دِل کی پاکیزگی، رَب العالمین کاخاص انعام

Updated: May 21, 2021, 5:37 PM IST | Maulana Mohammad Abid Nadvi

ﷲ جن کے دلوں کو پاک صاف کردے اور اس میں ایمان کو مزین کردے ، وہی دل ایمان و یقین کی دولت سے سرفراز ہوتے ہیں

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

’دل جسم ِ انسانی میں قدرت الٰہی کی عظیم نشانی ہے۔ یہ بظاہر گوشت کا ایک ٹکڑا اورخون پمپ کرنے کا قدرتی آلہ ہے لیکن معنوی و روحانی اعتبار سے معرفت ربانی کا مرکز ومنبع ہے۔ ظاہری و باطنی صلاح و فساد کا اسی سے گہرا ربط و تعلق ہے۔ تصدیق و یقین اور نور ایمان وہدایت کی شعاعیں اسی سے پھوٹتی ہیں اور کفر و ضلالت،  زیغ و نفاق کی گھٹائیں اسی پر چھاتی ہیں ۔ قلب و دل کی اسی اہمیت کے پیش نظر اس کی اصلاح کی فکر پر زور دیا گیا اور کتب و سنت میں اس کی پرزور تاکید کی گئی۔ دل ، ایمان سے لبریز ہو تو اس کے آثار بندۂ مومن کے اعضاء وجوارح پر ظاہر ہوتے ہیں، پھر قرآن پاک کی تلاوت، اس میں غور و تدبر، انبیاء و صلحاء اور نیک لوگوں کی صحبت سے ایمان و یقین میں ترقی ہوتی ہے اور بندۂ مومن کا دل تقویٰ، انابت، خشوع وغیرہ صفات سے متصف ہوتا اور ترقی کرتے ہوئے مرتبۂ کمال کو پہنچتا ہے ۔ صحیح و تندرست دل کے یہ مراتب اور درجات وہ ہیں جو اﷲ تعالیٰ کی مدد و توفیق کے بعد بندہ اپنے اختیار سے طے کرتا ہے۔کوئی ابتدائی درجہ ہی پر قناعت کر بیٹھتا ہے تو کوئی ترقی کے منازل طے کرنے کی جستجو میں لگا رہتا ہے ۔ انسان کی سعی و کوشش کے سبب ان افعال کی نسبت بندوں کی طرف ہوتی ہے لیکن دلوں کی صفات اور ان پر طاری ہونے والے افعال کی مناسبت سے بعض افعال وہ ہیں جن کی نسبت خاص طورپر اﷲ تعالیٰ نے اپنی طرف کی ہے۔ ان میں دلوں کی پاکیزگی اور اس میں ایمان کی زینت بخشنا یعنی دلوں کے سامنے ایمان کو مزین و خوشنما کردینا ہے۔ اﷲ جن کے دلوں کو پاک صاف کردے اور اس میں ایمان کو مزین کردے ، وہی دل  ایمان و یقین کی دولت سے سرفراز ہوتے ہیں اور پھر ایسے دل والے اﷲ کی توفیق سے مزید ترقی کرتے اور ایمان و یقین کے درجات میں آگے بڑھتے ہیں۔ قرآن پاک میں طہارتِ قلوب کی نسبت اﷲ تعالیٰ کی طرف اس طرح آئی ہے:  ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ اور جسے اﷲ گمراہ کرنا چاہے اس کے لئے آپ اﷲ کی جانب سے کچھ بھی نہیں کرسکتے، یہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اﷲ، پاک کرنا نہیں چاہتا ، ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب ہے۔ ‘‘ ( المائدہ:۴۱)
 طہارت و پاکیزگی، نجاست و غلاظت کی ضد ہے۔ مادی نجاست و ظاہری گندگیوں کی طرح کفر و شرک اور نفاق بھی دلوں میں پائی جانے والی گندگی اور نجاست ہے چنانچہ اسی مفہوم میں مشرکین کو نجس ( ناپاک ) بھی کہا گیا ( ملاحظہ ہو : التوبہ:۲۸)۔ اس  آیت سے معلوم ہوا کہ اﷲ تعالیٰ جس کے لئے خیر کا ارادہ فرماتا ہے اس کے دل کو کفر و شرک کی گندگی و خباثت سے پاک کر دیتا ہے ۔ تب یہ دل ایمان کو قبول کرنے کے قابل ہوتا ہے اورایسے شخص کا سینہ اسلام کے لئے کھل جاتا ہے اور اﷲ کی توفیق و ہدایت سے اس دل میں ایمان کی روشنی جگمگاتی ہے۔ ذخیرۂ احادیث میں بہت سی دُعائیں ایسی مروی ہیں جن میں رسولؐ اﷲنے اﷲ تعالیٰ سے اپنے دل کی پاکیزگی طلب کی ہے ۔
طہارتِ ِقلوب کی نسبت اﷲ تعالیٰ نے خاص طورپر اپنی طرف کی ہے کہ اﷲ جن کیلئے چاہتا ہے، ان کے دلوں کو پاک فرماتا ہے۔ طہارتِ قلوب کے بعد، زینت ایمان کا معاملہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ جس بندہ کیلئے چاہتا ہے اس کے دل میں ایمان کو مزین و خوشنما کردیتا ہے اور ایمان کی محبت اس کے دل میں ڈال دیتا ہے چنانچہ اﷲ تعالیٰ کی اس مہربانی کے سبب ایسا شخص ہی نہ صرف ایمان کی دولت سے مالا مال ہوتا ہے بلکہ ایمان کی محبت اس کے دل ، جسم اور ریشہ ریشہ میں ایسی سرایت کرجاتی ہے کہ وہ اس کے مقابلے میں کسی کی پروا نہیں کرتا حتیٰ کہ ماں باپ، بھائی بہن، خاندان و قبیلہ کسی کی محبت ایمان و یقین کی بدولت اﷲ و رسول کی محبت پر غالب نہیں آتی۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’ جو لوگ اﷲ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، انہیں آپ ان لوگوں سے محبت کرتے ہوئے نہیں پائیں گے جو اﷲ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں، چاہے وہ ان کے باپ ہوں یا بیٹے ہوں یا ان کے بھائی ہوں یاان کے خاندان والے ہوں، انہی لوگوں کے دلوں میں اﷲ نے ایمان کو راسخ کردیا ہے اوران کی تائید اپنی نصرتِ خاص سے کی ہے اور اﷲ انہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اﷲ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوگئے، وہی اﷲ کی جماعت کے لوگ ہیں،  آگاہ رہئے کہ اﷲ کی جماعت کے لوگ ہی کامیاب ہونے والے ہیں۔‘‘  (المجادلہ: ۲۲)۔   دلوں میں ایمان کی محبت اور اسے زینت بخشنے کی نسبت بھی اﷲ تعالیٰ نے خاص طورپر اپنی طرف فرمائی ہے، اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’اﷲ ہی نے تمہارے لئے ایمان کو محبوب بنا دیا اور تمہارے دلوں میں اس کی زینت و خوبی بٹھادی اور تمہارے لئے کفر و نافرمانی اور گناہ کو ناپسند بنا دیا، یہی لوگ راہ راست پر ہیں۔ ‘‘ (الحجرات:۷)
اس میں جہاں صحابہ کرام ؓ کی خوبی اور فضیلت کا بیان ہے، وہیں یہ حقیقت بھی عیاں ہے کہ جس شخص کے دل میں اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ایمان کی محبت اور اس کی زینت بٹھادی جائے اسی طرح کفر و معصیت سے نفرت جس کے دل میں اﷲ ڈال دے، اسی کے لئے ہدایت کے راستے کھلتے ہیں اور وہی ہدایت پر گامزن رہتا ہے۔ جس بندہ کے دل میں ایمان مزین و خوشنما ہو اور اس کی حقیقت جاگزیں ہو وہ نہ صرف اﷲ کا مطیع و فرمانبردار ہوگا بلکہ بندگی کی راہ میں بڑی سے بڑی مصیبت اور تکلیف و مشقت کو برداشت کرنا بھی اس کیلئے سہل ہوگا۔ دلوں میں ایمان کی زینت کے سبب ہی نیک لوگ درجات کمال میں ترقی کرتے رہتے ہیںـ۔ جب یہ چیز بلندیٔ درجات کا زینہ ہے تو بندۂ مومن کو چاہئے کہ وہ اسے اﷲ تعالیٰ سے مانگتا رہے ۔n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK