامت قریب آپہنچی اور چاند شق ہوگیا۔‘‘(القمر: ۱)   علامہ ابن کثیرؒ نے اس آیت کے حوالے سے اس بات پر امت کا اجماع ذکر کیا ہے کہ یہ آیت نبی اکرم کے معجزۂ شق القمر کے سلسلے میں نازل ہوئی۔ (تفسیر ابن کثیر:۷/۴۷۲) اس سلسلے میں روایات بھی اس قدر کثرت سے ہیں کہ علامہ سبکیؒ نے انہیں متواتر کا درجہ دیا ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت انس بن مالکؓ کی روایت ہے کہ اہل مکہ نے رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ وہ انہیں اپنی نبوت کی کوئی نشانی دکھلادیں، آپ نے چاند کو دو ٹکڑے کرکے دکھلا دیا، اہل مکہ نے جبل حراء کو چاند کے دو ٹکڑوں کے درمیان دیکھا۔ ( صحیح البخاری:۵/۴۹، رقم الحدیث: ۳۸۶۸ ) اسی طرح کی ایک روایت حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے بھی ہے کہ رسول ﷺ  کے زمانۂ مبارک میں چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے، جس کو سب نے دیکھا، آپ ﷺ  نے لوگوں سے فرمایا کہ دیکھو اور گواہی دو۔ 
ملا محمد قاسم فرشتہ اپنی مشہور زمانہ تاریخ میں لکھتے ہیں ’’تیسری صدی ہجری کی ابتداء میں کچھ عرب مسلمان کشتی پر سوار جزائر سری لنکا کی طرف جارہے تھے کہ طوفانوں کی وجہ سے جزائر مالا بار کی طرف جا نکلے اور وہاں گدنکلور نامی شہر میں کشتی سے اترے، شہر کے حاکم کا نام سامری تھا، اس نے مسلمانوں کے بارے میں یہودی اور عیسائی سیاحوں سے کچھ سن رکھا تھا، عرب مسلمانوں سے کہنے لگا کہ پیغمبر اسلام کے حالات اور ان کی کچھ علامات بیان کریں۔ ان مسلمانوں نے اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات زندگی، اسلام کے اصول ومسائل اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کے بارے میں بہت سی باتیں بتلائیں اور تاریخی معجزۂ شق القمر کا بھی ذکر کیا، اس پر وہ کہنے لگا کہ ذرا ٹھہرو، ہم اسی بات پر تمہاری صداقت کا امتحان لیتے ہیں۔ ہمارے یہاں دستور ہے کہ جو بھی اہم واقعہ رونما ہوتا ہے اسے قلم بند کرکے تحریر کو شاہی خزانے میں محفوظ کرلیا جاتا ہے، اگر تمہارے کہنے کے مطابق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے لئے چاند دو ٹکڑے ہوا تھا تو اسے یہاں کے لوگوں نے بھی دیکھا ہوگا اور اتنا محیرالعقول واقعہ ضرور قلم بند کرکے شاہی خزانے میں محفوظ کرلیا ہوگا۔ یہ کہہ کر اس نے پرانے کاغذات طلب کئے، جب اس سال کا رجسٹر کھولا گیا تو اس میں یہ درج تھا کہ آج رات چاند دو ٹکڑے ہوکر پھر جڑ گیا۔ اس پر وہ بادشاہ مسلمان ہوگیا، اور بعد میں تخت وتاج چھوڑ کر مسلمانوں کے ساتھ چلا گیا۔‘‘ (تاریخ فرشتہ: ۲/۴۸۹) 
علامہ سید محمود لشکری آلوسیؒلکھتے ہیں: ’’میں نے تاریخ میں پڑھا ہے کہ جب سلطان محمود غزنوی  ہندوستان پر بار بار حملے کررہے تھے تب انہوں نے بعض عمارتوں پر یہ تختی لکھی ہوئی دیکھی کہ اس عمارت کی تکمیل اس رات ہوئی جس رات چاند دو ٹکڑے ہوگیا تھا۔‘‘ (مادل علیہ القرآن مما یعضد الہیئۃ الجدیدۃ القویمۃ البرہان)
lمسلمانوں پر قریش کے مظالم:
گزشتہ کالموں میں آپ چند ایسے مسلمانوں کا ایمان افروز تذکرہ پڑھ چکے ہیں جنہوں نے بالکل ابتدا میں اسلام کی دولت سے اپنا دامنِ مراد بھر لیا تھا، مگر اس ’’جرم‘‘ کی وجہ سے ان لوگوں کو کس قدر تکلیفیں اٹھانی پڑیں  اس کے تصور سے ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ حضرت ابوبکر الصدیقؓ ایک معزز گھرانے کے فرد تھے، بڑا خاندان تھا، کفار مکہ نے ان کو بھی زود کوب کیا اور اس قدر پریشان کیا کہ ایک روز وہ ہجرت کے ارادے سے گھر سے نکل کر حبشہ کی طرف چل پڑے۔ راستے میں ان کی ملاقات ابن الدغنہ سے ہوگئی جو انہیں اپنی ذمہ داری اور حفاظت کی یقین دہانی پر واپس مکہ مکرمہ لے کر آیا۔ قریش مکہ کے ظلم وستم کا نشانہ زیادہ تر وہ نو مسلم بنتے تھے جو کمزور تھے، بے سہارا تھے، ان کا کوئی خاندانی پسِ منظر نہیں تھا، جن کی طرف سے کوئی بولنے یا حمایت اور نصرت کرنے والا نہیں تھا۔
کفار مکہ نے ان غریب، بے سہارا اور بے یارو مددگار مسلمانوں پر ظلم وستم کے جو پہاڑ توڑے ان کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، ان کو دوپہر کی تپتی دھوپ میں گرم ریت پر لٹا دیا جاتا اور ان کے سینوں پر پتھر رکھ دیئے جاتے، ان پر کوڑے برسائے جاتے، ان کے گلوں میں پٹے ڈال کر گھسیٹا جاتا، آگ میں لوہا تپاکر ان کے جسموں کو داغا جاتا، چٹائیوں میں لپیٹ کر ان کی ناک میں دھواں چھوڑا جاتا جس سے ان کا دم گھٹنے لگتا اور ان کےلئے سانس لینا مشکل ہوجاتا، ایذاء رسانی کی کون سی شکل ایسی تھی جو ان بے کس اور مظلوم مسلمانوں کے ساتھ روا نہ رکھی گئی، اور کون سا ستم ایسا ہے جو ان پر ڈھایا نہیں گیا۔ حیرت ہوتی ہے یہ عزم و حوصلے کے کیسے پکے لوگ  تھے جو ان تمام مظالم کے باوجود کوہِ استقامت بنے رہے۔ ان کے دلوں میں ایمان کی جو شمع روشن ہوئی تھی وہ ظلم وستم کی تیز آندھیوں سے بجھنے نہیں پائی، بلکہ ہر ظلم کے بعد ان کا ایمان اور مضبوط ہوجاتا، ان کی شمع ایمانی کی لَواور بڑھ جاتی، ان کی حرارتِ ایمانی میں اور اضافہ ہوجاتا، ان کے جسموں پر کوڑے پڑتے اور  ان کی زبان سے اَحَدْ اَحَدْ نکلتا یعنی اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے۔ کوئی ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ہے کہ کسی نے ظلم و جبر سے تنگ آکر اسلام سے اپنا  رخ پھیرا ہو اور کفر وشرک کی طرف واپس گیا ہو۔
حضرت بلال بن رباح الحبشیؓ امیہ بن خلف کے غلام تھے۔ جب اسلام لائے اور ان کے آقا کو پتہ چلا تو اس نے بہ طور سزا انہیں دھوپ میں ڈالنے کا معمول بنا لیا، ہر دن دوپہر کے وقت ان کو گرم ریت پر چت لٹا دیا جاتا، پھر ان کے سینے پربھاری پتھر رکھ دیئے جاتے تاکہ وہ اپنی جگہ سے جنبش نہ کرسکیں، پھر وہ ان سے کہتا: خدا کی قسم جب تک تو مر نہیں جاتا میں تجھ پر اسی طرح ظلم ڈھاتا رہوں گا، اگر گلو خلاصی چاہتا ہے تو محمد کا انکار کر اور لات و عزیٰ کی پرستش کر۔ اس مصیبت میں بھی حضرت بلالؓ کہتے تھے کہ میں لات و عزیٰ کو نہیں مانتا، میں صرف ایک اللہ کو مانتا ہوں۔
 حضرت ابوبکر الصدیقؓ کا گھر بنی جموح میں تھا، وہ ہر روز بلالؓ  پر ظلم ہوتا دیکھتے ۔ ایک مرتبہ انہوں نے کہہ ہی دیا کہ اے امیہ، خدا سے ڈر،  اس مظلوم پر رحم کر۔ امیہ نے کہا یہ تمہارا ہی بگاڑا ہوا ہے، تم چاہو تو اسے بچا لو۔ حضرت ابوبکرؓ نے منہ مانگی قیمت ادا کر کے اور ایک روایت کے مطابق اپنا ایک سیاہ فام اور قوی الجثہ غلام دے کر حضرت بلالؓ کو اس سے آزاد کرالیا۔ (حلیۃ الاولیاء لأبی نعیم: ۱/۱۴۸، اسد الغابہ ابن الاثیر: ۱/۲۴۳)۔ 
حضرت ابوبکرؓ نے صرف حضرت بلالؓ ہی کو ظالموں کے پنجوں سے نہیں چھڑایا بلکہ چھ اور مرد و زن ایسے تھے جو مختلف قبیلوں کے سرکردہ لوگوں کی اسارت (غلامی) میں تھے اور اسلام لانے کی سزا جھیل رہے تھے۔ ان میں ایک عامر بن فہیرؓہ تھے جو جنگ بدر اور احد میں شریک ہوئے اور بئر معونہ کی جنگ میں شہید کئے گئے۔ اُم عُبَیسؓ  تھیں، زنیرؓہ نامی ایک خاتون صحابیہ تھیں جن کو اتنی تکلیفیں دی گئیں کہ ان کی بینائی جاتی رہی، قریش کہا کرتے تھے کہ لات و عزیٰ نے زنیرہؓ کی بینائی سلب کرلی۔ وہ کہتیں، یہ جھوٹ ہے، لات و عزیٰ کسی کو نفع ونقصان نہیں پہنچا سکتے۔ کچھ ہی روز کے بعد ان کی بینائی واپس آگئی۔ ایک خاتون تھیں ھندیہؓ ، وہ اور ان کی بیٹی یہ دونوں بنی عبد الدار کی ایک مالدار عورت کی ملکیت میں تھیں، جو ان سے مشقت بھرے کام بھی لیتی اور انہیں مارتی پیٹتی بھی تھی۔ حضرت ابوبکرؓ نے ان دونوں کو بھی خرید کر آزاد کیا۔ بنی مومل کی ایک باندی تھیں، اسلام قبول کرنے کے جرم میں حضرت عمر بن الخطابؓ انہیں مارتے تھے، اس وقت تک حضرت عمرؓ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا، حضرت ابوبکرؓ نے انہیں بھی پیسے دے کر آزاد کرایا۔ (اسد الغابہ: ۷/۳۶۵، ۱۲۳) ایک مرتبہ حضرت ابوبکرؓ کے والد ابو قحافہؓ نے جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے ان سے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ تم چن چن کر کمزور غلاموں اور کنیزوں کو خریدتے ہو اور خرید کر آزاد کرتے ہو، اگر مضبوط اور جوانوں کو خرید کر آزاد کرو تو یہ تمہارے لئے سہارا بنیں گے اور کام آئیں گے۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ میں جس مقصد کیلئے آزاد کرتا ہوں وہ میرے دل میں ہے، یعنی میں اللہ کی خوشنودی کیلئے آزاد کرتا ہوں، کوئی دنیوی منفعت میرے پیشِ نظر نہیں رہتی، اس پر سورۂ اللیل نازل ہوئی، جس میں ان کے اس عمل کی تحسین کی گئی کہ وہ محض اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے اپنا مال خرچ کرتے ہیں اور انہیں یہ خوش خبری دی گئی ہے کہ ’’آخرت میں ایسی نعمتیں دیں گے جس سے یہ راضی ہوجائیں گے۔‘‘ (المستدرک للحاکم: ۲/۵۲۵، تفسیر ابن کثیر: ۸/۴۴۴)۔
حضرت عمار بن یاسرؓ اور ان کے والدین کو گرمی کی تپتی دوپہر میں گرم ریت پر لٹا کر سزا دی جاتی تھی، کبھی انہیں پانی میں غوطہ دیاجاتا اور کبھی انگاروں پر لٹایا جاتا، ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گزرے تو آل یاسرؓ کو اس تکلیف میں دیکھ کر رنجیدہ ہوگئے اور ان تینوں سے فرمایا اے آلِ یاسرؓ  صبر کرو، تم سے جنت کا وعدہ ہے۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمارؓ کو انگاروں پر دیکھا تو ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور آگ سے مخاطب ہوکر فرمایا: اے آگ تو عمارؓ کے حق میں اسی طرح ٹھنڈک اور سلامتی کا باعث بن جا جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حق میں بنی تھی۔ اسلام لانے کی پاداش میں حضرت عمارؓ کی والدہ حضرت سمیہؓ کو شہید کردیا گیا، اس خاتون نے اسلام میں اولین شہادت کا درجہ پایا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK