بہار میں ایک دور کے سیاست کا خاتمہ ہوگیا۔ ۱۹۸۹ء تک وہاں پر کانگریس کا دبدبہ تھا۔ اس کے بعد جنتادل کا دور آیا تو لالو پرساد یادو اور نتیش کمار نے تین دہائیوں تک ریاست میں کسی اور کی دال نہیں گلنے دی ... لیکن ستم ظریفی دیکھئے کہ نتیش کمار کو وزارت اعلیٰ سے ہٹانے کی قسم کھانے والے سمراٹ چودھری، نتیش کمار ہی کے’ آشیرواد‘ سے بہار کے وزیراعلیٰ بن گئے۔ ایسے میں یہ ایک اہم سوال بن کر ابھرتا ہے کہ نتیش کمار کے بہار سے رخصت ہونے کے بعد جے ڈی یو کا اب کیا ہوگا؟ اور خود نتیش کمار کا سیاسی کریئر کس رخ پر جائے گا؟
نتیش کمار کے پاس اب پالا بدلنے کی بھی گنجائش نہیں رہ گئی ہے۔ تصویر: آئی این این
نتیش کمار کیلئے سیاست ان کا محبوب مشغلہ اوراقتدار ان کی مجبوری ہے

بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے کر بھلے ہی راجیہ سبھا کے ممبربن گئے ہیں لیکن جس انداز میں انہوں نے بی جے پی کے سمراٹ چودھری کو وزیراعلیٰ کا عہدہ سونپا ہے وہ بلاوجہ نہیں ہے۔ بہار میں بی جے پی سے اتحاد کے بعد جنتا دل یونائیٹڈ کا کیا حشر ہوگا اس کا پہلا اشارہ تو سمراٹ چودھری کی قیادت میں تشکیل پانے والی وزارت ہی سے ثابت ہوگیا ہے اوریہیں سے جے ڈی یو کے پر کترنے کی شروعات ہوچکی ہے۔ نتیش نے وزارت اعلیٰ کی کرسی چھوڑنے سے قبل بہار کے عوام کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ دہلی اور بہار دونوں جگہ کی ذمہ داری ایک ساتھ نبھائیں گے لیکن یہ سب محض کہنے کی باتیں ہیں۔ جے ڈی یو میں بڑے پیمانے پر انتشار ہوگا۔ پارٹی ٹوٹ پھوٹ ہوگی کیونکہ بہار کے ان لاکھوں سیکولر ووٹروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے جو آج تک نتیش کمار کی ایک آواز پر مکمل اتحاد کااظہار کرتے تھے۔ بہار کی سیاست میں گزشتہ دو دہائی سے نتیش فیکٹر کی بنیادپر ہی جے ڈی یو اقتدار پر قابض رہی ہے، لیکن شاید اب ایسا ممکن نہ ہو کہ اسی بہار کے حوالے سے ہی بی جے پی مغربی بنگال میں اقتدار کا خواب دیکھ رہی ہے۔ بہار میں یہ موقع کسی صورت قیادت کی تبدیلی کا نہیں تھا۔ نتیش کمار کے عہد میں بی جے پی والے اپنے جن خفیہ منصوبوں کو بروئے کار نہیں لایا کرتے تھے اب کھل کر اس پر عمل کریں گے اورجے ڈی یو کے لوگ اس کی معمولی سی مخالفت بھی نہیں کرسکیں گے۔
بہار کی سیاست میں نتیش کمار کو بدلتے سیاسی موسم کا ماہر مانا جاتا رہا ہے اور اس معاملے میں وہ رام ولاس پاسوان سے کسی درجہ بھی کم ثابت نہیں ہوئے، لیکن اسے نتیش کمار کی خوبی یا خامی کہہ لیں ۔ سیاسی مستقبل کا حال وہ بخوبی جانتے ہیں لیکن اپنے کسی بھی عمل سے اپنے قریبی جانکاروں کو بھی اس کی بھنک نہیں لگنے دیتے۔ سیاست ان کا محبوب مشغلہ اور اقتدار ان کی مجبوری ہے۔ حالیہ سیاسی تبدیلی سے متعلق پیش گوئی صاف ہے کہ نتیش کمار کوخواب میں بھی صدر جمہوریہ ہند کی کرسی نظرآتی ہے۔ وزیراعلیٰ کا عہدہ چھوڑ کر راجیہ سبھا کی رکنیت قبول کرنا بلاوجہ نہیں ہے۔
اختر کاظمی (صحافی، پونے)
نتیش کمار کے بعد پارٹی کے اندر قیادت کا ایسا کوئی متبادل نظر نہیں آتا

بہار کی سیاست اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر ہے جہاں نتیش کمار کی سیاسی وراثت اور جے ڈی یو کا مستقبل دونوں ہی سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔ نتیش کے بعد جے ڈی یو کا وجود ایک بڑے سیاسی بحران کا شکار ہو سکتا ہے کیونکہ یہ جماعت کسی مضبوط نظریاتی بنیاد کے بجائے سراسر نتیش کمار کی شخصی کرشمہ سازی اور ان کے ’سوشل انجینئرنگ‘ کے فارمولے پر کھڑی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نتیش کمار کے بعد پارٹی کے اندر قیادت کا ایسا کوئی متبادل نظر نہیں آتا جو پوری جماعت کو متحد رکھ سکے۔ ماضی میں جارج فرنانڈیز اور شرد یادو جیسے قد آور لیڈروں کے جانے کے بعد پارٹی مکمل طور پر ’نتیش مرکوز‘ ہو گئی تھی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ:
ووٹ بینک کا بکھراؤ: جے ڈی یو کا خاص ووٹ بینک (غیر یادو پسماندہ طبقات اور لو-کُش اتحاد) نتیش کمار کی غیر موجودگی میں بی جے پی یا آر جے ڈی کی طرف منتقل ہو سکتا ہے۔
انضمام کا خطرہ: طویل عرصے میں جے ڈی یو کا بی جے پی میں انضمام یا اس کا مختلف دھڑوں میں تقسیم ہونا ناگزیر معلوم ہوتا ہے۔
موجودہ سیاسی منظرنامے میں جے ڈی یو اور بی جے پی کا اتحاد اب برابری کی بنیاد پر نہیں رہا۔ بی جے پی نے سمراٹ چودھری اور وجے سنہا جیسے لیڈروں کو آگے کر کے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ اب ’چھوٹے بھائی‘ کے کردار میں رہنے کو تیار نہیں ہے۔
اقتدار کا مرکز: سمراٹ کا عروج اس بات کی علامت ہے کہ بی جے پی اب جے ڈی یو کے روایتی ووٹ بینک میں نقب لگا چکی ہے۔
جونیئر پارٹنر: مستقبل میں جے ڈی یو کی حیثیت محض ایک معاون دستے کی رہ جائے گی۔ بی جے پی اب نتیش کمار کے ’آشیرواد‘ کی محتاج رہنے کے بجائے اپنی آزادانہ اکثریت کی طرف گامزن ہے۔
سیاسی مجبوری: جے ڈی یو کیلئے بی جے پی کے ساتھ رہنا اب بقا کا مسئلہ ہے، جبکہ بی جے پی کیلئے یہ محض ایک حکمت عملی ہے۔ مختصر یہ کہ نتیش کمار کے بعد جے ڈی یو کیلئے اپنی شناخت برقرار رکھنا ایک کٹھن مرحلہ ہوگا۔ بہار کی سیاست اب دوبارہ’دو قطبی‘ (بی جے پی بمقابلہ آر جے ڈی) ہونے کی طرف بڑھ رہی ہے، جس میں تیسری قوت یعنی جے ڈی یو کا اثر و رسوخ تیزی سے ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
طارق اعجاز اعظمی (صدراعجاز اعظمی ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ، کرلا)
بہار کی سیاست میں جے ڈی یو، بقا اور یا زوال کے سوال سے دوچار

بہار کی سیاست میں نتیش کمار ایک مضبوط اور تجربہ کار رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے ریاست کو کئی اہم فیصلوں اور ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے ایک نئی پہچان دی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سیاسی حالات میں تبدیلی آئی ہے، اور آج یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ نتیش کمار کے بعد جنتا دل یونائیٹڈ جے ڈی یو کا مستقبل کیا ہوگا۔ جے ڈی یو کی سیاست بڑی حد تک نتیش کمار کی شخصیت کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ان کی قیادت کے بغیر پارٹی کو ایک مضبوط اور قابل قبول متبادل قیادت کی ضرورت ہوگی۔ اگر پارٹی بروقت نیا لیڈر سامنے نہیں لاتی تو اس کی سیاسی اہمیت کم ہو سکتی ہے۔ بہار میں پہلے ہی مختلف علاقائی اور قومی پارٹیاں اپنی جگہ مضبوط کر رہی ہیں، جس سے مقابلہ اور سخت ہو جائے گا۔
جہاں تک بی جے پی کے ساتھ اتحاد کا تعلق ہے، وہاں جے ڈی یو کی حیثیت پہلے جیسی مضبوط نظر نہیں آتی۔ بی جے پی ایک بڑی قومی پارٹی ہے اور بہار میں اس کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔ اس صورتحال میں جے ڈی یو کو اپنے وجود اور اثر کو برقرار رکھنے کیلئے محتاط حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ اگر جے ڈی یو اپنی الگ شناخت اور عوامی مسائل پر توجہ برقرار رکھتی ہے، تو وہ اتحاد میں اپنی اہمیت کو قائم رکھ سکتی ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جے ڈی یو کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ وہ نئی قیادت کو کیسے تیار کرتی ہے اور بدلتے سیاسی حالات میں اپنی حکمت عملی کو کس طرح ڈھالتی ہے؟
شیخ نسرین عارف ( لیکچرر رابعہ گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، بھیونڈی)
جے ڈی یو کے پاس’اقتدار کا تجربہ‘ تو ہے، مگر’اقتدار کی طاقت‘ نہیں رہی

نتیش کمار کے بعد جے ڈی یو کا مستقبل محض ایک سیاسی سوال نہیں بلکہ بہار کی طاقت کی سیاست کو سمجھنے کا امتحان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نتیش کمار نے تین دہائیوں تک ’اتحاد کی سیاست‘ کو اپنے حق میں استعمال کیا۔ کبھی بی جے پی کے ساتھ، تو کبھی اس کے خلاف، مگر اس حکمتِ عملی کی سب سے بڑی قیمت یہ چکانی پڑی کہ پارٹی اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی بنیاد کھو بیٹھی۔ آج جے ڈی یو ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں اس کے پاس’اقتدار کا تجربہ‘ تو ہے، مگر’اقتدار کی طاقت‘ نہیں۔ بہار میں اب اصل کنٹرول اس کے ہاتھ میں نہیں رہا بلکہ وہ ایک بڑی سیاسی مشینری کا حصہ بن چکی ہے، جس کا ایجنڈا اور سمت کوئی اور طے کرتا ہے۔ یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی، بلکہ آہستہ آہستہ جے ڈی یو کی کمزور تنظیم، محدود ووٹ بینک اور قیادت کے فقدان نے اسے اس مقام تک پہنچایا۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ سیاست میں کبھی خلا نہیں رہتا۔ جہاں جے ڈی یو کمزور ہوئی، وہیں بی جے پی نے اپنی جگہ مضبوط کر لی اور دوسری طرف علاقائی سیاست میں بھی نئے توازن بن رہے ہیں۔ ایسے میں جے ڈی یو کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہارنا نہیں، بلکہ’غیر متعلق‘ ہو جانا ہے۔ اگر پارٹی نے فوری طور پر تین کام نہ کئے یعنینئی قیادت کو ابھارنا، واضح نظریہ پیش کرنا، اور عوامی سطح پر دوبارہ جڑناتو وہ محض ایک اتحادی مہرہ بن کر رہ جائے گی۔ لیکن اگر وہ خود کو ازسرِنو منظم کرتی ہے، تو اب بھی اس کے پاس’کنگ میکر‘ سے’کنگ‘ بننے کا موقع موجود ہے۔ سیاست میں بقا طاقت سے نہیں، سمت سے آتی ہےاور اس وقت جے ڈی یو کے پاس سب سے زیادہ کمی اسی سمت کی ہے۔
محمد کامل(منیجر، آئی ٹی ایم این سی، بھساول، ضلع جلگاؤں )
نتیش کی پارٹی آر جے ڈی اور جے ڈی یو میں بکھر جائے گی

بہار کی سیاست میں نتیش کمار ایک طویل عرصے تک ایک مضبوط اور متوازن لیڈر کے طور پر دیکھے جاتے رہے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف ریاست میں حکمرانی کا ایک الگ انداز پیش کیا بلکہ مختلف سیاسی اتحادوں کے درمیان خود کو ایک مرکزی حیثیت میں بھی برقرار رکھا تاہم، حالیہ سیاسی تبدیلیوں اور بار بار پالا بدلنے کی پالیسی نے جے ڈی یو کے مستقبل پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ نتیش کمار کے بعد جے ڈی یو کا کیا ہوگا؟ حقیقت یہ ہے کہ جے ڈی یو کی پہچان بڑی حد تک نتیش کمار کی شخصیت سے جڑی ہوئی ہے۔ پارٹی میں ایسا کوئی دوسرا قد آور لیڈر نظر نہیں آتا جو ان کے بعد اسی اثر و رسوخ کے ساتھ قیادت سنبھال سکے۔ اس صورتِ حال میں پارٹی کے منتشر ہونے یا کمزور پڑنے کا خدشہ کافی حد تک حقیقت پسندانہ معلوم ہوتا ہے۔ مزید برآں، جے ڈی یو کی سیاست کا ایک اہم ستون اس کا نام نہاد سیکولر تشخص رہا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اقلیتی اور لبرل ووٹرز، اس پارٹی کی حمایت کرتا تھا لیکن بی جے پی کے ساتھ اتحاد نے اس تشخص کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ نتیجتاً، وہ ووٹرز جو جے ڈی یو کو اس کے سیکولر کردار کی بنیاد پر پسند کرتے تھے، اب بڑی حد تک آر جے ڈی کی طرف مائل ہو سکتے ہیں، جو خود کو بی جے پی کے خلاف ایک مضبوط سیکولر متبادل کے طور پر پیش کرتی ہے۔ دوسری طرف، جے ڈی یو کے وہ حامی جو لالو یادو کی سیاست یا آر جے ڈی کی پالیسیوں کی مخالفت کی بنیاد پر جے ڈی یو کے ساتھ جڑے ہوئے تھے، ان کیلئے اب بی جے پی ایک زیادہ فطری انتخاب بن سکتی ہے۔ اس طرح جے ڈی یو کو دونوں طرف سے خطرہ ہے۔
پرویز خان عرف پی کے (سماجی کارکن، بھیونڈی)