مجوزہ’’بھارت جوڑو‘‘ مہم

Updated: May 17, 2022, 10:59 AM IST | Mumbai

اُدے پور میں کانگریس کے سہ روزہ اجلاس میں جو ایکشن پلان تیار کیا گیا اُس میں ’’بھارت جوڑو‘‘ مہم خاص ہے جس کا خیرمقدم کیا جاسکتا ہے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

اُدے پور میں کانگریس کے سہ روزہ اجلاس میں جو ایکشن پلان تیار کیا گیا اُس میں ’’بھارت جوڑو‘‘ مہم خاص ہے جس کا خیرمقدم کیا جاسکتا ہے۔ یہ بہت پہلے ہونا چاہئے تھا۔چھوٹے بڑے درجنوں الیکشن ہارنے کے بعد کانگریس کی زمین اس قدر کمزور ہوچکی ہے کہ اس کے ذریعہ کسی طاقتور مہم کے جاری اور کامیاب ہونے کے امکانات محدود ہیں لیکن ایسی کسی مہم کی شدید ضرورت ہے کیونکہ ملک کے عوام ملک کے حالات سے نالاں ہیں، اس لئے اُمید کی جاسکتی ہے کہ اس کے جاری ہونے سے فرقہ پرستی کے بے لگام ہونے کی کیفیت بدلے گی۔ مگر اس کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ کانگریس دوسروں کو سمجھانے سے پہلے خود سمجھنے کی کوشش کرے کہ اس کی طاقت، ورثہ اور نظریاتی اساس کیا ہے۔ پارٹی کے احیاء کا ایک مطلب تو اسے تنظیمی طور پر مضبوط کرنا ہے، دوسرا مفہوم نظریات میں در آنے والی اُس کجی یا انحراف کو دور کرنا ہونا چاہئے جسے اپنے دور میں جواہر لال نہرو نے بادل ناخواستہ، بعد کے وزرائے اعظم نے شاید مصلحتاً اور اس کے بعد کے وزرائے اعظم نے اپنی سیاسی طاقت کو برقرار رکھنے یا بڑھانے کے لئے قبول کیا۔ اِس طرح ہر دور میں فرقہ پرستوں کا حوصلہ بلند ہوتا رہا اور کانگریس نظریاتی طور پر کمزور اور آلودہ ہوتی چلی گئی۔ مگر ایسے مقام پر پہنچنے کے بعد، جب اس کے پاس کچھ بھی باقی نہیں رہ گیا ہے، ممکن ہے اس نے محسوس کیا ہو کہ اپنے مرکز سے وہ خود ہٹی ہے۔ ماضی میں اس نے جو سمجھوتے کئے اُن میں اور حالیہ برسوں کے سمجھوتوں میں فرق یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں اس کے پیش نظر مصلحت اور حکمت نہیں تھی بلکہ ہر سمجھوتہ بڑھتے ہوئے جارح ہندوتوا کے دباؤ میں کیا گیا۔
  اس کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ آٹھ سال میں شاذونادر ہی اس نے اقلیتوں کا نام لیا۔ اگر اس نے نرم ہندوتوا کی روش نہ اپنائی ہوتی اور سیکولرازم کو پختہ کرنے کی جدوجہد کو بالکل اسی طرح جاری رکھا ہوتا جیسا انتخابات جیتنے کیلئے جدوجہد جاری کی جاتی ہے  تو سخت ہندوتوا سے مقابلہ نہ تو اتنا مشکل ہوتا جتنا کہ اب ہوگیا ہے نہ ہی اس سے سمجھوتہ کرنا پڑتا۔ ’’بھارت جوڑو‘‘ کے دوران اِس کے لیڈروں کو واضح اور دوٹوک انداز میں نظریات پر گفتگو کرنی ہوگی۔ نفرتی تقریروں اور بیانات کے باوجود ملک میں پائی جانے والی بھائی چارہ کی فضا اس کیلئے آج بھی زرخیز زمین فراہم کر سکتی ہے بشرطیکہ وہ خالص سیکولر نظریات کے ساتھ میدان عمل میں آئے اور اپنے ایجنڈے سے نرم ہندوتوا کو اِس طرح نکال پھینکے جس طرح دودھ میں سے مکھی نکال کر پھینکی جاتی ہے۔  بعض مقاصد عمدہ اور اعلیٰ ہوتے ہیں مگر ان کی تکمیل کی ذمہ داری جن لوگوں (لیڈران اور کارکنان) کو تفویض کی جاتی ہے وہ اپنا توازن برقرار نہیں رکھ پاتے۔ خالص سیکولر نظریات کی آبیاری کانگریس کے لیڈران اور کارکنان ہی کی ذمہ داری ہے لہٰذا وہ عوام تک بعد میں جائیں پہلے خود اِن نظریات کی طاقت کو سمجھیں اور انہیں اپنے ذہن و دل میں اُتاریں۔بھارت کو جوڑ کر ہی کانگریس اپنی کھوئی ہوئی زمین تلاش کرسکتی ہے اس کے بغیر نہیں۔  پارٹی کیڈر کو نظریاتی طور پر پختہ کرنے کے مقصد سے اُدے پور اجلاس سے تربیتی اجلاسوں کااشارہ بھی ملا ہے جس سے سیکولرازم کے تئیں پارٹی کی سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے ۔ اس سنجیدگی کو باقی رہنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK