ایسے وقت میں جبکہ حکمراں طبقہ پر آمرانہ طرز عمل اورآئینی اداروں کو تباہ کرنے کا الزام عائد ہورہا ہے،کیا ہی بہتر ہوتا کہ عدلیہ عوام کے بنیادی حقوق کے محافظ کے طورپر اپنے رول کو مزید پختگی کے ساتھ باور کراتی تاہم ہو یہ رہا ہے کہ ایک بڑا طبقہ اس کے تعلق سے بدگمانی کا شکار ہے۔
عدلیہ ملک کی جمہوریت کی محافظ ہے، وہ اپنی اس ذمہ داری کو اسی وقت نبھاسکتی ہے جب محافظ نظر آئے اورعوام کا اس کو اعتماد حاصل رہے تصویر: آئی این این
پہلے نٖیٹ پیپر لیک معاملہ میں دھرمیندر پردھان اوراب انڈین ایکسپریس کے انکشافات کے بعد گیانیش کمار کے خلاف احتجاج میں امڈنے والی بھیڑ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ سطح کے نیچے لاوا تیزی سے پک رہا ہے اور آتش فشاں بن کر پھوٹ پڑنے کیلئے محض کسی وجہ کا منتظر ہے۔ مودی سرکار پر آہنی طرز حکمرانی کا الزام عائد ہوتا آرہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ حکومت بھلے ہی احتجاج اور مظاہروں کو قابل اعتناء بھی نہ سمجھتی ہو مگر اس کے خلاف بلند ہونے والی چھوٹی سے چھوٹی آواز کو بھی ملک کا بڑا طبقہ غیر معمولی جرأت کے طور پر دیکھتا ہے ۔تاہم اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ’تنگ آمد بجنگ آمد‘ کے مصداق آہنی پنجوں کا ڈر اور خوف ختم چکا ہے اور عوام سڑکوں پر اترنے کیلئے بے تاب ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مصنوعی ذہانت (AI)، فلمسازوں اور فلم کمپنیوں کو نئے کاروباری امکانات فراہم کررہی ہے
عوام کی یہ برہمی بلا وجہ نہیں ہے۔ ایس آئی آر کے خلاف ممبئی کے شیواجی پارک پر نوجوانوں کا ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی طرح اکٹھا ہوجانا اور دہلی پولیس کے جابرانہ طرز عمل سے بخوبی واقف ہونے کے باوجود بڑی تعداد میں مظاہرین کا جنتر منتر پہنچنا یہ باور کراتا ہے کہ الیکشن کمیشن کے طرز عمل، ایس آئی آر اور ملک میں انتخابی نتائج کے تعلق سے اٹھنےوالے سوالات کی وجہ سے عوام کا ایک بڑا طبقہ بھرا بیٹھا ہے۔ ایس آئی آر کے نام پر الیکشن کمیشن کی من مانی بہار سے شروع ہوئی تھی اور اب ملک کی آدھی آبادی کا احاطہ کرچکی ہے مگر اس پر لگام نہیں لگائی گئی۔ انڈین ایکسپریس کے انکشافات فی الحقیقت انکشاف نہیں اُن خدشات اور اندیشوں کی تصدیق ہیں جو گزشتہ کئی برسوں سے ظاہر کئے جا رہے تھے۔الیکشن کمیشن کی ہر حرکت اور ہرمشکوک عمل کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایاگیا مگرانڈین ایکسپریس کے معاون ایڈیٹر اور معروف کالم نگار پرتاپ بھانو مہتا کے الفاظ میں: ’’ہندوستان کی آئینی تاریخ میں شاید ہی ایسی مثال ملے جب ملک کے دو اہم آئینی اداروں سپریم کورٹ آف انڈیا اور الیکشن کمیشن، نے اپنے بنیادی مقصد سے بے پروا ہوکر ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کام کرتے ہوئے شہریوں پر اس قدر انتظامی سختی مسلط کی اور انہیں یوں حق ِ رائے دہی سے محروم کیا ۔ ‘‘ عدلیہ ملک کی جمہوریت کی محافظ ہے۔ وہ اپنی اس ذمہ داری کو اسی وقت نبھاسکتی ہے جب محافظ نظر آئے اورعوام کا اس کو اعتماد حاصل رہے لیکن افسوس کہ جس سپریم کورٹ کے بارے میں کبھی شاذ ونادر ہی کانا پھوسی یا چہ میگوئیاں سنائی نہیں دیتی تھیں، حالیہ کچھ برسوں سے اس کی ایک ایک بات پر نظر رکھی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ: سنبھل تشدد، ملا افروز کی رہائی، عدالتی فیصلے کے دیگر مقدمات پر اثرات؟
چیف جسٹس کا تبصرہ (جواُن کےمطابق غلط سمجھاگیا) ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کے وجودکا سبب بن گیا اور اب ایس آئی آر کے تعلق سے اس کا طرز عمل عوامی سطح پر موضوع بحث ہے۔ یہ سوال شدت اختیار کرگیا ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کے محافظ کے طور پر ملک کی سب سے بڑی عدالت نے اپنی ذمہ داری کس طرح نبھائی ۔ بہار میں ایس آئی آر کے آغاز سے لے کر آج تک الیکشن کمیشن کی ایک ایک حرکت اور کم وبیش ہرفیصلے پر سپریم کورٹ کا درواز کھٹکھٹایا گیا مگر عدالت میں اکثر عرضی گزاروں کے اندیشوں سے زیادہ اہمیت کمیشن کی یقین دہانیوں کو دی گئی۔ یہ بلا وجہ نہیں ہے کہ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے بعد جب گیانیش کمار عوام کی عدالت میںملزم کی طرح کھڑے ہیں، اس رپورٹ کے حوالے سے عدالتوں میں داخل ہونے والی پٹیشنوں پر کاکروچ جنتا پارٹی کے معاون کنوینر اور جواں سال صحافی سورو داس بلا جھجھک اپنے ایکس پوسٹ میں کہتے ہیں کہ ’’چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی حرکتوں کے خلاف اب ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں متعدد درخواستیں دائر کی جا رہی ہیں لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آخری مرتبہ جب شہری انصاف کیلئے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹا رہے تھے تو کیا ہوا تھا۔ سپریم کورٹ نے اس بات کو یقینی بنایا کہ انتخابات سے محض چند ماہ قبل(انتہائی کم وقفے کے باوجود ) مغربی بنگال میں ایس آئی ہر حال میں، جس طرح بھی ممکن ہو، نافذ ہو۔‘‘ سورو داس کا یہ اعلان کہ ’’ عدالتیں گیانیش کمار کے خلاف دائر کی جانے والی نئی درخواستوں پرجتنی بار چاہیں سماعت کریں۔ انہیں جو احکامات جاری کرنے ہوں، جاری کریں لیکن گیانیش کمار کی جواب دہی کا فیصلہ عدالتوں کے حوالے نہیں کیا جائے گا‘‘، عدلیہ پر کم ہوتے اعتمادکی علامت ہے۔ ایس آئی آر کے تعلق سے الیکشن کمیشن کا چونکادینے والا اصرار، غیر معمولی جلد بازی، بی ایل اوز کی خود کشیوں پر سرد مہری ، لاکھوں افراد کی حق رائے دہی سے محرومی اور ثبوت کی فراہمی کا بوجھ عوام پر ڈالنے کا قابل اعتراض رویہ ، ایسے کئی عوامل ہیں جن پر اگر سپریم کورٹ بروقت توجہ دیتا تو شاید صورتحال اس حدتک نہ پہنچتی۔ جس ’منطقی تضاد‘ کے نام پر لاکھوں کروڑ ووٹر حق رائے دہی سے محروم کئے جارہے ہیں، وہ الیکشن کمیشن کے اسی سافٹ ویئرکا نتیجہ ہے جس کے خلاف ممتا بنرجی بذات خود سپریم کورٹ پہنچی تھیں۔اب اس سافٹ ویئر کے تعلق سے الیکشن کمیشن نےیہ تصدیق بھی کردی ہے کہ اسے مرکز سے کنٹرول کیا جارہاہے۔ اس لئے پرتاپ بھانو مہتا کے اس تبصرہ سے کتنا اختلاف کیا جا سکتا ہے کہ ’’ایس آئی آر کا یہ بحران سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے مشترکہ طرز ِعمل کا نتیجہ ہے۔‘‘
شہریوں کے ووٹ دینے کا حق کسی بھی جمہوریت کی اساس ہے ۔ جس سپریم کورٹ سے بار بار اس لئے رجوع کیا جارہاتھا کہ وہ الیکشن کمیشن کے اختیارات میں مداخلت کئے بغیر کم از کم عوام کے حق رائے دہی کی حفاظت کو یقینی بنائے، اس کا ایک جج مغربی بنگال میں ’منطقی تضاد‘کے نام پر ووٹرس کے نام نکالے جانے پراگر یہ تبصرہ کرے کہ جو اس بار ووٹ نہیں دے سکے وہ اگلی بار دے لیںگے، تو کیا یہ حق رائے دہی کوہلکا سمجھنے اور الیکشن کمیشن کو کھلی چھوٹ دینے کے مترادف نہیں سمجھا جائےگا۔
افسوس کہ گیانیش کمار کی دھاندلیاں منظر عام پر آجانے کے بعد بھی گزشتہ دنوں ایسا ہی تبصرہ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے مغربی بنگال کے ہی نندی گرام اور ریجی نگر کے ضمنی انتخابات کے حوالے سے ۱۸؍ ہزار افراد کی حق رائے دہی کے تعلق سے کیا کہ ’’یہ ضمنی الیکشن ہی تو ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: نوجوانوں کو صرف احتجاج نہیں، قیادت کرنی چاہئے
ایس آئی آر کے علاوہ بھی حالیہ چند واقعات ایسے ہیں جنہوں نے عوام وخواص کی توجہ جانب مبذول کرائی ہے۔ مثال کے طورپر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی بیٹی اور نوئیڈا کی ضلع کلکٹر میدھاروپم کو سپریم کورٹ سے ملنے والی راحت ۔ نوئیڈا میں مزدوروں کے احتجاج کے معاملے میں آکروتی چودھری نامی طالبہ کو این ایس اے لگا کر جیل میں ڈالنے پر برہمی کااظہارکرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ نے میدھاروپم پر ذاتی طورپر ۵؍ لاکھ کا جرمانہ عائدکیا تھا اور یہ ہدایت جاری کی تھی کہ یہ جرمانہ ان کی تنخواہ سے وصول کیا جائے۔ انہوں نے جب اس معاملے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تو حیرت انگیز طور پر سماعت سے قبل کورٹ کی براہ راست نشریات کے مائک بند کروا دیئےگئے۔ اس معاملے کی شنوائی کرنے اور میدھا روپم کو راحت دینے والے جسٹس ستیش چندر شرما کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔کہا جارہا ہے کہ مقدمہ معمول کے روسٹر سے ہٹا کر جسٹس شرما کی بنچ کے سامنےلایا گیا ۔الیکشن کمشنروں کی تقرری کےمودی سرکار کے قانون کے خلاف داخل کی گئی پٹیشن بھی جسٹس شرما کے اختلافی نوٹ کی وجہ سے بڑی بنچ کے سپرد کی گئی۔یہ بات منظر عام پرآنے کے بعد کہ جسٹس شرما کے بیٹے جو وکیل ہیں، الیکشن کمیشن کے وکلاء کے پینل میںشامل ہیں، یہ سوال کیا جا رہا ہےکہ کیا جسٹس شرما کوخود ان دونوں مقدمات سےعلاحدہ نہیں ہوجانا چاہئے تھا اوراگر علاحدہ نہیں ہوئے تھے تو کیا یہ مناسب نہ ہوتا کہ وہ مقدمہ کی سماعت سے قبل ہی یہ واضح کردیتے کہ ان کا بیٹا الیکشن کمیشن کا وکیل ہے۔ عدم اعتماد کا عالم یہ ہے کہ مذکورہ حقیقت کے منظر عام پر آنے کے بعد سپریم کورٹ میں ایک نئی پٹیشن داخل ہوگئی ہے جس میں سپریم کورٹ سے الیکشن کمشنروں کی تقرری والے دو رکنی بنچ کے اس فیصلے کو واپس لینے کی استدعا کی گئی ہے جس میں ایک رکن جسٹس ستیش چندر شرما تھے۔
یاد رہے کہ جس طرح صرف انصاف ہونا نہیں چاہئے بلکہ ہوتا ہوا نظربھی آنا چاہئے اسی طرح یہ کافی نہیں کہ عدلیہ آزاد ہو بلکہ اسے آزاد، غیر جانب دار اور شہریوں کے حقوق کا محافظ نظربھی آنا چاہیے۔ ملک کی عدلیہ کے تعلق سے عوام میں پیدا ہونےوالی بے چینی توجہ طلب ہے۔ اگر یہ بدگمانی ہے تو سپریم کورٹ اور ملک کے ہائی کورٹس کو اپنے فیصلوں اور طرز عمل سے یہ باور کرانا ہوگا کہ یہ بدگمانی ہے۔