Inquilab Logo Happiest Places to Work

سرکاری اسکیموں سے فائدہ اُٹھانا ہماراحق ہے

Updated: April 19, 2026, 8:36 PM IST | Qutbuddin Shahid | Mumbai

مرکزی اور ریاستی سطح پر اِس وقت بہت ساری سرکاری اسکیمیں نافذہیں جن پر ملک کے تمام شہریوں کو یکساں حقوق میسر ہیں۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ تمام اسکیموں کی جانکاری لیں، اس کیلئے درکار اہلیت و شرائط کا مطالعہ کریں اور ان سے جس حد تک بھی ممکن ہو، ایمانداری سے استفادہ کریں۔ اسے احسان نہیں بلکہ اپنا حق سمجھیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ایک گاؤں میں ایک زمیندار تھے۔ ان کے چار بیٹے تھے۔ اپنے بیٹوں کے بہتر مستقبل کیلئے انہوں نے ایک شاندار باغ لگایا تھا جس میں ہر طرح کے پھلوں والے درخت تھے۔ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں باغ کی دیکھ بھال کیلئے انہوں نے ایک مالی مامور کردیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک وصیت بھی کردی کہ باغ کی دیکھ ریکھ مالی کرے گا جبکہ اس کے اخراجات اپنی اپنی آمدنی کے لحاظ سے چاروں بھائی کریں گے اور پیداوار میں سب برابر کے حصے دار ہوں گے۔ برسوں تک معاملہ خوش اسلوبی سے چلتا رہا لیکن پھر بڑے بھائی کی نیت میں کچھ فتور آیا تو اس نے مالی سے ساز باز کرلی اور دوسرے بھائیوں کی حق تلفی کرنے لگا۔ دیگر تین بھائیوں نے شروع شروع میں کچھ مزاحمت کی لیکن مالی کی شاطرانہ چالوں کے آگے بات نہیں بنی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چوتھے بھائی نے بڑے بھائی کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے اتحاد کرلیا۔ مالی کی طاقت میں اور اضافہ ہوا تو دوسرے دونوں بھائی رفتہ رفتہ خاموشی سے اپنے حق سے دستبردار ہونے لگے۔ کچھ مل گیا تو لے لیا، ورنہ خاموش رہے۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا جب ان دو بھائیوں میں سے کوئی کبھی باغ میں چلاجاتا تو ان سے کہاجاتا ہے کہ مالی کے ساتھ تعاون نہیں کرتے ہو، پھر یہاں کیوں آئے ہو؟ گویا اپنے ہی باغ سے اپنا حصہ لینے کیلئے مالکان پر مالی سے وفاداری کی شرط لگا دی گئی تھی۔ 
کیاکچھ اسی طرح کی صورتحال ہندوستانی مسلمانوں پر عائد کرنے کی کوشش نہیں کی جارہی ہے۔ بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں مسلمانوں کو یہ کہہ کر ملک کے وسائل سے فائدہ اٹھانے سے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بی جے پی کو ووٹ نہیں دیتے ہوتو اس کی حکومت سے فائدہ کیوں اٹھا رہے ہو؟ اگر کسی سرکاری اسکیم سے مسلمانوں کو فائدہ مل رہا ہے تو ان پر یہ کہہ کر احسان جتانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ دیکھئے! آپ ہمیں ووٹ نہیں دیتے ہیں، پھر بھی ہم آپ کیلئے اتنا کچھ کررہے ہیں۔ ایسا کہہ کر دراصل پارٹی اور حکومت کے کردارکو خلط ملط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مسلمانوں کاایک بڑا طبقہ اس احسان سے بچنے کیلئے خود کو ان اسکیموں سے دور کرلیتا ہے۔ حقدار ہوتے ہوئے بھی وہ ان سرکاری اسکیموں سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔ 
مرکزی اور ریاستی سطح پر اِس وقت بہت ساری سرکاری اسکیمیں نافذ ہیں جن پر بلا لحاظ مذہب وذات ملک کے تمام باشندوں کو یکساں حقوق میسر ہیں۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ اس قسم کی تمام اسکیموں کی جانکاری حاصل کریں، اس کیلئے درکار اہلیت و شرائط کا مطالعہ کریں اور ان سے جس حد تک بھی ممکن ہو، ایمانداری سے استفادہ کریں۔ اسے احسان نہیں بلکہ اپنا حق سمجھیں۔ جو لوگ ان اسکیموں سے فائدہ نہیں اٹھا پارہے ہیں، دوسروں کو چاہئے کہ وہ انہیں اس سے آگاہ کریں اور اس بیانیے کا قلع قمع کریں کہ فائدہ ہم کسی سیاسی جماعت سے اٹھارہے ہیں۔ یہ فائدہ ہم حکومت سے اٹھا رہے ہیں جو ملک و ریاست کے وسائل کی مالک نہیں بلکہ نگراں اور منتظم ہے۔ 
آج کی تاریخ میں ملک میں جاری سرکاری اسکیموں کو ’مفت کی ریوڑی‘ کہہ کر ان پر تنقید بھی کی جاتی ہے۔ یہ ایک الگ مسئلہ ہے اور اس پر گفتگو کی جاسکتی ہے لیکن اگر کوئی اسکیم جاری ہے تو اس سے فائدہ اٹھانا ہر حقدار کا حق ہے۔ مہاراشٹر میں ایسی کئی سرکاری اسکیمیں ہیں، جن سے مسلمانوں کو فائدہ اٹھانا چاہئے۔ ان میں سب سے پہلی اسکیم طالبات کی تعلیم کیلئے ہے۔ گزشتہ سال اسمبلی انتخابات سے قبل ریاستی حکومت نے طالبات کی ٹیوشن فیس کو صد فیصد معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ایک ایسی اسکیم ہے، جس کیلئے حکومت کی پزیرائی بھی کی جانی چاہئے۔ اس اسکیم کے تحت ریاست میں کہیں بھی اور کسی بھی طرح کی پروفیشنل تعلیم حاصل کرنے والی طالبات کی مکمل ٹیوشن فیس کو حکومت نے اپنے ذمے لے لیا ہے۔ اس کیلئے شرط صرف یہ ہے کہ طالبہ کے والدین کی سالانہ آمدنی ۸؍ لاکھ روپے سے زائد نہ ہو۔ اس اسکیم نے جہاں بہت ساری طالبات کو اونچی پرواز کا موقع فراہم کردیا ہے وہیں ان کے والدین کے سر سے ایک بڑا بوجھ اُتار دیا ہے۔ اس تعلق سے تعلیمی اداروں بالخصوص اقلیتی تعلیمی اداروں اورسماجی کارکنان کو آگے آنا چاہئے اور اس اسکیم سے والدین کو آگاہ کرتے ہوئے ان کےساتھ تعاون کرنا چاہئے۔ 
اسی طرح یہاں خواتین کیلئے ایک اسکیم ’مکھیہ منتری ماجھی لاڈکی بہن یوجنا‘ ہے۔ اس کیلئے خاتون کی عمر ۲۱؍ سال سے ۶۵؍ کے درمیان ہونی چاہئے، اس کا مہاراشٹر کا مستقل رہائشی ہونا ضروری ہے اورخاندان کی سالانہ آمدنی ڈھائی لاکھ روپے سے کم ہونی چاہئے۔ 

یہ بھی پڑھئے: بڑھاپے میں والدین کی دیکھ بھال کرنا والدین پر احسان نہیں ہے

مہاراشٹر کی ایک اورسرکاری اسکیم’ بال سنگوپن یوجنا‘ہے، جس کا مقصد یتیم، بے سہارا اور انتہائی غریب بچوں کی پرورش، تعلیم اور صحت کا خیال رکھنا ہے تاکہ انہیں ۱۸؍ سال کی عمر تک ایک بہتر زندگی فراہم کی جا سکے۔ اس کے تحت بچوں کو ماہانہ ۲۲۵۰؍ روپے دیئے جاتے ہیں۔ اس اسکیم سے وہ بچے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جن کے والد یا والدہ نہ ہوں یا اگر ہوں اور کسی مہلک بیماری کی وجہ سے بچوں کی کفالت کیلئے لائق نہ ہوں۔ ایک اور سرکاری اسکیم ’سنجے گاندھی نرادھار یوجنا‘ ہے جس سے بیوہ، مطلقہ، معذور اور سینئر سٹیزن استفادہ کرسکتے ہیں۔ اس اسکیم کے تحت ماہانہ ۱۵۰۰؍ سے ۲۵۰۰؍ روپے تک وظیفہ دیا جاتا ہے۔ 
’مہاتما جیوتی راؤ پھلے جن آروگیہ یوجنا‘ مہاراشٹر سرکارکی ایک ہیلتھ انشورنس اسکیم ہے، جو غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کو مہنگے علاج کیلئے مالی امداد فراہم کرتی ہے۔ اس کے تحت مختلف سنگین بیماریوں کیلئے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں غریب اورمتوسط طبقے کے افراد کو کیش لیس علاج کی سہولت ملتی ہے۔ 
مرکزی حکومت کی قابل ذکر اسکیموں میں ’آر ٹی ای‘ یعنی رائٹ ٹو ایجوکیشن ہے۔ اس کے تحت پرائیویٹ اسکولوں میں جہاں غریب والدین اپنے بچوں کو پڑھانے کی ہمت نہیں جٹا پاتے، ۲۵؍ فیصد نشستوں پر مفت تعلیم دی جاتی ہے۔ اسی طرح ’پردھان منتری کسان سمان ندھی‘ مرکزی حکومت کی اسکیم ہے جو کسانوں کو براہ راست مالی مدد فراہم کرتی ہے۔ اس کے تحت اہل کسان خاندانوں کو سالانہ۶؍ ہزار روپے کی رقم۲؍ ہزار روپے کی تین مساوی قسطوں میں براہ راست بینک کھاتوں میں منتقل کی جاتی ہے۔ اس کیلئے وہ تمام زمیندار کسان جو ٹیکس ادا کرنے والوں کے زمرے میں نہیں آتے، اس اسکیم کیلئے اہل ہیں۔ 
آیوشمان بھارت۔ پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا بھی ایک ہیلتھ انشورنس اسکیم ہے جو مرکزی حکومت کی ہے۔ اسے دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم ہے قرار دیا جاتا ہے جس کا نفاذ۲۳؍ ستمبر۲۰۱۸ء کو ہوا تھا۔ یہ اسکیم غریب اور کمزور خاندانوں کو علاج کیلئے سالانہ۵؍لاکھ روپے تک ’کیش لیس ہیلتھ کور‘ فراہم کرتی ہے۔ اس اسکیم کا اعلان کرتے ہوئے حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس اسکیم کا مقصد صحت کے اخراجات کی وجہ سے غریبوں کو قرض کے جال میں پھنسنے سے بچانا اور انہیں معیاری علاج تک رسائی فراہم کرنا ہے۔ 
یہ چند اسکیمیں یہاں محض مثال کے طور پر پیش کی گئی ہیں، ورنہ مرکزی اور مختلف ریاستی حکومتوں کی جانب سے جاری اس طرح کی سیکڑوں اسکیمیں ہیں، جن سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ ان سرکاری اسکیموں سےفائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں قطعاً احساس کمتری میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ اس باغ کی پیداوار سے ہماراآئینی اور قانونی حصہ ہے جس کی آبیاری ہمارے اجداد نے اپنے خون پسینے سے کی ہے اور استبدادی قوتوں کے قبضے سے اس باغ کو حاصل کرنے کیلئے برادران وطن کےساتھ مل کر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ اس باغ پر ہمارا مالکانہ حق ہے۔ 
سرکاری اسکیموں سےفائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں احساس کمتری میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ ہمارا حق ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK