• Sat, 10 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ان اخلاقی اقدار کی حفاظت کیجئے جو انسان اور شیطان کے بیچ امتیاز کرتی ہیں

Updated: January 09, 2026, 5:06 PM IST | Muhibullah Qasmi | Mumbai

آج انسان اپنی عظمت کھو بیٹھا ہے، غلط جگہ پر اپنا معیار اور وقار تلاش کر رہا ہے، دنیا کے عارضی عیش و آرام کو اپنی زندگی کا مرام (مقصد) بنا لیا۔ پوری طرح خواہش نفس کا غلام بن کر بے غیرتی اور بے عزتی کے حدود پار کر رہا ہے۔ انسانی جان کا کوئی احترام باقی نہیں رہ گیا ہے۔ صاحب ِ اختیار افراد کے ہاتھوں عام افراد پریشان ہیں۔ انسان کی وہ ساری اخلاقی قدریں جن سے انسان اور شیطان میں امتیاز ہو ،گم ہوتی جار ہی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ پوری دنیا تباہی کے دہانے پر آگئی ہے۔

Human cooperation and good treatment of each other are essential for a righteous society. Picture: INN
انسانوں کا باہمی تعاون اور ایک دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک صالح معاشرہ کیلئے بہت ضروری ہے۔ تصویر: آئی این این
 انسان، خواہ وہ دنیا کے کسی بھی گوشے میں رہتا ہو، کسی بھی مذہب کا ماننے والا ہو، مگراللہ کا بندہ ہونے، اپنی تخلیق، شکل وصورت اور آدم کی اولاد ہونے کی حیثیت سے دوسرے انسانوں کے برابر ہے۔ جیسے ایک درخت، جس کی شاخیں بہت سی ہوتی ہیں، لیکن اس کی جڑ ایک ہوتی ہے  اسی طرح انسانوں کا باہمی تعاون اور ایک دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک  صالح معاشرے اور انسانیت کی بقا کے لئے بے حد ضروری ہے۔ اسلام نے تمام انسانوں کو ایک دوسرے کا احترام کرنے اور باہمی تعلقات کو خوشگوار بنانے پر زور دیا ہے۔ اس نے واضح کیا ہے کہ تمام انسانوں کو اللہ نے ہی پیدا کیا ہے۔ اس لئے ان سب کو اللہ سے ہی ڈرنا چاہئے:
’’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہاری پیدائش (کی ابتداء) ایک جان سے کی پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا فرمایا پھر ان دونوں میں سے بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق) کو پھیلا دیا۔‘‘ (النساء:۱)
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی دیگر مخلوقات پر فضیلت بخشتے ہوئے فرمایا:
’’اور بیشک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور ہم نے ان کو خشکی اور تری (یعنی شہروں اور صحراؤں اور سمندروں اور دریاؤں) میں (مختلف سواریوں پر) سوار کیا اور ہم نے انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق عطا کیا  اور ہم نے انہیں اکثر مخلوقات پر جنہیں ہم نے پیدا کیا ہے فضیلت دے کر برتر بنا دیا۔‘‘ (بنی اسرائیل:۷۰)
اس لحاظ سے تمام انسان ایک آدم کی اولاد ہیں اور اسی نسبت سے ان کے درمیان تعلقات قائم ہیں۔ اس لئے کسی کو کسی پر کوئی فخرکی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ اللہ کے رسول ؐ  نے تمام انسانیت کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:  ’’اے لوگو! بلاشبہ تمہارارب ایک ہے اورتمہارباپ بھی ایک ہی ہے، جان لوکہ کسی عربی کوکسی عجمی پراورنہ کسی عجمی کوکسی عربی پر،نہ کسی سرخ کوکسی سیاہ پر اورنہ کسی سیاہ کو کسی سرخ پرکوئی فضیلت اوربرتری حاصل ہے سوائے تقویٰ کے۔ ‘‘(مسنداحمد)
انسان بہ حیثیت مخلوق اللہ کا کنبہ ہے۔ جس طرح ایک کنبہ میں مل جل کر خوش اسلوبی سے رہنے والا انسان اچھا مانا جاتا ہے، اسی طرح اس دنیا میں امن و سکون اور محبت سے رہنے والا انسان اللہ کی نگاہ میں بہتر ہے۔ اللہ کے رسولؐ نے ارشاد فرمایا:
’’مخلوق اللہ کا کنبہ ہے پس بہترین مخلوق وہ ہے جو اللہ کے بندوں کے ساتھ احسان اور بھلائی کا رویہ اختیار کرے۔‘‘(بیہقی شعب الایمان)
اس لئے  دین اور مذہب کی بنیاد پرانسانوں کے درمیان فتنہ و فساد مناسب نہیں ہے۔ رنگ ونسل کی وجہ سے اختلاف و انتشاردرست رویہ نہیں ہے۔ مال ودولت کی وجہ سے کسی کو باعزت و باوقار سمجھا جائے اور غربت و مفلسی کے سبب ذلیل وخوار کیا جائے یہ صحیح نہیں ہے۔ بلکہ اچھے و برے اور عزت و شرافت کا پیمانہ یہ ہے کہ کون اللہ سے کتنا ڈرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
’’اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اورایک عورت سے پیدا کیا۔ (یعنی سب کی اصل ایک ہی ہے) اور تمہیں خاندانوں اور قبیلوں میں بانٹ دیا تاکہ تم ایک دوسرے کوپہچانو، بے شک اللہ کے یہاں تم سب میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہے۔‘‘ (سورہ الحجرات:۱۳)
اس آیت کریمہ میں اللہ نے صرف مسلمانوں کو نہیں بلکہ تمام انسانوں کومخاطب کیا ہے اور ان کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ تمام انسانوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے، بلکہ سب کی تخلیق ایک ہی انداز سے ہوئی ہے۔ ان کا قبیلوں اور خاندانوں میں بانٹا جانا اس لئے نہیں ہے کہ وہ اختلاف و انتشار کا شکار ہوں، یا آپس میں لڑیں، بھڑیں اور خوں ریزی کریں۔ یا خاندانی حسب و نسب کے غرور میں چور ہوکر دوسروں کو نیچا دکھائیں بلکہ اس وجہ سے ہے تاکہ وہ آپس میں ایک دوسرے کی شناخت کرسکیں۔
اللہ تعالیٰ نے شرافت و سربلندی کا صرف ایک ہی معیار رکھا ہے اوروہ ہے تقویٰ، یعنی اپنے خالق و مالک کا ڈر، مرنے کے بعد اپنے اعمال کی جوابدہی کا احساس۔ یہ معیار انسانوں کے دلوں کو باہم جوڑنے اور الفت ومحبت کے ساتھ رہنے کا پیغام دیتاہے۔ نیک انسان اپنے کسی ذاتی مفاد کی خاطر کوئی ایسا اقدام نہیں کرتا جو اللہ کو ناپسند ہو بلکہ ہر حال میں وہ اپنے رب کی رضا کا خیال رکھتا ہے۔ یہ قابل رشک خصوصیت کسی کے اندر ہے تو وہ باوقار، قابل اعتبار اور لائق احترام ہے، خواہ وہ کسی معمولی گھرانے میں پیدا ہوا ہو۔ پھر ایسے لوگوں کا اللہ تعالیٰ نگہبان ہوتا ہے، انہیں کسی قسم کی پریشانی نہیں ہونے دیتا اور ان کی اس طرح مدد کرتا ہے کہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اس کے لئے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا۔‘‘(الطلاق:۲)
اگر ہم سیرت کا مطالعہ کریں تو دیکھیں گے کہ آپؐ نے کفار و مشرکین اور اہل کتاب کے ساتھ انسانیت کے تحفظ اور قیام امن کے لئے بہت سے معاہدے کئے تاکہ ظلم وستم کا سد باب ہو، خوں ریزی کو روکا جاسکے ، کوئی مذہب کسی کے لئے وبال جان نہ بنے ، کسی کو محض اس لئے نہ قتل کیا جائے کہ وہ دوسرے مذہب کا ہے یا دوسرے قبیلے اور خاندان سے ہے بلکہ لوگ بہ حیثیت انسان آپس میں ایک دوسرے کا احترام کریں۔ اس کے ساتھ ہی آپ ﷺ انسانیت کے دشمن پر بھی کڑی نظر رکھتے  تاکہ کہیں کوئی فساد سر نہ اٹھا سکے اور انسانیت کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔
انسان جب اپنی اس حیثیت کو بھول جاتا ہے یا احساس  برتری میں مبتلا ہوجاتا ہے تو فتنہ وفساد پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ پھرحسد، کبر، غیبت، چوری، چغلی، قتل و غارت گری، بدکاری و بداخلاقی جیسی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں اس کی اصلاح و تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ مولانا حالیؒ نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا:
فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ
آج انسان اپنی عظمت کھو بیٹھا ہے، غلط جگہ پر اپنا معیار اور وقار تلاش کررہا ہے، اس نے دنیا کے عارضی عیش وآرام کو اپنی زندگی کا مرام (مقصد) بنا لیا ہے۔ پوری طرح خواہش نفس کا غلام بن کر بے غیرتی اور بے عزتی کے حدود پار کر رہا ہے۔ انسانی جان کا کوئی احترام باقی نہیں رہ گیا ہے۔  صاحب ِ اختیار افراد کے ہاتھوں عام افراد پریشان ہیں۔ انسان کی وہ ساری  اخلاقی اقدار جن سے انسان اور شیطان میں امتیاز ہو ،گم ہوتی جارہی ہیں۔ جس کا نتیجہ ہے کہ پوری دنیا تباہی کے دہانے پر آگئی ہے۔ ایسے میں اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ بہ حیثیت انسان لوگوں کا باہمی میل اور ان کے تعلقات خوشگوار ہوں اور بھولے بھٹکوں کو سیدھی سچی راہ دکھائی جائے۔ مذہب اور گروہ بندی کی بنیاد پر کسی قسم کی کوئی لڑائی نہ ہو، انہیں اس نظام سے آگاہ کرایا جائے جو انسانیت کا خیرخواہ اور فلاح دارین کا ضامن ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK