Inquilab Logo Happiest Places to Work

تاریخ میں ترمیم و حذف کےپیچھے آر ایس ایس کا مقصد

Updated: April 10, 2023, 3:25 PM IST | Pankaj Srivastava | Mumbai

لیکن تاریخ کوئی عمارت نہیں ہے، جس میں کوئی اپنی مرضی کے مطابق توڑ پھوڑ کر اسے نیا رنگ و روپ عطا کردے ۔ تاریخ نویسی ایک پیشہ ورانہ کام ہے جسے نئے حقائق اور دستاویزی ثبوت کی روشنی ہی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ جو بات حقائق سے ثابت نہ ہو، وہ کہانی تو ہو سکتی ہے، تاریخ نہیں

photo;INN
تصویر :آئی این این

آزاد ہند فوج کے اعلیٰ کمانڈر کی حیثیت سے نیتا جی سبھاش چندر بوس۲۶؍ ستمبر۱۹۴۳ء کو رنگون پہنچے اور وہاں انہوں نے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کےمزار پر اپنا سرجھکایا ۔ صرف اتنا ہی نہیںبلکہ خراج عقیدت کے طور پر انہوں نے مقبرے کی دیکھ بھال کیلئے۵۰؍ ہزار روپے بھی پیش کئے جو اُس زمانے میں ایک بڑی رقم تھی۔ نیتا جی کی نظر میں بہادر شاہ ظفر نہ صرف آزادی کی پہلی جنگ کے ہیرو تھے بلکہ عظیم مغل خاندان کے آخری حکمران بھی تھے جس نے ہندوستانی تاریخ میں ایک ’شاندار اور قابل فخر باب‘ کا اضافہ کیا تھا۔ نیتا جی نے انگریزوں کو جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اشوک کے تقریباً ایک ہزار سال بعد، ہندوستان ایک بار پھر ’گپت سلطنت‘کے دور کی طرح اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ اس کے۹۰۰؍ سال بعد ہندوستانی تاریخ کا  قابل فخر اورشاندار باب مغل دور میں شروع ہوا۔ اسلئے   یہ یاد رکھنا چاہئے کہ انگریزوں کا یہ تصور کہ ہم اُنہی کے دور میں سیاسی طور پر متحد ہوئے، بالکل غلط ہے۔‘‘
 نیتا جی کے ایسا کہنے کے پیچھے، مغل سلطنت کے دور میں ہندوستان میں اقتصادی، سیاسی، اسٹریٹجک اور فنی میدانوں میں ترقی کے علاوہ، میل ملاپ کی تہذیب کی جو ترقی تھی، اس جانب توجہ مبذول کرانا تھا۔ کیا کوئی کہے گا کہ نیتا جی کا تاریخ کے تئیں جو شعور تھا، وہ آر ایس ایس کے مقابلے کمزور تھا یا وہ اس خود ساختہ قوم پرست تنظیم سے کم قوم پرست تھے جو اپنی ہر بات میں مغلوں کے خلاف زہر اگلتی ہے۔  فی الحال ان دنوں جس طرح این سی ای آر ٹی کی کتابوں سے مغلوں سے متعلق اسباق  ہٹائے جارہے ہیں، اس کے پیچھے آر ایس ایس کا وہی نظریہ کام کر رہا ہے جو نیتا جی کے برعکس ہے۔تاریخ کو اپنے رنگ میں رنگنا آر ایس ایس کا پرانا ایجنڈا ہے۔ ایسے میں جب مرکز میں بی جے پی کی حکومت ہوتی ہے تو وہ اس سمت میں تیزی سے آگے بڑھتی ہے۔
 اِس وقت میڈیا مغلوں سےمتعلق  اسباق کو حذف کرنےکی سرخیاں بنانے میں مصروف ہے۔ یہ بھی آر ایس ایس کی ہی حکمت عملی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کی آڑ میں ’اپنی `تاریخ‘سے پیچھا چھڑانے کی اس کی سازش پردے کے پیچھے چھپ جائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف مغلوں سے متعلق اسباق ہٹائے جارہے ہیں بلکہ مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کے ’سنگھ‘ سے تعلق اور اس پر لگائی گئی پابندی سے متعلق حقائق بھی ہٹائے جارہے ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ جمہوریت اور عوامی تحریکوں سے متعلق اسباق بھی ہٹائے جارہے ہیں، جن کے ذریعے موجودہ بی جے پی حکومتوں کی سرگرمیوں پر شکنجہ کسنے کی کسوٹی ہمارے طلبہ کو ملتی ہے۔
  لیکن آر ایس ایس اور بی جے پی کو کون بتائے کہ تاریخ کوئی عمارت نہیں ہے، جس میں کوئی اپنی مرضی کے مطابق توڑ پھوڑ کر کے اسے نیا رنگ و روپ عطا کردے اور نئے نقشے میں ڈھال دے۔ تاریخ نویسی ایک پیشہ ورانہ کام ہے جسے نئے حقائق کی روشنی ہی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہ کام کسی کی مرضی سے نہیں ہوتا، اس کیلئے آثار قدیمہ یا دستاویزی ثبوت کی ضرورت پڑتی ہے۔ جو بات حقائق سے ثابت نہ ہو، وہ کہانی تو ہو سکتی ہے، تاریخ نہیں۔
 مسئلہ یہ ہے کہ آر ایس ایس ان گپ بازیوں اور قصے کہانیوں کو تاریخ میں جگہ دینا چاہتا ہے جو کئی دہائیوں تک اس کی شاکھاؤں میں رائج ہے لیکن یہ کہانیاں پیشہ ورانہ تاریخ نگاری کے احاطے کے دروازے ہی پر دم توڑ دیتی   ہیں۔ آرایس ایس کو ایسا لگتا  ہے کہ جمہوری اداروں پر ہر طرف سے قبضے کا ایک دور اب جبکہ مکمل ہو چکا ہے تو پھر تاریخ کے کیمپس پر بھی قبضہ ہو سکتا ہے۔ اس طرح وہ اُس مشہور کہاوت کا عملی نمونہ پیش کررہا ہے کہ’’تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ اس سے کوئی سبق نہیں سیکھتا۔‘‘ سچ تو یہ ہے کہ حکومتوں کی عمر، تاریخ کی عمر کے سامنے محض پانی کے ایک بلبلے کی مانند ہوتی ہے۔
 مغلوں کی تاریخ نہ پڑھانے کے پیچھے ایک اور وجہ بھی ہے۔ درحقیقت، مغل سلطنت کا مطالعہ آر ایس ایس کی محنت پر پانی پھیر دیتا ہے کہ مغل دور صرف ’ہندو مسلم تنازع‘ کا دور تھا۔’مغل دربار‘ سے متعلق سبق کو اسلئے  ہٹا دیا گیا ہے کیونکہ  جب بھی اس کا مطالعہ کیا جائے گا تو راجہ مان سنگھ، ٹوڈر مل اور بیربل جیسے نورتن، اکبر کے ساتھ کھڑے نظر آئیں گے اور ان سے لوہا لینے والے مہارانا پرتاپ کا ساتھ دیتے ہوئےحکیم خان سور دکھائی دیں گے۔ اسی طرح اورنگ زیب کی دربار میں مرزا راجہ جئے سنگھ اور جسونت سنگھ ملیں گے اور انہیں چیلنج دینے والے شیواجی کی فوج میں توپ خانے کے سربراہ کے طور پر ابراہیم خان، نیول چیف کے طورپر دولت خان اور سفیر کے طورپر قاضی حیدر کے نام درج ملیں گے۔
 حد تواُس وقت ہو گی جب  اورنگ زیب کے نام شیواجی کا خط سامنے آئے گا، جس میں انہوں نے اکبر کو’جگت گرو‘ قرار  دیتے ہوئے ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک بتایا  ہے۔ شیواجی نے لکھا ہے کہ ’’اکبر نے اس عظیم ریاست پر ۵۲؍ سال تک اتنی احتیاط اور عمدگی سے حکومت کی کہ تمام فرقوں کے لوگوں کو خوشی اور مسرت ملی۔ ملک کی تمام آبادی پر اُن کی نظریں ایک جیسی تھیں۔ اسی صلح کل کےرویے کی وجہ سے سب نے انہیں جگت گرو کا خطاب دیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ (اکبر) جدھر بھی دیکھتے، فتح ان کا استقبال کرتی تھی۔ قرآن اللہ کا کلام ہے۔اس میں اللہ کو مسلمانوں کا نہیں، پوری کائنات کا خدا کہا گیا ہے۔ ہندو مسلم ایک ہیں۔‘‘
 ظاہر ہے کہ تاریخ کا یہ سبق اگر طلبہ پڑھیں گے تو وہ ان کہانیوں پر سوال اٹھائیں گے جو انہیں تاریخ کے نام پر سنانے کی کوشش کی جارہی ہیں۔ آر ایس ایس اگر کسی بات سے زیادہ خوف زدہ ہے تو وہ سوال کرنےکا رجحان ہے کیونکہ اسے ’وِچارک‘ نہیں ’پرچارک‘ چاہئے۔ اسے یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ’حکم بجا لانے والے‘  ایک سماج کی تشکیل ہی اس کا بنیادی مقصد ہے۔ اسلئے وہ نہ صرف لوگوں کو مغلیہ دور کی تاریخ سے دور کرنا چاہتا ہے بلکہ وہ تحریک آزادی کے اسباق میں حذف و ترمیم بھی کرنا چاہتا ہے۔
 یہ اچھی بات ہے کہ فی الحال بی جے پی مہاتما گاندھی کے خلاف کھل کر نہیں بول رہی ہے، البتہ ناتھو رام گوڈسے کو’عزت مآب‘ بنانے کی اس کی کوشش پوری طرح  سے واضح ہے۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ مہاتما گاندھی کے قاتل گوڈسے سے متعلق معلومات بھی ہٹائی جارہی ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد آر ایس ایس پر پابندی عائد کئے جانے کی بات کو بھی ’تاریخ‘ سے حذف کردیاگیا ہے۔ دراصل اس سے طلبہ کو اس بات کا پتہ چل رہا تھا آر ایس ایس پر یہ پابندی کسی اور نے نہیں بلکہ سردار پٹیل نے لگائی تھی جنہیں بی جے پی آج کل ’اپنا‘ قرار دے رہی ہے۔تاریخ میں  زیادہ دلچسپی رکھنے والوں پر یہ بات بھی واضح ہو سکتی ہے کہ آزادی کی جدوجہد میں آر ایس ایس کا کوئی کردار نہیں تھا۔ یہی نہیں بلکہ یہ بات بھی سامنے آسکتی ہے کہ وہ انگریزوں کی حمایت بھی کر رہا تھا۔
 یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ گورکھپور یونیورسٹی میں حال ہی میں ان ادیبوں کو نصاب میں شامل کیا گیا ہے جن کا ادب میں ابھی کوئی مقام واضح نہیں ہے۔ دراصل منشی پریم چند، سوریہ کانت ترپاٹھی نرالا اوررگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری وغیرہ کو پڑھانے کا مطلب تحریک آزادی کے پس منظر سے بار بار  آنکھیں چار کرنا  ہے جس سے آر ایس ایس بے چین ہوجاتا ہے۔اگلے مرحلے میں سائنس کے ان اصولوں کا نصاب سے اخراج ہوسکتا ہے جو آر ایس ایس کے مذہبی اصولوں کو چیلنج کرتے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ پوری دنیا میں’مصنوعی ذہانت‘پر کام ہو رہا ہے، ہندوستان کی نوجوان نسل کی’انٹیلی جنس‘ کو کمزور کرنے کی اس کوشش کو دیکھ کر واقعی افسوس ہوتا ہے۔
 مجموعی طور پر، نصاب میں تبدیلیوں کا مقصد طلبہ کو حقائق اور منطقی اصولوں سے دور رکھنا اور’تنقیدی سوچ‘ کے امکانات کو محدود کرنا ہے، لیکن اگر کسی معاشرے کی تنقیدی سوچ کمزور ہو جائے تو علم و سائنس کے میدان میں اس کا پچھڑنا طےہے۔ ’ وشو گرو‘  بننے کی خواہش رکھنے والوں کو یہ بات جتنی جلدی سمجھ میں آجائے، اتنا ہی بہتر ہے۔
بشکریہ :ستیہ ہندی ڈاٹ کام

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK