ملک بھر میں جاری تحریک اور حکومت کی آمریت

Updated: January 26, 2020, 2:38 PM IST | Dr Mushtaque Ahmed

شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آرسی کے خلاف عدالتِ عظمیٰ میں دائر تمام ۱۴۰؍ عرضداشتوں کی سماعت کیلئے عدالت نے حکومت کو چار ہفتے کی مہلت دے دی ہے ۔

ملک بھر میں جاری تحریک اور حکومت کی آمریت
شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کیخلاف احتجاج جاری ہے

شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آرسی کے خلاف عدالتِ عظمیٰ میں دائر تمام ۱۴۰؍ عرضداشتوں کی سماعت کیلئے عدالت نے حکومت کو چار ہفتے کی مہلت دے دی ہے ۔ اگرچہ عدلیہ کے اس رُخ پر طرح طرح کی رائے عامہ ظاہر ہو رہی ہے لیکن ہم عدلیہ کے کسی بھی فیصلے پر کوئی سوالیہ نشان نہیں لگا سکتے کہ دستورِ ہند نے ہمارے لئے عدلیہ کے احترام کو لازمی قرار دیا ہے مگر جمہوری نظامِ ملک میں ہر شہری کو اپنی فکر مندی کے اظہار کی آزادی ہے لہٰذا اس فیصلے پر بھی چوطرفہ فکر مندی کا اظہار ہو رہاہے۔
  قومی میڈیا میں تو اس کو جگہ نہیں مل رہی ہے لیکن آج کے تکنیکی انقلاب کے دور میں سوشل میڈیا کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے اور سوشل میڈیا پر رائے عامہ گردش کر رہی ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حالیہ دنوں میں ہماری عدلیہ بھی طرح طرح کے شک وشبہات کی شکار ہوئی ہے اور عام شہری بھی عدلیہ کے کردار پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ حالیہ دنوں میں ہماری عدالتوں کے رخ میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ عدلیہ حکومت کے موقف کے ساتھ کھڑی ہے ۔ شاید جسٹس لویا کے مبینہ قتل کے بعد عدالتی نظام میں بھی ایک خوف وہراس کا ماحول دیکھا جا رہاہے کیوں کہ جسٹس لویا کے قاتل کا سراغ اب تک نہیں لگ سکا ہے ۔اگر چہ اب موجودہ مہاراشٹر حکومت نے اس کی جانچ کیلئے خصوصی تفتیشی کمیٹی تشکیل دینے کی بات کہی ہے ۔ 
 بہر کیف!اس وقت پورے ملک میں شہریت ترمیمی ایکٹ کے نفاذ کے خلاف اور این آر سی کو قومی سطح پر نافذ کرنے کے ارادوں کے خلاف عوامی مظاہرے ہو رہے ہیں اور ملک کے سنجیدہ شہری عدالتِ عظمیٰ کا دروازہ بھی کھٹکھٹا رہے ہیں ۔ ہمارے ملک میں یہ روایت رہی ہے کہ جب کبھی کوئی بھی مسئلہ عدالتِ عظمیٰ میں زیر سماعت ہوتا ہے تو دونوں فریقین اس پر محتاط رویہ اپناتے ہیںیعنی عرضی داخل کرنے والے بھی اور جن کے خلاف عرضی دائر کی جاتی ہے وہ بھی عدالتِ عظمیٰ کے حتمی فیصلے کا انتظار کرتے ہیں۔ چوں کہ سی اے اے اور این آر سی کے معاملے میں حکومت کے خلاف عرضی دائر کی گئی ہے، اسلئے جب تک عدالتِ عظمیٰ کا حتمی فیصلہ نہیں آتا، اس وقت تک حکومت کی بھی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے پر کوئی آخری فیصلہ جاری  نہ کرے لیکن ایسا نہیں ہو رہاہے ۔ جس دن عدالتِ عظمیٰ میں اس مسئلے پر دائر عرضداشتوں کی سماعت ہونی تھی، اسی دن ہمارے وزیر داخلہ امیت شاہ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں ایک عوامی جلسے میں یہ چیلنج کر رہے تھے کہ سی اے اے کے معاملے میں کوئی طاقت حکومت کو پیچھے نہیں کر سکتی ۔ غرض کہ وہ عدلیہ کو بھی یہ اشارہ دے رہے تھے کہ حکومت کسی بھی طرح سی اے اے کے معاملے میں اپنے رخ میں کوئی تبدیلی کرنے والی نہیں ہے اور عدلیہ نے چار ہفتے کی مہلت دے کر ملک گیر سطح پر اس قانون کے خلاف جو مظاہرے ہو رہے ہیں اس کو طوالت بخش دی ہے۔
  آزادی کے بعد یہ پہلی تحریک ہے جس میں خواتین کی حصہ داری بڑھ چڑھ کر ہورہی ہے اور حکمراں جماعت کی لاکھ کوششوں کے باوجود یہ تحریک فرقہ پرستی کی شکار نہیں ہوئی ہے بلکہ اس میں ملک کے مختلف پسماندہ اور دلت طبقے کے لوگ شامل ہو رہے ہیںکیوں کہ اب ان تمام دلتوں ، آدیباسیوں اور پسماندہ طبقے کو یہ حقیقت سمجھ میں آگئی ہے کہ یہ سیاست کی شطرنجی چال کیوں کر چلی جا رہی ہے۔ شہریت ترمیمی ایکٹ سے مسلمانوں کو باہر رکھنا تو صرف فرقہ واریت کو فروغ دینے کیلئے کیا گیاہے لیکن اصل مقصد دلت آدیباسیوں اور بے گھر خانہ بدوش جماعتوں کو شہریت سے محروم کرنا ہے اور ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق ۳۵؍ کروڑ سے زیادہ شہریوں کے پاس اپنا کوئی بودوباش کا ٹھکانہ نہیں ہے ۔ ایسی صورت میں این آر سی کے نام پر انہیں مشکوک شہری قرار دیا جائے گا اور وہ اپنے آئینی حقوق حقِ رائے دہندگی سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ دراصل سنگھ پریوار کا اصل مقصد یہی ہے کہ۲۰۲۴ء کے پارلیمانی الیکشن میں  بی جے پی مخالف ووٹوں کو کم کیا جائے لیکن حالیہ تحریک نے ہندوستان کی سیاسی تاریخ کو ایک نیا موڑ عطا کردیا ہے۔  ملک کی بیشتر یونیورسٹیوں میں طلباء وطالبات نے حکومت کے اس آمرانہ فیصلے کے خلاف صف بند ی کی ہے اور وہ عوامی تحریک کا حصہ بھی بن رہے ہیں ۔
 ملک میں جہاں کہیں بھی اس غیر آئینی قانون کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں، اس میں غیر مسلم طبقے کی حوصلہ مند شرکت ہو رہی ہے ۔ دہلی کے شاہین باغ سے لے کر دربھنگہ کے قلعہ گھاٹ اورلال باغ میں غیر معینہ مظاہرے میں روزانہ غیر مسلم بھائی اور بہنوں کی شرکت میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ بالخصوص دلت طبقے کی حصہ داری اس تحریک کو تقویت بخش رہی ہے۔
  یہاں ایک تاریخی بھول کی طرف یہ اشارہ ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر پانچ سال قبل ملک کا اقلیتی طبقہ بیدار ہوگیا ہوتا تو شاید آج جو مسئلہ درپیش ہے، وہ سامنے نہیں آیا ہوتا۔ واضح ہو کہ ۲۰۱۴ء میں جب نریندر مودی کی حکومت آئی تھی اس کے فوراً بعد اخلاق احمد قتل کا واقعہ سامنے آیا تھا اور اس کے بعد ملک میں گئوکشی کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہوا  تھا۔ پھر ہجومی تشدد ایک یومیہ ٹاسک بن گیا اور شدت پسند ہندو تنظیموں کی طرف سے فخریہ طورپر اس کو انجام دیا جانے لگا۔ ہجومی تشدد کے مجرموں کو مرکزی حکومت کے وزیر وں کے ذریعہ پھولوں کے ہار پہنائے جانے لگے لیکن ملک کے کسی حصے میں اس کے خلاف کوئی بڑی تحریک شروع نہیں ہوئی ۔ پھر کشمیر کا مسئلہ سامنے آیا ، تین طلاق کا فرمان بھی جاری ہوا اور اس پر بھی ملک کی تمام مسلم تنظیموں نے سرد مہری کا ثبوت دیا ۔ کاش !اس وقت غیر آئینی اور غیر انسانی افعال کے خلاف آواز بلند ہوئی ہوتی اور برادرِ وطن کے سنجیدہ وسیکولر عوام کے تعاون سے تحریک ہوئی ہوتی تو شاید ملک کی فضا اس قدر مکدر نہیں ہوئی ہوتی اور حکومت بھی بے لگام نہیں ہوتی۔
 بہر کیف!تاخیر ہوئی ہے لیکن اس تحریک نے ملک میں اقلیتی طبقے کے زندہ ہونے کا ثبوت پیش کردیا ہے اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ ۲۶؍ جنوری ۲۰۲۰ء کو جب ہمارے آئینی سربراہ سرکاری عمارتوں پر ملک کا پرچم لہرائیں گے اور آئین کی اہمیت وافادیت پر تقریر کر رہے ہوں گے اسی وقت ملک کے شہر شہر ، قریہ قریہ میں کروڑوں شہری کھلے آسمان کے نیچے سڑکوں پر غیر آئینی قانون کے خلاف فلک شگاف نعرے لگا رہے ہوں گے اور ان کے ہاتھوں میں بھی ملک کا ترنگا ہوگا کہ جس دن سے اس تاریخی تحریک کا آغاز ہوا ہے اس دن سے ترنگا ہمارے ہاتھوں کی زینت بن گیا ہے اور لفظ ’سنویدھان ‘ یعنی آئین ہمارے ذہن ودل کا حصہ بن گیا ہے اور بالغ ونابالغ تمام لوگوں کی زبانوں  پر’آزادی، آزادی‘ کا ورد جاری ہے۔
  آئین کے نفاذ یعنی ۲۶؍ جنوری ۱۹۵۰ء کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا کہ جب ایک ساتھ یومِ جمہوریہ کے دن ملک کے کروڑوں شہری اپنے آئین کے تحفظ کیلئے ملک کی اس حکومت کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہوں گے جوحکومت آئین کا حلف لے کر وجود میں آئی ہے۔ ہمارا ملک ایک جمہوری ملک ہے اور عوامی نمائندہ ہی حکومت کا سربراہ ہوتا ہے لیکن آج ملک میں جو چہار طرف انتشار کا ماحول ہے اس کیلئے اگر کوئی ذمہ دار ہے تو ہمارا عوامی نمائندہ ہے جو ایک خاص نظریئے کے فروغ کا حامل  ہے اور تمام تر جمہوری تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر آئین کی روح کو مجروح کر رہاہے ۔یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ جس پر ہر اس شہری کو غوروفکر کرنا ہے جو اس ملک کی سا  لمیت کا خواہاں ہے اوردنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا پاسدار ہے اور مثالی آئین کا علمبردار ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK