عوامی اتحاد نے حکومت کو اپنے دفاع پر مجبور کر دیا ہے

Updated: February 09, 2020, 2:19 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai

کسی بھی قانون سے اگر کسی جمہوری معاشرے میں بھید بھائو یا تفریق جیسا ماحول پیدا ہوتا ہے تو اسے جمہوریت کے لئے خطرہ قرار دیا جاسکتا ہے۔

عوامی اتحاد نے حکومت کو اپنے دفاع پر مجبور کر دیا ہے
کولکاتا میں اول دن سے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ ہورہا ہے ۔ تصویر : پی ٹی آئی

 کسی بھی  قانون سے اگر کسی جمہوری معاشرے میں بھید بھائو یا تفریق  جیسا ماحول پیدا ہوتا ہے تو اسے جمہوریت کے لئے خطرہ قرار دیا جاسکتا ہے۔شہریت ترمیمی قانون ، این پی آر اور این آرسی کو اسی ذیل میں رکھا جاسکتا ہے۔ شہریت ترمیمی قانون تو خیرپارلیمنٹ میں اکثریت کے بل پر منظور کروالیا گیا ہے  جبکہ این پی آر کا اعلان کیا گیا ہے اور این آر سی صرف آسام میں نافذ ہو ا ہےلیکن سرکار کے ان تینوں اقدامات کی پورے ملک میں جتنی  شدت کے ساتھ مخالفت کی جارہی ہے وہ یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ ملک کے ایک بڑے طبقے کے ذہن میں ان اقدامات کی وجہ سے کئی اندیشے ہیں جنہیں دور کرنا سرکار کی ذمہ داری ہے۔ کسی بھی پنپتی ہوئی جمہوریت کے لئےسرکار کے اقدامات پر عوام کا اعتماد  اس کے پھلنے پھولنے کے لئے انتہائی ضروری ہوتا ہے لیکن شہریت قانون کے معاملے میں عوام کا سڑکوں پر نکل آنا اور تقریباً ۲؍ ماہ  سے مسلسل احتجاج اور دھرنے دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ عوام کو سرکار کے اقدامات پر بالکل بھی اعتماد نہیں ہے۔ وہ نوٹ بندی کے معاملے میں یہ دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح سے سرکار نے انہیں بغیر کسی وجہ قطاروں میں لگنے پر مجبور کردیا تھا ۔ اب وہ دوبارہ ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہتے اسی لئے اتنی بڑی تعداد میں سرکار کے قدم کی مخالفت کررہے ہیں۔ 
  یہ حکومت کی ذمہ داری تھی کہ وہ اپنے کسی بھی قدم کے بارے میں عوام کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھے لیکن یہاں معاملہ بالکل برعکس ہے۔ سرکار نے شہریت قانون اور این آر سی پر عوام کو اعتماد میں لیا اور نہ اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ اس سلسلے میں کوئی گفتگو کی بلکہ سرکار کے کارپردازوں کی جانب سے مسلسل عوام کے احتجاج کی شبیہ خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔کبھی احتجاج کو اپوزیشن کی کارستانی قرار دیا جارہا ہے تو کبھی اسے پڑوسی ملک سے فنڈ لے کر کیا جانا والا احتجاج قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ دہلی الیکشن میں تو اسے باقاعدہ طور پرموضوع بنالیا گیا اور احتجاج کرنے والوں کی شبیہ تک خراب کرنےکی کوشش کی گئی۔حکمراں طبقے کی جانب سے یہ الزام بھی لگایا گیا کہ دہلی کے شاہین باغ میں  روپے دے کر بھیڑ بلوائی جارہی ہے۔ اس طرح کے بیانات  نے سرکار کی جھنجھلاہٹ اور مایوسی کو اور بھی زیادہ واضح کردیا جبکہ  ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکومت مظاہرین سے گفتگو کرتی،ان کے نمائندوں کو سمجھاتی اور انہیں احتجاج واپس لینے پر راضی کرتی لیکن حکمراں طبقے نے افہام و تفہیم کا راستہ اپنانے کے بجائے نبردآزمائی کو زیادہ ضروری خیال کیا جس کی وجہ سے  حالات قابو سے باہر ہو گئے۔ حکومت پر صرف ملکی سطح پر ہی نہیں بلکہ عالمی سطح سے بھی دبائوآنے لگا کہ وہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور مظاہرین کی برہمی اور تشویش کو دور کرنےکے قدم اٹھائے۔ گزشتہ دنوں پارلیمنٹ میں صدر کے خطاب پر تحریک شکریہ کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے جو باتیں کہیں وہ اسی دبائو کا نتیجہ قرار دی جانی چاہئیں۔
 بہر حال  وزیر اعظم کی جانب سے صفائی پیش کردی گئی ہے لیکن کیا یہ کافی ہے ؟ ہماری نظر میںیہ  اب بھی کافی نہیں ہے کیوں کہ وزیر اعظم نے صرف شہریت ترمیمی قانون کے تعلق  سے یقین دہانی کروائی، حکومتی سطح پر کوئی قدم نہیں اٹھایا ہےجبکہ ان کے دست راست امیت شاہ پارلیمنٹ میں بھی اور عوامی فورمس پر بھی کھلے عام یہ اعلان کرچکے ہیںکہ پہلے شہریت ترمیمی قانون نافذ ہو گا، اس کےبعد پورے ملک میں این آر سی کروایا جائے گا۔ ساتھ ہی  این پی آر بھی ہو گا جو این آر سی کی بنیاد بنے گا۔ ان اعلانات اور بیانات کا موازنہ اگر وزیر اعظم کی صفائی سے کیا جائے تو پلڑا امیت شاہ کے بیانا ت کا زیادہ بھاری محسوس ہو تا ہے۔  ایسے میں مظاہرین کس بنیادپر  اپنا احتجاج  واپس لیں۔ ایک طرف وزیر اعظم یہ یقین دلارہے ہیں کہ شہریت ترمیمی قانون کی وجہ سے کسی ایک شہری کی بھی شہریت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا تو دوسری طرف  امیت شاہ کسی بھی قیمت پر این آر سی نافذ کرنے کا اعلان کررہے ہیں۔ ان دونوں لیڈران کے بیانات میں جتنا تضاد ہے وہ ظاہر کررہا ہے کہ مظاہرین اپنے مطالبات اور اپنے مظاہرے میں بالکل درست ہیں۔ وہ یہ مطالبہ کرنے میں بالکل حق بجانب ہیں کہ اس  بات کی تحریری یقین دہانی کروائی جائے کہ این آر سی کبھی نہیں کروایا جائے گا۔اس کے بعد ہی احتجاج واپس لیا جائے گا۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ حکومت کی جانب سے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا کیو ں کہ اسے این آر سی ہر قیمت پر نافذ کرنا ہے۔ چاہے اس کے لئے اسے کچھ جھوٹ کیوں نہ بولنے پڑیں۔ فی الحال حکمراں محاذ کی جانب سے یہ کوشش کی جارہی ہے کہ احتجاج کو کسی  طرح ختم کروایا جائے تاکہ ایک مرتبہ مظاہرین گھر بیٹھ گئے تو پھر انہیں دوبارہ منظم ہونے میں وقت لگےگا اور تب تک حکومت اپنا کام کرچکی ہوگی۔ فی الحال حکومت کی یہ حکمت عملی ناکام نظر آرہی ہے کیوں کہ مظاہرین ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ وہ حکومت کی یقین دہانیوں پر یقین نہیں کررہے ہیں۔ وہ ہر قیمت پر شہریت قانون اور این آر سی واپس کروانا چاہتے ہیں۔ اس کے بغیر وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ایسے میں یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں اعتماد کی فضا قائم کرے ۔ملک میں رواداری کی مثال قائم کرے اور بھائی چارہ کو فروغ دینے کے اقدامات کرے لیکن حکمراں محاذ صرف زبانی جمع خرچ سے کام چلانے کی کوشش کررہا ہے ، عملی اقدام ندارد ہیں۔ 
 اصل میں اس حکومت کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے کئے گئے تمام وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے ، کالا دھن واپس لانے کا وعدہ نہ پہلی میعاد میں پورا ہوا اور نہ دوسری میعاد میں اس کا کوئی ذکر ہے۔لے دے کرکچھ  کارروائی دکھانے کےلئے نوٹ بندی کی گئی تھی لیکن اس نے معیشت کو ایسے جھٹکے دئیے کہ اب تک معیشت اس سےابھر نہیں سکی ۔ تاریخ میں اپنا نام لکھوانے کے لئے  بے تاب وزیر اعظم مودی اور ان کی کابینہ نے اپنی پہلی میعاد میں جلد بازی میں جی ایس ٹی جیسا قانون نافذ کروادیا جس نے نوٹ بندی کی رہی سہی کسر پوری کردی۔اب عالم یہ ہے کہ معیشت مسلسل گراوٹ کی جانب بڑھ رہی ہے ، ہر سہ ماہی کے اعدادو شمار حکومت کا منہ چڑاتے ہوئے محسوس ہو تے ہیں۔  دوسری میعاد میں حکومت نے اپنے محبوب لیکن متنازع موضوعات کو زیادہ اولیت دی اور انہیں ہر قیمت پر پورا کرنے کا عزم دکھایا۔ پہلے کشمیر سے دفعہ ۳۷۰؍ہٹائی گئی ، پھر رام مندر کی تعمیر کا راستہ صاف کیا گیا اور پھرشہریت ترمیمی قانون نافذ کردیا گیا۔یہ تمام اقدامات محض اس لئے کئے گئے تاکہ عوام کا دھیان اصل موضوعات کی طرف نہ جاسکے۔وہ حکومت سے معیشت کی بری حالت ،منافع میں جاری سرکاری کمپنیوں کی فروخت کی کوششوں اور سماجی و سیاسی سطح پر  کئے جانے والے عاقبت نا اندیشانہ فیصلوں پر سوال نہ کرسکیں۔ اسی لئے انہیں دیگر موضوعات میں الجھایا جارہا ہے لیکن شہریت کے موضوع پر اتنے طویل اور زبردست احتجاج کی توقع حکومت کو نہیں تھی ۔ عوام کے اتحاد کی وجہ سےاب اس کے ہاتھ پیر پھول رہے ہیں اور وہ ان حالات سے نکلنے کے راستے تلاش کررہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK